پاکستانی
میجر جنرل کی امریکہ میں آخری پرواز۔
ڈیلس سے ٹمپا جانے
والی پرواز سے پاکستانی افسر کو مشکوک قرار دے کر طیارے سے اتار دیا گیا۔
پاکستانی فوجی وفد نے احتجاج" دورہ امریکہ منسوخ کر دیا۔۔۔۔۔ پاکستانی
میجر جنرل کی سربراہی میں جانے والے پاکستانی وفد نے امریکی بد سلوکی کے
باعث احتجاجا دورہ امریکہ منسوخ کر دیا ۔ پاک فوج کا 9 رکنی اعلی سطعی وفد
پینٹاگون اور امریکی سینٹرل کمانڈر ( سینٹکام) کی دعوت پر امریکہ گیا تھا
لیکن ڈیلاس ائیر پورٹ پر امریکی سیکورٹی حکام کی بد سلوکی اور ایک افسر کو
کچھ وقت کے لیے حراست میں رکھنے پر وفد نے احتجاجا دروہ منسوخ کر دیا ۔
فوجی حکام نے واضح کیا کہ ملکی وقار پر کوئی سمجھوتہ نہں ہو سکتا ۔
پینٹاگان کے ڈپٹی سیکرٹری سمیت اعلی امریکی حکام نے وفد کہ ساتھ کئے گے
سلوک پر معذرت کرتے ہوے دورہ جاری رکھنے کی درخواست کی تھی ۔ آی ایس پی آر
کے مطابق امریکی حکام نے واقعہ پر معزرت کی ہے وفد پاک فوج کے میجر جنرل کی
قیادت میں امریک گیا تھا۔ اس دورے کی دعوت امریکی محکمہ دفاع اور سینٹکام
نے دی تھی ۔ واشنگٹن میں امریکی حکام سے ملاقاتوں کے بعد وفد کے ارکان
ڈیلاس پہنچے جہاں سے انہوں نے امریکی سینٹرل کما نڈ کے ہیڈ کوارٹر ٹمپا کے
لیے روانہ ہونا تھا۔ امریکی فضائی کمپنی یونائٹیڈ ائیرلائنز کی ڈیلاس سے
ٹمپا جانے والی پرواز میں سوار ہونے کے بعد دو فوجی افسران آپس میں گفتگو
کر رھے تھے جس کہ دوران ایک آفسر نے دوسرے سے کہا کہ مسلسل سفر سے تھک چکے
ہیں اور اب یہ آخری فلائیٹ ہو گی جس کہ بعد آرام کریں گئے ۔ یہ گفتگو آگے
بیٹھے ہوے ایک مسافر نے سن لی اور امریکی مسافر نے پاکستانی فوجی آفسران کی
گفتگو کو غلط معفوم دیتے ہوئے جہاز کی ائیرہوسٹس کو بتایا کہ جہاز میں دھشت
گرد بیٹھے ہوے ہیں اور وہ اس جہاز کی آخری پرواز کے بارے میں بات کر رہے
ہیں ۔ اس لیے میں اس پرواز میں سفر نیہں کروں گا جس پر ائیرہوسٹس نے فوری
طور پر ائرپورٹ سیکورٹی کو اطلاع دی اور ائیرپورٹ سیکورٹی فورس نے فوری طور
پر طیارے کو گھیرے میں لے لیا۔اور اس میں داخل ہو کر گفتگو کرنے والے فوجی
افسر کو جہاز سے اتار لیا اس دوران پاکستانی فوجی وفد کے دیگر ارکان بھی
کھڑے ہو گئے ۔ اور انہوں نے امریکی سیکورٹی ارکان کو اپنی شناخت کروائی اور
امریکی دعوت پر دورے کی تفصیلات سے اگاہ کیا لیکن سیکورٹی اہلکار نے ایک نہ
سنی اور بدتمیزی کرتے رہے اور پاکستانی فوجی افسر کو ساتھ لے جانے لگے جس
پر وفد کے دیگر ارکان بھی طیارے سے اتر گئے ۔ بعدازاں پینٹاگون نے مداخلت
کر کے صورتحال کو سنبھالا لیکن پاکستانی فوجی وفد کے ارکان نے دورہ منسوخ
کونے کا فیصلہ کر لیا۔
