Pakistan first comprehensive and bilingual news website

HomeTradeHotel & TourismSportsMagLocal GovtInterviews

 

Articles

Bits & Bytes

Books & Authors

Career opportunity

City News

Diplomatic Affairs

Education

Global Halal Expo

Health

Islamic Corner

KBCA

KESC Update

Kids Corner

Marketing

SESSI

Special Reports

Buy and Sell Cars& Bikes

Buy and sell Property

Difa-e-Pakistan Daily

Horoscope & Palmistry

 


 


Present Education System - Boon or Bane ??


 Bookmark and Share


 

AMITY International organize musical night as charity for deserving students

 

 

Asfand Yar Khan son of Mahfooz Yar Khan comments about his musical night.



Books_Shortcut

Sportslogo


 

 

Click the title or picture to see video

 

Pictorial Highlights of Fun Gala at The Educators, NN

 

The Educators North Nazimabad Karachi and MIEP arranged Fun Gala at Jr. Campus

Karachi: The Educators, North Nazimabad, Karachi celebrates its Annual Function every year and it is ensured that students are provided with equal opportunities to participate actively in such co -curricular activities.

This year the event became more exciting as The Educators, North Nazimabad and Multiple Intelligence Educating Programme (MIEP) arranged a Fun Gala on the occasion. A large number of students from Junior and senior classes performed on stage, presented a highly colourful and entertaining programme, that was sequence of melodious songs, rhythemic dances, tableaus, fashion show, fun competitions and a play by students of senior classes showing how  can we bring a good change to our society. The large audience greatly appreciated the children's confident performance.

The event was graced by the Ms. Moona Najam, Principal, The Educators, North Nazimabad and the chief guest Mr. Fahad Naseem Siddiqui, Vice President MIEP and Proprietor Stanmore public schools. Both personalities addressed the audience and explained them how MIEP is providing financial help to the needy children in various schools by raising funds through such activities and invited voluntary efforts to promote the cause.

Meanwhile, children enjoyed the magic show, puppet show and participated in various activities like face painting, visiting stalls and enjoyed the jumping castle.

 

 

 

 

گلشن ٹیکنیکل اسکول سے فارغ التحصیل پوزشین ہولڈر طلبا اور طالبات

گلشن ٹیکنیکل میں طلباء اور طالبات کے لئے موجود جدید تکنیکی سہولیات

 

گلشن ٹیکنیکل میں جونئیر کلاسز کا ماحول

گلشن ٹیکنیکل ہائی اسکول

ہنر مندوں کی فیکٹری


ٹیکنیکل بورڈ اور ٹیکنیکل ہائی اسکولز دونوں ہی زوال کا شکار ہیں ، ہنر مند افراد دور حاضر کی ضرورت اور بے روزگاری کے خاتمے کا ذریعہ ہیں، ہمارے بچوں کو ایسی تعلیم دینے کی ضرورت ہے جو موجودہ دور کی صنعتی ضروریات کو پورا کرسکیں : بابائے ٹیکنیکل ایم اے سلیم
بہت کم والدین اس بات سے واقف ہیں کہ ٹیکنیکل تعلیم کے شعبہ میں بھی طلبا میٹرک تک کی تعلیم حاصل کرسکتے ہیں ۔ چناچہ بہت سے ایسے طلبا ء جن کا رجحان تکنیکی پیشوں جیسے انجئنیرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں ہوتا ہے سائنس یا آرٹس کی تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں ۔ جس کی بڑی وجہ ٹیکنیکل اسکولوں کی کمی اور ٹیکنیکل بورڈز کی جانب سے طلباء اور والدین کو اس بارے میں آگاہ نہ کرنا ہے ۔ تعداد میں کم مگر ایسے کئی ادارے ہیں جو اس شعبہ تعلیم کی خدمت کررہے ہیں اور طلباء ان سے فیض یاب ہوکر معاشرے میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں ۔یہ ادارے اپنے محدود وسائل کے باوجود یہ خدمت عبادت سمجھ کر رہے ہیں ، انہی اداروں میں ایک معروف نام گلشن ٹیکنیکل ہائی اسکول / سینٹر بھی ہے ۔ جیوے پاکستان کی ٹیم نے اس شعبے کی جانب طلبا ء اور والدین کی توجہ مبذول کروانے کے لئے گلشن ٹیکنیکل ہائی اسکول / سینٹر کا دورہ کیا اور تعلیم کے اس شعبے میں تدریسی ضروریات اور مواد کے تناظر میں ادارے کے انتظامات کو بہت مربوط پایا۔

