List of Articles by Shaikh Muhammad Asif

(Click the title to read the article)
میڈیا، سرپرائز ،
دینی جماعتوں کی مصلحت ۔۔۔
تحریر
: شیخ محمد آصف
بہت دیر تو
نہیں ہاں کچھ سال قبل کی بات ہے جب پاکستان کا ایک واحد چینل PTVقوم کو
تفریح فراہم کیاکرتا تھا مگر آج اس دوڑ میں پاکستان کے کئی اور چینل بھی
شامل ہوچکے ہیں،ہمیں یہ بھی یاد ہے کہ PTVپر ایسا کچھ ’’گندا مندا‘‘ بھولے
سے نشر ہو جاتا تو ہمارے علماء سراپا احتجاج بن جاتے اسمبلی میں قرارداد
پیش کی جاتی ،حکومت اپنی اس ’’ بھول ‘‘ کی اصلاح کرنے پر مجبور ہوجاتی،نیوز
کاسٹر جسنے ایک روز قبل بغیر دوپٹے کے خبریں پڑھی ہوتیں تھیں اسکا دوپٹہ
دوبارہ اپنی جگہ پر واپس آ جاتا مگر قارئین آج جو تصویر ہمارے سامنے ہے وہ
بالکل ہی الٹ ہو چکی ہے،دوپٹہ تو ایک طرف رہ گیا،نیوز کاسٹرز،اور ٹاک شوز
کی بہت سی خواتین اینکرزکا لباس بھی جامع نہیں ہوتا،مگر اف ہے کہ دینی
جماعت کا کوئی لیڈر اس پر آواز تک نہیں اٹھاتا بلکہ ان ٹاک شوز میں بیٹھ کر
ملکی معاملات پر اپنی رائے دینے میں بھی فحر محسوس کرتے ہیں،قارئین کچھ
دنوں سے الیکٹرانک میڈیا پر کنڈوم کے اشتہارات نشر ہو رہے ہیں جن کی
خریداری پر ایک سرپرائز انعام بھی ہے،جی ہاں قارئین یہ اشتہارات ہمارے دیسی
چینلز ہی نشر کر رہے ہیں ان میں سے کوئی بھی ولایتی نہیں، ان میں سے کوئی
چینل ایسا نہیں جسکی نشریات اپنے اختتام سے پہلے امریکا کو برا اور ظالم کہ
کر اختتام پذیر نہ ہوتی ہوں مگر یہی چینل USAIDکے تعاون سے قائم ہونیوالے
ادارے کے سرپرائز اشتہار نشر بھی کر رہے ہیں اور انکو پرنٹ میڈیا میں پبلش
بھی کیا جارہا ہے ،مجھے ملنے والے سینکڑوں خطوط میں ان درد مند پاکستانیوں
کا سر آج کل اپنے گھروں میں شرم سے جھکا ہوا ہے جن کے بیٹے اور بیٹیاں ان
سے یہ سوال کر رہے ہیں’’ڈیڈی یہ کس چیز کا ایڈ ہے؟ ما ماں یہ ایک لیکر آتے
ہیں نا دیکھتے ہیں اس میں سرپرائز میں کیا گفٹ نکلتا ہے؟(فیملی پلیننگ کے
دیگر اشتہارات کی لیگوئنج بھی قابل اعتراض ہے)قارئین آج کوئی سیاسی ، دینی
جماعت ،علماء کرام اس بات پر واویلا نہیں کر تے ،ان الیکٹرانک چینلز کا
بائیکاٹ نہیں کیا جاتا کہ آپ قوم کے اخلاق کو تباہ کرنے کے مرتکب ہو رہے
ہیں،ہمارا مولوی بھی مصلحت کا شکار ہو چکا ہے،دین پھیلانے والے جب حصول
دنیا میں لگ جائیں،اسمبلی میں اپنی سیٹوں کی تعداد میں اضافے میں لگ جائیں
تو قوم کے اخلاق کا پھر ایسے ہی جنازہ نکلا کرتا ہے،قارئین ہمیں ان سیاسی
جماعتوں کیطرف دیکھنے کی بجائے ایسے تمام پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا خود
بائیکاٹ کرنا ہوگا جو قوم کے اخلاق کی تباہی میں محض اپنے وقتی فائدے کیلئے
استعمال ہو رہے ہیں،کبوتر کیطرح آنکھیں بند کرنے،حکومت کا یہ کہ کر تاویلیں
دینا کہ پیمرا ان نجی چینلز کے اشتہارات کی پالیسی کو کنٹرول نہیں کرسکتا
سے کام نہیں چلے گا،اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کو اس پر سوموٹو ایکشن لینا
چاہیے پیشتر اسکے کہ دیر ہو جائے۔
تم ’’اچھے‘‘ مسیحا ہو؟؟
تحریر
: شیخ محمد آصف
موجودہ حکومت کے برسر اقتدار میں آنے