پیپلز پارٹی اب پنجاب کی انتظامی
تقسیم کی راہ پر چل رہی ہے۔
گلگت بلتستان فاٹا اور صوبہ خیبر پختونخواہ کے حوالے سے اھم فیصلے
کرنے کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی اب پاکستان کے سے سے بڑے صوبے
پنجاب کی انتظامی تقسیم کی راہ پر چل رہی ہیں ۔ پارٹی کے ذمہ دار
ذرائع کے مطابق پارٹی قیادت پنجاب میں اپنی پارٹی کی گرتی ہوئی
مقبولیت سے خوفزدہ ہے اور اپنے سیاسی مخالفین سے الیکشن جیتنے کی
حکمت عملی کے تحت پنجاب کو انتظامی طور پر تقسیم کرنے پر غور کیا
جا رھا ہے اس حکمت عملی کا آغاز پیپلز پارٹی اپنی پارٹی کو پنجاب
میں انتظامی طور پر تقسیم کر کے کرے گی۔ ابتدای مرحلے میں پیپلز
پارٹی پنجاب میں دو صدر بنائے جائیں گے ۔ ایک صدر سینٹرل پنجاب ذون
کے امور کی نگرانی کرے گا دوسرا صدر سدرن پنجاب زون کے امور کی
دیکہ بھال کرے گا۔ اس آئیڈیئے کو وزیراعظم اور صدر آصف علی زرداری
کی سطح پر بھی زیر غور لایا جا چکا ہے اور آیندہ انتخابات کی بہتر
تیاری کہ لیے پنجاب میں پارٹی کو ازسرنو منظم کرنے کے لیے یہ حکمت
عملی اختیار کرنے والوں کی حمایت میں اضافہ ہو رھا ہے۔ یاد رھے کہ
پنجاب میں پیپلز پارٹی کو نواز لیگ سے سخت مقابلے کی وجہ سے اپنی
مقبولیت برقرار رکھنے میں سخت مشکلات کا سامنہ ہے پنجاب میں
پیپلزپارٹی کے صوبائی صدر کا عہدہ اس وقت خالی ہو گیا تھا جب
صوبائی صدر رانا آفتاب نے فیصل آباد کے ضمنی الیکشن میں شکست کے
بعد مجبورا استفعی دے دیا تھا تب سے سیکرٹری جنرل سمیع اللہ خان
قائم مقام صدر کہ فرائض انجام دیتے آ رھے ہیں 2008 کے الیکشن میں
بھی پیپلز پارٹی پنجاب میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکی
تھی مستقبل میں توقع کی جا رھی ہے کہ آصف زرداری پنجاب میں سے
نہایت مضبوط امیدواروں کو میدان میں اتاریں گی اس سلسلے میں ان کے
بچوں کا نام بھی لیا جا رھا ہے اگر بختاور اور آصفہ میں سے کسی کو
انتخابی مہم میں اتارا گیا تو بے نظیر بھٹو کی شہادت کے باعث پنجاب
میں پیپلز پارٹی کو کارکردگی کی بجائے ہمدردی کا ووٹ حاصل کرنے میں
کافی مدد ملنے کی توقع کی جاتی ہے۔
آئندہ وزیراعظم کیلے امریکی تھنک
ٹینکس نے عمران خان جبکہ قومی سلامتی کے اداروں نے میر ظفر اللہ
جمالی پر کام شروع کر دیا۔
سیلاب کی تباہ کاریوں کے ساتھ ساتھ پاکستان میں سیاسی سطح
پر تبدیلوں کے لیے ہوم ورک شروع ہو گیا ہے۔ متاثرین سیلاب کی
امدادی سرگرمیوں کے حوالےموجودہ حکومتی شخصیات پر عوامی عدم اعتماد
کو اجاگر کرنے کے لیے متبادل قیادت کا بندوبست کیا جا رھا ہے ۔ اور
اس سلسلے میں ملکی و غیر ملکی سطح پر تبدیلیوں کے اشارے مل رہے ہیں
۔ سیاسی و سفارتی حلقوں میں ان دنوں عمران خان اور میر ظفر اللہ
