|
نوٹ:۔ میزان کمپنی اس حوالے سے اپنا موقف
دینا چاہے تو " جیوے پاکستان" نیوز ویب سائیٹ اسے اپنا موقف عوام تک پنچانے
کا موقع دینا اپنا اخلاقی اور صحافتی فرض سمجھتی ہے۔
Back to top
حدیث نبوی کی روشنی میں کون روزہ دار ہے
۔۔۔
رمضان المبارک کے حوالے سے شہید پاکستان
حکیم محمد سعید مرحوم کی ایک یادگارر
تحریر
حضرت
جابر روایت کوتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ،پانچ گناہ
ایسے ہیں جن کے ارتکاب سے روزہ دار صحیح معنوں میں روزہ دار نہیں رہ جاتا ۔
وہ پانچ گناہ یہ ہیں : جھوٹ،غیبت ،چغلی ،جھوٹی قسم اور بد نگاہی۔۔
روزے کا اصل مقصد براہیوں سے بچنا اور نیکیوں کی استعداد بڑھانا ہے ۔اللہ
تعالی نے اس مقصد کی تکمیل کے لیے ہم پر رمضان کے روزے فرض کیے ہیں ۔ بے
مقصد بھوک پیاس کی کوئی اھمیت نہیں ہے۔
رسول اکرم صلی علیہ وسلم نے اس حدیث میں خصوصیت کے ساتھ ایسے گناہوں کا ذ
کر فرمایا ہے جن سے ایک مسلمان کو عام حالات میں بھی بچنا چاھیے اور رمضان
میں تو خاص کر ان گناہوں سے بچنے کا پورا پورا اہتمام کرنا چاہیے ،ورنہ
روزے کے صحیح ثمرات حاصل نہیں ہوتے اور مشقت رائیگاں جاتی ہے۔
جن گناہوں کا ذکر کیا گیا ہے ان میں اولین اھمیت تو جھوٹ کی ہے ۔ یقینا یہ
مقام افسوس ہو گا اگر رمضان میں ہم اپنے معاشرے کی رفتار و گفتار کا جاہزہ
لیں تو قدم قدم پر ہمیں جھوٹ سے سابقہ پڑے – صورت حال یہ ہے کہ ہمارے
معاشرے کا کوئی شعبہ خواہ تجارتی ہو یا صنعت ،ملازمت یا محنت ،گھر کے افراد
کے ساتھ گفتگو ہو یا احباب و اعزہ کی مجالس ،عام افراد سے ملنا ہو یا ان کے
ساتھ اٹھنا بیٹھنا ،سے میں کسی نہ کسی حثیت سے جھوٹ کی کوئی آمیزش ضرور
ہوتی ہے۔
ہم بھوک کی حالت میں ہوتے ہیں مگر غیبت ایک نفس کے لیے لذیذ غذا بن جاتی ہے۔
خاص کر اس وقت جب دو چار آدمی اکھٹے ہوتے ہیں تو دوسروں کی چغلی ،شکوہ و
شکایات کا دفتر کھل جاتا ہے ۔ مجلس کو ذیادہ پر لطف بنانے کے لیے فحش مذاق
اور دوسروں کی تضحیک و تفقیض کا سلسلہ بھی شروع ہو جاتا ہے۔ اگر کوی اختلاف
کرے تو قوت برداشت کی اتنی کمی ہوتی ہے
ہم مرنے مارنے پر اتر آتے ہیں ۔اور ہم بھول جاتے ہیں کہ ہمارا روضہ ہے۔ جس
میں فحش گفتگو ،چغلی ،غیبت اوربیہودہ گوئی کی کوی گنجائیش نہیں ۔ ایک ایسا
ہے کہ رمضان اور عید کی اپنی تمدنی و معاشرتی ضرورت کے تحت جھوٹ بول کر اور
قیمتیں بڑھا کر مال فروخت کرنے کو دکاندار اپنا حق سمجھتا ہے ،انتہا یہ ہے
کہ وہ جھوٹی قسم کھانے میں بھی عار محسوس نیہں کرتا۔
یہ حال صرف ان لوگوں کا نہیں ہے جس کا تعلق طبقہ عوام سے ہو ،پڑھے لکھے اور
باشعور لوگ بھی جھوٹ اور غیبت ،چغلی جیسے گناہوں کا ارتکاب کبھی زبانی کبھی
تحریری بڑی بے باکی سے کرتے ہیں۔آپ اخبارات اٹھا لیجیے ان میں ان تمام
گناہوں کی بدترین مظاہرہ آپ کو نظر آئے گا۔
اس ماہ مبارک میں توہر جگہ صدق و صداقت ،محبت و مصالحت اور ہمدردی و اخلاص
کا بھر پور مظاہرہ ہونا چاھیے ۔ اور روزے کی تکلیف کو اچھے اعمال و اخلاق
اور دیانت داری کا عنوان بننا چاھیے ۔ تا کہ دنیا کو یہ معلوم ہو جاے کہ ہم
بھوک پیاس کو عبادت سمجھتے ہیں اور اسے اور اسے اپنے اخلاق کے تذکیے کا
ذریعہ سمجھتے ھیں ۔جھوٹ اور غیبت جیسے گناھوں کے ارتکاب سے ھم اس اھم عبادت
کی توھیں نہیں کرتے۔ مگر حیرت ہے کہ وہ سب چیزیں جن سے رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ھم کو بچنے کی تاکید فرمائی ہے ،رمضان مبارک میں ان کی اور
