|
2وطن
کی فکرکر ناداں.......
ان کی دھرتی نے سب سے پہلے امریکی فوج ‘امریکی طاقت اور امریکی
چالبازی کا مزا چکھاتھا۔آج سے ایک صدی قبل امریکا کی فوج ان کی
بندرگاہوں پر یہ کہہ کر لنگرانداز ہونا شروع ہوئی تھی کہ ہم تمہیں
اسپین کی غلامی سے آزاد کروائیں گے۔صدیوں سے مار کھاتے ظلم سہتے یہ
لوگ اس وقت کیسے مسکرائے ہونگے‘وہ جن کی کمریں اسپین کے فوجیوں کے
ظلم سہتے سہتے دہریں ہو گئیں تھیں۔جو ذرا بھی بولتا ‘غصے میں سینہ
پھلاتا‘اسے سمندر کے کنارے بنے ہوئے ایک تاریک جیل کے تہہ خانے میں
پھینک دیا جاتا۔زندہ بچ نکلتاتو ایک دن بڑے پادری کے سامنے پیش
کردیا جاتا۔بپتسمہ کیلئے تیار ہوتا تو ایک آزاد غلام کی حیثیت سے
فلپائن کے بازار میں زندگی گزارتاورنہ موت اس کا مقدر ہوتی۔
منیلا کے ساحل کے ساتھ اس جیل کو یادگار کے طور پر محفوظ کرلیا گیا
ہے۔اس جیل کے تہہ خانوں کی سیڑھیاں اتر تے ہوئے سیلن سے رچے خون کی
بدبواور نہائت نیچی چھت سے ٹکراتی چیخوں کی بازگشت سے سانس بند
ہوتا محسوس ہوتا ہے۔آپ جونہی ایک چھوٹے سے کمرے میں پہنچتے ہیں
جہاں اس قوم کی آزادی کا ہیرو اور بانی رزال ایک لمبے عرصے تک قید
رکھا گیاتھاتو اس کمرے کے درودیوار مغرب کے مشرق پر ظلم وبربریت کے
قصے سناناشروع کر دیتے ہیں۔یہ وہی بند کمرہ ہے جہاں رزال کی ماں نے
ایک لیمپ کسی طرح رشوت دے کر بھجوایا تھا کہ اس کا بیٹا شاعر اور
ناول نگار ہے ‘اسے پڑھنے میں مدددے گا۔جیل والوں نے کہا کہ اس میں
تیل تم خود ڈال کر لایا کروگی‘ہم تیل کا خرچہ برداشت نہیں کر
سکتے۔ہر صبح ماں وہ لیمپ لے جاتی‘سارادن اس سے اسے اپنے بیٹے کی
خوشبو آتی رہتی ۔شام کو وہ اسے صاف کرکے اس میں تیل بھر کر واپس لے
آتی۔اسی لیمپ میں اس کی ماں نے ایک خفیہ خانہ بنا رکھاتھاجس میں
خالی کاغذ رکھ دیتی تھی اور صبح تک رزال ان پر اپنی شاعری اور اپنا
افسانہ لکھ کر بھیجتا رہتااور یوں جس دن وہ یہ تنگ و تاریک سیڑھیاں
چڑھ کر پھانسی کی سزاپانے کیلئے جارہا تھا پورا فلپائن اس کے ناول
میں لکھے گئے باغیانہ فقروں سے گونج رہا تھا۔
ایسی غلامی میں امریکی فوج انہیں آزادی اور جمہوریت کا درس دیتی
ہوئی داخل ہوئی ۔مسکراتے فلپائنی جب تھوڑی سی دیرکے بعد جاگے تو ان
کی دنیا ہی لٹ چکی تھی۔اس زندگی سے انہیں وہ تکلیف دہ موت زیادہ
بہتر لگتی تھی جس میں عزت و غیرت تھی‘شرم و حیا تھی۔امریکی فوج نے
جہاں ان کی ہر بندرگاہ اور ہر بڑے شہر پر تسلط کیلئے اور اس علاقے
میں اپنی جگا گیری کیلئے چھاؤنیاں بنائیں وہیں منیلا کے بازاروں
میں ان کی کمسن عورتوں کا بازار سجانے کیلئے ایک پوری یونٹ ایک
کرنل کی نگرانی میں مستعد اور چاق و چوبندوہاں متعین کردی جہاں سب