خان جمالی کے نام بڑی توجہ کے حامل ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ امریکی
تھنک ٹینکس نے پاکستان میں آئندہ وزیر اعظم کے لیے عمران خان جبکہ
قومی سلامتی کے ادروں نے میر ظفر اللہ خان جمالی پر کام شروع کر
دیا ہے۔
عمران خان کو سیلاب ذدگان کی امدادی سرگرمیوں کے حوالے سے انتہای
متحرک کردار ادا کرتے کا اشارہ دیا گیا ہے اس سلسلے میں انہوں نے
ایک نجی ٹی وی چینل اور میڈیا گروپ کے ساتھ مل کر امدادی مہم دنیا
بھر میں چلانے کا اعلان بھی کر دیا ہے ۔اور اس سلسلے میں وہ دن رات
ایک کر رھے ہیں۔
دوسری جانب میر ظفر اللہ خان جمالی بھی متحرک ہو گے ہیں انہوں نے
سیلاب کی تباہ کاریوں میں بلوچستان کے عوام کو ڈبونے کا معاملہ
پوری شدت سے اٹھا رکھا ہے اور وہ آنے والے دنوں میں مذید نظر آئیں
گے سیاسی حلقوں میں ان کو ایک صاف ستھرا سیاستدان اور محب وطن شخص
مانا جاتا ہے وہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے نظریات
کے سچے پیرو کار اور پکے مسلم لیگی مانے جاتے ہیں ۔ اس لیے
بلوچـستان کی موجودہ سیاسی صورتحال اور مستقبل کے خطرات کو مد نظر
رکھتے ہوے قومی سلامتی کے ادارے میر ظفر اللہ جمالی کو بہترین
چوائس قرار دیتے ہیں ۔
یہ کہا جارھا ہے امریکی حکام پاکستان کے اندر اور باہر موجود سیاسی
قائدین سے گہرے رابطے میں ہیں اور آنے والے دنوں کا نیا سیاسی منظر
نامہ تشکیل دینے کے لیے اپنی کوششوں میں مصروف ہیں ۔ مختلف سیاسی و
مذبہی جماعتوں کے ساتھ ڈائریکٹ اور ان ڈائریکٹ رابطے جاری ہیں ۔
حالیہ دنوں میں ہونے والی اہم اعلانیہ ملاقاتوں میں برائن ہنٹ کی
لندن میں الطاف حسیں سے ہونے والی ملاقات سب سے ذیادہ اہمیت کی
حامل تھی جس کے بعد الطاف حسین نے محب وطن جرنیلوں کو کرپٹ
سیاستدان کے خلاف مارشل لا جیسا اقدام کرنے کی ترغیب دے کر
پاکستانی سیاست میں ہلچل مچادی اور پیپلز پارٹی کے ساتھ ساتھ نواز
لیگ کے کان کھڑے کر دیے ۔ اس پر سخت ردعمل بھی آیا اور امریکی
پاکستان میں نئی بحث شروع کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
دنیا بھر میں بند رگاھوں کی
حفاظت خصوصا ماحولیاتی آلودگی سے بچاو کے لیے ضروری اقدامات پر بہت ذیادہ
توجہ دی جاتی ھے۔ لیکن پاکستان کی قدیم اور مرکزی بندرگاہ پر نئےخطرات کے
بادل منڈلا رھے ھیں۔اور متعلقہ حکام خواب خرگوش کے مزے لے رھے ھیں ۔ اب یہ
حقیقت سامنے آی ھے کہ کراچی کی بندرگاہ پر 700 میٹرک ٹن تیل کا فضلہ اور
چکنائی زدہ پانی یا گندہ پانی {مائع} جمح ھو چکا ھے۔ جو بندرگاہ کے آپریشن
اور مستقبل کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ھو سکتا ھے۔ اتنی بڑی مقدار میں تیل