بھی کثرت ہو جاتی ھے۔ھمیں یاد رکھنا چاہیے کہ غیبت اور چغلی بہ ظاہر چند
لمحے کی جنبش زبان ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ اس سے روزے کی عبادت کی روح ختم
ہو جاتی ہے ۔ روزہ رکھلے والا روزہ نہ رکھنے والے سے بھی بد تر ہو جاتا ہے۔
|
Hazrat Umar's response to a Christian
Ruler.
Once a christian sent few questions to
Hazrat Umar (R.A) and asked for their answers from Hazrat Umar (R.A).
The questions were as follows:
1- Two children were born from a mother,
at same time and day. They both died on same day as well. How can their
age differ by one hundred years? Who were they? How is this possible?
2- Where is the piece of land which is exposed only once to sunlight
from the creation of the Universe to the Qayamat?
3- Name the grave that was alive? The person buried was alive. The grave
travelled with the buried person who came out of the grave, lived and
then died?
4- Who is the prisoner who is not allowed to breath in the prison but he
is still alive?
After reading these questions, Hazrat Umar (May
Allah be pleased with him) called Hazrat Abdullah Bin Abbas and asked
him to draft response to these questions. Hazrat Abdullah Bin Abbas
responded as follows:
1- These two brothers are Hazrat Aziz (Peace be
upon him) and Hazrat Uzair (Peace be upon him). Both of them born and
died on same day. But Allah, by virtue of his utmost command, made
Hazrat Uzair (R.A) dead for one hundred years. Hazrat Uzair (Peace be
upon him) was alive again, went home, lived for few days and then both
brothers died on the same day. This caused a difference of One Hundred
years between the ages of two twin brothers.
2- That piece of land is the bottom of the sea
where Firoun was drowned. Hazrat Moosa (Peace be upon him) and his
followers crossed the sea which as a miracle dried and made way for them
to cross. The sunlight was there only at that time. When Firoun tried to
follow them, the sea came to its normal position and drowned Firoun and
his army.
3- The alive grave and person buried alive were
Fish and Hazrat Younis (Peace be upon him). The fish travelled in the
sea. Hazrat Younis (Peace be upon him) then came out of the fish, lived
for some time and then died.
4- The prisoner who do not breathe in the prison
is a child growing inside mother. Allah has not mentioned the breathing
of the child inside mother. The child does not breathe but is alive.
Hazrat Abdullah Bin Abbas (may Allah be pleased
with him) wrote these answers and Hazrat Umar (may Allah be pleased with
him) sent the answers to the Christian King. The King reviewed the
answers and said that there may be some Prophet still alive within
muslims because these answers can only be answered by a Prophet.