سے پہلے یہ فوجی خود اپنی سفلی پیاس بجھاتے اوردوردراز متعین
امریکی فوجی اپنے بھائی بندوں کی نگرانی میں عیاشی کا مزہ لوٹتے۔
ان سے زیادہ کون جانتا ہوگاان زخموں کو جو امریکی سپاہیوں اور عیاش
سیاحوں نے ان کی معصوم اور سادہ زندگی پر لگائے۔مکاتی‘پاسگ اور
منیلاکے بڑے بڑے بازاروں میں آج بھی امریکی فوج کے بنائے ہوئے یہ
بازار موجود ہیں ۔اس قوم سے زیادہ کس کو خبر ہے کہ ان پر بدترین
آمروں کو کون مسلط کرتا رہاہے ۔اسی قوم کے حکمرانوں سے زیادہ کون
جانتا ہے کہ جتنی دیر کیلئے وہ امریکا کیلئے کارآمد رہتے ہیں
‘ڈکٹیٹر مارکوس کی طرح حکومت کرتے ہیں اور جب ناکارہ ہو جاتے ہیں
تو پردیس میں ذلت و رسوائی کی موت مرتے ہیں۔
یہ ملک آج بھی امریکا اور امریکی فوج کا دستِ نگر اور محتاج ہے ‘آج
بھی امداد کے ٹکڑے اور فوجی سازوسامان کی بھیک اسے امریکا سے ملتی
ہے‘آج بھی اس کی سرزمین امریکی اڈوں سے آباد ہے ‘وہی اڈے جہاں سے
پورے مشرقِ بعید پرحکمرانی کی جا رہی ہے۔امریکی پالیسیوں میں گھٹا
ہوا یہ ملک آج بھی اس قدر غریب ہے کہ اس کے ۸۰لاکھ مرد اور عورتیں
پوری دنیا کے گھروں میں آیاؤں‘ڈرائیوروں اور دوسرے معمولی ملازمتوں
پر بھاری مشقتوں کو جھیل کر اپنے ملک کی معیشت کو سہارا دیتے ہیں۔
کہتے ہیں غیرت کا کوئی ٹھکانہ اور وقت نہیں ہوتا۔یہ کبھی بھی
محکوموں کے دماغ میں جاگ اٹھا کرتی ہے اور ایسا ہی چھ سال پہلے
ہواجب اس ملک کا ایک عام شہری ‘ایک معمولی ڈرائیور انجیلوڈی
لاکروزعراق میں اغوا ہوا۔اغواکاروں نے کہا اپنی فوجوں کو فوراً
عراق کی سرزمین سے واپس لے جاؤ۔کسی کو یقین نہیں تھا کہ امریکا کی
محتاج اور دستِ نگریہ حکومت جو آج بھی مندباؤ کی تحریکِ آزادی کو
کچلنے کیلئے امریکی فوج کی محتاج ہے ‘یوں گویا ہو گی کہ دنیا پر
انسانی جان کی قیمت کا احساس گونجنے لگا۔اس حکومت کے ترجمان نے کہا
’’یہ ڈرائیور ہمارے لئے فلپائن کے ہر جیتے جاگتے انسان کا
استعارہ(Symbol) ہے۔‘‘اس نے کہا ’’اے فلپائنی قوم آؤ‘اسے بچانے
کیلئے ہمارا ساتھ دو۔‘‘پھر تاریخ نے نظر بھر کر دیکھا کہ فلپائن نے
عراق سے اپنی تمام فوج کو واپس بلالیا۔امریکا گرجا‘برطانیہ نے غصہ
دکھایا‘آسٹریلیا نے دباؤ ڈالنے کی پوری کوشش کی لیکن حکومت کا جواب
آئندہ آنے والی تاریخ میں قومی مفاد کے معانی مرتب کرگیا۔انسان کی
’’عزت و توقیر‘‘کی داستان رقم کرگیا۔حکومت نے کہا خارجہ پالیسی سے
زیادہ انسانی جان اہمیت رکھتی ہے۔
مجھ پر اس بیان سے جو بیتنا تھی وہ بیت رہی ہے اور میرا ضمیر اس کو
بھگت بھی رہا ہے لیکن میں سوچتا ہوں جب ایک انسان کی قیمت کا علم
ان کو ہوگا جو افغانستان اور عراق کی جیلوں ‘گوانتاناموبے کے قید