کے بعد شائد یہ پہلا موقع ہوگا جب عوام نے اطمنان کا اظہار کیا ہے کہ ملک کے موجودہ
صدر کو ہر بات کا پتہ ہے،صدر کی عقابی نگاہیں ایسی ہیں کہ ان سے ایسا کوئی مسئلہ
نہیں جو چھپا ہوا ہو،ملک میں بے روزگاری ہے،عوام بھوکوں مر رہے ہیں ،مہنگائی حد سے
بڑھ چکی ہے،سفید پوش آدمی ننگِ بدن ہوچکا ہے،مرد عورتیں، بوڑھے،بچے طویل لائنوں میں
کھڑے ہوکر 2 کلو چینی کیلئے سارا دن لگا دیتے ہیں صدر کو سب پتہ ہے انکی عقابی
نگاہوں سے کچھ بھی تو نہیں جو پوشیدہ ہو، صدر کی نگاہیں یہ بھی دیکھ رہی ہیں کہ
ہمارا ملک کرپشن میں دوسرے ملکوں پر سبقت حاصل کر رہا ہے،پٹواری نے لوگوں کی زمینوں
کے اندراج اور حصول فرد کیلئے اپنے ریٹ کئی گنا بڑھا دیے ہیں،پورے ملک میں کاروبار
کا پہیہ جام ہے،مزدور سارا دن دیہاڑی کے انتظار میں فٹ پاتھوں پر بیٹھے انتظار کرتے
رہتے ہیں،غربت کے ہاتھوں تنگ آکر ملک میں عصمت فروشی پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے
مگر اچھا یہ ہے کہ صدر کو یہ سب پتہ ہے، اداروں میں کرپشن کی خبریں زبان زد عام
ہیں،سنا یہی ہے کہ پاکستانوں میں کھانے والا اکیلا ہی سب کچھ نہیں کھا سکتا ان
کھانے والوں میں کون کون شامل ہیں، اچھی خبر یہی ہے کہ صدر کی عقابی نگاہیں ان سب
کو دیکھ رہی ہیں،صدر تو سیاست میں ارفع و اعلیٰ ہیں اپنے خلاف ہر سازش کا توڑ سیاست
سے کر لیتے ہیں مگر عوام کیا کرے جسکو سیاست آتی ہی نہیں وہ پہلے یہ سوچ کر چیختی
تھی کہ ہمارے مسائل کا کسی کو پتہ نہیں اور اب شائد یہ سوچ کر چیخے گی کہ صدر کو سب
نظر آرہا ہے عوام پھر بیچاری اور کچھ نہیں تو یہی کہے گی
بے دم ہوئے بیمار دوا کیوں نہیں دیتے
تم ’’اچھے‘‘ مسیحا ہو شفا کیوں نہیں دیتے
"Q"۔۔۔
تحریر
: شیخ محمد آصف
موجودہ
حکومت کے نقائص بیان کرنے والے اس بات کی پتہ نہیں داد کیوں نہیں دیتے کہ
حکومت نے پوری قوم کو ایک تہذیب والے انداز میں Qمیں کھڑا ہونا سکھادیا
ہے،قوم کی اس Q نے دیوار چین کی لمبائی کو بھی بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے،مشرف
دور میں قوم نے صرف آٹے کیلئےQبنانی سیکھی تھی تب یہ قوم لائن بنانے میں
اتنی مہارت نہیں رکھتی تھی اکثرQتوڑنے پر پولیس والوں کے ہاتھوں بری طرح
پٹتی تھی جبکہ عورتیں آٹے کے حصول کیلئے کپڑے تک تار تار کروا بیٹھتی
تھیں،یہ اور بات ہے کہ اس’’ Q‘‘نے ’’Qلیگ‘‘ کی سیاست ختم کرنے میں اہم
کردار ادا کیا،یہ اس Qکا ہی کمال تھا کہ شیخ رشید احمد’’Q‘‘سے باہر ہوگئے
اور پھر عوامی لیگ کے شاہسوار بن گئے،موجودہ حکومت کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ
اسنے اس’’Q‘‘کو اور بہتر کیا ہے اب ہمیں ایک نہیں بہت سی’’Q‘‘نظر آتی
ہیں،پوری قوم کو ایک’’ Q‘‘میں کھڑی کرنے والی پی پی کیساتھ عوام شائد اب کے
ایسا شاندار برتاؤ کرنے کا ارادہ کرتی ہوئی نظر آتی ہے کہ شائد یہ جماعت
مستقبل میں کسی ’’Q‘‘میں ہی کھڑی نظر آئے مگر حصول اقتدار تک پہنچ نہ
پائے،عوام حکومت کیطرف سے لگائی گئی ان لمبی لمبی لائنوں میں کھڑے روتے
ہوئے بھی نظر آتے ہیں،مجبور و بے کس عوام اس Qمیں کھڑی آسمان کیطرف نظر
اٹھائے یہ دعا مانگ رہی ہے اللہ جی بارش کیساتھ ساتھ ہمیں اب’’ تیری رحمت
‘‘کی بھی زیادہ ضرورت ہے!
