![]() |
![]() |
|
|
|
|
|
Articles by Nadeem Haider Rizvi
ساڑھے اٹھارہویں ترمیم
قوم کو مبارک ہو کہ بالآخر اٹھارہویں
ترمیم اسمبلی میں پیش ہو گئی اور کابینہ نے منظور ی دے دی ہے ممکن ہے کہ اس
کی اشاعت تک یہ پاس بھی ہو چکی ہو۔ قوم کو مبارک بادتو دے دی ہے مگر کس بات
کی ۔ اس ترمیم کے پاس ہونے سے عام عوام کو کیا فائدہ ہے۔ ہاں اگر فائدہ
ہوگا تو سیاسی کارکنان کو ۔ سیاسی جغادریوں کو۔ اور سب سے بڑھ کر میاں نواز
شریف صاحب کو ۔ ان پر سے تیسری بار وزیر اعظم بننے کی پابندی ختم ہو جائے
گی اور پھر کھل کر سیاست کرنے کا مزہ آئے گا ۔ اب شروع ہوگی اصل دھینگا
مشتی اور حکومت گرانے کے لیے کوششیں ۔ اگر کہیں اس ترمیم سے قبل ہی حکومت
کو گرانے کے لیے میدان عمل میں نون والوں کو اترنا پڑتا تو اس کا فائدہ
میاں صاحب کو تو نہ ہوتا ۔ اب یہ تو ہے کہ اگلے الیکشن میں میاں نواز شریف
صاحب باآسانی وزیر اعظم کے امیدوار کے طور پر کھڑے ہوئے ہونگے ۔ اگر اس
ترمیم کو بغور دیکھوں تو اس میں کہیں بھی عوام نظر نہیں آرہی ہے ۔ اگر صوبہ
سرحد کا نام اب خیبر پختونخواہ رکھا گیا ہے تو اس کے پیچھے اگر پختون
بھائیوں کی طویل جدوجہد ہے مگر حکومت کے لیے اس وقت سب سے اہم ہے اے این پی
کی حمایت کو اپنے لیے بچا کر رکھنا اس لیے اے این پی کو بھی راضی رکھا گیا
ہے دوسری جانب پی پی پی کسی صورت نواز گروپ سے ٹکرانے کے موڈ میں نہیں ہے
اس لیے چاہتے نہ چاہتے ہوئے ان کے مطالبات کو تسلیم کر لیا گیا ہے۔ کہا جا
رہا ہے کہ اب اختیارات وزیر اعظم کی جانب منتقل ہو رہے ہیں مگر نواز شریف
صاحب کی نظر سے دیکھیں تو یہ اختیارات ان کو تیسری بار وزیر اعظم کی صورت
میں منتقل ہو رہے ہیں اور وہ تاج پہنے سارے ملک پر حکمرانی کر رہے ہیں ۔
اور کیوں نہ ایسے خواب دیکھیں‘ مسلم لیگ نون کوئی متحدہ قومی موومنٹ‘
فنگشنل لیگ یا جماعت اسلامی تھوڑی ہے جس کے سربراہ خود وزیر اعظم بننے کے
بجائے کارکنان کو موقع دیتے ہیں‘ ورنہ ہمارے ہاں تو سیاسی جماعتوں کے
سربراہ کے لیے وزیر اعظم بننا لازم و ملزو م ہوتا ہے ۔
|
|
© Copyrights 2007-2009, JeeveyPakistan |
|