گلشن ایجوکیشن سوسائٹی نے 1983 گلشن ٹیکنیکل سینٹر کی بنیاد رکھی جو کہ سندھ بورڈآف ٹیکنیکل ایجوکیشن سے رجسٹرڈ ہے اب تک اس ادارے سے تقریبا 12000 طلبا نے شارٹ ٹرم کورسز میں فنی تعلیم حاصل کی ہے اور 300 سے زائد طلباء نے پورے سندھ میں مختلف ٹریڈز میں پہلی ، دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کی ۔رزلٹ کے اعتبار سے یہ ادارہ صف اول کے اداروں میں شامل ہے ۔ اس سلسلے میں جیوے پاکستان کی ٹیم نے ادارے کے سربراہ ایم اے سلیم انصاری سے گفتگو کی :

جیوے پاکستان : ایک طویل عرصے سے طلباء اور والدین دونوں ہی صرف ڈاکٹری اور انجنئیرنگ کے پیشے میں اپنا اور اپنے بچوں کا مستقبل دیکھتے آرہے ہیں ، اس رجحان کو دیکھتے ہوئے ہر طرف سائنس اور آرٹس کے انگلش میڈیم اسکول دکھائی دیتے ہیں، جو آمدنی کا بڑا ذریعہ بھی ہیں ، اپ کو ٹیکنیکل اسکول کھولنے کا خیال کیوں آیا؟
ایم اے سلیم : اپنی ذاتی زندگی کے تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے میں نے محسوس کیا کہ ایک عام طالبعلم ڈگری تو حاصل کرلیتا ہے لیکن روزگار کے حصول کےلئے مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، ایسے کئی نوجوان ڈگریاں ہاتھ میں لئے روزگار کی تلاش میں نظر آتے ہیں ، جبکہ ہماری معاشرتی صورتحال ایسی ہے کہ غریب اور متوسط طبقے کے والدین جو بڑی مشکل سے اپنے بچوں کی تعلیمی ضروریات پوری کرپاتے ہیں ، کی خواہش ہوتی کہ ان کی اولاد تعلیم حاصل کرکے جلد ان کا سہارا بنے ۔ ٹیکنیکل تعلیم وہ زیور ہے جس سے آراستہ ہوکر طالبعلم نہ صرف ملک کی صنعتی ضروریات پوری کرتا ہے بلکہ باعزت روزگار بھی حاصل کرلیتا ہے یوں وہ والدین اور معاشے پر بوجھ نہیں بنتا۔
جیوے پاکستان : کیا آپ ٹیکنیکل تعلیم کی موجودہ صورتحال سے مطمئن ہیں ؟
ایم اے سلیم : مطمئن کیا ہونا ہے ، یہاں صورتحال یہ ہے کہ آج سے دس سال پہلے پورے صوبے میں پچیس سے تیس ہزار طلباء اور طالبات ٹیکنیکل ہائی اسکول کے امتحانا ت میں بیٹھا کرتے تھے ، یہ تعداد بتدریج کم ہوکر اس سال 1200 رہ گئی ہے اور ان 1200 امیدواروں میں سو کے لگ بھگ صرف گلشن ٹیکنیکل کے ہیں ۔
جیوے پاکستان : اس رجحان کے محرکات کیا ہیں ؟
ایم اے سلیم: سب سے پہلے تو گورنمنٹ کی عدم توجہ اور دوسری جانب طلباء کی تعداد میں کمی کی وجہ سے بدحالی کا شکار ادارے بند ہوتے جارہے ہیں ۔ ایک اور بڑی وجہ ٹیکنیکل تعلیم کے بجائے سائنس اور آرٹس میں طلباء کی بڑھتی ہوئی دلچسپی ہے۔
جیوے پاکستان: ٹیکنیکل تعلیم کے بجائے طلباء کی دلچسپی سائنس اور آرٹس کے شعبوں میں کیوں ہے؟
ایم اے سلیم : بڑی وجہ آگاہی کا نہ ہونا ہے، حکومت کی جانب سے کسی بھی پلیٹ فارم پر ٹیکنیکل تعلیم کو اہمیت نہیں دی جاتی ہے۔ پچھلے دنوں وزیر اعظم صاحب کا بیان تھا، حکومت پاکستان ٹیکنیکل تعلیم کا آغاز کریگی حالانکہ، اس کا آغاز تو بہت پہلے ہی ہوچکا تھا، اب تو یہ دم توڑ رہی ہے۔
جیوے پاکستان: آپ کی نظر میں گورنمنٹ کو اس سلسلے میں کیا اقدامات کرنے چاہئیں ؟
ایم اے سلیم : کسی ایک چیز کی نشاندہی نہیں کی جاسکتی ، پورے نظام کو سرجری کی ضرورت ہے، سب سے پہلے تو اعلی عہدوں ایسے افراد کی تقرری کی ضرورت ہے جو ٹیکنیکل تعلیم اور صنعتی ضروریات کا مکمل ادراک رکھتے ہوں تاکہ نصاب اور پالیسی میں مناسب تبدیلی لا سکیں ۔عوام میں اس شعبہ کی آگاہی کے لئے شہروں اور دیہات کی سطح پر سیمینار منعقد کئے جانے چاہیں جبکہ طلباء میں دلچسپی اور ٹیکنیکل تعلیم میں آسانی کے لئے وظائف کا اعلان کرنا چاہئیے۔ آپ دیکھئے گا کہ کس طرح چند سالوں میں ملک میں بے روزگاری کا خاتمہ ہوجائیگا ۔