خانوں میں خارجہ پالیسی پر قربان ہوگئے تو وہ کیا سوچیں گے ۔مجھے
ایک لاکھ سے زائدان روحوں کی چیخیں سنائی دینے لگتی ہیں جو آزادی
کے پروانوں کی طرح کشمیر کے قبرستانوں میں گھر بسا گئیں۔فرانس کا
مردِ آہن ڈیگال بھی طاقت کے بل بوتے پر الجزائرکو قابو نہ
کرسکا‘برطانیہ جس کو اپنی بے پناہ طاقت پر گھمنڈ تھا اس کا کینیا
اورقبرص میں کیا حال ہوا‘قصر سفید کے فراعین عراق اور افغانستان سے
نکلنے کے راستے ڈھونڈ رہے ہیں‘بھلا کب تک طاقت کے بل بوتے پر
مظلوموں کو غلام بنا کر رکھا جا سکتا ہے؟
کاش کوئی ایک آواز ‘کوئی ایک ترجمان‘کوئی ایک بیان صرف اتنا کہہ دے
کہ نہیں‘خارجہ پالیسی ‘کیری لوگر بل کی شکل میں مالی امداد قرضے کی
معافی ‘فوجی سازوسامان سے نہیں بنتی ‘انسانوں کی جان و مال کی حرمت
سے بنتی ہے۔فلپائن کے پاس تو صرف ایک ڈرائیور تھا ‘صرف ایک انسان
تھا مثال دینے کو‘ہمارے پاس تو سینکڑوں‘ ہزاروں ہیں!لیکن ہم نے
اپنے ضمیر کو کہاں غرق کردیا؟
آمنہ مسعود جنجوعہ اب بھی ہزاروں گمشدہ افراد کی فہرست سینے سے
لگائے حکومت کے ہر دروزے پر دہائی دے رہی ہے کہ ان کے پیاروں کا
کوئی پتہ بتائے جنہیں اس ملک کے ڈکٹیٹر مشرف نے ناکردہ گناہوں کی
پاداش میں خودپکڑ کر اپنے آقاؤں کے زندان آباد کئے ہیں۔ملک کے ایک
کونے سے لیکر دوسرے کونے تک جسدِ قومی بم دھماکوں‘دہشت گردی کی
وارداتوں اور ڈرون حملوں کے زخموں سے چور چور ہے‘شہریوں کے اعضاء
بری طرح شل ہو چکے ہیں‘اعلیٰ عدالتوں کی بے توقیری میں کوئی کسر
نہیں اٹھا رکھی لیکن اپنے آقاؤں کے احکام کی تعمیل میں پرانی
تنخواہ پر ہی خدمات بجا لا رہے ہیں۔فلپائن کی طرح ہماری قومی زندگی
میں امریکا کہاں نہیں؟اس ملک کی حکومتوں کی تخلیق سے لیکر تقریباً
سارے سیاستدانوں پر ’’امریکا ‘‘کی مہر لگی ہوئی ہے اور کئی سیاسی
جماعتیں اب بھی امریکا کی سیاسی موسیقی پر رقص کناں ہیں۔
ہماری معیشت امریکا کے مالیاتی ادارے چلا رہے ہیں ‘امریکی ماہرین
ہمارا قومی بجٹ ترتیب دیتے ہیں‘ہماری خارجہ پالیسی کے قلب میں
امریکی مفادات کا پرچم لہرارہا ہے اور ہماری داخلہ پالیسی امریکی
ترجیحات پر مرتب ہوتی ہے۔امریکا کے حکم پر تعلیمی نصاب کو آغا خان
بورڈ کے ماتحت کردیا گیا ہے تاکہ امریکا کی مداخلت براہِ راست نظر
نہ آئے۔ میرا ماتھا تو اسی دن کھٹکا تھا جب پاکستان کے مشہور اخبار
’’دی نیوز‘‘میں۲۴دسمبر ۲۰۰۹ء کو یوایس ایڈ کی طرف سے ایک اشتہار
چھپا تھاجس میں اگلے چار سال کیلئے پاکستان میں بچوں کیلئے ٹیلی
ویژن پروگرام بنانے کیلئے درخواستیں طلب کی گئی ہیں اورامریکا
پاکستان میں ان فلموں پر ڈیڑھ ارب پاکستانی روپے کی خطیر رقم صرف
