|
top
|

محمد ہارون حسن فتہ
Muhammad Haroon
Hassan Fatta
|
List of Articles
(Click the title to read the article)
آپ
اپنی آراء اور تبصرےاس ای میل کے ذریعے بھیج سکتے ہیں
haroonhassanfatta@hotmail.com
Send your your suggestion and comments at the above mentioned
email address |
5

تحریر : محمد ہارون حسن فتہ
(پہلی قسط )
|
"کراچی کا
محاصل آمدنی میں بہت بڑا حصہ ہے اور اسی میں تجربہ کیا جارہا ہے۔" |
-
آر جی
ایس ٹی (RGST)کو کیسے نافذ جائے؟
-
آئی آر
ایس (IRS) کو کیسے فعال بنایا جائے ؟
-
ایف بی
آر (FBR)میں کیسے اصلاحات کی جائیں ؟
-
حکومتی
اقدامات کیا ہونا چاہئے ؟
|
ہماری محاصل آمدنی میں اضافہ کے لئے اور قرضوں پر انحصار کم کرنے کے
لئے ہمیں موجودہ ٹیکس نظام میں اصلاحات کی ضرورت پہلے کے مقابلے میں
بہت زیادہ ہے۔ نظآم کو چلانے کیلئے فعال مشینری کی ضرورت ہوتی ہے لیکن
بدقسمتی سے ہماری یہ حالت ہے کہ جب کوئی اصلاحاتی عمل ٹیکس کے حوالے سے
شروع ہونے کی کوئی پالیسی ترتیب دی جاتی ہے اس سے پہلے جو موجودہ
ڈھانچہ ٹیکس اور حاصل آمدنی کے حوالے سے ہوتا ہے اس پر ضرب لگا کر اسے
توڑ دیا جاتا ہے جسکی مثال ہمارے سامنےہے کہ پہلے انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس
اور کسٹم علیحدہ گروپ میں شامل تھے یعنی دو شعبہ جات تھے۔
1. ڈائریکٹ ٹیکس Direct Taxاور
2. ان ڈائریکٹ ٹیکس Indirect Tax
اب Indirect ٹیکس جوکہ کسٹم ڈیوٹی، سیلز ٹیکس، اور ایف ای ڈی پر مشتمل
تھا اسے توڑ کر کسٹم کو لگ کردیا گیا اور سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز
ڈیوٹی (ایف ای ڈی) کو ڈائرکٹ ٹیکس یعنی انکم ٹیکس میں ضم کرکے Inland
Revenue Service (IRS) ایک نیا نام دیکر اسے نافذ کردیا گیا، اسکی مثال
یو ہے کہ ہمیں محاصل آمدنی میں اضافے کی ضرورت تھی اور اس میں اصلاحات
کرنی تھیں۔ بجائے اس میں اصلاحات کرنے کے ہم ے ٹیکس کے نظام کو ہی توڑ
دیا تاکہ اس نئے نظام جو کہ ان لینڈ ریونیو کے نام سے نافذ کیا گیا ہے
اسی کو درست اور اسکی صحیح سمت کا تعین کرنے میں ہی ہمارا وقت ضائع
ہوتا رہے اور ہم اسی کو ٹھیک کرنے میں لگ جائيں یعنی ہماری سمت کو ہی
تبدیل کردیا گیا یوں محاصل آمدنی میں اضافہ اور اس کا اصلاحاتی عمل
پیچھے رہ گیا ۔
پہلے ٹیکس سروس کے دو گروپ تھے :
1. انکم ٹیکس گروپ اور
2. کسٹم گروپ
یعنی ان ڈائریکٹ ٹیکس گروپ میں سیلز ٹیکس فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور کسٹم
شامل تھے اب ان لینڈ ریونیو اور کسٹم سروس گروپ کردیا گیا۔
ان لینڈ ریونیو میں انکم ٹیکس ، سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز کو شامل
کرلیا گیا یعنی ڈائریکٹ ٹیکس اور ان ڈائریکٹ ٹیکس دونوں کو ضم کردیا
گیا۔
ان لینڈ ریونیو سروس میں سب سے بڑا عہدہ کمشنر (آئی آر) رکھا گیا اور
ایف بی آر ہیڈکوارٹرز میں جو ممبران رکھے گئے اس میں کوئی بھی ممبر ان
لینڈ ریونیو نہیں رکھا گیا۔ ایف بی آر میں ایک ممبر ڈائریکٹ ٹیکس اور
دوسرا ممبر سیلز ٹیکس پھر الگ کردئے گئے اور مزید اس طرح ممبر ٹیکس
پالیسی بھی الگ الگ کردیے گئے۔ یعنی پالیسی بنانے والوں کو یہی واضح
نہیں تھا کہ اگر ٹیکس کے نظام کو ان لینڈ ریونیو سروے کردیا گیا تو پھر
ممبر ان لینڈ ریونیو رکھا جاتا لیکن ایسا نہیں کیا گیا اسلئے ایف بی آر
کے پالیسی بنانے والوں کے ذہن بھی صاف اور واضح نہیں تھے اور ایف بی آر
اپنے ہیڈکوارٹر میں ہی تقسیم تھا۔
انکم ٹیکس گروپ اور کسٹم گروپ کے افسران کی آپس میں تعلقات کبھی بھی
زیادہ خوشگوار نہیں رہے اور دونوں گروپ کے افسران ایک دوسرے پر باتیں
ہی بناتے ہیں ، یہ عمل آج تک جاری ہے۔
اب اصلاحات کا عمل سیلز ٹیکس میں لانا تھا تو پہلے VAT کی صورت میں اور
اب آر جی ایس ٹی (Reformed General Sales Tax ) کی صورت میں لانا تھا
اور اسی سروس گروپ پر ضرب لگا کر اسے توڑ دیا گیا اور اس گروپ کے جن
افسران نے بھی ان لینڈ ریونیو کو جوائن کیا اسے انکم ٹیکس گروپ کے
