|

Articles by Saeed Khawar

جلاوطن روحوں کو سلام
معروف صحافی اور ناول نگارانور سن رائے اور ممتاز شاعرہ عذرا عباس
کے اعزاز میں منعقدہ تقریب میں پڑھا گیا سعید خاور کا نثر پارہ
آج
یہاں میری جگہ میرے ایک اور محبوب از جاں اور صحافت کے کوہِ گراں نذیر
لغاری کو آسمانوں کے نہاں خانوں میں فرشتوں کی سرگوشیوں کے نتیجے میں کرہ
ارض پرحجلہ عروسی کی زینت بنائی جانے والی اس خوبروجوڑی کو سلامِ محبت پیش
کرنا تھا لیکن وہ اپنے عم محترم کی رحلت کی وجہ سے شہر سے باہر چلے گئے تو
یہ سعادت میر ے دامن گیر ہو گئی۔ اورمیں خوش ہوں کیونکہ یہ سعادت میرے لئے
بلاکم وکاست زندگی کا انمول عطیہ ہے۔
|

Mr. Saeed Khawar is a renowned
writer and senior journalist |
یہ جو آج کی محفلِ یاراں ہے ، دو بے چین روحوں کو نذرانہ تحسین پیش کرنے کے
لئے سجائی گئی ہے۔ ایک لق ودق صحرا میں بھٹکتی ، گرم ریت پر پاؤں پٹختی
پیاسی روح انور سن رائے .....اور ایک ساحل کی نرم ریت پر رقصاں پا بہ جولاں
،مغموم و مترنم روح عذرا عباس.....
یا خدا یہ تیرے ملائک نے آسمانوں کی خلوتوں میں بیٹھ کر زمین کی جلوتوں میں
کیا گل کھلائے ہیں کہ آج ان دونوں کے وجود سے ہماری دنیا مہک رہی ہے۔بلاشبہ
یہ خوشبو آسمانی صحیفہ ہے جسے ہم نے خدا کااپنی عاجز مخلوق کے لئے تحفہ
سمجھ کر اپنی سانسوں میں بسالیا ہے۔
یہ جودو روحیں ہیں ، عالم ارواح میں حوروں کے دست حنائی سے خوبصورت حرفوں
اور لفظوں میں گوندھی گئیں،ان کی سماعتوں کو صحرا اور ساحل کے نغموں سے
سینچا گیا، ان کو ریگستان کی وسعت اور سمندر کی گہرائی میں پروان چڑھی
گویائی کی قوت سے سرفراز کیا گیا۔ان کے وجود میں محبوبیت کی رگیں پھڑکائی
گئیں اور پھر یہ روحیں عالم ارواح سے ہماری دنیا میں جلاوطن کر دی گئیں۔ جو
بابا آدم اور اماں حوا کے ساتھ ہوا، انور سن رائے اور عذرا عباس اسی س لوک
کے مستحق ٹھہرائے گئے۔یہ جلاوطن جوڑا اب اہل زمین کامحبوب جوڑا ہے۔
یہ جو جلاوطن لوگ ہوتے ہیں ، اپنی روح پر اپنے ماضی کا قرض لادے در بدر
بھٹکتے رہتے ہیں۔لیکن ان کا ماضی سائے کی طرح ہر وقت ان کے تعاقب میں رہتا
ہے۔انور سن رائے، نذیر لغاری کے طفیل میری زندگی میں آئے۔ سانجھے المیوں نے
ہمیں سنگت کی صلیب پرلٹکا دیااور برسوں بیت گئے، اکھڑتی سانسوں کے باوجود
ابھی تک ہم اس صلیب کا سنگھار ہیں۔میں بھی نذیر لغاری اور انور سن رائے کی
طرح اپنی اس خودساختہ جلاوطنی میں اپنے گزرے کل کا قرض اٹھائے اٹھائے اب
توجھکنے لگا ہوں۔یہ قرض کب اور کیسے اترے گا؟ یہ سوال اب میرے لئے وحشت بن
گیا ہے۔
مقروض مقروض ہوتا ہے، وہ خیر پور ٹامیوالی میں حضرت خواجہ خدا بخشؒ کے مزار
پر دیا جلا کر اپنی دربدری کا کفارہ ادا کر رہا ہو، محراب والا میں دائی
اماں کی مسجد میں جاروب کشی کر کے اپنی ہجرت کا غم غلط کرنے کی کوشش کر رہا
ہو یا محمد پور کی ایک ملگجی شام میں اپنے اجداد کی قبروں پر پانی چھڑک کر
انہیں اپنے زندہ ہونے کا احساس دلا رہا ہو۔انور سن رائے،سعید خاور اور نذیر
لغاری ایک ہی مٹی کے محبوب اور مقروض ہیں۔
اگرحضرت خواجہ خدا بخش کے مزار پر دیا جلانے سے دربدری کا کفارہ ادا ہوتا
ہے ،اگرمحراب والا میں دائی اماں کی مسجد میں جاروب کشی سے ہجرت کی صعوبت
کچھ کم ہوتی ہے اور اگرمحمدپور کے ایک ویران قبرستان میں بوسیدہ قبروں پر
پانی چھڑکنے سے زندگی کا کوئی احساس ملتا ہے تو انور سن رائے اور نذیر
لغاری کے ایما پر رات میں نے ایک روحانی سفرمیںیہ ساری ذمہ داریاں ایک ساتھ
پوری کر دی ہیں۔
میری بے چین روح نے رات کے اندھیروں میں مائی بھاگی اور پٹھانے خان کے گائے