جیوے پاکستان : گلشن ٹیکنیکل ، ہائی اسکول ہونے کے ساتھ ساتھ ٹیکنیکل سینٹر بھی ہے جہاں شارٹ کورسز کروائے جاتے ہیں، کچھ اس کے بارے میں بھی بتائیے؟
ایم اے سلیم : شارٹ کورسز میں الیکٹریکل ، الیکٹرونکس ، ریفریجریشن ، کمپیوٹر سائنس اور PLC جیسے جدید کورسز شامل ہیں۔آپ حیران ہونگے کہ ایسے طلبا جو انجنئیرنگ یونیورسٹیوں سے بی ٹیک اور انجنئیرنگ کے دوسرے شعبوں میں تعلیم پاکر نکلتے ہیں ، شعبہ کی تکنیکی مہارت سے پوری طرح واقفیت نہ رکھنے کی وجہ سے روزگار حاصل کرنے کے باوجود اچھی کارکردگی دکھانے میں ناکام رہتے ہیں ۔ چنانچہ کئی ایسے طلبا ہمارے پاس ان ٹیکنیکل شارٹ کورسز کے ذریعے اپنی صلاحیتوں میں نکھار لاتے ہیں ، جبکہ بنیادی طور پر یہ کورسز ان طلباء و طالبات کے لئے ہیں جو اس پہلے بنیادی تعلیم سے ناواقف ہوتے ہیں ۔
جیوے پاکستان: تکنیکی تعلیم دینے کے لئے جو لوازمات درکار ہوتے ہیں ان پر بڑی لاگت آتی ہے ، آپ نے طلباء کی تکنیکی ضروریات پوری کرنے کیلئے کیا اقدامات کئے ہیں؟
ایم اے سلیم: تکنیکی تعلیم کے کورسز کو سامنے رکھتے ہوئے تمام شعبوں کی الگ الگ پریکٹیکل لیبز موجود ہیں جس میں جدید ترین آلات مہیا کیے گئے ہیں، جو سینٹر خود فراہم کرتا ہے، چھ ماہ کے کورس میں روزانہ علیحدہ علیحدہ لیبز میں ایک گھنٹہ پریکٹیکلز ہوتے ہیں۔ لیبز میں طلباء ماہر اساتذہ کی زیر نگرانی تربیت حاصل کرتے ہیں ۔
جیوے پاکستان: دن بہ دن بدلتی صورتحال اور ٹیکنالوجی کی جدت کے ساتھ یہ شارٹ کورسز کس حد تک ہم آہنگ ہیں؟
ایم اے سلیم: میں نے شروع سے ہی اس بات کا خاص خیال رکھا تاکہ طلبا کو پریکٹیکل لائف میں کوئی دقت نہ محسوس ہو چنانچہ جد ید ماڈلز کے ذریعے طلباء اور انڈسٹری میں رائج ٹیکنالوجی کی تربیت اور آگاہی دی جاتی ہے ۔
جیوے پاکستان : اخراجات کے حوالے سے دیکھیں تو کیا ایک ‏عام آدمی اپنے بچوں کے ٹیکنیکل تعلیم کے اخراجات برداشت کرسکتا ہے ؟ پریکٹیکل کی کلاسز کے لئے الگ سے کوئی فیس لی جاتی ہے؟
ایم اے سلیم : پہلے تو میں آپ کو یہ واضح کردوں کے ادارہ ماہانہ فیس کی مد میں جو رقم لیتا ہے اس کے علاوہ طالبعلم سے کوئی ا‌ضافی فیس نہیں لی جاتی ، یہاں تک کہ لیب میں کوئی نقصان ہونے کی صورت میں بھی طالبعلم پر کوئی بوجھ نہیں ڈالا جاتا ۔ جہاں تک اخراجات برداشت کرنے کی بات ہے ، ہماری فیس کا موازنہ کسی بھی متوسط طبقے کو تعلیم فراہم کرنے والے اسکول سے کیا جاسکتا ہے۔
جیوے پاکستان : آپ کے ادارے میں کروائے جانے والے پریکٹیکلز کا تعلق براہ راست بجلی سے ہے ، خدانخواستہ کسی حادثے یا آگ لگنے کی صورت میں کیا حفاظتی تدابیر اختیار کی جاتی ہیں ؟
ایم اے سلیم : اللہ کا شکر ہے کہ گذشتہ ستائیس سالوں میں کوئی طالبعلم بھی کسی حادثے کا شکار نہیں ہوا ، چھوٹی موٹی چوٹ کے لئے فرسٹ ایڈ کا سامان موجود ہے۔
جیوے پاکستان : آخر میں آپ جیوے پاکستان کے حوالے سے کیا پیغام دینا چاہیں گے ؟
ایم اے سلیم : مجھے آپ کی ویب سائٹ اور سرگرمیوں نے بہت متاثر کیا ہے ، آج کے جدید دور میں نیوز ویب سائٹ کا اپنا ایک کردار اور مقام ہے، ٹیکنالوجی کی دنیا سے وابستہ افراد دنیا بھر سے ویب سائٹز کے ذریعے اپنی مطلوبہ معلومات حاصل کرتے ہیں ۔ جیوے پاکستان ڈاٹ کام ایک مربوط کوشش ہے، اپ لوک جس طرح مختلف شعبوں پر روشنی ڈال کر لوگوں کو آگاہی فراہم کررہے ہیں اس پر میں آپ کو دل گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں اور آپ کی مزید ترقی کے لئے دعاگو ہوں ۔

