HomeTradeShowbizHotel & TourismSportsMagLocal GovtInterviews

Home

Articles

Bits & Bytes

Books & Authors

City News

Diplomatic Affairs

Education

Global Halal Expo

Health

Interviews

Marketing

Special Reports

 

Back to Articles

advertiseHere

 Bookmark and Share

 

خبریں پاکستان کے تمام شہروں سے۔۔۔

Tourism_logo

Show_shortcut

Sportslogo

 


List of Articles by Shahid Iqbal Shami 


(Click the title to read the article)


(1)

سیدنا عمر فاروقؓ کی زندگی اک نظرمیں

تحریر : شاہد اقبال شامی

 

اس نے ایک ایسے گھرانے میں آنکھ کھولی جو مکمل طور پر آزاد خیال تھا،اس کا باپ فوج میں کرنل تھا،اس نے بچپن سے جوانی تک بڑا خوش وخرم دور گزارا،وہ شروع ہی سے چرب زبان،فکروفلسفے کا دیوانہ اور مطالعے کا شوقین تھا۔اس کی رہائش کراچی کے ایک پوش علاقے میں تھی،اس نے 1980ء میں حبیب پبلک سکول سے میٹرک کا امتحان پاس کیا،1983ء میں این ای ڈی یونیورسٹی میں داخلہ لیااور وہاں سے بی اے کی ڈگری حاصل کی،اس کے علاوہ اس نے پوسٹ گریجویٹ،ایم ایس اور پی ایچ ڈی وغیرہ میں سے کوئی بھی ڈگری حاصل نہیں کی اور نہ ہی کسی دینی مدرسہ سے کوئی کورس کیا،لیکن اپنے شاطرانہ ذہن کا مالک ہونے کہ وجہ سے اس نے لوگوں میں اپنے آپ کو پروفیسر اور ڈاکٹر تک منوالیا۔
وہ کالج کے زمانے میں مکمل طور پر ایک یورپی طرز کی زندگی گزارنے ولا نوجوان تھا،اس کا بچپن سے ہی ایک خواب تھا کہ اس کی اپنی ایک الگ پہچان ہو،دنیا میں نام ہو،عزت،شہرت اور دولت کی فراوانی ہو،اپنے خواب کو عملی جامہ پہنانے کے لئے اس نے مختلف ہتھکنڈے اپنائے،لیکن اس کو اپنے مشن کی تکمیل ہوتی نظر نہ آئی ،پھر اس نے یک دم پلٹہ کھایا،اپنی آزاد روش کو بدلہ اور اسلامی جمیعت طلبہ نامی تنظیم کا رکن بن گیا،وہ صرف رکن ہی نہ بنا بلکہ اس نے تنظیم میں اپنی ایک پہچان تک بنا لی،اس نے اپنی پہچان بنانے کے لئے بلا کی محنت کی اور تنظیم میں سرگرم رکن کی حیثیت سے جانا جانے لگا۔کچھ عرصہ بعد اس نے اپنے مشن کو مکمل کرنے کے لئے ایک اور پلاننگ کی اور اس پر عمل بھی کر دیکھایا،وہ اس وقت کے جارح روس کے مقابلے کے لئے اس کے دشمنوں سے مل کر روس کے خلاف جنگ کرنے لگا،اس نے اپنی ذہانت اور شاطرانہ چالوں کے بل بوتے پر روس کے خلاف لڑنے والے صف اول کے کمانڈروں کا اعتماد بھی حاصل کر لیااور جابجا ان کے ساتھ بھی نظر آنے لگااور ان کے لئے فنڈ بھی اکٹھا کرنے لگا،اس نے افغانستان میں گوریلا جنگ کی تربیت بھی حاصل کی اور کمانڈر کی حیثیت سے پہچاناجانے لگا،اس نے کئی زبانوں پرعبور بھی حاصل کر لیااردو اس کی مادری زبان تھی،انگلش اس نے تعلیم کے دوران سیکھی،پشتو اور فارسی اس نے افغانستان میں رہ کر سیکھی۔