(Ahsan ul Qasas, Page 262) |
سیدنا عمر فاروقؓ کی زندگی اک نظرمیں
تحریر : شاہد اقبال شامی
کچھ لوگ ایسے بھی آئے جنہوں نے اپنی دانشمندی،عمل پیہم،جرات وبہادری
اورلازوال قربانیوں سے ایسی تاریخ رقم کر گئے کہ قیامت تک ان کے
کارنامے لکھے اورپڑھے جاتے رہیں،ان ہی میں سے ایک شخصیت جن کے بارے میں
دوجہاں کے شہنشاہ حضرت محمدﷺ نے فرمایا تھا کہ ''اگرمیرے
بعد کوئے نبی ہوتا تو عمر فاروق ہوتے''۔ آپ کے دور خلافت میں اسلامی
سلطنت کی حدود 22لاکھ مربع میل تک پھیلی ہوئی تھیں،اس کے انداز حکمرانی
کو دیکھتے ہوئے ایک غیرمسلم یہ کہنے پر مجبور ہوا کہ''اگرعمرکو10 سال
اور ملتے تو دنیا سے کفر کا بالکل نام ونشان تک نہ ملتا''۔ان کا نام
مبارک عمر، لقب فاروق،کنیت ابو حفض، جو کہ دونوں رسول خداکے عطیے ہیں۔آپ
کا نسب نویں پشت میں جاکر رسول اکرم ﷺسے ملتا ہے۔ولادت سراپا بشارت آپؓ
کی واقعہ فیل کے 13برس بعدہوئی، نبوت کے چھٹے سال27برس کی عمرمیں اسلام
قبول کیا،ان سے پہلے گیارہ عورتیں اورچالیس مردمشرف بااسلام ہوچکے تھے
، قریش کے شریف ترین لوگوں میں شمار کیے جاتے تھے ،زمانہ جاہلیت میں
سفارت کا کام انہی کے متعلق تھا ،جب قریش کو کسی لڑائی میںیا کسی اور
ایسے موقع پرکسی سفیرکے بھیجنے کی ضروت ہوتی تو یہی سفیر بنائے
جاتے،عرب میں اس وقت صرف17 فراد پڑھے لکھے تھے انہی میں ایک آپ بھی
تھے۔جب آپ مسلمان ہونے کے لیے حاضرہوئے تورسول اللہؐ نے چند قدم اپنی
جگہ سے چل کر معانقہ کیا اور ان کے سینے پرتین مرتبہ ہاتھ پھیر کر دعا
دی کہ''ًًًً اے اللہ ان کے سینے سے کینہ اور عداوت کو نکال دے اورایمان
سے بھر دے ''آپؓ کے اسلام لانے پر جبرائیل ؑ امین مبارکباد دینے کے لیے
آئے اور رسول اللہ ؐ سے کہا کہ'' یارسول اللہ ؐ اس وقت آسمان وا لے ایک
دوسرے کو جناب عمرؓ کے اسلام لانے کی خوشخبری سنا رہے ہیں''۔آپ کے
اسلام لانے پر مسلمانوں کی قوت میں اضافہ ہوا اور مسلمانوں نے اعلان کے
ساتھ خانہ کعبہ میں نماز پڑھنی شروع کر دی،آپ نے حضرت بلالؓ کو کعبہ کی
چھت پر کھڑا کر کے اذان دلوائی اور جب ہجرت کرنے کا وقت آیا تو بڑی شان
کے ساتھ ہجرت کی آپؓ کے علاوہ کسی نے بھی اس طرح ہجرت نہیں کی آپ نے
کفار کو للکارا اور کعبہ کا طواف کرنے کے بعد مدینہ کی طرف ہجرت
فرمائی۔
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے فرمایا تھاکہ'' حضرت عمرؓ کا مسلمان ہو جانا
فتح اسلام تھا اور ان کی ہجرت نصرت الٰہی تھی اور ان کی خلافت اللہ کی
رحمت تھی''۔شجاعت وبہادری میں اپنی مثال آپؓ تھے ،غزوہ بدر میں اپنے
حقیقی ماموں عاص بن ہشام کو میدان جنگ میں اپنے ہاتھ سے قتل کیا،غزوہ
بنی مطلق میں مقدمہ لشکرآپ کی ما تحتی میں تھا،اس غزوہ میںآپ نے دشمن
کے ایک جاسوس کو گرفتار کر کے دشمن کی تمام چالیں معلوم کر لیں،غزوہ
خیبر میں میمنہ لشکر کے افسر آپ ہی تھے اس غزوہ میں ہر رات ایک صحابی
پہرہ دیتا تھا، جس رات آپ کی باری تھی آپ نے ایک یہودی کو گرفتار کیا
اور تمام حالات اس سے معلوم کر لیے ان پر عمل کر کے خیبر کوفتح