 

نیچے: محمد علی جوہر اکیڈمی کے طلباء کا جدید ٹیکنالوجی کی تعلیم دینے والے انسٹیٹیوٹ NCR کا دورہ

 

 

محتلف مقابلوں میں اسکول کے طلباء اور طالبات کی شیلڈز اور ٹرافیاں

 


جیوے پاکستان : بچوں کی تربیت اور تعلیم کی طرف انکو راغب کرنے کے حوالے سے والدین کے کردار پر روشنی ڈالیں۔
معراج احمد صدیقی : میں یہ دیکھتا ہوں کے ساٹھ فیصد والدین بچے کو اسکول بھیج کر یہ سوچتے ہیں کہ ان کی ذمہ داری پوری ہوگئی ہے حالانکہ بچہ پانچ گھنٹے ہمارے پاس جبکہ باقی تمام وقت اسی ماحول میں رہتا ہے جو اس کو گھر میں یا محلے میں میسر آتا ہے ۔ اگر والدین تھوڑا سا تعاون کریں تو بچے میں تعلیم حاصل کرنے کی رغبت کو بڑھایا جاسکتا ہے ۔
جیوے پاکستان : بچوں کو کمپیوٹر اور جدید تعلیم کے ساتھ ساتھ کیا مذہبی تعلیم بھی دی جاتی ہے؟
معراج احمد صدیقی : بے شک ، یہ تو بنیادی چیز ہے ، میں ذاتی طور پر اس بات کا خیال رکھتا ہوں کہ صبح اسمبلی سے ہی مذہبی تعلیم کا آغاز ہو ، کیونکہ صبح کا وقت بچوں کا ذہن بالکل تازہ ہوتا ہے اور وہ بہت حدتک سمجھائی جانے والی باتوں کو جذب کرلیتے ہیں ۔میں روزانہ صبح چند آیات کا ترجمہ اور تشریح خود بیان کرتا ہوں اور تسلسل سے ایک ہفتہ وہی آیات تلاوت کی جاتی ہیں ۔
جیوے پاکستان : عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ اسکولوں میں فیس کی مد میں بہت زیادہ رقوم چارج کی جاتی ہیں ، کیا آپ کے ہاں بھی یہی صورتحال ہے ؟
معراج احمد صدیقی : ہمارے یہاں نویں اور دسویں جماعت کی فیس 500 روپے ہے جو اسی سال 70 روپے کے معمولی اضافے کے ساتھ مقرر کی گئی ہے ، یہ اقدام بھی اس مجبوری کے تحت کیا گيا ہے کہ لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے اسکول کے اوقات میں جنریٹر کا استعمال بڑھ گیا ہے ۔
جیوے پاکستان : کیا آپ کا ادارہ کو ایجوکیشن ہے ؟
معراج احمد صدیقی : جی ہاں ادارہ تو کو ایجوکیشن ہے پر ہم نے لڑکے اور لڑکیوں کی علیحدہ سیکشن ترتیب دئیے ہیں یہاں تک کہ ان کے واش رومز اور ٹوائلٹس بھی الگ الگ ہیں ۔
جیوے پاکستان : کیا بورڈ کی سطح پر ہونے والے امتحانات میں بچوں کے رزلٹس پر اسکول اثر انداز ہوتے ہیں ؟
معراج احمد صدیقی: کیوں نہیں جی ، وہ تمام بڑے ادارے جو منہ مانگی فیس لیتے ہیں ، اپنے نام کو برقرار رکھنے کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہیں اور بورڈ میں ہر پیپر کے ریٹ فکس ہیں ۔ یوں حق دار طلباء کے ساتھ زیادتی ہوتی اور وہ مایوسی کا شکار ہوتے ہیں ۔ خاص طور پریکٹیکلزلینے کا اختیار جب سے اسکولوں کو دیا گیا ہے ، اکثر اسکول اس کا ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں جبکہ ہمارے ادارے میں ہونے والے پریکٹیکلز میں بچوں کو میرٹ پر نمبر دئے گئے ۔
جیوے پاکستان : اسکول میں بچوں کی تعداد اس وقت کیا ہے اور ہر جماعت میں کتنی تعداد کو معیار بنایاگیا ہے؟
معراج احمدصدیقی : اسکول میں بچوں کی کل تعداد 1200کے لگ بھگ ہے ، اور ہر کلاس میں زیادہ سے زیادہ 32 کی تعداد کو معیار بنایا گیا ہے ۔
جیوے پاکستان : اسکول میں بنیادی سہولتوں کے متعلق کچھ بتائے، ہمیں بچوں کی تفریح کیلئے کوئی میدان دکھائی نہیں دیا؟
معراج احمد صدیقی : ہمارے محدود وسائل میں اتنی بڑی زمین لینا ممکن نہیں ، البتہ اسکول کے سامنے ریلوے کی جگہ جو کسی استعمال نہیں تھی کو ہم نے اپنے اخراجات پو قابل استعمال بنا کر بچوں کی اس ضرورت کو پورا کیا ہے ۔اسکول میں بچوں کے لئے کمپیوٹر لیب موجود ہے ۔ اسکول کے اندر ہی کینٹین کا بندوبست بھی کیا گیا ہے جہاں کھانے پینے کی معیاری اشیاء کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے ۔