افسران نے اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا چونکہ ان لینڈ ریونیو سروس کو انکم
ٹیکس افسران کے حوالے کیا گيا ہے۔
اب آپ دیکھئے کہ اصلاحاتی عمل جس شعبہ ٹیکس میں کیا جانا تھا اس کے
افسران کو ہی نظر انداز کردیا گیا اور دوسرے ٹیکس کے شعبہ سے اس سلسلے
میں مشاورت کی گئی جس سے اصلاحاتی عمل ہی رک گيا۔
زی اے ٹی اور آر جی ایس ٹی کف حوالے سے جو ڈرافٹ تیار کیا گیا اس میں
انکم ٹیکس کے افسر کو بھی شامل کیا گیا اور جس افسر کو شامل کیا گیا اس
کے ذہن میں ٹیکس گزار کے لئے جو جذبہ ہے وہ یہ ہے کہ ٹیکس گزار کو وہ
ہتھکڑی لگے ہوئے جبکہ خود کو جج کی صورت میں دیکھنا چاہتا ہے۔ دوسرے
الفاظ میں اس کی نظر اور تجاویز، صرف ٹیکس گزار کو Penalize کس طرح کیا
جائے؟ والی ہوتی ہیں۔ اور آج بھی اسکی نظر سیلز ٹیکس ایکٹ میں جس دفعہ
پر ہے وہ 33(15) ہے، اگر کوئی ٹیکس گزار مذکورہ افسر کی شکایت کہیں بڑے
افسر کو کرے تو اسے وہ Obstruction سمجھتا ہے۔ اسکی خواہش ہے کہ اسے
ہتھکڑی لگنی چاہئے اور وہ اپنی خواہش کو عملی جامہ پہنانے کے لئے آر جی
ایس ٹی اور وی اے ٹی کی جو شقیں سامنے آئی ہیں اس میں اپنی اس خواہش کو
ایکٹ کا حصہ بنایا گياہے۔
اس افسر کو جب بھی کبھی لیکچر دینے کا موقع ملتا ہے اس لیکچر میں اپنی
ایسی خواہشات کو ہی عملی جامہ پہنانے کا درس دیتے ہیں۔
انکم ٹیکس گروپ کے گریڈ 16 کے ملازمین کو مکمل اختیار دے کر Authorized
کیا گیا ہے جبکہ سیلز ٹیکس کے 16 اور 17 گریڈ کے آڈیٹر کو اس طرح نہیں
کیا گیا جس کی وجہ سے بھی بے چینی اہے اور دونوں آئی آر ایس میں ہوتے
ہوئے الگ الگ سہولتیں اور اختیارات ہیں جس کو ختم کرنا بھی ضروری ہے،
ایک ہی سروس میں ایک ہی گریڈ میں تضاد کیوں ہے۔
محاصل آمدنی میں سب سے بڑا حصہ سیلز ٹیکس کی مد میں وصولی ہے لیکن سروس
گروپ میں سیلز ٹیکس افسران کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ مستقبل کے
ٹیکس کے طور پر سیلز ٹیکس کی ہی اصلاحات محاصل آمدنی میں اضافے کا سبب
بن سکتی ہیں لیکن اس طرف توجہ ہی نہیں ہے۔ انکم ٹیکس کی مد میں وصولی
کو بڑھانے کے لئے غیر حقیقی اور شہری کے بنیادی حقوق کو پامال کرکے
Withholding Tax کو انکم ٹیکے کی شق 153 کادائرہ وسیع کرکے بہت سے ٹیکس
گزاروں کی مذکورہ دفعہ میں کٹوتی کو Full and Final ٹیکس liability کی
گئی جو کہ سراسر زیادتی ہے اس پر ایک علیحدہ تحریر رکھوں گا۔ دوسری طرف
یہ کہنا صحیح ہوگا کہ انکم ٹیس جو کہ بڑا درست ٹیکس ہے اس کی وصولی بھی
بالواسطہ ٹیکس کی طرح کررہے ہیں جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مذکورہ
افسران کے ذہن میں صرف اور صرف غیر حقیقی وصولی کی طرز پر پالیسی بنانا
ہے۔
پالیسی آپ کیسی ہی بنا لیں لیکن جب تک مذکورہ پالیسی پر عملدرآمد کرنے
والے اگر صحیح نہیں ہونگے تو اچھی سے اچھی پالیسی بھی غیر موثر ہوجائے
گی۔
تجویز یہی ہے کہ انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس گروپ کو علیحدہ کردیا جائے۔
اگر ان لینڈ ریونیو ہی رکھتا ہے ایک Inland Revenue Income Tax دوسرا
Inland Revenue Sales Tax رکھا جاسکتا ہے تاکہ ٹیکس گزاروں کو بھی
سہولت مل سکے، موجودہ حالات میں خاص کر کراچی میں جو تبدیلیاں کی جارہی
ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایف بی آر کے پاس صحیح سمت نہیں ہے۔ ان
لینڈ ریونیو سروس کے آغاز پر کراچی میں ایک آر ٹی او بنایا گیا جس میں
پانچ ڈویژن بنائی گئیں۔ کچھ عرصے کے بعد ایک اور تجربہ شروع کیا گیا اہ
کراچی میں تین آر ٹی او کا قیام عمل میں لایاگیا۔ لیکن یہ تجربہ بھی
کامیاب ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا۔ کراچی کا محاصل آمدنی میں بہت بڑا حصہ
ہے اور اسی میں تجربہ کیا جارہا ہے۔ ٹیکس گزاروں کو سہولت کے لئے صرف
ایک آر ٹی او میں شعبہ رکھا گیا ہے۔ جسے Tax Facilitation کا نام دیا
گیا ہے لیکن ٹیکس گزار کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہے اس کی مثال یو ہے