کا فضلہ کسی اور ملک کی بندرگاہ پر جمع ھوتا تو اب تک بندرگاہ کے تمام ذمہ
دار جیل کی سلاخوں کے پیچھے ھوتے ۔ لیکن یہاں تو گنگا ھی الٹی بہتی ھے۔جو
لوگ اس خراب صورتحال کے ذمےدار ھیں وہ کئی پرموشن حاصل کر چکے ھیں۔اور
متعدہ سرکاری مراعات کے مزے لوٹ رھے ھیں ۔ ماھرین کے مطابق اگر ذمہ دار
حکام اپنی ایمانداری اور دیانت داری سے انجام دیتے تو بندرگاہ کی صورتحال
اتنی بھیانک نہ ھوتی۔اب حالات اس نہج پر پہنچ چکے ھیں کہ اتنی بڑی مقدار
میں چکنائی زدہ پانی اور تیل کے فضلے کی صفائی اور بندرگاہ سے باھر اسے
پھینکنے کا کام متعلقہ حکام کے لیے درد سر بن چکا ھے۔ معلوم ھوا ھے کہ
پاکستان نیشنل شپینگ کارپوریشن جو آرڈنینس بابت 1979 کے تحت قائم ھوا تھا
اور جس کا دفتر پی این ایس کی بلڈنگ ایم ٹی خان روڈ پر واقع ھے اسے یہ ٹاسک
دیا گیا ھے کہ ستمبر کے پہلے ھفتے میں تیل کا فضلہ ہٹانے اور اس سلسلے میں
ایک ٹینڈر دے دیا گیا ھے ۔جس میں کہا گیا ھے کہ تیل کہ فضلے کو ٹینکر سے
ٹھکانے لگانے کے تمام انتظامات مشلا کشتی، ہئوزز،ریڈیوسرز وغیرہ کے لیے
پیشکشیں مطلوب ھیں ۔ اس حوالے سے جنرل مینجر [ایم ار اینڈ ایس] ڈیپارمنٹ سے
رابطہ کرنے کے لیے کہا گیا ھے اور ٹھیکیداروں کی تلاش کا کام جاری ھے-
پاکستان میں مارشل لا۔۔۔؟ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی جانب سے مارشل لا جیسے اقدام کی حمایت
سے متعلق بیان سے علاقائی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ نہ صرف پاکستان بھر
میں اس پر زبردست بحث جاری ہے بلکہ بھارت کی پارلیمنٹ میں یہ معاملہ زیربحث لانے کے مطالبے پر ھنگامہ برپا ہے۔ حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی
کی اعلی قیادت اور دوسری بڑی جماعت مسلم لیگ [ ن ] کے سربراہ نوازشریف سمیت
سیاسی جماعتوں کے راہنماوں نے الطاف حسین کے بیان کا نوٹس لیا ہے۔اور اپنے
اپنے انداز میں اس پر تبصرہ کیا ہے۔ وزیر اعظم گیلانی کے مطابق پاکستان کے
آہین میں فوج کے ایسے کردار کی کوئ گنجائش نیہں ۔ جبکہ نواز شریف کا کہنا
ہے کہ مارشل لا نے ھی ملک کا بیڑا غرق کیا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات قمر زمان
کائرہ نے ایم کیو ایم کے قائد کے بیان پر تعجب کا اظہار کرتے ہوے اسے عوامی
خواہشات اور آیئن سے انحراف قرار دیا ہے۔ جبکہ قائد حزب اختلاف چوئدری نثار
علی خاں کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ از خود نوٹس لے جبکہ
تحریک استحقاق بھی جمع کرا دی گئی ہے۔جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آنے
والے دنوں میں پارلیمنٹ میں اس پر بحث ہو گی۔
اہم
حکومتی اور سرکاری عہدوں پر کون کس کا رشتہ دار ھے ؟