افغانستان میں جب روس کو شکست ہوئی تو اس نے پاکستان میں واپس آنے کا فیصلہ کیا اور پاکستان میں1992ء میں ایک سیکورٹی کمپنی میں بطور منیجر کے نوکری اختیار کر لی،لیکن اس کو اپنی منزل پھر بھی قریب نظر نہ آئی اور پھر اس نے راولپنڈی میں اپنی ایک "براس ٹیکس "کے نام سے کمپنی بنا لی اور اس ہی نام سے ایک ویب سائیٹ بھی بنا لی افغانستان میں روس کے بھاگنے کے بعد بننے والی حکومت سے وہ بڑا متاثر ہوا،اس نے سوچا کہ اگر پاکستان میں بھی اس طرح کا انقلاب آجائے اور وہ سربراہ مملکت بن جاؤ تو وہ سارے خواب جو بچپن سے آج تک میں دیکھ رہا ہو وہ پورے ہو سکتے ہیں،اس نے اس طرح کے انقلاب کے لئے کام کرنا شروع کر دیا،اس نے جہاد کے نام پر فنڈ اکٹھا کرنا شروع کیا اور جہاد پر ایک دستاویزی فلم بھی بنا لی۔اپنی سوچ کے مطابق اس نے اپنے کام کو جاری رکھا،اس ہی دوران اس کی ملاقات ایک یوسف نام کے جھوٹے شحص سے ہوئی ،وہ اس کے افکارونظریات سے بہت زیادہ متاثر ہوا اور جب وہ اس کے زیادہ قریب ہوا تو اس کو اس کے مشن کے بارے میں پتا چلاتو اس کو اپنی منزل قریب آتی ہوئی نظر آئی،اس نے اس جھوٹے شخص کو اپنا امام وپیشوا بنا لیا اور اس جھوٹے شخص کا اعتماد حاصل کر لیا کہ اس نے اس کو اپناپہلا خلیفہ بنانے کا فیصلہ کر لیا اور اپنے اس فیصلے کا اعلان بھی کر دیا۔
جب ان کی سرگرمیاں بڑی تو حق کے علمبرداروں نے ان کا پیچھا کیا ،اس کا امام و پیشوا تو اپنے انجام کو پہنچ گیااور اس نے خاموشی اختیا ر کر لی،پھر کچھ عرصے کے بعد جب اس نے دیکھا کہ لوگ میرے پچھلے کردار کو بھول گئے ہیں تو اس نے پھر اپنے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا فیصلہ کیا۔اس دفعہ اس نے راستے کا انتخاب بڑا سوچ سمجھ کر کیا،اس نے دیکھا کہ لوگ امریکا کی مخالفت کی بات کرنے والے کی بات جلدی سن لیتے ہیں تو اس نے امریکا کی مخالفت میں بڑی بڑی باتیں میڈیا کے اندر کرنی شروع کر دیں،اس نے اس دفعہ عام لوگوں کے علاوہ کالج اور یونیورسٹیوں کو اپنا ٹارگٹ بنایا،اپنے راستے میں آنے والی ہر دیوار کو گرا دیا اس کا جس نے بھی راستہ روکا اس کو اس نے راستے سے ہٹا دیااس کا کفر کا پردہ فاش کرنے والے کراچی کے ایک نامور کالم نگار کو اس نے قتل کی دھمکیاں دی اور بالاخر اس کو بھی اپنے راستے سے ہٹا دیا،وہ آج بھی اپنے یوسف کذاب کے ساتھ تعلقات کی وضاحت نہیں کرتا،اس شخص کا نام زید زمان حامد ہے جو اپنے آپ کو لباس خضر میں لئے پھرتا ہے لیکن اصل میں ہے راہ زن،میری تما م لوگوں سے خاص کر کالج اور یونیورسٹیوں کے طالب علموں سے گزارش ہے کہ اس شخص سے بچیں اور اپنے ایمان کو سلامت رکھیں،کیونکہ ایک مسلمان کے لئے اول وآخر ایمان ہی تو ہوتا ہے،جس کے پاس ایمان نہیں اس کے پاس اگر ساری دنیا کی دولت،عزت اور شہرت ہو تو کچھ فائدہ نہیں۔

Back to top


(2)

