![]() |
![]() |
|
|
|
|
خبریں پاکستان کے تمام شہروں سے۔۔۔
|
میری جامعہ تحریر پروفیسر نوشابہ صدیقی
60 کی دہائی شروع ہوچکی تھی۔ میں کالج سے انٹر کرکے فارغ ہوئی تھی۔ اور جامعہ کراچی اپنے بازو پھیلائے مجھے خوش آمدید کہہ رہی تھی ۔ ان دنوں شہر سے بارہ میل پر یہ البیلی بستی جنگل میں منگل کا سماں پیش کرتی کراچی کے ہر ایک طالبعلم کے گھر سے قصدا دور بنائی گئی یہ بستی بس ایک ہی راستے سے گزرتی اور یہ کہتی ملتی ان ہی پتھروں سے ہوکر اگر آسکو تو آؤ مرے گھر کے راتے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے ایک پتلی ، سیدھی اور سنسان سڑک جسکے دونوں اطراف خاردار جھاڑیاں تھیں۔ ہال ایک مقام پر نئے نئے داخل ہونے والے پولیس کے سپاہیوں کا ٹریننگ سینٹر بھی تھا جہاں سے طالبعلموں سے لدی اور ایک طرف جھکی بس گزرتی تو بس کے اندر ٹھنسے ہوئے "لڑکے لڑکیاں ایک ساتھ چیخ پڑتے About Turn اور سارے سپاہی ایک دم سے اباؤٹ ٹرن ہوجاتے۔ انسٹرکٹر حیران کھڑا رہ جاتا اور بس کے اندر کے طالبعلم تالیاں بجاتے۔ ایک ہاتھ سے ڈنڈا تھامنے والے طالبعلم منہ سے عجیب و غریب آوازیں نکالتے اور ہم جیسے مسافر جس کے ایک پیر کا پنجہ بس کے پائیدان پر اٹکا دوسرا پیر ہوا میں حسرت سے سوچتے ۔ ہم نہ تالی بجا سکتے ہیں نہ منہ سے آواز نکال سکتے ہیں کہ ہمارے ہونٹ بس کی تیز رفتاری کے خوف سے جڑے ہوئے ہیں ۔ اس بات کا ہم اعتراف کرتے ہیں کہ علم کے سفر میں جان سے گزرتے ہوئے جتنی آیت الکرسی نے دل ہی دل میں ان دنوں پڑھی بعد میں آج تک اتنی تعداد ہم پوری نہ کرپائے ۔ ہماری بس PECHS کے ایک ٹوٹے پھوٹے ہوٹل والے بس اسٹاپ جسے میٹروپل کا اسٹاپ کہا جاتا تھا روانہ ہوتی۔ اور ہم براستہ کشمیر روڈ کشمیر فتح کرنے کا عزم لئے جامعہ پہونچ جاتے جامعہ پہنچتے پہنچتے ہمارے ہاتھ سرخ ۔ چہرہ زرد ۔ ہونٹ سفید اور پنجوں سے جان نکل چکی ہوتی ۔ جامعہ کی زمین پر سب سے پہلا قدم ہمارا ٹکراتا تب دوسرا پیر سارے راستے ہوا میں لہراتا رہتا ساکت ہونے کے سبب زمین پر ٹکنے سے انکار کردیتا۔ ہم بس کی دیوار سے ٹیک لگا لیتے اور جب دوسرے پیر میں جان آجاتی اور پہلے پیر کی سوجن کم ہوجاتی تب ہم آرٹس فیکلٹی کی واحد راہداری سے گزرتے ہوئے آخری سرے تک جا پہنچتے۔ جہاں شعبہ معاشیات ہمارا منتظر ہوتا ۔ یہاں پہنچ کر ہمارے جسم میں توانائی آجاتی کہ ہم آرٹس فیکلٹی کے سب بڑے شعبے کے سب سے جونئیر طالبعلم کے طور پر داخل ہوئے تھے ۔ نوٹس بورڈ پڑھنا ہمارے معمولات میں پہلے نمبر پر آتا تھا ۔ اس پر کبھی کوئی خوشگوار خبر نہیں ملتی۔ ٹسٹ ٹیوٹوریل کی تاریخیں یا پچھلے اعمال نامے کا حساب نمبروں کی صورت میں لکھا ملتا۔ جسے پڑھنا لازمی اور جسے بھگتنا ضروری تھا ۔ سندھی ، بنگالی ، جنرل ہسٹری ، آئی آر ، جرنلزم ، معاشیات اور پھر سیاسیات کے شعبوں پر مشتمل اس راہداری کے پیچھے کلاس رومز کی لائن لگی ہوئی تھی جہاں کلاس روم کے قصوں کی تو بھرمار ہے۔ اور کیوں نہ ہو ؟ جہاں ہیرائی صاحب معہ اپنی بھینسوں کے قصے کے ساتھ موجود ہوں۔ بابا مطلوب صاحب ہوں، قاضی فرید ، پروفیسر خورشید احمد، جعفر فخرالدین اور ڈاگٹر احسان رشید جیسے اساتذہ جامعہ پر صرف اس لئے اتارے گئے ہوں کہ انہیں ہم میں معاشیات کی بے کیف داستانوں کا مصالحہ بھرنا ہو آڑی ترچھی لکیروں والے ڈائیگرام سے قیمتوں کے اتار چڑھاؤ اور طلب و رسد کے بے فیض گورکھ دھندہ میں الجھا کر روز ہمیں سولی پر چڑھانہ مقصد ہو۔ ان دنوں ہم نے اتنی تمام تر اجتماعی دانائی کو برؤے کار لاکر فیصلہ کرلیا تھا کہ ڈاکٹر احسان رشید کے طور طریقوں پر عمل کرکے اپنی زندگی دانشوری کی نظر نہیں کرینگے ۔ جو معاشیات پر لکھی جانے والی سب سے موٹی اور وزنی کتاب a History of Economic Thought کو راہداری سے گزرتے ہوئے آنکھوں سے لگا کر پڑھتے پڑھتے کبھی دائیں اور کبھی بائیں کھمبے سے ٹکراتے اور انتہائی عاجزی اور انکساری کے ساتھ ہر ہر کھمبے سے انگریزی میں معذرت کرتے ۔ جامعہ کے پیارے پیارے ساتھیوں کے علاوہ گرد اور فراٹے دار ہوا۔ یہ دونوں بھی ہر وقت ہمارے ساتھ ساتھ رہتے تھے ۔ کہ میلوں پھیلی جامعہ کی زمین پر بس جھاڑیاں ہی جھاڑیاں اگی تھیں جن کا واحد مقصد یہ تھا کہ ہوا سے جب ہمارے دوپٹے اڑ جائیں تب وہ اپنی خاردار بانہوں میں اس یوں دبوچ لیں کہ اب نکالو تو جانیں کی آوازیں فضا اور ہوا میں گونجنے لگیں۔ ہم بھی سمجھدار تھے کہ جب ہمارا دوپٹہ تیز ہوا سے مقابلہ نہ کرسکا ہور اڑتا اڑتا نظروں سے غائب ہوگیا اور بہت دور کسی جھاڑی میں اٹک گیا تو نمجہ کاظمی کے ایک دوپٹےسے دو دوپٹے بنائے گئے اور اس میں سے ایک دوپٹہ ہم پر سج گیا۔ تب دوسرے دن سے سر پر اوڑھا ہوا دوپٹہ تو بال پن میں اٹک گیا لیکن بائیں جانب کندھے پر آتے آتے اسے ہم نے سیفٹی پن سے جکڑنے کا عمل شروع کردیا تھا ۔ ہمیں یہ بھی یاد آتا ہے کہ 1962 کا سال شروع ہوا تھا۔ ہم سیکنڈ ائیر آنرز میں آکر اب قابل عزت طالبعلم بن چکے تھے کہ ہمارے علم میں شعبے کے سپرنٹینڈنٹ ملک صاحب نے یہ اضافہ کیا کہ اب کالا گاؤن ہماری قسمت میں لکھا جانیوالا ہے اور اسکا پہلہ گٹھڑ یونین کے نگراں اور ہمارے صد رشعبہ قاضی فرید کے دفتر میں لاکر رکھا گیا تب ہم نے ان کی ہی وساطت سے یہ شرف حاصل کیا کہ جامعہ میں گاؤن پہننے والے پہلے طالبعلم کے طور پر تاریخ میں جگہ پاگئے۔ مگر اس کالے گاؤن نے ہمارے سفید کپڑوں کو چھپا دیا کہ ہم سفید کپڑوں کی وجہ سے انفرادیت حاصل کرچکے تھے اور خاصے جانے پہچانے جانے لگے تھے کہ ہماری گھڑی کا اسٹرپ، چپل ، بالوں کے ربن اور کاپی کتاب کے کور تک سفید ہوتے تھے۔ بعد میں کچھ اور لڑکیوں نے ہمارا ساتھ دیا جس میں راشدہ افضال، سعدیہ صدیقی اور فائزہ صدیقی ساتھ ملکر کارواں بنانے کا سبب بنیں ۔ ان سفید کپڑوں کے سبب پہلے سال ہمیں احترا ما مادر ملت کا خطاب ملا۔ دوسرے سال تاج محل، پھر سنو وائٹ اور آخری سال کفن پوش کے نام سے پکارا جانے لگا۔ جامعہ میں خوشیاں کم اور مصائب زیادہ تھے۔ جامعہ کی چاٹ میں ریت ، مٹی اور کنکر کی آمیزش سے زیادہ ہمیں شکایت یہ تھی کہ اس میں دیگر فروٹ کم اور پپیتے کی مقدار زیادہ ہوتی ۔ ایک تو ہمیں اس پھل سے ان دنوں سخت چڑ تھی اور دوسری بات یہ کہ یہ سستا پھل چار آنے میں سیر بھر مل جاتا تھا ۔ چار آنے اور سیر بھر ہم نے یوں کہا کہ ان دنوں اعشاری نظام اور کلو کا لفظ ایجاد نہیں ہوا تھا۔ اس زمانے میں دوپٹوں والی چپل فیشن میں بھی تھی اور بوہری بازار سے پانچ روپے میں مل جاتی تھی ۔ جو ایک مہینے چلتی اور پھر دوسرے مہینے سے ہر تین چار دن بعد ٹوٹنا شروع ہوجاتی۔ جامعہ میں کوئی موچی نہیں تھا ہم اپنے ساتھ لائی ہوئی باریک باریک کیلوں سے اپنی مدد آپ کرلیا کرتے ۔ کیلیں ٹھونکنے کیلئے پتھروں کی جامعہ میں بہتات تھی۔ ہم نے اپنی دوست صنوبر نجم الدین کی پناہ میں آکر اس وقت کے رجسٹرار نجم الدین صاحب سے گزارش بھی کی تھی کہ جامعہ میں موچی ہونا بہت ضروری ہے یہ بات کہنے میں ہمیں کئی دن لگے تھے کہ ان دنوں رجسٹرار کی پوسٹ پر رئیس علوی جیسے مہربان لوگ فائز نہیں ہوتے تھے۔ اسکے علاوہ فون کا نہ ہونا بھی ایک المیہ تھا۔ حالانکہ ہم میں سے 90 فیصدی طالبعلم ایسے تھے جن کے گھرفون نہیں ہوتا تھا لیکن ہمیں دس فیصد لوگوں کا خیال تھا ۔ اور ہم اسکے حصول کیلئے شیخ الجامعہ اشتیاق حسین قریشی کے پاس خود بنفس نفیس گئے کہ بزم معاشیات کی ایک تقریب میں انہیں ہماری تقریر بہت پسند آئی تھی۔ ان کی کالی عینک میں آنکھیں جانے ہمیں دیکھ بھی رہی تھیں یا کسی اور طرف تھیں۔ مگر ہم نے اپنی آواز ان تک پہنچا دی تھی۔ کاش ان دنوں بھی پیر زادہ قاسم ہی شیخ الجامعہ ہوتے تو ہمیں آسانی سے پتہ چل جاتا اور اطمینان ہوجاتا کہ وہ ہماری ہی طرف دیکھ رہے ہیں ۔ بہرحال ہماری مقبولیت کے باعث اور ہماری دردمندانہ التجا کے بھی باعث مشفق اور محترم شیخ الجامعہ نے لفٹ کے پاس ڈبہ نما فون دیوار پر آویزاں کرادیا جو اکثر خراب رہا کرتا اور ہمارا ایک آنے کا دانے دار سکہ بھی ہضم کرجاتا جس کا ہمیں ہفتوں ملال رہتا ۔ ان تینوں مطالبے پر عمل کچھ آسان نہ تھا کہ ہمیں روزنامہ جنگ کے طالبعلموں کے صفحے پر "جامعہ کی چاٹ ، موچی اور فون " کے عنوان سے مضمون بھی لکھنا پڑا تھا وہ تو شکر ہے کہ ان دنوں ابھی نثار زبیری نفسیاتی شعبے میں شعور لاشعور کی گتھیاں سلجھا رہے تھے اور طلبا کا صفحہ ابھی ان کی دسترس میں نہیں آیا تھا ورنہ وہ ہماری عظیم الشان کامیابی میں شریک قرار دئیے جاتے ۔ مضمون کی مقبولیت کے بعد پوسٹ آگفس کی دیوار سے ٹیک لگا کر ایک موچی بٹھا دیا گیا کہ اس تک ایک ہاتھ میں چپل لٹکائے پہنچتے پہنچتے ہمارا ایک عدد پاؤں لہولہان ہوچکا ہوتا ۔ وہ تو شکر ہے کہ دونوں چپل کبھی ایک ساتھ نہیں ٹوٹیں ۔ شاید یہ چپلوں کی اپنی کوئی خفیہ تھیوری ہو جو ہمیں بالکل اسی طرح کبھی سمجھ میں نہیں آئی جیسا کہ معاشیات کی بیشتر تھیوری بطور خاص Theory of Consumer Surplus جہاں بے چارے Consumer کو وہ فائدہ ہوتا ہے جو اسے کبھی ہوا ہی نہیں ہوتا ہے۔ خیر اب ہم اگلی کامیابی کی طرف چلتے ہیں جو چاٹ والے کے حوالے سے تھی ۔ کہ اب پپیتے کی مقدار کم کرکے خربوزے یا کیلے کی مقدار بڑھا دی گئی تھی۔ اور فروٹ چاٹ والا ہمیں قلم والا معتبر طالبعلم سمجھ کر اکثر چاٹ کا پیالہ مفت فراہم کرتا ۔ اسکا کہنا تھا کہ ہمارے مضمون سے اسکے ٹھیلے کی شہرت میں خاطر خواہ اضافہ ہوا تھا اور اسی لئے بلامعاوضہ اشتہاری مہم کے ذریعے اب سائنس فیکلٹی والوں تک اسکی دھوم پہنچ گئی چکی تھی ہم اسکی فراہم کردہ مفت چاٹ بخوشی قبول کرلیتے لیکن جسے کھانے کے بعد غیرت میں آجاتے اور اپنے بڑکپن کا ثبوت دیتے ہوے اسکے لوہے کے اس پیالے میں اکنی ڈال دیا کرتے جس میں پانی بھرا ہوتا اور کئی ایک سکے اس میں پہلے سے ڈولتے ہوتے۔ یہ پیالہ اسکا کیش باکس تھا جسے ان دنوں ہم اپنی زبان میں گلک کہا کرتے ۔ یہ راز آج تک راز ہے کہ اس میں پانی کیوں ہوتا تھا ؟ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہم چاٹ والے کی نظروں سے بچ کر لائبریری تک جاتے کہ ہروقت تو ہمارے پاس کرائے کے علاوہ ایک آنے کی مزید بھاری رقم نہیں ہوتی تھی ۔ لائبریری کے ساتھ ساتھ ہمیں شعبہ تصنیف و تالیف میں رکنے کا بھی شوق تھا کہ وہاں ش ضحی نام کے جغرافیے کے ایک معروف استاد بیٹھے ملتے کہ وہ ہماری بڑی بہن کے استاد تھے اور اردو کالج میں پڑھاتے تھے۔ کبھی کبھی میں وہاں لے جائی جاتی اور ان کی کلاس میں میز پر بیٹھ کے جغرافیے کے نہ سمجھ میں آنے والے لگجر سنا کرتی۔ جامعہ جاتے جاتے میں بڑی اور وہ اور بڑے ہوگئے تھے۔ اب وہ کرسی پر بیٹھتے اور میں ان کے سامنے کھڑی ہوکر ان کی شاعری خاص طور سے ان کی سانٹ سننے کی فرمائش کرتی ۔ وہ مجھے باذوق سامع سمجھتے ہوئے کبھی کبھار سنا دیا کرتے اور مجھ پر شادمانی طاری ہوجاتی۔ جامعہ میں جتنی دوستی ہماری لڑکیوں سے تھی اتنی ہی لڑکوں سے بھی تھی مجھے یہ کبھی اچھا نہیں لگا کہ ہمیں دو صنفوں میں تقسیم کردیا جائے کہ ہم تو بس طالبعلم تھے مگر میجر آفتاب کی لاٹھی جب راہداری کے ایک سرے سے سناٹے میں ٹک ٹک کی آواز کے ساتھ اپنا سفر شروع کرتی تو آخری کونے تک گونج سنائی دیتی۔ ایسے جیسے رمضان کی ساکت اور نیند بھری روتوں میں سحری کیلئے اٹھانے والے کی آواز آتی ہے۔ " لڑکے لڑکیو تین فٹ کا فاصلہ رکھو"۔ پھر عبدالحمید چھاپرا ، شہریار جلیس ، ظہور بھوپالی ، نجم الحسن رضوی، رشید بٹ یا اور بھی ہمارا کوئی پیارا ساتھی ہو تو ہم تین فٹ کے فاصلوں میں بٹ جانے پر مجبور ہوجاتے ۔ ہاں ہمیں کچھ اور چیزیں بھی اس وقت اچھی نہیں لگتی تھیں ۔ بعض اساتذہ کے لکچر ، ایشو نہ ہونے والی کتابیں ، بھری ہوئی بسیں ، اپنی کم مائیگی ، گرلز کامن روم کا وجود ، لائبریری سے لی ہوئی موٹی موٹی کتابیں جن کا بس میں گھر تک بمشکل لے جانا ۔ بے وقت کا ٹن ٹن بجتا گھنٹہ اور پھر کبھی ٹسٹ اور کبھی ٹیوٹوریل۔ لیکن آج 45 برس گزر جانے کے بعد وہاں کی گرد، تیز ہوا، لدی ہوئی بس، تین فٹ کا فاصلہ یادوں میں مترنم آواز کا روپ دھار جاتا ہے ۔ دن گزر جاتے ہیں، وقت ایک سا نہیں رہتا ۔ ایسا ہی جیسے چہرے کی نمودار ہوتی لکیریں ۔ کمر کا جھک جانا ، آنکھوں پر چشمہ چڑھ جانا ۔ چشمے کا نمبر بڑھ جانا۔ ہاتھ پاؤن کپکپانا ۔ ڈاکٹروں سے راہ و رسم کا بڑھنا ۔ کانوکیشن سے ڈگریاں لے لینے کے غرور کے بعد جامعہ سے دور نوجانا آج ہمیں کتنا دکھی کرگیا ہے۔ ہمارے بہت سے ساتھی ہم سے جیتے جی چھوٹ گئے ساری ہوائیں فضائیں سب گم ہوگئیں ۔ اب ہماے پاس گاڑی ہے مگر جامعہ کی بس کا مزہ بھلائے نہیں بھولتا ہمارے پاس پیسہ ہے مگر ایک آنے کا حصول کا مزہ کہیں گم ہوگیا ہے ۔ چپل ٹوٹ جاتی ہے ہم اسے پھینک دیتے ہیں ۔ فون ہمارے پرس میں ہمارے ساتھ ساتھ چلتا ہے ۔ شہر میں ہوا ہی نہیں چلتی دوپٹے میں پن لگانے کی ضرورت ہی نہیں رہی، وہ اساتذہ جو ہمیں زندگی کا درس دیتے تھے چھپ گئے۔ ان کی آوازیں ابتک کانوں میں آتی ہیں۔ نہ ہرے گاؤن رہے نہ کالے ۔ ہم راتوں کو کسی امتحان کے خوف سے نہیں جاگتے ۔ بے خبر سوتے ہیں مگر جامعہ یاد آتی ہے ۔ بہت یاد آتی ہے ۔ ہاں وہ عمارت تو اپنی چکہ موجود ہے۔ ہمیں اسکے درو بام سے اب بھی محبت ہے کہ ہماری نوجوانی کے قہقہوں کو وہ اندر سمیٹے اور سموئے ہوئے ہے ۔ مگر ۔ بستیاں تو مکینوں سے پہچانی جاتی ہیں ۔ ہر بستی اور ہر شہر کی اپنی خوشبو اور اپنی روشنی ہوتی ہے۔ جو وہاں کے بسنے والوں کی محبت اور خلوص سے جنم لیتی ہے ۔ جامعہ تو موجود ہے ۔ لیکن آج جامعہ سے دور ہم سب اپنے اپنے دور کے بہت سے ساتھی ایک ساتھ جمع ہیں ۔ باوجود اس کے کہ چہاردیواری دوسری ہے مگر اسکی خوشبو اور روشنی ہم یہاں بھی محسوس کررہے ہیں اور اسے یاد کررہے ہیں ۔ اپنے زمانے کی جامعہ کو ۔ اور کہہ رہے ہیں
اے وادی جمیل مرے دل کی دھڑکنیں آداب کہہ رہی ہیں تری بارگاہ میں
31اکتوبر 2009 یونی کیرین کی تقریب میں ڈیفنس لائبریری میں پڑھا گیا ۔
|
|
© Copyrights 2007-2009, JeeveyPakistan |
|