کیاگیا۔غزوہ حنین میں جماعت مہاجرین کا ایک جھنڈا آپ کے سپرد تھا،رئیس
المنافقین عبداللہ بن ابی کا جنازہ نہ پڑھانے کا مشورہ آپؓ نے رسول
اللہ ؐ کو دیا تھا،اکثر وحی آپؓ کی تائید میں نازل ہوتی،مزاج مبارک میں
حضرت موسیٰ ؑ جیسی کیفیت تھی ساری زندگی غصہ اپنی ذات کے لیے کبھی نہ
کیا،اگر غصے کے دوران میں کوئی شخص اللہ کا نام یا قرآن مجید کی کوئی
آیت پڑھ دیتا تو آپ فوراغصہ ختم کر دیتے تھے ایسے جیسے غصہ آیا ہی نہ
تھا۔
تمام زمانہ خلافت میں کبھی خیمہ آپ کے پاس نہ رہا ،سفر میں منزل پر
پہنچ کردھوپ یابارش سے بچنے کے لیے کسی درخت پر کپڑاتان کرگزارہ کر
لیتے تھے۔عمرے اپنی خلافت میں3 کیے۔اپنی مملکت میں ہرایک کا خیال رکھتے
تھے حتیٰ کہ جن عورتوں کے خاوندجہاد کے لیے گئے ہوتے تو ان کے دروازوں
پرجاکر سلام پیش کرتے،ان کے لیے سودا سلف خرید کر لاتے اورجن کے پاس
پیسہ نہ ہوتا اپنے پاس سے لے کر دیتے،جب فوجی لوگوں کے خط آتے تو
خودگھروں میں جا کر دیتے ،اگر گھر میں پڑھنے والا کوئی نہ ہوتا تو
دروازے کے پیچھے کھڑے ہوکرخودسناتے اور ان سے کہہ آتے کہ ڈاک فلاں دن
جائے گی آپ خط لکھ رکھنامیںآکرلے جاؤں گا،خودکاغذ قلم اور دوات لے
کرہرگھر میں جاتے جس نے لکھوایا ہوتا لے لیتے اوراگر نہ لکھوایا ہوتا
پوچھ کر خود لکھ دیتے۔بیت المال سے وظائف کی تقسیم کا آپ نے عجیب
انتظام فرمایااور اس کے لیے علیحدہ دفتر بنایا ،تمام مسلمانوں کے نام
اس میں لکھوائے اورسب سے زیادہ رسول اکرمؐ کی قرابت کا لحاظ کیا،حضرت
عباسؓ کا وظیفہ 12 ہزار،ازواج مطہراتؓ10،10 ہزار جبکہ ان میں حضرت
عائشہؓ کا 12 ہزارمقررکیا،بدری صحابہؓ کا5ہزار،انصار کا4ہزار،مہاجرین
کابھی 4ہزار۔حضرت عمرؓ رسول اکرمؐ کے رشتے داروں کا بہت خیال رکھتے تھے
اسی لیے اپنے بیٹے عبداللہ بن عمرؓکا وظیفہ 3ہزار اور حسنین کریمینؓکا
5،5 ہزار،اور اسامہ بن زید کا4 ہزار مقرر فرمایا۔آپ کے بہت سے اعزازات
میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپ وہ پہلی شخصیت ہیں جنہیں امیرالمومنین کا
لقب دیاگیا،17 ہجری میں مسجدنبوی اورمسجدحرام میں توسیع کی اورمسجد
نبوی کے لکڑی کے ستون نکال کراینٹ کے ستون لگادیے۔زمین پر موجود
انسانوں کے علاوہ بھی اگر آپ نے ہوا کو حکم دیا تو اس نے مانا قبرستان
میں مردوں کو مخاطب کیاتوانہوں نے جواب دیا،دریا کو خط لکھا تو اس نے
عمل کیا،اگر کہیں سے آگ نکلی جو لوگوں کو نقصان پہنچا رہی تھی تواس کو
اپنے ہاتھ سے دھکیلاتو وہ ڈرکرہاتھ باندھتے ہوئے واپس بھاگ گئی
اورزلزلے کی وجہ سے زمین ہلی تو اس کو ایک کوڑا رسید کیا تو ابھی تک وہ
زمین ایک کوڑے کی شدت کے ڈر سے دوبارہ نہ ہلی اور جب بارش کودعا کے
ذریعے بلایا تو پوری خوشی اور آب وتاب کے ساتھ آپ کی طرف برستی ہوئی
آئی۔
حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ رسول اکرمؐ کے ساتھ تھا کہ اتنے
میں حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ دور سے آتے دکھائی دیے،انہیں دیکھ کر
حضور اکرمؐ نے دیکھ کر فرمایا!''یہ انبیا ء اوررسولوں کے سواء باقی