پاکستان میں میرٹ پر تقرریاں
ایک خواب ھے ماہرین کا کہنا ھے اگر سفارش ،رشوت اور اقربا پروری پر قابو پا
لیا جاے تو ملک مختلف شعبوں میں تیزی کے ساتھ ترقی کی راہ پر گامزن ھو سکتا
ھے ۔پاکستان میں مختلف حکومتی اور سرکاری عہدوں پر فاہز شخصیات میں سے کون
کس کا رشتہ دار ھے یہ ایک دلچسپ موضوع ھے بعض لوگ یقینا" میرٹ پر پورا
اترتے ھیں لیکن کئی تقرریاں میرٹ پر نہیں بلکہ اثررسوخ،تعلقات ،سفارش اور
دباو کا نتیجہ قرار دی جاتی ھیں ہمارا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں ۔ نہ ھی
کسی کی قابلیت اور صلاحیت پہ شک کررھے ھیں لیکن قارہین کی معلومات کے لیے
حقاہق پر مبنی صورتحال بیان کرنا ھے – سندھ کے سیکرٹری خزانہ فضل اللہ
پیچوہو ھمارے صدرمملکت آصف علی زرداری کے بہنوئی ھیں سندھ میں تھر کے کوہلے
سے بجلی بنانے کے منصوبوں پر سب سے سرگرم شخصیت اسد علی شاہ کی ھے جو وزیر
اعلی سندھ سید قاہم علی شاہ کے صاحبزادے ھیں –صدر مملکت کے معتمد اور
پاکستان میں اھم منصوبوں کے مرکزی شخصیت سلمان فاروقی وزیر اعلی سندھ کی
مشیر شرمیلہ فاروقی کے انکل ھیں- سندھ کے سینئر وزیر پیر مظہرالحق اور
صوبائی وزیر آبپاشی جام سیف اللہ دھاریجو آپس میں رشتہ دار ھیں پیر
مظہرالحق کی صاحبزادی کی شادی سیف اللہ دھاریجو کے بھائی سے ھوی ھے- وفاقی
وزیر پٹرولیم سید نوید قمر اور گجرات کی پگانوالی فیملی بھی رشتہ دار ھے
نوید قمر کے بیٹے کی شادی میاں اختر پگانوالہ مرحوم کی پوتی سے ھوی
ھے-وزارت ٹیکسٹاہل کے مشیر ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ اور ان کے بھای مرزا
اشتیاق بیگ کی سابقہ ٹیسٹ کرکٹر سلیم یوسف سے رشتہ داری ھے سلیم یوسف کی
شادی مرزا برادران کی بہین شیرین بیگ سے ھوی ھے – سندھ کہ صوبائی وزیر
بلدیات آغا سراج درانی حروں کے روحانی پیشوا اور مسلم لیگ فنکشنل کے سربراہ
پیر صاحب پگارا کے داماد ھیں – وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی پیر صاحب
پگارا سے رشتے داری ھے پیر پگارا کی پہلی بیگم وزیراعظم گیلانی کی خالہ ھیں-
سیاسی حلقوں میں یہ بحث شروع ہو گی ہے کہ الطاف حسین کو ایسے موقع پر جبکہ
پورے ملک میں سیلاب کی تباکاریوں نے حکومت کو سخت مشکل صورتحال سےدوچار کر
رکھا ہے آخر انہیں مارشل لا جیسے اقدام کی حمایت کرنے کا بیان دینے کی
ضرورت کیوں محسوس ہوی۔ ان کا بیان عین اس وقت آیا جب سیلاب کے متاثرین کی
بڑی تعداد کا رخ کراچی اور حیدرآباد کے امدادی کیمپوں کی جانب ہے۔اور سابقہ
امریکی سفارت کار نے لندن میں الطاف حسین سے خصوصی اور اھم ملاقات کی ہے۔
متحدہ کے قائد الطاف حسین نے سب سے پہلے کراچی میں طالبان ئزیشن کے خلاف