کرے گا۔ امریکا کو ہمارے بچوں سے آخر ایسی کون سی محبت ہو گئی
ہے؟دراصل امریکا اب ہمارے بچوں کیلئے مقامی ابلاغی قتل گاہیں تعمیر
کرنے کی منصوبے پر عمل کررہا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جس طرح ہمارے حکمرانوں نے امریکی ڈروں حملوں کی
اجازت دے رکھی ہے‘جس طرح جیکب آباد اور پسنی کے ہوائی اڈوں پر
امریکی قبضہ تسلیم کیا ہو اہے اسی طرح امریکا اب اس منصوبے کے تحت
ہماری آنے والی نسل کو تباہ و برباد کرنے کے پروگرام پر بڑی تیزی
کے ساتھ عمل کررہا ہے۔ایک وقت تھا کہ ہمارے ہاں روسی اور بھارتی
ایجنٹوں کی شناخت واضح تھی لیکن اب تو ہم غلامی کی ان حدوں میں
داخل ہو گئے ہیں کہ ایسے منصوبہ سازوں کو امریکی تھنک ٹینک یا این
جی اوزکہہ کر شترمرغ کی طرح ریت میں منہ دیکر اپنی عافیت ڈھونڈ تے
رہتے ہیں!
رہے نام میرا رب کا جو بہترین منصوبہ ساز ہے!
فقر بدنام نہ ہوتا جو فقیر
ایک ہی بابِ طلب تک رہتا
|
1کیا تم مجھے
بھول گئے ہو؟
ڈاک
میں موصول ہونے والی یہ بھیانک تصویر میری آنکھوں میں کندہ ہو کر رہ گئی
ہے۔میں نے اسے میز کی دراز میں مقفل بھی کردیا ہے لیکن پھر بھی اس کے
وحشتناک نقش و نگارکے پیچھے چھپا ہوا معصوم چہرہ ایک ٹکٹکی باندھے مجھے
گھور رہا ہے۔میں نے لاکھ کوشش کی کہ تصویر میرا پیچھا چھوڑ دے ‘کچھ لکھنے
کیلئے بیٹھا ہوں تو الفاظ روٹھ گئے ہیں‘سمجھ میں نہیں آرہا کہ اس تصویر نے
میرے دل ودماغ کو کیوں تہہ وبالا کردیا ہے۔اس کی وجہ شائد یہ ہے کہ اس
تصویر کو میرے دل کے نہاں خانوں میں جس محبت کے فریم نے چھپا رکھا ہے
‘اچانک اس پر حملہ کردیاگیا ہے!
وہ میری آرزؤں کے محور پاکستان کا فرزند ہے۔اس نے پاکستان کیلئے اپنے
گھرباراوراپنے عزیزوں کی قبروں کو بھی خیرباد کہا‘اس نے پاکستان کی فصیلِ
دفاع ناقابل تسخیربنانے کیلئے ہالینڈ کی بھاری تنخواہ اور ڈھیروں آسائشوں
کو ٹھوکر مارکر چکلالہ کی تپتی ٹین کی چھت کی بیر ک میں ایک عزمِ صمیم کے
ساتھ بیٹھنااپنا اعزاز سمجھا۔۱۹۹۸ء میں جب بھارت نے جوہری دھماکہ کیا تو اس
لے لیڈروں نے پاکستان کوبرہنہ دہمکیوں کی زد میں رکھ لیا۔دوہفتوں بعدچاغی
کی چوٹیوں سے پیغام جاری ہوا کہ برہمنی سامراج اپنی حدوں میں رہے کہ اب ہم
بھی ایک ایٹمی قوت ہیں اوراینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ڈاکتر قدیر خان‘قومی ہیروکی حیثیت سے اہل وطن کی دھڑکنوں میں بس گیا۔وہ ان
کی دعاؤں میں لو دینے‘ان کے نغموں میں رس گھولنے اور ان کے خیالوں میں
خوشبو بن کر مہکنے لگا۔ اس کے دنوں کی تپش اور راتوں کے گداز نے قوم کو
سربلند کردیا تھااوروہ اس کی شکر گزار تھی۔پھر سات سمندر پار سے جلتی بلتی