تمام جنتیوں کے سردار ہیں''۔
حضرت عمرؓ نے ہر صیغہ میں جو نئی اصطلاحات کیں،مؤرخین انہیں اولیات
عمرؓ سے تعبیر کرتے ہیں۔جن میں سے کچھ یہ ہیں۔بیت المال کا قیام
،عدالتیں،اور قاضی مقرر کیے ،تاریخ اورسن کا اجراء،فوجی دفتر کی ترتیب
،دفتر مال کا قیام ،پیدائش کا اندراجی طریقہ کار،ملازمین کی تنخوائیں
،مردم شماری،نہریں کھدوائیں،شہر آبادکرائے،ممالک میں صوبوں کی تقسیم
،جیل خانہ کا قیام ،پولیس کا محکمہ قائم کیا،راتوں کو گشت شروع
کیا،فوجی چھاؤنیاں تعمیر کیں،پرچہ نویس مقرر کیے،مسافروں کے لیے سرائے
اورراہ پڑے ہوئے بچوں کے لیے وظائف جاری کیے،مکاتب قائم کیے،شراب کی حد
اسی کوڑے جاری کی،وقف کا طریقہ ایجاد کیا،مساجد میں وعظ کاطریقہ جاری
کیا،اماموں اورموذنوں کی تنخوائیں مقرر کیں،مسجدوں میں روشنی کا انتظام
کیا ۔
حضرت عمرؓ 10برس 6مہینے 5دن خلافت کو زینت بخشی 27ذوالحجہ برز چہار
شنبہ کی صبح کومسجد تشریف لائے اورصفوں کو درست کرنے کے بعد نماز کی
امامت شروع کی تو آپؓ پر ابو لو ء لوء فیروز نامی یہودی نے حملہ کیاآپؓ
کے گرنے کے بعد حضرت عباسؓ نے عبدالرحمنؓ بن عوف کو ہاتھ سے پکڑکر آگے
کر دیا تو انہوں نے نماز مکمل کرائی۔یہودی ابولولو فیروزنے حضرت
عمرفاروقؓ پر حملہ کرنے کے بعد دائیں بائیں نماز میں کھڑے لوگوں پر وار
کیا جس سے 13افراد زخمی ہوئے ،جن میں سے 9بعد میں شہید ہو گئے۔ |
|
یکم محرم کو اتوار والے دن آپؓ کو حضرت عائشہؓ کے حجرہ مبارک میں رسول
اللہ ﷺ اور حضرت ابو بکرؓکے ساتھ سپرد خاک کیا گیا۔آپؓ کی نمازجنازہ
حضرت صہیبؓ نے پڑھائی جبکہ حضرت عثمان غنیؓ، حضرت علیؓ،حضرت زبیرؓ،حضرت
عبدالرحمن بن عوفؓ،حضرت سعدؓ اور عبداللہؓ بن عمرنے قبر مبارک میں
اتارا ۔جب آپ کا جنازہ لایا گیا توحضرت علیؓ نے فرمایا کہ''مجھے پہلے
سے ہی خیال تھا کہ آپ دونوں کا مدفن بھی رسول اللہﷺ کے ساتھ
ہوگا،کیونکہ میں سنا کرتا تھا کہ آنحضرت ﷺ ہربات میں اپنے ذکر کے ساتھ
آپ دونوں کا ذکر کیا کرتے تھے،اورمیں اللہ سے دعا مانگا کرتاتھا کہ
یااللہ جیسا نامہ اعمال عمر بن خطابؓ کا ہے میرا نامہ اعمال بھی ایسا
ہو۔
Back to top |
|
پھولوں میں نکہت،کلیوں میں خوشبو،کونپلوں میں مہک محو خواب ہو
گئی۔درختوں کے مشام خوشبوئے قدس سے ایسے مہکے کہ پتا پتا مخمور ہو
کر سر بسجود ہو گیا۔ناقوس نے مندروں میں بتوں کے سامنے سر جھکانے
کے بہانے آنکھ جھپکائی۔ برہمن سجدے کے حیلے سر بہ زمین ہو
گیا۔غرضیکہ کائنات کا ذرہ ذرہ اور قطرہ قطرہ ایک منٹ کے لئے غیر
متحرک ہو گیا۔اس کے بعد وہ لمحہ آگیا،جس کے لئے یہ سب انتظامات
تھے۔فرشتوں کے پرے خوشیوں سے بھرے آسمانوں سے زمیں پر اترنے لگے
اور دنیا کے جمود میں ایک بیدار انقلاب پوشیدہ طور پر کام کرتاہوا
نظر آنے لگا۔ملہم غیب نے منادی کی کہ افضل البشّر،خاتم
الانبیاء،ساپردۂ لاہوت سے عالم ناسوت میں تشریف لانے والے ہیں۔رات
نے کہا:میں نے شام سے یکساں انتظار کیا ہے کہ گوہر رسالت کو میرے
دامن میں ڈال دیا جائے۔دن نے کہا:میرا رتبہ رات سے بلند ہے، مجھے