میں کس کے ہاتھ پہ اپنا
لہو تلاش کروں؟
تحریر
: شیخ محمد آصف
دنیا
مین ایسا بہت بہت کم دیکھنے کو ملا ہے کہ بچپن میں رکھے گئے نام کسی پر
اتنے جچ گئے ہوں کہ وہ نام لیے جانے کے بعد کوئی مخصوص’’بے نظیر
شخصیت‘‘ ذہن میں آجائے ایسا ہی ایک نام بے نظیر بھٹو کا ہے کہ جنکے نام
کیساتھ ہی انکی ’’ بے نظیر شخصیت‘‘ذہن میں آجاتی ہے،بے نظیر بھٹو کی
شخصیت انکے ’’بچپن سے لیکر شہادت تک ‘‘ بے نظیر ہی رہی، یہانتک کہ انکی
شہادت نے انکے کٹر ناقدین کو بھی آبدیدہ کر دیا، اس عظیم شخصیت کو ہم
سے جدا ہوئے 2برس بیت گئے مگر گماں یہی ہوتا ہے کہ جیسے وہ آج بھی ہم
میں موجود ہیں،انکی یادیں،انکی باتیں ،انکے افکار،جمہوریت کیلئے انکی
لازوال خدمات رہتی دنیا تک پاکستانی قوم کیساتھ ساتھ پوری دنیا کو بھی
یاد رہیں گی،مشرق کی اس عظیم بیٹی کو دنیا آج بھی تعظیم سے یاد کر تی
ہے،پاکستانی سیاستدان جنہوں نے قائد اعظم کے بعد بہت کم کسی کو متفقہ
طور پر خراج عقیدت پیش کیا ہوگا بے نظیر بھٹو کی شخصیت کے بارے میں وہ
یک زبان ہو کر یہ کہنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ محترمہ کی جمہوریت کیلئے
خدمات ناقابل فراموش ہیں انکی شہادت جس انداز میں ہوئی اسکی سب ہی مذمت
کرتے ہیں مگر ایک بات جسکا پوری قوم کو دکھ ہے وہ یہ کہ محترمہ کے قاتل
ابھی تک پکڑے نہیں جاسکے،پی پی کی حکومت اور سب سے بڑھ کر یہ کہ محترمہ
کے شوہر ملک کے صدر ہوں،پارٹی کے کو ۔چیرمین ہوں مگر ان سب کے باوجود
حکومت قاتلوں کو پکڑنے میں ابھی تک کامیاب نہیں ہو سکی،پاکستانی عوام
اقوام متحدہ کی ٹیم کی آنیاں جانیاں بھی دیکھ رہی ہے جنہوں نے سوائے
بیانات قلمبند کرنے کے ابھی تک اور کچھ نہیں کیا، صدر زرداری نے گزشتہ
برس محترمہ کی برسی کے موقع پر کہا تھا کہ محترمہ کے قاتلوں کو وہ
جانتے ہیں مگر انہوں نے ابھی تک انکے نام ظاہر نہیں کیے،صدر آصف علی
زرداری کا نام نہ بتانا اور محترمہ کے قتل کی تحقیقات میں اتنی طوالت
بے معنی سی بات لگتی ہے،جبکہ اسکے بالکل الٹ اگر ملک میں اسوقت پی پی
کی بجائے اور کسی جماعت کی حکومت ہوتی تو آصف علی زرداری انکے اہلخانہ
اورپی پی سے وابسطہ ہر فرد اس بات کو ضرور اچھالتا کہ برسر اقتدار
حکومت محترمہ کے قاتلوں کو گرفتار نہیں کر رہی، پاکستانی عوام کو آج
بھی نظیر بھٹو ایک ماں ،ایک بہن،ایک بیٹی،اور ایک بیوی ہونے کے ناتے
انتہائی مظلوم دکھائی دیتی ہیں جو یہ فریاد کر رہی ہوں کہ کوئی تو ان
ہاتھوں کو قوم کے سامنے،میرے بچوں کے سامنے بے نقاب کرے جسنے قوم کی
ایک بیٹی اور اسکے بچوں کی ماں کو ان سے بیدردی سے سب سے چھین لیا،بھٹو