ہوا کا ایسا جونکا آیاکہ ہنستا بستا چمن اجاڑہوگیا۔ ایک دن اسے کچھ اس طرح
دربار میں لایا گیا جیسے وہ اپنی لاش اپنے کندھوں پر اٹھائے چل رہا ہو۔اس
کو حکم دیا گیا کہ ٹیلیویژن پر آکر محبت کرنے والی قوم سے اپنے سارے کبیرہ
صغیرہ‘ناکردہ گناہوں کی معافی مانگے کہ اسی میں اس کی اورارضِ پاکستان کی
عافیت ہے۔میرے دل میں بسنے والے اس ہیرو نے ارضِ وطن کیلئے اس قربانی کو
بھی اپنے لئے اعزاز سمجھا ۔وہ جان چکا تھاکہ اس ملک کے اقتدار پر قابض
ناجائز قبضہ گروپ اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کیلئے اس کی عزت و آبر وکی
قربانی مانگ رہاہے ‘اس نے ایک لمحہ تاخیر نہیں کی اور کرب وبلا کے اس میدان
میں اکیلا وتنہا اپنی قوم سے اشکبار آنکھوں سے معافی مانگنے آن پہنچا۔
قوم نے اپنے ہیرو کی اس بے حرمتی کو دیکھنے ‘ماننے اوریقین کرنے سے انکار
کردیااوروہ ایک بار پھر قوم کے دلوں کی رفعتوں کو چھونے لگا‘لیکن جنہوں نے
اسے پھانسنے کیلئے فرضی گاہکوں کا سوانگ رچایا اورجو پاکستان کے جوہری
پروگرام کے تصور سے ہی انگاروں پر لوٹنے لگتے ہیں ‘وہ اسے رسوائیوں کی
اتھاہ گہرائیوں میں دھکیل کر بھی مطمئن نہیں ہو ئے۔ انہیں شکائت ہے کہ ’’مجرم‘‘سے
براہِ راست بازپرس کا موقع نہیں دیا جا رہا۔ان کا فتنہ شعار میڈیا پیہم اس
کی ’’سیاہ کاریوں‘‘کی داستانیں تراش رہا ہے ۔ان کے اخبارات ورسائل اس کے
دامانِ صدچاک کا ایک ایک تار ادھیڑڈالنے کے بہانے تلاش کرتے رہتے ہیں اورہم
ان کی خدمت میں اتنی عرضی گزارنے سے بھی قاصر ہیں کہ’’ہم نے اسے معاف کردیا
ہے‘تم بھی معاف کردو‘‘لیکن وہ بھلا اس آدمی کو کیسے معاف کردیں جس نے پہلی
بار کسی مسلمان ریاست کو ناقابل تسخیر بنایابلکہ عالمِ اسلام کو مایوسی کی
اتھاہ گہرائیوں سے باہر نکالاکہ وہ نہ صرف استعمار کی آنکھوں میں آنکھیں
ڈال کر بات کر سکیں بلکہ سر اٹھا کر چل سکیں۔
میں اس خاکی لفافے کو کھول کر عجیب نظروں سے دیکھتا رہا ۔اس میں معروف
امریکی جریدے’’ٹائم‘‘کا۱۴فروری ۲۰۰۵ء کاشمارہ تھا۔سرخ حاشیے سے آراستہ
ٹائٹل پر ایک شخص کی بھیانک سی تصویرتھی جو کسی ہنرمند نقاش نے بنائی
تھی۔چہرے کے مسخ شدہ خدوخال ہٹلرکی جھلک دے رہے تھے۔اس کی پتھرائی ہوئی
آنکھوں میں بلا کی سفاکی تھی اور سیاہیوں میں لتھڑے اس کے چہرے کا ایک ایک
زاویہ وحشت و درندگی کا نمونہ تھا ۔ٹائٹل پر ہی پیلے رنگ کے جلی حروف
میں(The Merchant of Menace)لکھا تھا’’خوف و دہشت کا سوداگر‘‘اوراس کے نیچے
رقم تھا’’جامع رپورٹ:اے کیوخان کس طرح دنیا کا بڑاجوہری کھیپیا بن
گیا؟‘‘اندرونی صفحات پر ڈاکٹر خان کی ایک چھوٹی سی تصویر کے نیچے آمنے