کیوں محروم رکھا جائے۔دونوں کی حسرتیں قابل نوازش نظر آئیں۔کچھ
حصّہ دن کا لیا،کچھ رات کا۔نور کے تڑکے نور علیٰ نور کی نورانی
آوازوں کے ساتھ دست قدرت نے دامن کائنات پر وہ لعل با بہا رکھ دیا،
جس کے ایک سرسری جلوے سے دنیا بھر کے ظلمت کدے منور اور روشن ہو
گئے۔سرزمیں حجاز جلوۂ حقیقت سے لبریز ہو گئی۔دنیا جو سرورو جمود کی
کیفیت میں تھی اک دم متحرک نظر آنے لگی۔ پھولوں نے پہلو کھول
دیے،کلیوں نے آنکھیں وا کیں،دریا بہنے لگے،ہوائیں چلنے لگی،آتش
کدوں کی آگ سرد ہو گئی،صنم خانوں میں خاک اڑنے لگی،لات ومنّات،حبل
وعزّا کی توقیر پامال ہونے لگی،قیصر وکسریٰ کے فلک بوس بروج گر کر
پاش پاش ہو گئے،درختوں نے سجدۂ شکر سے سر اٹھایا،رات کچھ روٹھی
سی،چاند کچھ شرمایا ہوا سا،تارے نادم ومحجوب ہو کر رخصّت ہوئے اور
آفتاب شان وفخرکے ساتھ مسرت ومباہات کے اجالے لیے ہوئے کرنوں کے
ہار ہاتھ میں،قندیل نور تھال میں،ہزاروں نازوادا کے ساتھ افق مشرق
سے نمایاں ہوا۔حضرت عبداللہ کے گھر میں، آمنہ کی گود میں،
عبدالمطلب کے گھرانے میں،ہاشم کے خاندان میں اور مکہ کے ایک مقدس
مکان میں خلاصّہ کائنات ،فخر موجودات،محبوب خدا،امامالانبیاء،خاتم
النبین،رحمتہ اللعلمین یعنی حضرت محمّد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ صلی
اللہ علیہ وسلم تشریف فرمائے بصد عزوجلال ہوئے۔سبحّان اللہ ربیع
الاوّل کی بارویں تاریخ کتنی مقدس جس نے ایسی سعادت پائی اور پیر
کا دن کتنا مبارک تھا جس میں حضور ﷺ نے نزول اجلال فرمایا۔ فتبارک
اللہ احسن الخالقین ،،
آج ہم نبی ﷺ کا دنیا میں آنے کا مقصد بھول چکے ہیں ،کہ ان کو دنیا
میں کیوں بھیجا گیا؟دنیا میں ان کا تکالیف اٹھانے کا مقصد کیا
تھا؟انہوں نے ہمیں کیا سبق دیاکہ زندگی کس طرح گزارنی ہیں؟اپنوں
اور دوسروں کے ساتھ کس طرح معاملات رکھنے ہیں؟ آج ہم ان کے آنے کا
مقصد بھول چکے ہیں،ہم آپﷺ سے محبت کے دعوے تو بہت کرتے ہیں، لیکن
آپﷺ کی سیرت کو اپنانے کی کوشش بھی نہیں کرتے ،ہم صرف میلاد والے
دن جھنڈے لگاکر،نعتیں پڑھ کر،چاول پکااور کھاکر تمام فرائض سے
سبکدوش ہو جاتے ہیں اوریہی سمجھتے ہیں کہ ہم نے ایک دن نبی کا منا
کر تمام احسانات کا بدلہ چکا دیااوراب ہمیں اور کچھ بھی کرنے کی
ضرورت نہیں،لیکن ایسا نہیں ہے ،یہ دن تجدید عہد کا دن ہے ،کہ آج ہم
اپنے دل سے عہد کریں کہ ہم آپﷺ کی دنیا میں آنے کے مقصد کو سمجھ کر
اپنانے کی کوشش کر یں گے اور اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کریں
گے۔
۔۔۔۔
انشاء اللہ |

مقصدمیلادِ مصطفےٰ ﷺ
تحریر : شاہد اقبال شامی
کہاں میں کہاں مدح ذات گرامی
نہ سعدی نہ رومی نہ قدسی نہ جامی
پسینے پسینے ہوا جاتا ہو
کہاں یہ زباں اورکہاں نام نامی
ربیع
الاوّل کا مبارک مہینہ آتے ہی ہر طرف فضائے درودوسلام کی آوازوں سے
مہکنے لگتی ہیں اور مہکے بھی کیوں نہ کیوں کہ اس ہی مہینے میں ایک
ایسی شخصّیت کی ولادت ہوئی جس کے آنے سے دنیا معّطرہوگئی ،بے کسوں
وبے اختیاروں کو اختیار مل گئے،یتیموں کو سہارہ ملا،عورتوں کو ان