کی اس عظیم بیٹی سے پیار کرنے والا آج ہر شخص اس فریاد پر نوحہ کناں ہے
کہ بی بی کے قاتلوں کو بے نقاب کیا جائے،صدر زرداری اگر یہ جانتے ہیں
کہ بی بی کے قاتل کون ہیں تو اس برسی کے موقع پر قوم کو یہ بتائیں کہ
انکی بیٹی کو کس ظالم نے ان سے یوں بیدردی سے جدا کیا،صدر زرداری پر
محترمہ اور پوری قوم کا یہ قرض ہے کہ وہ بی بی کے قاتلوں کو بے نقاب
کریں۔
بی بی کو27دسمبر 2007کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں اسوقت قتل کر دیا
گیا جبکہ وہ جلسہ گاہ سے واپس جارہی تھیں،یہاں یہ سوال آج بھی جواب طلب
ہے کہ بی بی کو آخری لمحوں میں کس نے مجبور کیا کہ وہ تمام احتیاط کو
بالائے طاق رکھتے ہوئے گاڑی کی Roofسے باہر نکل کر عوام کے نعروں کا
جواب دینے پر مجبور ہوئیں، کیا یہ کوئی فون کال تھی یا گاڑی میں ہی
بیٹھے ہوئے کسی فرد کی خوائش؟قاتل کو کیسے پتہ تھا کہ بی بی جلسہ گاہ
سے واپس جاتے ہوئے گاڑی سے باہر نکل کر لوگوں کے نعروں کا جواب دیں
گی؟اگر محترمہ کے گاڑی سے واپس جاتے ہوئے باہر نکلنے کا قاتل کو یقین
نہ ہوتا تو ضرور وہ محترمہ کو جلسہ گاہ میں ہی نشانہ بنانے کی کوشش
کرتا؟آخر وہ کون تھا جسنے قاتل کو پہلے سے ہی بتا رکھا تھا کہ محترمہ
باہر نکلیں گی اور تم نشانہ بناؤ گے؟کوئی تو ہے جو بہت ہی قریب کا ہے
جو ہمیں نظر نہیں آرہا۔
بے نظیر بھٹو اپنی پچھلی دو نسلوں میں سے بچ جانے والی آخری سیاسی
شخصیت تھیں جنکے گرد پاکستان کی واحد عوامی جماعت پیپلز پارٹی کے کارکن
پروانوں کیطرح جانثار ہوتے رہے،28دسمبر2007کو بے نظیر کو انکے والد کے
پہلو میں سپرد خاک کر دیا گیا،گڑھی خدا بخش کا قبرستان بھٹو خاندان کا
سیاسی قبرستان بن گیا ہے جہاں اب بے نظیربھٹو اب دونوں بھائیوں اور
والد سمیت دفن ہیں،یہ پاکستان کا پہلا قبرستان ہے جسنے ایک درگاہ کی
حیثیت اختیار کر لی ہے،جہاں دن کو سینکڑوں لوگ دعا کیلئے آتے ہیں جبکہ
درجنوں افراد راتوں کو ورد کرتے رہتے ہیں، 21 جون 1953میں سندھ کے
مشہور سیاسی خاندان میں پیدا ہونے والی بے نظیر بھٹو کی شہادت سے
پاکستان اپنی ایک بہترین اور مایہ ناز بیٹی سے محروم ہوگیا،بے نظیر کے
بغیر پاکستان کا سیاسی منظر نامہ ادھورا ہو گیا ہے،ملکی سیاست میں انکی
کمی شدت سے محسوس کی جارہی
ہے، ملک اسوقت جس نازک دور سے گذر رہا ہے ،اداروں کے درمیان ٹکراؤ کی
کیفیت سی بنی ہوئی ہے یقیناً اگر بے نظیر بھٹو زندہ ہوتیں تو انکی
جماعت کے بعض ارکان آج جو بغیر سوچے سمجھے بیانات دے رہے ہیں ایسا نہ
کرتے ، پی پی کے بعض ارکان کے اسی طفل پن کی وجہ سے ن لیگ اسوقت سیاست