ہوئے شاہ لطیف اورخواجہ فریدکے نغمے گاتے ہوئے خیرپور ٹامیوالی میں حضرت
خواجہ خدا بخش کے مزار پر خون دل سے دیا جلایا، محراب والا میں دائی اماں
کی مسجد میں اپنی پلکوں سے جاروب کشی کی اور پھر لڑھکتے لپکتے دریا پار
محمد پور پہنچا اور وہاں جوگیانیوں کے قبرستان میں جا کر اپنے آنسوؤں سے
بوڑھی قبروں کو بھگو دیا۔میری روح ابھی تک گردش میں ہے۔
انور سن رائے خوش قسمت ہے کہ اسے صحرا سے ساحل تک پہنچ کر پورا سچ لکھنے
اور بولنے کی قدرت نصیب ہوئی۔میں زندگی کے ایک ایسے زندان میں مقید ہوں کہ
جہاں آدھے سچ کو پورے سچ کے طور پر لکھنا اور بولنا پڑتا ہے۔ اس زندان میں
میرے روبرو آئینہ مجھے اپنی بجائے میرا اجنبی چہرہ پیش کرتا ہے اور میں اس
اجنبی چہرے کو اپنی اصل شناخت لکھنے اور کہنے میں اپنی عافیت اور کسی حد تک
اسے اپنی فتح تصور کرتا ہوں۔ صحرا کے کچے گھروں سے اٹھائے جانے والے وجود
مہد سے لحد تک اجنبیت اور مصلحت کی سولی پر لٹکے رہتے ہیں۔میری صحرا سے عشق
کی داستان ’’پیاس اور افلاس کا صحرا‘‘ ان ہی المیوں کی کتھا کہانی ہے۔میری
صحرائی روح تشنگی کے طویل سفر پر گامزن ہے۔ چولستان سے تھر کے ریگزاروں تک
کے سفر میں میری پیاس میرا زادِراہ ہے۔
اُدھر اُن
آنکھوں میں سمندر کی مستی ہے
ادھریہ ہونٹ ازل سے پیاسے ہیں
اک ساگر روبرو ٹھہرا
اور اِن لبوں پہ تشنگی ہے
کوئی تو ہو جو بڑھ کے
ان پیاسے لبوں کی تسکین کا وسیلہ بنے
میں ہجر کے زہر میں بجھی اک شام ہوں
وہ وصال کے لمحوں میں ڈوبا اک سویرا ہے
میں اِس پار وہ اُس پار
درمیاں اک اندھی اور کالی رات کا سفر
ردِ جاں پناہ ہے
یہ زندگی اک آس ہے
میری تشنگی میراتماشا ہے
کوئی تو اس سے کہے جا کے
وہ اس کالی رات کا بدن چیر کر
کبھی میری شام کا ساغر بنے
میں نے اس طویل اور کٹھن سفر میں بس کچھ نام کمائے ہیں۔وہ نام میری زندگی
کا اثاثہ ہیں۔یہ دو نام جو آج کی اس تقریب کا سبب بنے ہیں.....اے مسبب
الاسباب! تو گواہ رہنا، یہ دو نام میری دھڑکنوں میں شامل ہیں۔ جب تک تیری
یہ دنیا آباد رہے ان دو روحوں کو میرے دل کی ویران حویلی کا مہمان بنائے
رکھنا۔
میری زندگی دائروں اور خانوں میں بٹی مقروض زندگی ہے۔ میں اپنی گفتگوسے
انور سن رائے اور عذرا عباس کو،ان کے فن اور شخصیت کو خانوں میں نہیں
بانٹنا چاہتا۔ خدا نے انہیں دنیائے ادب میں مسند نشین کیا ہے تو مجھے بھی
حرمتِ قلم کی سنت میں ان کے مرتبے کا اعتراف کرنا ہے۔ لیکن انور سن رائے ،
نذیر لغاری اور میں،ہم تینوں اپنے وجود پر ایک قرض لے کر اس نئی دنیا میں
آئے تھے، وہ قرض ابھی باقی ہے کہ زندگی نے منہ موڑنے کی ٹھان لی ہے ۔ میری
ہجرت، شکست اور درماندگی کی غماز انور سن رائے کی ایک طویل نظم ’’وسیب‘‘ کی
چندسطریںآپ کی نذر کرکے اجازت چاہتا ہوں:
اور یہ ہم ہیں
ہماری روح
اور ہماری خود فراموشی
ایک پراسرار چُپ
ایک سرسراہٹ
جو بہت کم پیدا ہوتی ہے
کیونکہ ہم نے خود کو ریت سے الگ کرلیا ہے
کیونکہ ہم اپنے آپ سے دستبردار ہوگئے ہیں
اب بھی وہاں بادل آتے ہوں گے
اب بھی وہاں پرندے اترتے ہوں گے
اب بھی وہاں گھاس کی خوشبو کا شور مچتا ہوگا
ایک نئے درخت کی نمو کا شور
جس کی جڑیں کبھی ہمارے دل میں ہوتی تھیں
جس کی کونپلیں ہماری آنکھوں سے پھوٹتی تھیں
ایک درخت جوریت میں سر اٹھا کر کھڑا ہوتا تھا
جس کی سرگوشی ہمارے دلوں کومسرت سے بھر دیتی تھی
تب ہم نے سمندر نہیں دیکھا تھا
تب ریت ہماری زبان تھی
اور ہم شاعری اور ریت میں کوئی فرق نہیں کرتے تھے
لیکن جب ہم نے سمندر دیکھ لیاتو زبان اور زمین میں فرق کرنے لگے
ہم نے جان لیا
سمندر اپنی تمام قوت کے باوجود
کبھی ہمارے زخموں کو بھر نہیں سکے گا
Back to top
|