کہ ان لینڈ ریونیو افسر کوئی نوٹس دیتا ہے ، اس میں مذکورہ نوٹس کی مدت
پوری ہونے کے بعد جرمانہ کی تفصیل ضرور دی جاتی ہے تاکہ ٹیکس گزار کو
ذہنی دباؤ میں رکھا جاسکے، لیکن یہی مذکورہ آفیسرز ٹیکس گزار کی کسی
بھی درخواست کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھتے بلکہ اس کو بڑی سے بڑي ردی
کی ٹوکری میں ڈال دیتے ہیں اور استفسار کرنے پر یہی جواب جواب ملتا ہے
کہ کوئی درخواست موصول ہی نہیں ہوئی۔ گزارش یہی ہے کہ T.F.D کو ٹیکس
گزار کی ان مشکلات پر توجہ رکھی جائے اور مذکورہ افسران کے لئ ےبھی کسی
جرمانہ کی سفارش کی جائے تاکہ ٹیکس گزاروں
کی کچھ دادرسی کی جاسکے۔
جب یہ سطور لکھی جارہی تھی اس وقت ایف بی آر نے اپنے ممبر آئی آر ایس
کا اعلان آخر کار کر ہی دیا اور قرعہ اس افسر کا نکلا جس کی ڈیپوٹیشن
پر حال ہی میں واپسی ہوئی ہے۔ دیر آئد درست آئد کیمثال اپنی جگہ لیکن
جتنا عرصہ ممبر کی تعیناتی میں صرف کیا گیا وہ مذکورہ مثال پر صادق
نہیں آتا ہے۔ جب تک پالیسی کی سمت صحیح نہیں ہوگی محاصل آمدنی کا حدف
پورا کرنا ناممکن ہی رہے گا۔ حقیقی پالیسیاں ہی معاون ثابت ہوسکتی ہیں۔
(جاری ہے)
اسٹیٹ

تحریر : محمد ہارون حسن فتہ
کسی
بھی ملک کی معاشی ترقی اورمعاشی صورتحال کو بہتر کرنے میں صنعتوں کے
کردار کو فوقیت حاصل ہے۔ ہمارے ملک میں بھی معاشی ترقی کیلئے صنعتوں کو
مراعات دینی ضروری ہے تاکہ ملک میں بے روزگاری کا خاتمہ ممکن ہوسکے
اورملک میں صنعتوں کا جال پھیلایاجاسکے اورہماری برآمدات بھی بڑھ سکے
لیکن صنعتوں کووہ مراعات نہیں دی جارہی ہیں جس سے صنعتوں کا جال
پھیلانا مشکل ہوگیا ہے جس کی وجوہات بہت ہیں لیکن ان سطور میں بینکوں
کے کردار کے حوالے سے چند گزارشات پیش کررہاہوں۔
ہمارے ملک میں بینکوں کو کنٹرول کرنے کیلئے اسٹیٹ بینک کی پالیسی موجود
رہتی ہے یہ کہنا بھی درست ہوگا کہ کمرشل بینک اپنے کھاتے داروں کو جو بھی
مراعات دیتا ہے اس کی پالیسی مرکزی بنک کے قوائد وضوابط سے منسلک ہوتی
ہے۔ صنعتوں کے حوالے سے جومشکلات ہیں اس میں سب سے بڑا مسئلہ Mark upکی
شرح ہے جوکہ اسٹیٹ بینک مقرر کرتا ہے اور Mark up میں کمی وبیشی کا
اختیار بھی صرف اسٹیٹ بینک کا ہی ہے Mark up کی شرح کے تعین کیلئے
اسٹیٹ بینک مانیٹری پالیسی کااعلان کرتا ہے جس کی مدت کاتعین بھی اسٹیٹ
بینک ہی کرتا ہے یعنی مانیٹری پالیسی کی مدت کبھی دو مہینے ہوتی یا
کبھی تین مہینہ ہوتی ہے اورمدت کے تعین میں ملکی معاشی صورتحال جس میں
مہنگائی کا عنصر کاسب سے زیادہ خیال رکھاجاتا ہے یعنی مہنگائی میں کمی
اور بیشی پرنظر رکھی جاتی ہے اوراسی بنیاد پر Mark up کی شرح کا تعین
کیاجاتا ہے۔
اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کاتعلق مہنگائی سے منسلک ہے یعنی
Consumer Price Index کو نظر میں رکھتے ہوئے کہ آئندہ دو یا تین مہینوں
میں Consumer Price Indexمیں کیا کمی بیشی آئیگی جس کو بنیاد بنا کر
Mark up کی شرح کاتعین کیاجاتا ہے۔Consumer Price Index کے حوالے لے
تحقیق اسٹیٹ بینک کا معاشی تحقیق کا شعبہ کرتا ہے اوراسی کو بنیاد
بناکر کے آنیوالے تین مہینوں میں مہنگائی کی شرح کیا ہوگی اورمہنگائی
کی شرح کم ہوگی پھر Mark up کی شرح میں کمی کی جاتی ہے اور اگر مہنگائی
کی شرح میں اضافہ ہوگا پھر Mark up کی شرح میں اضافہ کیاجائیگا۔ مذکورہ
بحث یاتجزیہ سے یہ بات صاف ہوجاتی ہے کہ اسٹیٹ بینک Mark upکی شرح کا
تعین مہنگائی کی حالت زار دیکھتے ہوئے کرتا ہے اوریہ بات بھی واضح
ہوگئی کہ Mark upکی شرح کا تعین صرف ادائیگی کو بنیاد بناکرکیاجاتا ہے
۔ ادائیگی سے مطلب Savingsکو ہی اس سے زیادہ فائدہ یا نقصان ہوتا ہے
یعنی Monetory Policy جس میں Mark up کی شرح کا تعین اور اسکا براہ
راست فائدہ چونکہ ہمارے ملک میں Mark up کی شرح کم ہونے کے مواقع کم ہی
دیکھے گئے ہیں۔
اب جائزہ لیتے ہیں کہ شرح سود کے تغیراور زیادہ تر اضافہ کے کیا اثرات
ہوتے ہیں اورانکا تعلق کیا ہے اور Mark up جس پر دیا اور وصول کیا جاتا
ہے شعبہ جات کیا ہیں۔
