HomeTradeHotel & TourismSportsMagLocal GovtInterviews

Articles

Bits & Bytes

Books & Authors

Career opportunity

City News

Diplomatic Affairs

Education

Global Halal Expo

Health

Islamic Corner

KBCA

KESC Update

Kids Corner

Marketing

Special Reports

کے ای ایس سی میں چوروں کا راج- کروڑوں روپے مالیت کا تانبے کا تار چوری-

کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی نے شہر بھر میں بجلی چوروں کے خلاف مہم چلا رکھی ھے لیکن چراغ تلے اندھرا کے مصداق خود کے ای ایس سی میں چوروں کا راج ھے اور کے ای ایس سی کے اھم لوگوں کی ملی بھگت سے کمپنی میں کروڑوں روپے کی چوریاں جاری ھیں ۔ اس بات کا انکشاف اس وقت ھوا جب کروڑوں روپے مالیت تانبے کے تار سے لدا کنٹینر پکڑا گیا اور ڈرائیور کو گرفتار کر لیا گیا اور یہ تفصیلات سامنے آ گئیں کہ چوری کیا گیا یہ تانبے کا تار کے ای ایس سی کی ملکیت ھے اور اس تار کو کے ای ایس سی کے مختلف سب اسٹیشنوں اور ہائی ٹینشن لائنوں سے چرایا گیا ھے ۔ کے ای ایس سی پولیس نے اطلاع ملنے پر گارڈن کے علاقے سے یہ کنٹینر پکڑ کر ڈرائیور کو گرفتار کیا اور کے ای ایس سی پولیس بلوچ کالونی تھانہ میں گرفتار ڈرائیور سے مزید پوچھ گیچھ کی گئی ۔ اب پتہ چلا کے شہریوں کو طویل لوڈ شیڈنگ اور کیبل فالٹس کی وجہ سے  جو پریشانی ھوتی ھے۔ اس کی ایک بڑی وجہ خود کے ای ایس سی کے اندر ھونے والی چوریاں ھیں-