کے حقوق ملے،بگڑے ہوئے انسان جو اس سے پہلے انسانیت کو بھول چکے
تھے جن کے کاموں سے حیوانیت بھی شرماتی تھی ان کو انسانیت کی معراج
ملی۔ مجھ سے پہلے لاکھوں علماء،سلحاء،اکابر،ادیب ،لکھاری اورشاعر
آپ ﷺکی تعریف و منقبت کوکرتے کرتے ان کی سانسیں اکھڑ گئی ،قلمیں
ٹوٹ گئی اور وہ خود قبروں کے پٹا رمیں اتر گئے پھر بھی آپﷺ کی
زندگی کا احاطہ کرنا تو دور کی بات ایک پہلو کو بھی مکمل نہ کر
سکے۔اتنے بڑے بڑے لوگوں نے آپﷺ کی تعریف کی لیکن پھر بھی آپ کی
تعریف کا حق ادانہ کرسکے، تو میں کیا اور میری اوقات کیا،اس لئے
ابوالکلام آزاد کے الفاظ پرہی اکتفا کرتا ہو،وہ آپﷺ کی پیدائش کا
ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ’’رات لیلتہ القدر بنی سنوری ہوئی نکلی
اور خیرمن الف شھر کی بانسری بجاتی ہوئی ساری دنیا میں پھیل
گئی۔موکلان شب قدر نے من کل امر سلام کی سیجیں بچھا دیں۔ملائیکان
ملاء اعلیٰ نے تنزل الملٰئکۃ والروح فیھا کی شہنائیاں شام سے بجانی
شروع کردیں۔ حوریں باذن ربھم کے پروانے ہاتھوں میں لے کر فردوس سے
چل کھڑی ہوئیں اور ھی حتیٰ مطلع الفجر کی میعادی اجازت نے فرشتگان
مغرب کو دنیا میں آنے کی رخصّت دے دی۔تارے نکلے اور طلوع ماہتاب سے
پہلے عروس کائنات کی مانگ میں موتی بھر کر غائب ہو گئے۔چاند نکلا
اور اس نے فضائے عالم کو اپنی نورانی ردائے سیمیں سے ڈھک دیا۔آسمان
کی گھومنے والی قوسیں آپ اپنے مرکز پر ٹھہر گئیں۔بروج نے سیاروں کے
پاؤں میں کیلیں ٹھونک دیں۔ہوا جنبش سے،افلاک گردش سے، زمیں چکر سے
اور دریا بہنے سے رک گئے۔ کارخانۂ قدرت کسی مقدس مہمان کا خیر مقدم
کرنے کے لئے رات کے بعد اور صبح سے پہلے بالکل خاموش ہوگیا۔انتظام
واہتمام کی تکان نے چاند کی آنکھوں کو جھپکا دیا، نسیم سحری کی
آنکھیں جوش خواب سے بند ہونے لگیں۔ |
Back to top
JANNAT -UL- BAQQI
The most pious and spiritual grave yard of
the world is called, "Jannat-ul-Baqqi" where a number of companions
(RA), wives daughters and other family members of Prophet Muhammad
sallalla ho allihi wasallam are lying to rest. In the time of Prophet
sallalla ho allihi wasallam live hood, this grave yard was thought to be
out side the Madina city but after the vast extension, now it has now
come just adjacent to Masjid-e-Nabvi. If you come out from
Masjid-e-Nabvi, through Baqqi Gate, or Jibrael (AH) Gate you will see
few yards ahead a boundary wall at a little height. This is JANNAT -UL -BAQQI'S
wall.
Stairs are made to reach at the height.
Men can visit this
grave yard going inside but ladies are not allowed even to go up near
the wall of the graveyard. Ladies must present their Salaam outside
Baqqi.Baqqi is very clean and tidy grave yard. No bush and tree is
there. All the graves are made of mud No concrete constructions over the