1) عام کھاتے داروں Ord. Saving A/c Holder(2) بچت اسکیموں میں سرمایہ
کاری Mostly Pentioners and Widows(3) Experters Loan برآمد کنندگان کو
Re Financy کیلئے (4) عام صنعتوں یا کاروباری اداروں۔
اوپر دیئے چار مختلف کیٹیگریز ہیں جن کو Mark up کی ادائیگی کی جاتی ہے
اور جن سے Mark up کی وصولی کی جاتی ہے ان چاروں کیٹیگریز کاجائزہ لیتے
ہیں۔
1) ایسے کھاتیداروں کابراہ راست اس Monetory Policyسے نہیں ہوتا ہے
بلکہ ان کا براہ راست تعلق اس بینک سے ہوتا ہے جس میں انکا کھاتہ ہے
اورمذکورہ بنک کی پالیسی سے ہی اسے Mark up کی ادائیگی کی جاتی ہے۔
2) ایسے کھاتے داروں کو Monetory Policy کا براہ راست اثر ہوتا ہے بلکہ
یوں کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ مذکورہ کھاتیداروں کیلئے ہی Monetory
Policy ترتیت دی جاتی ہے اوراسٹیٹ بینک کی نظر میں اورحکومتی نظر میں
مذکورہ کھاتے اورمہنگائی سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ چونکہ کیٹگری کے
کھاتے اوراپنی بچت کو مستقل نہیں کرتے بلکہ انکا خرچوں کادارومدار بھی
مذکورہ کھاتے سے منافع حاصل ہونے پر نہیں ہوتا۔
(3) Re Financing برائے
برآمدات Mark up کا تعین علیحدہ کیاجاتاہے اورا س میں اضافہ بھی ہماری
برآمدات پراثرانداز ہوتا ہے Monetory Policy کا براہ راست تعلق مذکورہ
کیٹیگری سے نہیں ہے ۔
(4) Monetory Policy کا سب سے زیادہ اثر اس شعبہ
پر ہی اثر انداز ہوتا ہے اوراگر Mark upبڑھ جاتا ہے پھرFinancing Cost
ایسے اداروں کی بڑھ جاتی ہے جوبلواسطہ طورپر مہنگائی بڑھانے میں کردار
ادا کرتی ہے۔ Mark up کی شرح کا تعین جیسا کہ تجزیہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ
صرف Consumer Price Indexکو دیکھتے ہوئے کہاجاتا ہے اورConsumer Price
Indexسے متاثرہ طبقہ وہی ہے جو کہ Fixed A/c میں اپنی سرمایہ کاری کرتا
ہے اورانکا تعلق زیادہ تر بیواؤں اورپنشن یافتہ طبقہ سے ہے۔ اور اگر
Consumer Price Index کو دیکھتے ہوئے Mark up کی شرح بڑھائی جاتی ہے
اورپیشنگوئی بھی یہی ہے کہ آئندہ دنوں میں مہنگائی کی شرح میں زیادہ
اضافہ ہوگا جب Mark up کی شرح کو کتنا اوثر لیاجائے گا اورجب Mark up
کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے اس وجہ سے جو صنعتیں قرضہ لیتی ہیں۔ وہ براہ
راست متاثر ہوتی ہیں اورشرح سود کے اضافہ سے انکی Financing Costمیں
اضافہ ہوتا ہے اسی سے مہنگائی میں اضافہ ہوتاہے۔ تجویز یہ ہے کہ تمام
اکاؤنٹ پر مارک اپ کی شرح کا تعین علیحدہ سے کیاجائے۔ اگر بیواؤں
اورپنشنر کیلئے شرح سود میں اضافہ کیا جاتا ہے اس کا اثر دوسری طرف
مقامی صنعتوں اور تاجروں جوکہ مارک اپ ادا کرتے ہیں ان پر ہوتا ہے اور
Financing Cost میں اضافہ ہوتا ہے اورصنعتیں اپنی منصوبہ بندی میں
مشکلات کاشکار ہوتی ہیں۔ دوسری تجویز یہ ہے کہ صنعتوں اورتاجروں کو
قرضہ دیاجاتا ہے ان پر مارک اپ کی شرح کو ایک سال کیلئے فکسڈ کردیاجائے
تاکہ Consumer Price Index میں اس وجہ سے اضافہ نہ ہو صرف رسد اورطلب
کی وجہ سے فرق آئے جس سے اشیاء کی فراوانی بڑھانے کیلئے پالیسی ترتیب
دی جائے اگر ExporterکوRe Financing کی شرح الگ سے رکھی جاتی ہے۔ پھر
سب کیلئے الگ الگ شرح رکھنے میں کسی دشواری کا سامنا نہیں ہوناچاہئے۔
دوسری تجویز یہ ہے کہ Inflation جوکہ مہنگائی میں اضافہ کی سب سے بڑی
وجہ ہے اسکو کنٹرول کرنے کیلئے کمرشل بینکوں سے جو ڈپازٹ لیاجاتا ہے اس
میں اضافہ کیاجائے تاکہ Extra Liquidiz کو قابو میں رکھاجاسکے تاکہ
کمرشل بنکوں سے قرض دینے کی صلاحیت میں کمی آجائے اور ذخیرہ اندوزی یا
اس طرح کی دوسری کارروائیوں کی حوصلہ شکنی کی جاسکے۔ Consumer Price
Index کو بھی کنٹرول کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ امید ہے دونوں تجاویز پر
غورکیاجائے گا۔ پنشنرز اور بیواؤں کے اکاؤنٹ کو الگ کرکے ان کیلئے
اضافی مراعات دی جاسکتی ہیں۔
1
نیشنل
ٹیرف کمیشن آف پاکستان اور ٹرائی پیک فلمز کی ملی بھگت