میں نہایت پختگی کا مظاہرہ کر رہی ہے جسکی وجہ سے عوام میں پیپلز پارٹی
کی مقبولیت میں نمایاں کمی ہوئی ہے،جبکہ میڈیا اور افواج پاکستان سے
محاذ آرائی کا پی پی کے چند نمایاں راہنماؤں نے نیا بازار گرم کر رکھا
ہے۔
بے نظیر بھٹو ایک نہایت اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون تھیں جنہوں نے دنیا
بھر میں پاکستان کے سافٹ امیج کو اجا گر کیا،انہیں پوری دنیا میں عزت و
احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا، پاکستانی سیاست میں انہوں نے بہت
سختیاں جھیلیں مگر ملک میں جمہوریت کا علَم بلند کرنے کی لگن نے انہیں
کبھی تھکنے نہیں دیا،بے نظیر بھٹو برطانیہ سے تعلیم حاصل کرنے کے
بعد1977میں وطن واپس آئیں،لیکن انکے پاکستان پہنچنے کے دو ہفتے بعد
جنرل ضیاالحق نے ذوالفقار علی بھٹو کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر
اقتدار پر قبضہ کر لیا،جنرل ضیا الحق نے بھٹو کو جیل بھیجنے کے ساتھ
ساتھ ملک میں مارشل لاء نافذ کر دیا،جبکہ بے نظیر بھٹو کو گھر کے اندر
نظر بند کر دیا گیا،بی بی نے 18ماہ تک نظر بندی اور قید کی مشکلات
کیساتھ ساتھ آمرانہ اقدام کیخلاف جدو جہد جاری رکھی، اپریل 1979کو جنرل
ضیا الحق نے بھٹو کو پھانسی پر چڑھا دیا، 1981کو مارشل لاء کے خاتمے
اور جمہوریت کی بحالی کیلئے MRDکے نام سے اتحاد بنایا گیا جس میںآمریت
کیخلاف اگست1983 سے بھر پور جد جہد شروع کی،1984میں بے نظیر کو جیل سے
رہائی ملی جسکے بعد دو سال تک انہوں نے برطانیہ میں جلا وطنی کی زندگی
گذاری،17اگست1988میں ضیاء الحق طیارے کے حادثے میں جاں بحق ہوگئے تو
ملک کے اندر سیاسی تبدیلی کا دروازہ کھلا1988میں عام انتخابات ہوئے
جسمیں قومی اسمبلی میں سب سے زیادہ نشستیں پیپلز پارٹی نے حاصل کیں اور
بے نظیر بھٹو نے2دسمبر1988کو ملک کی پہلی خاتوں وزیر اعظم کی حیثیت سے
حلف اٹھایا۔بے نظیر بھٹو کو انکی قابلیت پر پوری دنیا بھر کے ممالک نے
انکو اعزازات سے نوازا جنمیں امریکا، فرانس، بوسنیا، فلپائن، مراکو،
قازقستان، ٹوکیو،پاکستان شامل ہیں جبکہ دنیا بھر کی یونیورسٹیز کی جانب
سے انکو اعزازی ڈگریاں دی گئیں،جنمیں ہاورڈ یونیورسٹی، آکسفورڈ،کیلی
فورنیا یونیورسٹی،فلپائن کی مینڈ نو سیٹ یونیورسٹی شامل ہیں۔
محترمہ کی اس برسی کے موقع پر عوام صدر آصف علی زرداری سے ایک بار پھر
یہ تقاضا کرتی ہے کہ محترمہ کے قاتلوں کو بے نقاب کریں،وگرنہ محترمہ کی
روح آج بھی یہ کہ رہی ہے کہ ’’میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش
کروں‘‘!!
Back
to top
|