سیدنا عمر فاروقؓ کی زندگی اک نظرمیں


کسی بھی معاشرے کو بنانے اور بگاڑنے میں نوجوانوں کا اہم کردار ہوا کرتا ہے،آج جب ہمارا نوجوان اپنی حقیقی مشن کو بھول چکا ہے،وہ مشن جو پاکستان کو بنانے کے لئے ہمارے بزرگوں نے لازوال قربانیاں دے کا حاصل کرنے کی کوشش کی تھی ،چاہیئے تو یہ تھا کاآج کے نوجوان اس مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچاتے ،اس خواب کو حقیقت کا روپ دیتے،ان بزرگوں کے روحوں کو آرام پہنچاتے ،جن کا خون پاکستان کی بنیادوں میں شامل تھا،لیکن آج کا نوجوان اس مشن کو بھلا چکا ہے وہ مشرقی روایات کو چھوڑ کر مغربی روایات کا اسیر ہو چکا ہے وہ ویلنٹائن ڈے،بسنت،نیوائیرنائٹ جیسی بے ہودہ،غیر معاشرتی،غیرمذہبی اور لوگوں کی جانوں کو نقصان دینے والی رسومات میں پڑ چکا ہے۔
آج ہمارا نوجوان اتنا آگے جاچکا ہے کہ اس کا اپنے مرکز کی طرف واپس آنامشکل نظر آتاہے،ان نوجوانوں کے لئے جو اپنے اصل سے بھٹک چکے ہیں ،ان پر انفرادی محنت کے بجائے اجتماعی محنت کی ضروت ہے۔ایک عرصے سے ایک ایسی تنظیم کی اشد ضرورت محسوس کی جارہی تھی،جو نوجوان نسل کو اسلام وپاکستان کامحافظ بنا سکے۔ملک وملت کا درد رکھنے والے ہر دور موجود رہے ہیں جو اپنی محنت وصلاحیت سے دشمن کے دانت کھٹے کرتے رہے ہیں،ان ہی لوگوں میں سے کچھ لوگوں نے مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے نام سے ایک ایسی تنظیم روشناس کرائی ہے،جس کا مشن غلبہء اسلام اور استحکام ہے،جو بالعموم تمام لوگوں اوربالخصوص طلباء میںیہ شعور اجاگر کر رہی ہے،کہ وہ اپنی تما م ترتوجہ تعلیم کی طرف مبذول رکھیں اور اس کے ساتھ ساتھ ملک وملت کے لئے بھی کوشاں رہیں۔
ایم ایس او ملک میں طلباء میں شعور اجاگر کرنے کے لئے مختلف قسم کے پروگرام منعقد کر رہی ہے،ان پروگراموں میں سے ایک خوبصورت پروگرام آرگنائزیشن کے ذمہ داران نے اٹک کے تحصیل میونسپل ہال میں منعقد کرایا،جس میں تحصیل بھر کے تمام تعلیمی اداروں کے طلباء کو اپنے خیال کا اظہار کرنے کا موقع فراہم کیاتقریری مقابلہ ''سیرت النبیﷺ"کے عنوان سے ہونے والے پروگرام میں تحصیل بھر کے تعلیمی اداروں کے طلباء نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
پروگرام کے مہمان خصوصی مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے ناظم اعلیٰ ملک مظہر جاوید ایڈووکیٹ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ"اٹک کی سرزمین بڑی زرخیز ہے،لازمی بات نہیں کہ انقلاب جہاد ہی کے ذریعے آئے،بلکہ انقلاب تعلیم کے ذریعے سے بھی آسکتا ہے،آج کے طالب علم کل کے معمار وراہنماء ہیں،تمام طلباء کو اسلام کی سربلندی اور پاکستان کی ترقی کے لئے کام کرنا ہو گا،توپھر وہ وقت دور نہیں جب پاکستان دنیا میں سر اٹھا کے چل سکے گا،آج پاکستان کے تمام شعبہ جات میں ایسے لو گوں کی ضرورت ہیں،جو اسلام وپاکستان کے ساتھ مخلص ہوں، غلبہء اسلام اور استحکام پاکستان لازم وملزوم ہیں، MSOنے نبی کریم ؐکی سیرت وکردار کو سامنے رکھتے ہوئے اپنا نصب العین ’’غلبہ اسلام اور استحکام پاکستان‘‘ترتیب دیا ہے ، ،MSOتمام تعلیمی اداروں سے اسلحہ کلچر ختم کر کے طلباء کو سڑکوں چوراہوں سے ہٹا کر کلاس روم میں لانا چاہتی ہے،MSOطلباء حقوق کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی،ایم ایس اوتمام ترلسانی ،صوبائی اورمسلکی تعصبات سے بالا ترہیں، ہم پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کے ساتھ ساتھ نظریاتی سرحدوں کے بھی محافظ ہیں،ایم ایس او ملا اور مسٹر کی تفریق کا خاتمہ چاہتی ہے ۔ان کے علاوہ قاضی خالد محمود تحصیل ناظم اٹک نے کہا کہ MSOجوکام کر رہی ہے وہ جہاد کے مترادف ہے،MSOکاساتھ تمام طلباء و سول سوسائٹی کو دینا چاہیے۔معروف قانون دان اورسماجی شخصیت عظمت بخاری ایڈووکیٹ نے کہا MSOکے ماٹو کو سامنے رکھتے ہوئے ہم نے ملک کی نظریاتی وجغرافیائی سرحدوں کا تحفظ کرنا ہے۔معروف کالم نگار اور صحافی ارشاد علی نے اس موقع پر کہا ایسی تقاریب نئی نسل کے لیے بہت کارگرثابت ہو سکتی ہیں،اس سے طلباء اپنے اصل مقصد حیات سے روشناس ہوں گے۔تقریب میں تحصیل بھر کے سکولوں،کالجوں سے طلباء نے شرکت کی اور بڑے خوبصورت اندازمیں تقاریر پیش کیں۔آخر میں پوزیشن ہولڈر طلباء کو تعریفی شیلڈز سے نوازا گیا،پہلی پوزیشن محمد ابوبکر،دوسری پوزیشن عزیر اقبال ،تیسری پوزیشن محمد ادریس نے حاصل کی۔
 