تحریر: محمد ہارون فتہ
(پہلی قسط )
Tariff
Commission ملکی ادارہ ہے جو ملکی صنعتوں کے مفاد ات کے تحفظ کی خاطر
حرکت میں آتا ہے اگر کسی ملکی صنعت کے مفادات کے لئے اسی طرح کی درآمدی
مصنوعات کو ملک میں درآمد کے حوالے سے Anti Dumping Duty کی بھی سفارش
کرتا ہے مصنوعات جو کہ ملکی مصنوعات کے برابر ہوں اس کی درآمد کو مہنگا
کیا جائے تاکہ ملکی صنعت کو فروغ حاصل ہو اور ملکی صنعت کو تحفظ حاصل
ہو۔
لیکن بعض اوقات جو احتیاطی تدابیر اس سلسلے میں اختیار کی جانی چاہئیں
اس میں کوتاہی ہورہی ہو جس سے ملک میں اس تیار کردہ مال کی قیمت میں
اضافہ ہوجاتا ہے اور اس طرح مہنگائی میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور وہ خام
مال جو دوسری صنعتوں میں استعمال ہوتا ہے پہلے بھی وہ مشکلات کا شکار
ہوجاتی ہیں اور اس کی فراوانی بھی متاثر ہوتی ہے۔ اس طرح اس میں بہت
احتیاط کی ضرورت ہے لیکن جو کہانی آگے لکھ رہا ہوں اس میں احتیاط نہیں
کی گئی ہے او ر مذکورہ کمپنی جس کے لئے Tariff commission حرکت میں آیا
ہے اس میں شکوک و شبہات ہیں۔
12 اپریل2010 کو Tri Pack Films نےTariff Commissio کو درخواست دی کہ
پراڈکٹ جو وہ تیار کررہے ہیں ان کی پروڈکٹ کو اس طرح کی برآمدی پروڈکٹ
سے نقصان ہورہا ہے اس لئے اس کی درآمد پر Anti Dumping Duty عائد کی
جائے تاکہ اس کی مصنوعات کو تحفظ حاصل ہوجائے اور اس کی فروخت میں
درآمد کی وجہ سے کمی آئی ہے اور وہ نہ ہو اور اس کی فروخت اپنی سطح پر
آجائے-
Tripack Films ملک میں B.O.P.P Films PlainاورB.O.P.P Metalized تیار
کرتا ہے اور اس کی سالانہ پیداوار 25000 میٹرک ٹن ہے جو اس کی دونوں
کارخانوں کی مجموعی پیداوار ہے مذکورہ فلمز تقریبا تمام صنعتوں میں
Packaging Material کے طور پر استعمال ہوتا ہے ا س کا سیدھا مطلب یہ ہے
کہ مذکورہ Material نہ ہو یا اس کی فراوانی میں کمی ہو جب تمام ملکی
صنعتوں کو Finished Goods پر اثرات آتے ہیں اور اس میں رکاوٹ آجاتی ہے
اس طرح تمام صنعتیں اس میٹریل کو کسی بھی قیمت میں حاصل کرنے میں
دلچسپی لیتی ہیں تاکہ ان کے مال کی فروخت نہ رک جائے۔
Tripack Films نے اپنی درخواست جو کہ Tariff com of Pakistan میں 12
اپریل 2010 کو جمع کرائی گئی ہیں اس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ Tripack
Films ملکی کھپت کا 92 فیصد مال تیار کرتا ہے اور اس کی فروخت میں کمی
اور رکاوٹ آرہی ہے جس سے اس ملکی صنعت کو بہت بھاری نقصان اٹھانا پڑ
رہا ہے ۔ Tripack Films کے مذکورہ درخواست Anti Dumping Discovered 200
U/S 20 کے تحت دی اور مذکورہ درخواست کو تسلیم کرلیا گیا مذکورہ
درخواست U/s24oferd کے تحت پوری اترتی ہے۔ اس درخواست میں استدعا کی
گئی ہے کہ اس کی درآمد پر پھر Anti Dumping Duty عائد کی جائے جو کہ اس
کی فروخت، اس کے مال کی قیمت اور اس کے منافع میں کمی آرہی ہے مذکورہ
مال کی درآمدات کی وجہ سے ہورہی ہےNational Tariff Com. نے سیکشن23 کے
تحت اس پر انکوائری شروع کردی۔ اور اس سلیکشن کے تحت مذکورہ درخواست پر
غور کیا گیا اور مذکورہ درخواست اس پر پوری اترتی ہوئی ان کو نظر آگئی
حالانکہ ایسا نہیں ہے۔
27 ستمبر کو ملکی روزنامچوں میں نوٹس کا اجراء کیا گیا اور یکم جنوری
سے لے کر 30 جون 2010تک جن درآمد کنندگان نے درآمد کیا ہے ان کی
درآمدات پر Duming Duty کے لئے انکوائری کی جائے گی اور یکم جنوری 2007
سے 30 جون 2010 تک Tripack Films کے مفادات کو نقصان ہونے کی انکوائری
کی جائے گی۔
National Tariff Commission نے انکوائری Dumping duty کے لئے جس مدت کا
تعین کیا ہے وہ درخواست کی تاریخ کے بعد کا بھی ہے یعنیNational Tarrif
نے اس مدت کو بھی شامل تفتیش کیا ہے جو کہ درخواست کے بعد کی ہے N.T.C
نے آگے کی مدت کو بھی فرض کرلیا ہے جو کہ اس کی روح کے منافی ہے او
رمفادات کے نقصان کی مدت بھی ساڑھے تین سال مقرر کی ہے۔ سوال صرف یہ
پیدا ہوتا ہے کہ N.T.C نے مذکورہ مدت کس قانون کے تحت کی ہے اور کیا