 

محمد علی جوہر اکیڈمی

 

پرنسپل معراج احمد صدیقی سے ان کےاسکول کے بارے میں جیوے پاکستان نیوز ویب سائٹ کی ٹیم سے بات چیت
جیوے پاکستان : اسکول کا قیام کب عمل میں آیا اور آپ نے اسکول کا نام محمد علی جوہر اکیڈمی ہی کیوں منتخب کیا ؟
معراج احمد صدیقی: میں نے اس اسکول کی بنیاد 1992 میں رکھی اور جہاں تک نام کا تعلق ہے اس کی دو وجوہات ہیں ، ایک تویہ ہر طرف انگلش میڈیم اسکول انگلش ناموں سے منسوب کیے جاتے ہیں ، جو کہ مجھے بہت نامناسب محسوس ہوتا تھا ۔ دوسری میری کوشش تھی کہ کوئی ایسا نام تجویز کیا جائے جس کی تاریخ سے وابستگی ہو ، تحریک آزادی کے حوالے سے اس کا بھرپور کردار ہو ۔ اور محمد علی جوہر کے نام کی دوسری وجہ میری ان سے ایک خاص نسبت تھی ، ان کی والدہ بی اماں ہندستان کے جس گاؤں سے تھیں میں بھی وہیں پیدا ہوا ۔
جیوے پاکستان : آپ پچھلے اٹھارہ سال سے یہ ادارہ چلا رہے ہیں ، آپ کی نظر میں یہ ادارہ اس وقت کہا ں ہے اور آپ اس کی کارکردگی سے مطمئن ہیں؟
معراج احمد صدیقی : الحمداللہ، میں نے دن رات کی محنت کے بعد ادارے کو اس پوزیشن پر لے آیا ہوں کہ علاقے میں اس کا ایک نام ہے اور اس سے فارغ التحصیل طلبا و طالبات معاشرے میں مثبت کردار ادا کر رہے ہیں ۔ اب تو میرے بیٹے منیر احمدنے اس ادارے کو جدید خطوط پر استوار کردیا ہے ۔


 

پوزیشن ہولڈر طالبات کو گولڈ میڈل ایوارڈز

 

بچوں کی نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں اور تعلیمی و تربیتی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے اسکول  انتظامیہ کی جانب سے مہیا کی گئی سہولیات اور اقدامات

 

سائنس کے طلبا و طالبات لیبز میں پریکٹیکلز اور مشاہدات میں مصروف ہیں 

 

 

 

اوپر: اعلی کارکردگی کے حصول اور بچوں کا مستقبل سنوارنے کا عزم لئے  گرین اسکول کے پرنسپل  ڈاکٹر  نصیر احمد کا اسکول کے اساتذہ  اور انتظامیہ کے افراد کے ساتھ گروپ فوٹو

نیچے: سالانہ رزلٹ کے موقع پر منعقدہ تقریب کی کچھ جھلکیاں

گرین پبلک اسکول کے زیر اہتمام بچوں کی ذہنی استعداد بڑھانے اور انہیں تفریح کے مواقع فراہم کرنے   کیلئے مختلف سرگرمیاں