Back to top


(3)

مقصدمیلادِ مصطفےٰ ﷺ


کوئی بھی ملک اس وقت تک ترقی کی منازل آسانی سے طے نہیں کر سکتا ،جب تک اس میں مکمل امن وا مان نہ ہواور اس میں بسنے والے لوگوں کو یکساں انصاف میسر نہ ہو۔پاکستان میں اس وقت امن وامان کی حالت دگرگوں ہے اور انصاف کا یہ عالم ہے کہ جس کے پاس طاقت ہے وہ اپنی مرضی کا فیصلہ صادر کرا لیتا ہے ،حکومت بھی صرف اپنے کارکنوں کوآسائشیں فراہم کر رہی ہے۔موجودہ حکومتی پارٹی نے تو سابقہ دور میں نکالے جانے والے ملازمین کو بحال کر دیا ہے،صرف بحال ہی نہیں کیا بلکہ بقایا جات بھی دے دئیے ہیں،لیکن اس ہی جمہوری حکومت میں جس کا نعرہ ’’روٹی،کپڑااورمکان‘‘ہے،اس نے ان ملازمین کو جو اس وقت پاکستان کو تعلیم یافتہ اور ہنر مندافراد فراہم کر رہے ہیں ان کے ساتھ انتہائی ناروا سلوک رکھا ہوا ہے میری مراد ٹیوٹا کے ملازمین سے ہے۔
’’ٹیوٹا‘‘ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی،جس کا قیام1999ء کو رکھا گیا،’’ٹیوٹا‘‘ اس وقت پورے پنجاب میں500 کے قریب ادارے جن میں طلباء کے لئے گورنمنٹ پولی ٹیکنیک انسٹی ٹیوٹ، گورنمنٹ کامرس کالجز،گورنمنٹ ٹیکنیکل ٹریننگ سنٹر اور طالبات کے لئے گورنمنٹ ووکیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ چلا رہا ہے،جس میں ہزاروں کی تعداد میں طلباء و طالبات فنی تعلیم حاصل کر رہی ہیں،یہاں سے تعلیم حاصل کرنے والے طلباء وطالبات اپنے مستقبل کے ساتھ ساتھ پاکستان کے لئے بھی فائدہ مند ہو رہے ہیں۔موجودہ حکومت نے جہاں سابقہ اور موجودہ کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کر دیا ہے،وہاں پر اب موجودہ حکومت کے لئے اس ادارے کے ملازمین کا مستقل نہ ہونا جانبداری کا ثبوت ہے اور ان ملازمین کے ساتھ نا انصافی کا منہ بالتا ثبوت بھی ہے،جب باقی تمام محکموں کے ملازمین کو مستقل کر دیا گیا ہے تو ان غریب وناچار لوگوں کے سر سے بھی کنٹریکٹ کی لٹکتی ہوئی تلوار کو بھی ہٹا دیا جائے توکون سا پہاڑگر پڑے گا؟جب اس ہی ملک کے کئی لوگوں کے کروڑوں روپے کے قرض معاف کر دیئے گئے ہیں تو وہاں پر ان لوگوں کو مستقل کرنے پر حکومت کے خزانے میں کون سا سیلاب آجائے گاجووہاں پر موجودسرمائے کو بہا لے جائے گا؟’’ٹیوٹا‘‘ملازمین جن میں کئی ملازمین کی سروس10سال سے زائدہوچکی ہیں اور وہ اب کسی بھی دوسری جگہ ملازمت کر نے کے اہل نہیں رہے،کیونکہ ان کی عمراب اس مرحلے سے آگے نکل چکی ہے جس عمر میں ملازمت ملتی ہے۔