Taripack Films کو اپنے مفادات کا احساس نہیں تھا درخواست اس سے پہلے
بھی دی جاسکتی تھی پھر کیوں نہیں دی گئی اس کی وجوہات ہوسکتا ہے کہ این
ٹی سی کے علم میں نہ ہو لیکن دوسرے لوگوں کے سامنے ضرور ہیں جو کہ
آئندہ پیش کی جائیں گی۔ این ٹی سی نے ٹرائی پیک فلمز کی درخواست کو اس
طرح سمجھ لیا ہے کہ ٹرائی پیک فلمز ملکی کھپت کا 92 فیصد بظاہر ملکی
کھپت کا حصہ لگتی ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے اس طرح N.T.Cکی مذکورہ
درخواست پر صحیح طرح سے غور ہی نہیں کیا ہے۔ اصل حقائق آئندہ کالم میں
پیش کئے جائیں گے۔ این ٹی سی سے نہ صرف یہ درخواست ہے کہ ٹرائی فلمز کی
درخواست ارسال کی جائے انشا اللہ کل مزید حقائق بیان کئے جائیں گے اور
مذکورہ د رخواست کے حوالے سے کیا کچھ ہوا ہے وہ بیان کیا جائے گا اور
دوسری بات این ٹی سی سے یہ معلوم کی ہے کہ مذکورہ درخواست کی Hearing
کی تاریخ تین مہینہ گذرنے کے باوجود نہیں ہوئی ا س کی تاریخ کا اعلان
بھی کیا جائے او ربطور صحافی مذکورہ کارروائی سے باخبر رکھا جائے ۔
2
(دوسری
قسط )
نیشنل
ٹیرف کمیشن آف پاکستان اور ٹرائی پیک فلمز کی ملی بھگت
تحریر: محمد ہارون فتہ
Tri Pack Films Ltd. نے 12 اپریل 2010ء کو جو درخواست دی تھی اور
مذکورہ درخواست میں اپنی پیداواری صلاحیت کو ہمارے ملک کی 92 فیصدی
پیداوار کے مساوی ظاہر کی تھی اور National Tariff Com نے مذکورہ دعویٰ
کی تصدیق بھی اپنے ذرائع سے ضرور کی ہو گی۔ درخواست میں اپنی پیداواری
صلاحیت کے حوالے سے ثبوت اور شواہد بھی بیان کئے ہوں گے۔ جب ہی
National Tariff Com نے Anti Dumping Duty جیسے اقدامات تجویز کر کے
اپنی پوری مشینری کو حرکت میں لائے ہیں اور درآمدکنندگان کو نوٹس بھی
جاری کئے گئے ہیں اور اخباروں میں بھی اس حوالے سے اشتہار 27 ستمبر
2010ء کو شائع کروائے ہیں۔
ہمارے ملک میں B.O.P.P Film اور B.O.P.P Metolized کے جو یونٹ اس وقت
کام کر رہے ہیں اور ان کی پیداواری صلاحیت کیا ہے اس کی تفصیل لکھ رہا
ہوں۔ ایک بات کی وضاحت بھی کرتا چلوں کہ B.O.P.P Film Plain کو ہی ایک
پروسیس کے ذریعے Metalized کیا جاتا ہے اس طرح یہ ایک ہی پروڈکٹ گنی
جائے گی۔ یعنی پیداواری صلاحیت B.O.P.P Film Plain کی ہی شمار کی جائے
گی۔ چونکہ B.O.P.P Film Plain بھی فروخت ہوتی ہے اور B.O.P.P Metalized
Film بھی علیحدہ سے استعمال ہوتی ہے اور بعض اوقات دونوں ایک ساتھ بھی
استعمال ہوتی ہیں اور اس کیلئے جوائننگ کا پروسیس کرنا ہوتا ہے اس لئے
پیداواری صلاحیت B.O.P.P Film کی ہی گی جائے گی۔
ہمارے ملک میں B.O.P.P Film کے تین گروپ کام کر رہے ہیں۔
(1) Tri Pack Film Ltd اس کے تین یونٹ پروڈکشن میں ہیں۔
(2) Mac Pack Film Ltd ان کا ایک یونٹ پروڈکشن میں ہے۔
(3) Mac Pack Film Ltd نے ایک یونٹ ابھی حال ہی میں فروخت کیا ہے جس کی
پیداوار جنہوں نے خریدی ہے شروع ہو گئی ہے۔
پیداواری صلاحیت ان گروپوں کی کیا ہے وہ درج ذیل ہیں ہیں۔
|
Name of Group |
Units |
Installed Production Capacity |
|
Tri
Pack Films Ltd. |
03 |
25000
Metric Ton Per Year |
|
Mac
Pack Films Ltd |
01 |
15000
Metric Ton Per Year |
|
New
Larriction of Old M/C |
01 |
3000
Metric Ton Per Year |
|
Total Production Capacity of Our Country B.O.P.P Films |
|
43000 Metric Ton Per Year |
ہمارے ملک کی
پیداواری صلاحیت B.O.P.P Film کے حوالے سے جو سامنے آئی ہے وہ سالانہ
پیداوار 43000 میٹرک ٹن ہے۔ Tri Pack Films Ltd. کا اپنی درخواست جو کہ
ٹیرف کمیشن آف پاکستان میں جمع کروائی ہے اور اس درخواست پر ٹیرف کمیشن
نے کارروائی بھی شروع کر دی ہے‘ اس میں Tri Pack Films Ltd. نے ملکی
پیداوار کا 92 فیصدی اپنا حصہ قرار دیا ہے۔ ملکی پیداواری صلاحیت کا 92
فیصدی تقریباً 40000 بنتا ہے جبکہ Tri Pack Films Ltd. کی پیداواری
صلاحیت 25000 میٹرک ٹن ہے وہ ملکی پیداوار کا تقریباً 58 فیصدی بنتا ہے۔
ٹیرف کمیشن آف پاکستان سے سوال ہے کہ Tri Pack Films Ltd. نے اپنی