جدید دور کی تقاضوں کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ اسکول میں جدید کمپیوٹر لیب موجود ہے جس میں نوی اور دسویں جماعت کے طالبعلم مستقل طور پرفیض یاب ہوتے ہیں جبکہ چھوٹی کلاسز کو بھی ہر ہفتے کمپیوٹر سے متعلق امور سے آگاہی اور بنیادی معلومات فراہم کی جاتی ہیں ۔

بچوں کی کردار سازی کے حوالے سے خصوصی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر نصیر احمد نے کہا کہ میں نے ذاتی طور یہ محسوس کیا ہے کہ والدین جو اپنے بچوں سے بیحد محبت کرتے ہیں ، انکی کمزوریوں کویہ سوچ کر چھپاتے ہیں اسکول میں انہیں کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے جبکہ اسکول انتظامیہ اور استاد کے لئے یہ باتیں جاننا بہت ضروری ہیں تاکہ وہ صحیح معنوں میں بچے کردار سازی کرسکے چناچہ بچوں میں اعتماد اور ان کا رجحان معلوم کرنے کے لئے وہ خود بچوں سے ملاقات کرتے ہیں اور چند بچوں کا انتخاب کرکے انہیں کسی خاص موضوع پر اظہار خیال کا موقع دیتے ہیں جس سے بچوں میں اعتماد بڑھتا اور اساتذہ سے ان کا رشتہ مضبوط ہوتا ہے ۔
تعلیم و تدریس کے شعبے میں انقلابی تبدیلی لانے کے سوال پر ڈاکٹر نصیر احمد نے کہا کہ میں اکتیس سال طویل عرصہ سے اس شعبہ سے منسلک ہوں اور میری نظر میں آج طلبہ کا سب سے بڑا مسئلہ موجودہ سالانہ امتحانی نظام ہے ، یہ عام رجحان ہے کہ طلبا امتحانات کی تیاری امتحانات سے کچھ عرصہ قبل ہی کرتے ہیں ۔ اس رجحان کے خاتمے کیلئے میری نظر میں اسکول لیول پر سال میں چار سمسٹرز کا نظام رائج کرنا چاہئیے۔ اس طرح طالبعلم سارا سال اپنے نصاب سے قریب رہیگا اور اور اچھے نتائج برآمدہونگے ۔

گرین پبلک اسکول۔۔ ۔خلوص نیت اور تدریس کی خدمت کے سنہری تیس سال


والدین بچوں کو تعلیم کی جانب راغب کرنے کے لئے موثر ماحول مہیا کریں, طلبا کوتمام سال تعلیم کی جانب راغب رکھنے کیلئے ، تعلیمی سال کو تین سے چار سمسٹر ز میں تقسیم کرنا اہم ضرورت ہے : اسکول پرنسپل ڈاکٹر نصیر احمد  کا خصوصی انٹرویو