آواز بلند کی تھی۔
کیری لوگو بل کے خلاف بھی وہ بولے تھے۔ این آر او کی بھی انہوں نے کھل کر
مخالفت کی تھی۔
کرپٹ سیاست دانوں جاگیرداروں وڈیروں کے خلاف ایکشن کی بات کی ہے۔
کراچی میں ٹارگٹ کلنگ اور سیاسی راہنماوں اور کارکنوں کو موت کی نیند سلانے
کا گھناونا کھیل بھی جاری ہے اور اے این پی نے کراچی کو فوج کے حوالے کرنے
کی بات بھی کی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق پاکستان میں ایک اور مارشل لا کا براہ راست فائدہ
امریکہ ،انڈیا اور اسرائیل کو ہو گا ۔ امریکہ پاکستان میں انتہای کمزور
حکمرانوں سے سودے بازی کرنے کا ماہر ہے اور ایسے حکمران جن کو عوامی تائید
حاصل نہ ہو امریکہ کے لیے ہر دور میں سودمند رھتے ہیں۔
بھارت بھی چاھتا ہے کہ پاکستان میں جہموریت مستحکم نہ ہو سکے اور یہاں
آمریت آجائے تاکہ وہ پاکستان کو ایک جارح مزاج ریاست ثابت کرنے کا
پراپیگنڈا دنیا بھر میں کرتا رھے اور پاکستان پر دہشت گردوں کی سرپرستی
کرنے اور دہشت گردی کو دوسرے ملکوں میں ایکسپورٹ کرنے کا الزام بھی لگاتا
رھے۔
موجودہ حالات میں الطاف حسین کا بیان بہت سنجیدہ غوروفکر کا متقاضی ہے ملک
کے تمام سنجیدہ حلقوں کو سیاسی صورتحال کا بغور جائزہ لینا چاھیے اور سب سے
ذیادہ ذمہ داری حکمران جماعت پیپلز پارٹی اور اس کے اتحادیوں اور صدر
زرداری کی سیاسی قیادت پر عائد ھوتی ہے کہ وہ ملک میں جمہوریت کو مستحکم
کرنے کے لیے اپنا کردار پوری ذمہ داری کے ساتھ ادا کریں۔ پاکستان کے سیلاب متاثرین کو دھشت گرد بننے سے روکا جائے ۔ امریکی حکام سر
جوڑ کر بیٹھ گئے۔
پاکستان میں تاریخ کے بدترین سیلاب کے بعد امریکیوں کو یہ فکر لاحق ہو گئی
ہے کہ خوراک اور بنیادی سہولتوں کی ذبردست کمی کے باعث سیلاب متاثرین
خصوصا" نوجوان دھشت گردوں کے ہاتہ لگ سکتے ہیں اور امریکی مخالف حلقے ان
سیلاب متاثرین کو امریکہ کے خلاف حملوں کی تیاری کے لیے آمادہ کر سکتے ہیں
اس لیے ان سیلاب متاثرین کو بھر پور امداد اور بہالی کے کاموں میں تیزی
لایں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی تھنک ٹینک سر جوڑ کر بیٹھ گے ہیں اور
پاکستان میں آنے والی موسمی تبدیلیوں اور سیلاب کے اثرات کا جائزہ لے رہے
ہیں اور ان خدشات اور امکانات پر غور کر رہے ہیں کہ کسی طرح امریکی دشمن
عناصر کو ان سیلاب متاثرین سے دور رکھا جائے
کہتے ھیں خواتین کسی کو لوٹنے پر آ جائیں تو سب کچھ تباہ
برباد کر دیتی ھیں۔ جراہم کی دنیا سے وابستہ خواتین نے بھی
تباھی مچا رکھی ھے بنکوں میں ڈکیتی کی وارداتوں میں جو
تیزی آی ھے اس پر پوری دنیا کہ سیکورٹی ماھرین حیران اور
پریشان ھیں اور حیرت کی بات یہ ھے کہ صرف امریکہ میں تین