پیداواری صلاحیت کے کیا ثبوت فراہم کئے ہیں انہیں منظر عام پر آنا
چاہئے اور اس کی تفصیلات بھی فراہم کی جائیں تاکہ حقیقت حال کا صحیح ا
ندازہ ہو جائے۔ پیداواری صلاحیت کے حوالے سے جو معلومات اس تحریر میں
دی گئی ہیں وہ بالکل درست ہیں۔
ہمارے ملک میں صرف تین گروپ کام کر رہے ہیں اس لئے ان کی پیداواری
صلاحیت معلوم کرنا مشکل نہیں ہے یہ کوئی پرچون کی دکان کا معاملہ نہیں
ہے جسے معلوم کرنے میں دشواری ہو۔ اب ٹیرف کمیشن آف پاکستان کی ذمہ
داری بنتی ہے کہ وہ اپنی پوزیشن واضح اور صاف کرے اور یہ بتانا بھی فرض
بنتا ہے کہ اتنی بڑی کارروائی کا آغاز کن بنیادوں پر کیا گیا ہے جس کی
وجہ سے ملکی مارکیٹ پر جو اس کے اثرات مرتب ہوں گے اس کی ذمہ داری کا
تعین کیا جائے۔
جو حاصل معلومات ہیں ان کی روشنی میں یہ بات واضح اور صاف ہے کہ مذکورہ
کارروائی Anti Dumping Duty اور نقصانات کے اندازہ کی کارروائی اس کی
بنیاد سرے سے موجود ہی نہیں ہے بلکہ یہ جانبداری کا معاملہ نظرآتا ہے۔
موجودہ کارروائی سے کس کو فائدہ ہو رہا ہے اور کس کو نقصان ہو رہا ہے
اس کا جائزہ آئندہ پیش کروں گا جس میں واضح ہو جائے گا کہ معاملہ کس حد
تک جانبدارانہ ہے۔
امید ہے کہ ٹیرف کمیشن حکومتی ادارہ ہونے کی حیثیت سے ایسی کارروائی کی
ٹھوس بنیادوں پر ثبوت ہوں گے جسے ظاہر کرنے میں کوئی مشکل نہیں ہونی
چاہئے وگرنہ یہ بات ثابت ہو جائے گی کہ مذکورہ کارروائی میں شکوک اور
شبہات موجود ہیں اور عام آدمی سمجھتا ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آئندہ ملکی کھپت کے حوالے سے معلومات دی جائیں گی اور ان کی روشنی میں
مذکورہ اقدامات یعنی Anti Dumping Duty اور نقصانات کے اندازے کارروائی
کے کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں جس کی ذمہ داری کا تعین بھی سامنے آ جائے
گا۔
ایک بار پھر ٹیرف کمیشن آف پاکستان سے گزارش ہے کہ اپنی پوزیشن مذکورہ
معاملے پر واضح کرے۔
(قسط نمبر 3)
3
نیشنل
ٹیرف کمیشن آف پاکستان اور ٹرائی پیک فلمز کی ملی بھگت
تحریر: محمد ہارون فتہ
گزشتہ دو کالموں میں B.O.P.P Film کے حوالے سے پیداواری صلاحیت کا
جائزہ لیاگیا ہے اور یہ بات واضح کرنے کی کوشش کی گئی کہ National
Tariff Commission کے اقدامات حاصل شدہ معلومات کی بنیاد پر اپنی
کارروائی کا دفاع کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں اور مزید وضاحت موجودہ
تحریر میں پیش کی جا رہی ہے جس سے یہ بات مزید واضح ہو جائے گی کہ
مذکورہ اقدامات صحیح نہیں ہیں۔
B.O.P.P Films کے حوالے سے ہمارے ملک میں اس کی کھپت ایک اندازے کے
مطابق 60000 میٹرک ٹن سالانہ ہے۔ اس لحاظ سے Tri Pack Films کی
پیداواری صلاحیت جو کہ 25000 میٹرک ٹن سالانہ ہے‘ ملکی کھپت کا صرف 40
فیصدی ہے۔
National Tariff Commission نے جو نوٹس اخبارات میں شائع کیا ہے اور
مذکورہ کارروائی جیسا کہ Anti Dumping Duty اور نقصانات کے اندازے کی
کارروائی کو جن بنیادوں پر شروع کیا ہے اس میں بنیادی وجہ 92 فیصدی
پیداواری صلاحیت کا ہونا ہے۔ ملکی پیداواری صلاحیت کے حوالے سے یا ملکی
کھپت کے حوالے سے ہے۔ گزشتہ تحریروں سے یہ بات بالکل واضح کر دی گئی ہے
کہ Tripacic Filws کی پیداواری صلاحیت ملکی پیداواری صلاحیت کے حساب سے
58 فیصدی ہے اس لئے Tariff Commission نے غلط بیانی سے کام لیا ہے۔
اگر فرض بھی کر لیا جائے کہ Tri Pack Films کی پیداواری صلاحیت ملک میں
ہونے والی پیداوار کے 92 فیصدی ہو بھی پھر بھی ملکی کھپت کے حوالے سے
جائزہ لیا جاتا ہے کہ آیا ملکی پیداوار کھپت کے لحاظ سے کتنی ہے اور
ملکی کھپت کے حوالے سے کیا اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ اس کی سپلائی میں
فراوانی لائی جا سکے۔ یہاں تو بات ہی الٹی کی جا رہی ہے اور اس کیلئے
کندھا بھی حکومتی ادارے کو بنایا گیا ہے اور ملک میں B.O.P.P Filws کی
نایابی (Shortage) پیدا ہو گئی ہے اور اس کا فائدہ کون اٹھا رہا ہے اس
کی تفصیل بھی آگے بیان کی جا رہی ہے۔