سامنے کے دوصفحات پر چیختی چنگاڑتی سرخی ہے’’وہ شخص جس نے بم فروخت
کیا‘‘(The Man Who Sold the Bomb)اس کے نیچے تحریر تھا۔ ’’کس طرح پاکستان
کے اے کیوخان نے مغربی انٹیلی ایجنسیوں کی آنکھوں میں دھول جھانکتے ہوئے
ایٹمی ہتھیاروں کی سمگلنگ کا عالمی نیٹ ورک قائم کیا؟ایسا نیٹ ورک جس نے
دنیا کو اورزیادہ خطرناک جگہ بنادیا‘‘اورپھر کہانی کا آغاز ہوتا ہے۔
’’اس بات کو زیادہ عرصہ نہیں گزراکہ عبدالقدیر خان پاکستانی دارلحکومت میں
واقع اپنے گھر سے نکلتا اورٹہلتا ہوا سڑک کے اس پار درختوں میں گھرے پارک
کی طرف نکل جاتا تھا جہاں بندر اس کے منتظر ہوتے تھے اور وہ انہیں کھانا
کھلاتا تھالیکن یہ ان دنوں کی بات ہے جب وہ ایک قومی ہیرو‘ایک کروڑ
پتی‘جدیدترین گاڑیوں کے ایک بیڑے اور دبئی سے ٹمبکٹوتک پھیلی جائیدادوں کا
مالک تھا۔اب ۶۸سالہ خان سڑک پار کرکے بندروں کو کھانا کھلانے نہیں جا
سکتا‘اب وہ کسی کو دکھائی بھی نہیں دیتا۔اس کا جدید طرز کا چوڑا چکلا گھر
اسلام آباد کی فیصل مسجدسے متصل سبز پوش پہاڑی ڈھلوانوں پر واقع ہے جو سبز
بیلوں سے ڈھکی دیواروں کے پیچھے سے جھانک رہا ہے۔عام آدمی کیلئے گھر کی صرف
ایک نشانی اس کے مکین کے ’’بدکارپیشے‘‘کا پتہ دیتی ہے اور چھتری نما بادل
کی شکل میں تراشی گئی چنبیلی کی ایک جھاڑی ہے جو ڈرائیو وے کے آخر میں کھڑی
ہے‘اب وہ اس گھر میں نظر بند ہے۔ حکومتِ پاکستان اس کی ایک ایک حرکت پر کڑی
نگاہ رکھے ہوئے ہے۔کہا جاتا ہے کہ اس کی صحت بری طرح گررہی ہے اورامکان یہی
ہے کہ اس کی زندگی کے باقی گنے چنے دن اسی گوشۂ گمنامی میں تمام ہوجائیں
گے۔پاکستان ٹیلی ویژن پر آکر اپنے ملک کے نہائت ہی قیمتی راز فروخت کرنے کا
عتراف کئے اسے ایک سال ہوگیا ہے اوردنیا نے اب اس کے ’’پرفریب دھندے ‘‘کی
وسعتوں کا پتہ چلاناشروع کیا ہے تاکہ اندازہ لگایا جا سکے کہ کس طرح ایک
فردِ واحد نے کرۂ ارضی کوغیر محفوظ بنانے میں خطرناک تریں حکومتوں سے بھی
زیاد ہ خوفناک کردار اداکیاْ‘‘
کئی صفحات پر محیط اس رپورٹ میں ڈاکٹر اے کیوخان کیلئے وہ ساری اصلاحات
استعمال کی گئیں ہیں جو کالے دھندے میں ملوث اخلاق باختہ اوباشوں کیلئے
استعمال کی جاتی ہیں‘ ایسے تمام القابات اس کے نام کے ساتھ جوڑ دیئے گئے
ہیں جو سیاہ کار غنڈوں ‘مجرموں ‘بدمعاشوں اوربدکاروں کیلئے وقف ہوتے
ہیں۔مضمون کا مجموعی تاثریہ ہے کہ اگر دنیا میں صرف ایک انسان کو سب سے
خوفناک اورمکروہ تریں مجرم قرار دینا ہو تو وہ صرف ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہے
جو اسلام آباد کے ایک گھر میں بیٹھا زندگی کے آخری دنوں کی تسبیح روزوشب کا
دانہ دانہ شمار کررہا ہے۔