گرین پبلک اسکول گزشتہ تیس سالوں سے شاہ فیصل ٹاؤن کے نمایاں اسکول کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہا ہے۔ ڈاکٹر نصیر احمد جو بنیادی طور پر الیکٹریکل انجنئیر ہیں اور اہم سرکاری عہدوں پر خدمات انجام دے چکے ہیں ، نے گرین پبلک اسکول کی بنیاد ۱۹۷۹ ء میں رکھی
اور اپنی محنت اور لگن سے محدود وسائل کے باوجود اسکول کو ایک اعلمی درسگاہ میں تبدیل کردیا ، آج گرین بپلک اسکول میں آٹھ سو زائد طلبا طالبات زیر تعلیم ہیں جبکہ ہزاروں کی تعداد میں طلبا اس اسکول سے فیض یاب ہوکر اعلی عہدوں پر فائز ہیں اور معاشرے میں باعزت مقام رکھتے ہیں ۔ جیوے پاکستان نے گرین بپلک اسکول کی گراں قدر خدمات کو دیکھتے ہوئے اس اسکول کا انتخاب کیا اور جیوے پاکستان کی ٹیم نے اس کا تفصیلی دورہ کیا ۔یہ دورہ جیوے پاکستان کے اس پروگرام کا حصہ جس کا کا مقصد والدین کو ایسی درس گاہوں اور اداروں سے روشناس کروانا ہے ، جن کے نزدیک یہ کاروبار نہیں بلکہ خدمت ہے اورعبادت کا درجہ رکھتا ہے ۔ اس سلسلے اسکول کی کارکردگی ، وسائل کا استعمال ، بچوں کی اخلاقی تربیت ، اساتذہ کے کردار اور اسکول کے پرنسپل ڈاکٹر نصیر احمد کی خدمات پر روشنی ڈالنے کے لئے ان سے خصوصی گفتگو کی گئی جس میں انہوں نے بھرپور اندازمیں نا صرف اسکول کے انتظامی امور بلکہ موجودہ دور میں تعلیم سے متعلق مسائل پر کھل کر اظہار خیال کیا :
جیوے پاکستان : یہ عام تاثر ہے کہ ایسے پرائیویٹ اسکول جو علاقائی سطح پر قائم کیے جاتے ہیں ان کے پیچھے پیسہ کمانے اور اس کو ایک کاروبار کے طور پر اپنانے کے عزاءئم کارفرما ہوتے ہیں ۔جس کا ایک ثبوت ایسے اداروں کے مالکان ہیں جن کا خود تعلیمی اور تدریسی شعبے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ۔ کون سے محرکات تھے جس کے نتیجے میں آپ نے یہ فیصلہ کیا کہ ایک اسکول قائم کرنا چاہئیے؟
ڈاکٹر نصیر احمد: یہ تاثر بالکل درست ہے ۔ جہاں تک میرا تعلق ہے ، میں شروع میں تدریس کے شعبے سے تو واقعی کوئی تعلق نہیں رکھتا تھا لیکن علم حاصل کرنے اور اس کو عام کرنے سے دلچسپی کا ایک پہلو میری ذات میں شامل تھا ۔بنیادی طور پر میں ایک الیکٹریکل انجنئیر ہوں ، اور ایم ایس سی کرنے کے بعد سرکاری ادارے میں پیشہ ورانہ خدمات انجام دیتا رہا ۔ اسی دوران میں ۱۹۷۹ میں نے اس درس گاہ کی بنیاد رکھی اور اپنے پیشہ ورانہ امور کے ساتھ ساتھ اس اسکول کی تنظیم کرتا رہا ۔لیکن باقاعدہ طور پر گزشتہ چھ سالوں سے ا س اسکول کانظام چلا رہا ہوں ۔یہ واضح کرتا چلوں کہ اس عرصے میں کبھی بھی اس شعبہ کو کاروبار کی نظر سے نہیں دیکھا ۔
جیو ے پاکستان : موجودہ دور میں نجی اسکولوں کے حوالے درپیش ایسے کون سے مسائل ہیں جو اسکولوں کی کارکردگی میں بنیادی رکاوٹ ہیں ؟
ڈاکٹر نصیر احمد : اس میں کوئی شک نہیں کہ مجموعی طور پر بہت ساری وجوہات نے مل کرنجی اسکولوں اور ایسے تمام اداروں کیلئے یہ ممکن ہی نہیں چھوڑا کہ وہ دیانت داری سے اپنے مقاصد کی انجام دہی کرسکیں ۔ جیسا کہ میں نے کہا کہ وجوہات بے شمار ہیں ،دنیا میں تعلیم اور تدریس کے شعبے میں کہیں بھی ٹیکس رائج نہیں بلکہ حکومت کی جانب سے ایسے اداروں کی ہر سطح پر معاونت کی جاتی ہے دوسری جانب ہمارے ملک میں صورتحال یکسر مختلف ہے ، سترہ قسم کے ٹیکسز ہیں ،اور مختلف ادارے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے تدریسی اداروں پر دباؤ ڈالتے ہیں جو ان اداروں کے کی تعلیمی سرگرمیوں اور مقاصد پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں ۔مثال کے طور پر سوشل سیکورٹی کی مد میں جو رقوم اسکول اپنے اساتذہ کے حوالے سے جمع کرواتے ہیں اس کا کوئی براہ راست نہ تو اساتذہ کو اورنہ ہی اسکول کو ہوتا ہے۔ یہ سب جانتے ہیں علاقائی سطح اور قائم اسکولوں میں اساتذہ زیادہ عرصہ نہیں رکتے ، ایسے اسکولوں کے کم وسائل اور محدود تنخواہ کی وجہ سے وہ اچھی نوکری کی تلاش میں رہتے ہیں ۔اور سوشل سیکورٹی کی مد میں دی گئی رقوم بے ثمر رہتی ہیں ۔ یہی رقوم یا اس جیسے اور اخراجات کو کم کر کے نجی اسکول اپنے اساتذہ کو تربیت یا مزید سہولتیں فراہم کرسکتے ہیں ۔
جیوے پاکستان : اّ پ کے اسکول نصاب کی کون سی کتابیں رائج ہیں اور ان کا انتخاب کیوں ؟
ڈاکٹر نصیر احمد: ہم اپنے اسکول میں آکسفورڈ کی کتب کا انتخاب کیا ہے جسکی بنیادی اسکی سادہ تحریر ہے ۔ انگریزی کے شعبے میں، میں نے یہ محسوس کیا ہے کہ وہ کتب جو ہمارے اپنے ماہر تعلیم حضرات نے مرتب کی ہیں ، اس میں انہوں نے اس رجحان یا خوف کو سامنے رکھتے ہوے کہ انگریزی انکی اپنی زبان نہیں ، تکنیکی نکات کا بہت زیادہ خیال رکھا جس کے نتیجے میں نصاب کی ان کتب میں استعمال کی گئی زبان پیچیدہ ہوگئی ۔جبکہ خود وہ لوگ جن کی یہ اپنی زبان ہے وہ تدریس کے لئے انتہاؤی سادہ زبان کا انتخاب کرتے ہیں ۔اور یوں آکسفورڈ کی کتب نے مجھے بہت متاثر کیا اور میں بہت مثبت نتائج بھی دیکھے ۔
جیوے پاکستان : کچھ عرصہ قبل آغا خان بورڈ تشکیل پایا اور اس وقت اسکولوں کی ایک بڑی تعداد آغاخان بورڈ سے منسلک ہے ، آپ آغا خان بورڈ اور کراچی سیکنڈری بورڈ میں کس سے منسلک ہیں اور کیوں ؟
ڈاکٹر نصیر احمد : موجودہ دور میں کراچی سیکنڈری بورڈ اپنے مقاصد کے حصول سے دور دکھائی دیتا ہے ، آغا خان بور ڈ پیشہ ورانہ امور اور اور تعلیمی اداروں کا معیار بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ کچھ عرصہ قبل میرا اسکول بھی آغا خان بورڈ سے منسلک رہا لیکن مالی مشکلات وجہ سے ہم اس وابستگی اور بحال نہیں رکھ سکے کیونکہ اس صورتحال کو قائم رکھنے کے لئے ہمیں بچوں کی فیسوں میں لامحالہ اضافہ کرنا پڑتا جوکہ اس دور میں غریب بلکہ متوسط طبقہ کے والدین کے اوپر اضافی بوجھ سے کم نہیں ۔
جیوے پاکستان : کیا آپ کسی پراؤیٹ اسکول ایسوسی ایشن سے وابستہ ہیں؟
ڈاکٹر نصیر احمد : جی نہیں ۔
جیوے پاکستان : اسکول میں اس وقت بچوں کی تعداد کیا ہے ؟
ڈاکٹر نصیر احمد : اس وقت اسکول میں ۸۰۰ سے زائد طلبا و طالبات تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔ کلاسز میں بچوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد ۳۶ کو معیار بنایا گیا ہے ۔
جیوے پاکستان: یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ کو ایجوکیشن کی صورتحال میں کؤی مسائل جنم لیتے ہیں ، آپ اس کو کیسے سنبھالتے ہیں ؟
ڈاکٹر نصیر احمد : میں نے شروع سے ہی اس بات کا خیال رکھتے ہوئے طلبا اور طالبات کے لئے الگ الگ جماعتوں کا نظام رائج رکھا ۔یہاں تک کے دونوں کی تفریحی بریکس کے اوقات بھی مختلف ہیں ۔