Tariff Commission of Pakistan کی مذکورہ کارروائی سے پہلے Tri Pack
Films کی B.O.P.P Films کی فروخت کی پالیسی تھی کہ B.O.P.P Films کے
آرڈر کے فوری بعد اس کی ڈلیوری کو ممکن بنایا جاتا تھا اور اس فروخت کی
وصولی ایک مہینے سے ڈیڑھ مہینے کی مدت میں کی جاتی تھی۔ جب سے مذکورہ
کارروائی ہوئی ہے‘ فروخت کی پالیسی میں ہر مہینہ تبدیلی کی جا رہی ہے۔
پہلی تبدیلی یہ کی گئی کہ B.O.P.P Films کا آرڈر لیا گیا اور ایک مہینہ
کا ڈلیوی ٹائم دیا گیا۔ پھر مذکورہ پالیسی کو تبدیل کر کے آرڈر سے پہلے
رقم کی وصولی کی گئی اور سپلائی کیلئے ایک مہینہ بعد کا وقت دیا گیا۔
پھر مزید آگے ہر طرح کی پالیسی کو سخت سے سخت کیا گیا۔
12 اپریل 2010ء کے بعد بہت سی دفعہ فروخت کو بند کر دیا گیا اور جب یہ
سطور لکھی جا رہی ہیں Tri Pack Films نے اپنی فروخت B.O.P.P Films کے
حوالے سیبند کی ہوئی ہیں Tri Pack Films والوں کا کہنا ہے کہ فروری
2011ء میں فروخت شروع کی جائے گی۔
مزید اس میں ستم ظریفی یہ ہے کہ 12 اپریل 2010ء جب سے درخواست دی گئی
ہے‘ چار سے پانچ مرتبہ نرخ بڑھا دئیے گئے ہیں جس کی کوئی وجہ سمجھ سے
بالاتر ہے۔ B.O.P.P Films کے نرخ میں 12 اپریل 2010ء کے بعد 100 روپے
فی کلو اضافہ کر دیا گیا ہے یعنی کہ 50 فیصدی دام بڑھا دئیے گئے ہیں۔
دام بڑھنے کی وجوہات میں سرفہرست وہی وجہ ہے جو کہ Tri Pack Commission
نے Anti Dumpity Duty کے حوالے سے کارروائی کی ہے اور اس کی ابھی تک
Heariy بھی طے نہیں ہوئی ہے۔
مذکورہ اقدامات سے فائدہ Tri Pack Films کے حصہ میں ہی آیا ہے جو کہ
مذکورہ مدت میں ایک اندازے کے مطابق 5 ارب روپے کے برابر ہو گا اور اس
کا نقصان اور بوجھ عوام پر ہی ہو گا جو کہ ہمیشہ ایسے جھول کیلئے تیار
رہتے ہیں۔
Tariff Commssion کی مذکورہ کارروائی کے بعد Tri Pack Films اپنی فروخت
مہینہ میں صرف دو دن ہی جاری رکھتا ہے اور پھر فروخت بند کر دی جاتی ہے۔
اب اگر Tri Pack Films کی بات مان بھی لی جائے کہ ان کی پیداواری
صلاحیت 92 فیصدی ہے اور یونٹ کے حوالے سے سالانہ پیداوار 100 یونٹ ہے
لیکن ملکی کھپت اگر فرض کر لیا جائے200 یونٹ ہے‘ کیا پھر Tariff
Commission کے پاس کوئی جواز بنتاہے مذکورہ کاروائی کا جو کہ اس نے کی
ہوئی ہے۔
مذکورہ کارروائی کی وجہ سے ملک میں B.O.P.P Films کی درآمدات بھی رک
گئی ہیں جس کی وجہ سے ملکی مارکیٹ میں B.O.P.P Films بالکل ہی ناپید ہو
رہی ہے۔ مذکورہ پروڈکٹ Finished پروڈکٹ کرنے میں مددگار ہوتی ہے اس لئے
بہت ساری رکاوٹوں کو جنم لے رہی ہیں اور دام بڑھنے کی وجہ سے بھی بہت
بڑا اثر پڑ رہا ہے۔
Tariff Com کی مذکورہ کارروائی Valuation کے بعد Custom Collection نے
I.T.P بھی غیر حقیقی بنیادوں پر فکس کی ہوئی ہے جس کا براہ راست فائدہ
بھی Tri Pack Films کو ہو رہا ہے چونکہ درآمدی مال Custom
Collection کی وجہ سے مہنگا پڑ رہا ہے اس لئے اس کی درآمد بھی کم ہو
رہی ہے۔
بیرون ملک اگر اس کی قیمت 1.85 ڈالر ہے جب یہاں I.I.P 2.56 ڈالر پر فکس
ہو گی جس سے ڈیوٹی کی مَد میں زیادہ دینا ہوتا ہے جس کا اثر مال پر
پڑتا ہے جس کی وجہ سے درآمدات نہیں ہو رہی ہیں۔ اس لئے Collector
Custom Valuation جو کہ I.T.P حقیقی بنیاد پر Fix نہیں کر رہا ہے انہیں
بھی اس پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔
تمام حقائق جو بیان کئے گئے ہیں ان سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ Tariff
Commission نے تمام کارروائی Tri Pack Films کا فائدہ پہنچانے کی غرض
سیکی ہے جس سے ایک اندازے کے مطابق Tripacic Filws کو اربوں روپے کا
فائدہ ہو رہا ہے۔ Tariff Com اس بات کی وضاحت کریں کہ مذکورہ حقائق کے
بعد بھی کیا شواہد ہیں جن کی بناء پر کارروائی کی گئی ہے۔ Collector
Custom Valuation سے بھی گزارش ہے کہ I.T.P کو حقیقی بنیادوں پر کیا
جائے تاکہ ملک میں اس کی Shortage کو ختم کیا جا سکے اور آئندہ بھی
درآمد کرنے میں آسانی ہو۔
اُمید ہے کہ Tariff Com اپنی پوزیشن واضح کریگا۔
|