ماہ کے دوران مسلح بنیک ڈ کیتی اور نقب زنی کی 1181
وارداتیں ھوئی ھیں ان وارداتوں میں جو ڈاکو ملوس پائے گئے
ان میں 76 خواتین بھی شامل تھیں۔ ان وارداتوں میں 93 لاکھ
ڈالر لوٹے گئے بنک لوٹنے کے دوران 2 افراد ھلاک اور 18
زخمی ھو گئے جبکہ 35 افراد کو یرغمال بنایا گیا-
عمران
خان وزیر خارجہ ھوتے تو برطانوی وزیراعظم کا حشر بوتھم جیسا ھوتا-
[ متحدہ قومی موومنٹ کے قاہد
الطاف حسین نے لندن میں بیٹھ کر برطانوی وزیراعظم ڈ یوڈ کیمرون کے پاکستان
مخالف بیان کی جس طرح مذمت کی ھے وہ پاکستان میں بیٹھے حکمرانوں کی انکھیں
کھول دینے کے لیے کافی ھے الطاف حسین اس جرتمندی اصول پسندی اور حب الوطنی
پر پوری قوم کی جانب سے مبارکباد کے حقدار ھیں-] سیاسی حلقوں میں کہا
جارھاھے کہ اگر شاہ محمود قریشی کی جگہ آج عمران خان پاکستان کے وزیر خارجہ
ھوتے تو برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کا حشر برطانوی کرکٹر ایان بوتھم
جیسا کرتے-عمران خان کی کرکٹ میں کامیابیوں کا راز فقط ریاضت نہیں ،محض
دیانت اور حوصلہ مندی بھی نہیں بلکہ اہم ترین چیز یہ مانی جاتی ھے کہ ان
میں مرغوبیت نام کو نہیں تھی کاش ھمارے حکمرانوں میں بھی عمران خان جیسا
اتحاد پیدا ھو جائے اور وہ برطانوی وزیراعظم کو اس کی حیثیت یاد دلہ سکیں ۔
آی ایس آی کے سربراہ جنرل پاشا نے برطانیہ کا دووہ ملتوی کر کے اپنا اصولی
احتجاج ریکارڈ کروایا اس ادا کو پوری قوم نے پسند کیا اور ملک بھر میں
برطانوی وزیراعظم کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیئے گے اس کا پتلا بھی نذر آتش
کیا گیا اس سے برطانوی وزیراعظم کو خود احساس ھو جانا چاھیے کہ انہوں نے
کتنی بڑی حماقت کی اور ان کی زبان ان کے کنٹرول میں نہ ھونے کی وجہ سے پوری
دنیا میں برطانیہ کی بدنامی اور جگ ہنسائی ھو رھی ھے-
ھر گرل
کال گرل نہیں ھوتی-
یہ شکایت عام ھے کہ کوئی
لڑکی سڑک کنارے کسی سواری کے انتظار میں کھڑی ھو تو موٹر ساہیکل سے لے کر
مہنگی مہنگی کاروں اور جیپوں میں سفر کرنے والے ھر عمر کے مرد حضرات اس
لڑکی کو لفٹ دینے کے لیے بے چین اور بے قرار نظر آتے ہیں ہارن بجاتے ھیں۔
پاس آکر گاڑی روک لیتے ھیں لفٹ کی پیشکش کرتے ھیں ۔موباہل فون سننے کے
بہانے وھاں جم کر کھڑے ھو جاتے ھیں کچھ مسلسل گھورنا شروع کر دیتے ھیں۔کچھ
پیچھا بھی کرتے ھیں ۔اس قسم کے واقعات روزآنہ ھوتے ھیں اور کئی ناخوشگوار
واقعات کی یادیں بھی چھوڑ جاتے ھیں ضروری کام کاج سے گھر سے باھر آنے والی
لڑکیوں اور خو ا تین کو تنگ کرنے والے یہ نہیں سوچتے کا ھر گرل کال گرل
نہیں ھوتی ۔لہذہ اس کی عزت اور احترام میں کوئی کمی نہیں آنی چاھیے-