graves are made. Pavement and passages are made for easy walking but
there is no sign over the graves have been given to know the name of the
buried personality. Some guides (Moaleems) tell about graves. Squared
boundary of half feet high has been built around all prominent graves.

Back to top
Hamdard Union Holds Mehfil-I-Milad
A Mehfil-i-Milad, comprising Na’ats, speeches and
darood-o-salam was held on 28 June under the auspicious of Hamdard Unity
Workers Union (CBA), presided over by Dr. Navaid ul Zafar, Managing
Director, Hamdard Laboratories (Waqf) at Al-Rabia Hamdard Factory,
Nazimabad-3, Karachi.
Speaking
on the occasion, the Chief Guest and Sindh Provincial Minister for
Auqhaf and Religious Affairs, Abdul Haseeb Beg said that he, who
provided facilities and gave benefits to other human beings, according
to the teachings of Quran, was really a good human being. Hamdard
management and Hamdard Union really deserved the words of appreciation
for holding such mahafils which spread the Quranic message of peace,
social justice and tolerance and life of Hadhrat Muhammed (P.B.U.H.), he
said adding that the teaching of Islam urged us that we should perform
our duties with at most honestly and integrity.
Dr. Navaid ul Zafar in his presidential address said that we
should at least think twice while we participated in such mahafils that
how far we were fallowing the principles of Holy Prophet (P.B.U.H)’s
life and his instructions.
“Holy Prophet (P.B.U.H) says: ‘He is not among us who hurts
other Muslim by his tongue or hand”, he said, adding: “We should
see wither we are hurting to others or damaging to our
institution by our actions or not” ? If we should analyse our
actions and make a vow not to hurt others then we could be able
to establish peace not in our homes, mohallahs and cities but in
country, he said, adding: “If we become a good Muslim, we
naturally shall become good human beings and be able to attain
all success in all fields which is the destiny of Ummah”.
Maulana Ahsanul Haq Quadri said that Muslims should acquire
worldly knowledge along with religious knowledge in order to
gain required power and exaltation which is the right of them.
Besides Mrs. Sadia Rashid, Chairperson, Hamdard Laboratories (Waqf)
; Miss Fatema Munir Ahmed and Mrs. Amna Mian, Muttawallias,
Hamdard (Waqf); Afzal Jamal, President, Zahir Ahmed Khan,
General Secretary and Syed Ahmed Ali, Secretary Information,
Hamdard CBA, directors and workers of Hamdard attended the
mehfil in a large number. |