اسکول سے متعلق بنیادی سہولتوں کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ اسکول میں طلبا و طالبات کیلئے الگ الگ ٹوائلٹس کا انتظام ہے جہاں صفائی کا خاص خیال رکھا جاتا ، جبکہ پینے کے صاف پانی کے ساتھ ساتھ کسی غیر متوقع حادثے کی صورت میں فسٹ ایڈ کا انتظام موجود ہونے کے ساتھ ساتھ قریبی اسپتال سے بھی رابطہ ہے ۔اسکول میں چند بچوں اور اساتذہ کرام کو بھی فسٹ ایڈ دینے اور ایسی صورتحال سے نمٹنے کی تربیت بھی دی جاتی ہے ۔اسکول کے اندر بچوں کی کھیل و تفریح کے لئے گراونڈ موجود ہے اور بچوں کو آؤٹ ڈور سرگرمیوں کے لئے باہر بھی لے جایا جاتا ہے ۔


جبکہ طلبا و طالبات کی ذہنی نشو ونما کیلئے مختلف تعلیمی مقابلوں کا بھی انعقاد کیا جاتا ہے ۔ گرین پبلک اسکول بین السکول مقابلوں میں بھی حصہ لیتارہتا ہے جس میں گرین پبلک اسکول طلبا نے نمایا ں کارکردگی کا مظاہرہ بھی کیا ہے ۔
 

 

 

Azeem & Mohsin S/O Muhammad Sarwar

Wind Energy

 

New port University seminar 1

 

New port University seminar 2

 

Young Scientists from Pakistan to attend Intel International Science & Engineering Fair

 

M. A. Saleem, Director Gulshan Tech School Part 1

 

M. A. Saleem, Director Gulshan Tech School  Part 2

M. A. Saleem, Director Gulshan Tech School  Part 3

 

M. A. Saleem, Director Gulshan Tech School  Part 4

M A Saleem Director GulshanTech School and Centre Malir Karachi part 5

 


Jeevey Pakistan is now offering you a great facility of putting your banner on jeeveypakistan.com Homepage.