اگر ملک میں’’بینظیر انکم سپورٹ‘‘جس میں بہت زیادہ سقم پایا جاتا ہے اور پنجاب میں’’سستی روٹی سکیم‘‘ جس پر بہت سے اعتراضات کئے جارہے ہیں،جیسے پروگرام جاری رکھے جا سکتے ہیں تو ان ملازمین کو ان کا آئینی وقانونی حق دینے میں کون سا قیامت آجائے گی؟کیا خزانہ خالی ہوجائے گا؟ملک دیوالیہ ہو جائے گا؟پورے ملک خصوصا پنجاب میں تمام کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کیا جا چکا ہے اور ان کو لاکھوں کے واجبات بھی دئے جا چکے ہیں،لیکن ٹیوٹا ملازمین ابھی تک یتیم بچوں کی طرح منہ کھول کے حکومت وقت کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ شاید کچھ ان کو حیا آئے اور ہمارے ہاتھ بھی کچھ آجائے۔
ایک اخباری رپورٹ کے مطابق صوبہ پنجاب میں وزیر اعلیٰ شھباز شریف کے حکم پر ہونے والے مستقلی کے فیصلہ پر ٹیوٹا ملازمین نے ہائی کورٹ میں رٹ کی جس پر ملتان ہائی کورٹ کے بنچ نے ’’ٹیوٹا‘‘کو حکومت پنجاب اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے احکامات نہ ماننے پر50ہزارجرمانہ کیا اور فیصلہ سنایا کہ تمام ٹیوٹا ملازمین کو مستقل کیا جائے،لیکن اس کے باوجود حکومت پنجاب اورنہ ہی’’ٹیوٹا‘‘ نے اس پر عمل درآمد کیا ۔ٹیوٹا ملازمین ٹیچنگ ونان ٹیچنگ سٹاف اس وقت مایوسی اور بے چینی کا شکار ہے،انہیں یہ احکامات سوچنے پر مجبور کر رہے ہیں کہ شاید ہم پاکستانی نہیں؟یا ہم پنجاب میں نہیں رہتے؟کیا ہم پر پاکستان کے دوسرے محکموں کے ملازمین کی طرح ڈیوٹی خوش اسلوبی سے سر انجام نہیں دیتے؟ٹیوٹا کے ملازمین اس وقت حکومت،عدلیہ اور’’ ٹیوٹا‘‘ کے سربراہوں کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں کہ شاید ان میں سے کوئی ایک ہی ہم پر نظر کرم فرما کر ہمیں مستقبل کے اندیشوں سے نکال دے ۔


 

Back to top


Jeevey Pakistan is now offering you a great facility of putting your banner on jeeveypakistan.com Homepage. 

© Copyrights 2007-2009, JeeveyPakistan