لیکن پھر کیا وجہ ہے کہ ہالینڈ کی عدالت نے اسے نہ صرف باعزت بری کردیابلکہ
اس کے سائنسی علم کی تحسین بھی کی۔انصاف کا تقاضہ تو یہ ہے کہ جو تحقیقات
روزِ روشن کی طرح تاریخ کا ایک انمٹ حصہ بن چکی ہیں ان سے بھی دنیا کو آگاہ
کیا جائے۔امریکا بہادر جس نے سب سے پہلے دنیا کے اس خطرناک بم کے استعمال
کواپنے لئے وجہ شجاعت سمجھا ‘اس نے بھی جرمنی سے تین یہودی سائنسدانوں کو
اغوا کرکے اس خطرناک بم کی بنیاد رکھی ۔برطانیہ ‘فرانس‘جرمنی نے بھی ایٹمی
صلاحیت اسی طریقے سے حاصل کی جس کا الزام ڈاکٹر اے کیو خان پر لگایا جا رہا
ہے اور یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ اسرائیل نے ایٹمی صلاحیت امریکا کی
آشیرباد سے حاصل کی۔بھارت اور سوویت یونین کے کئی سائنسدانوں پر جوہری
رازوں کی اسمگلنگ کا جرم تو ثابت بھی ہوچکا لیکن ان تمام افراد اور ملکوں
کے خلاف چشم پوشی کیوں کی گئی؟
ڈاکٹر اے کیوخان پر ان بیہودہ الزامات کی تو ابھی تک تصدیق نہیں ہو سکی
لیکن یہ حقیقت کھل کر سامنے آگئی کہ کسی بھی اسلامی ملک کا جوہری طاقت کا
مالک ہونایہودوہنودکوگوارہ نہیں۔عراق کوجن بے بنیاد ا لزامات کی بنیادپرتہس
نہس کردیا گیا‘عراق کے چودہ لاکھ بے گناہ افراد اورافغانستان کی آدھی آبادی
کے پرخچے اڑا دیئے گئے‘آج خود امریکا کاکولن پاؤل اوردوسرے سرکردہ امریکی
حکومت کے اہلکار اس جھوٹ پر شرمندگی کا اظہار کر چکے ہیں لیکن ابھی تک اس
خوں آشام قوتوں کے ایجنٹ جھوٹے پراپیگنڈے کا سہارا لیتے ہوئے ان کی بولیاں
بول رہے ہیں۔پاکستان کا جوہری پروگرام تو بھارت کے مکروہ عزائم کا ردعمل ہے
لیکن کوئی بھارت سے یہ تو پوچھے کہ ان کے پہلے وزیراعظم پنڈت نہرو نے ساری
دنیا کے سامنے تحریری طور پر کشمیریوں کو حق خودارادیت دینے کا وعدہ کیا
تھا پھر کیا وجہ ہے کہ اب تک یہ وعدہ ایفا نہ ہوسکا اور یہ وعدہ یاددلانے
پر ایک لاکھ سے زائد بے گناہ مظلوم و مقہور کشمیریوں کو ذبح کردیا گیا۔ہر
آئے دن اسرائیل اپنے ناجائز قبضے کو وسعت دینے کیلئے فلسطینیوں کے خون کی
ہولی کھیل رہا ہے!
میں نے یہ میگزین پرانی کتابوں والی الماری کی ایک دراز میں مقفل کردیا ہے
لیکن اس کے ٹائٹل پر بنی خوفناک تصویر میری پتلیوں میں کندہ ہو کر رہ گئی
ہے۔مارگلہ کی پہاڑیوں سے فصلِ بہار کے قافلے اسلام آباد کا رخ کرنے لگے
ہیں۔اے کیوخان کا گھر ان کے راستوں کے پہلے پڑاؤ پر واقع ہے اور وہ
یقیناًلمحہ بھر کو رک کر اس گم گشتہ ہیرو کا پتہ پوچھتے ہیں۔رت بدل جانے کے
بعد بندروں کے غول بھی پہروں اس کے گھر کے بند پھاٹک پر نظریں جمائے بیٹھے
ہیں کیونکہ بہاریں اور بندر ‘بھلے لوگوں اور محسنوں کو دیرتک یاد رکھتے ہیں۔
|