متاثرین سیلاب کی مزید امدادکیلئے کے ای ایس سی کی اپیل
کراچی ( جیوے پاکستان ) :کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی نے 11اگست سے شروع کی جانے والی امدادی سرگرمیوں میں کراچی کے عوام کے تعاون کو بے حد سراہا ہے اور شہریوں سے گزارش کی ہے کہ وہ ان سرگرمیوں میں کے ای ایس سی سے مزید تعاون کریں کیونکہ آنے والے دنوں میں ان امدادی کارروائیوں میں مزید تیزی آنے کی توقع ہے ۔کے ای ایس سی کی جانب سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز کے مطابق شہری اس نیک کام میں مالی اعانت ، اشیائے خوردنوش کے عطیات دینے کے ساتھ ساتھ رضاکارانہ طور پر بھی اپنی خدمات پیش کریں کیونکہ مون سون کے حوالے سے ہونے والی پیش گوئی کی روشنی میں مزید بارشوں کا امکان ہے چنانچہ اس صورتحال میں متاثرین کیلئے مزید عطیات اور رضاکاردستوں کی ضرورت ہوگی جو باہم ملکر متاثرین کو طعام و قیام نیز طبی سہولیات کی فراہمی عمل میں لا سکیں ۔واضح رہے کہ کے ای ایس سی نے متاثرین سیلاب کیلئے کراچی کے مختلف مقامات پر پانچ امدادی کیمپ قائم کئے ہیں جبکہ مالی عطیات کی وصولی کیلئے ایک بینک اکاؤنٹ بھی کھولا گیا ہے علاوہ ازیں تین کیئر کیمپس ٹھٹھہ اورقرب وجوار میں قائم کئے گئے ہیں ، مرکزی بیس کیمپ ٹھٹھہ میں جبکہ ایک ذیلی کیمپ مونارکی اور دوسرا سرجانی میں قائم کیا گیا ہے ۔واضح رہے کہ مذکورہ کیئر کیمپس میں طبی سہولیات کا انتظام بھی ہے ۔ریلیز میں مزید کہا گیا کہ کے ای ایس سی کے اٹھارہ ہزار ملازمین جن میں انتظامی اور غیر انتظامی عملہ شامل ہے نے اپنی ایک دن کی تنخواہ امدادی فنڈ میں عطیہ کردی ہے ، کے ای ایس سی کے بیرون ملک شیئر ہولڈرز ادارے کے ملازمین اور کراچی کے شہریوں سے حاصل شدہ مالی امداد کے مساوی حصہ فراہم کررہے ہیں علاوہ ازیں ٹھٹھہ کیئر کیمپس پر کے ای ایس سی کے 80ملازمین تعینات ہیں جنہیں کراچی سے آئے ہوئے رضاکاروں کا تعاون حاصل ہے جبکہ ’’امن فاؤنڈیشن‘‘ نے میڈیکل اور پیرا میڈیکل عملے کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ادویات کی فراہمی میں بھی کے ای ایس سی سے تعاون کیا ہے جس کے تحت 4ایمبولینسیں جو فنی اعتبار سے ایک چھوٹے اسپتال کی حیثیت رکھتی ہیں متاثرین کو علاج و معالجے کی سہولت باہم پہنچارہی ہیں مزید برآں کے ای ایس سی کی جانب سے قائم شدہ امدادی کیمپوں سے اشیائے خوردنوش اور دیگر ضروری سامان کے 2500فیملی بیگز ، 12ٹرکوں کے ذریعے ٹھٹھہ بیس کیمپ پہنچائے جاچکے ہیں ۔ کراچی میں قائم شدہ امدادی کیمپوں پر خشک غذائی اشیاء، خشک دودھ، جوس کے ڈبے اور صابن وصول کئے جارہے ہیں ۔ امدادی کیمپس کے ای ایس سی کے مندرجہ ذیل دفاتر میں قائم ہیں ۔ کے ای ایس سی او سی - 4جناح کو آپریٹوہاؤسنگ سوسائٹی بلاک 7&8 ٹیپو سلطان روڈ نیئر فائن ہاؤس ، کے ای ایس سی ٹریننگ سینٹر اسٹریٹ نمبر 1 بلاک 19 گلشن اقبال، آئی بی سی کلفٹن ، مائی کلاچی بائی پاس ) کوئنزروڈ) گرڈ اسٹیشن نزدامریکن کونصلیٹ اورآئی بی سی ناظم آباد اسٹریٹ 1/A بلاک جی نارتھ ناظم آباد ۔ریلیز میں مزید کہا گیا ہے کہ کراچی کے شہری اپنے مالی عطیات براہ راست اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک میں ’’کے ای ایس سی فلڈ ریلیف اکاؤنٹ‘‘ کے نام سے کھولے گئے اسپیشل اکاؤنٹ نمبر 01-1251317-02 میں جمع کراسکتے ہیں ۔ اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک کی تمام شاخیں عطیات وصول کرنے کی مجاذ ہونگی تمام شہریوں کو باورکیا جاتا ہے کہ وہ اپنے مالی عطیات صرف مذکورہ بینک اکاؤنٹ میں ہی جمع کرائیں ۔ ریلیز کے مطابق میڈیکل اسٹاف اور ڈاکٹروں کی جانب سے کے ای ایس سی کی امدادی کارروائیوں میں رضاکارانہ شمولیت قابل ستائش کے ، جبکہ ادارے کی جانب سے تمام میڈیکل پریکٹشنرز اور ڈاکٹرز سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ امدادی کارروائیوں میں تعاون کریں چنانچہ وہ اس ای میل ایڈریس floodrelief@kesc.com.pk پر رضاکاررانہ طور پررجسٹریشن کراسکتے ہیں کراچی تا کے ای ایس سی کیئرز کیمپ تمام رضاکاروں کیلئے ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کی جائے گی ۔ واضح رہے کہ کے ای ایس سی ، بن قاسم ، سپرہائی وے اور لیاری میں قائم شدہ امدادی کیمپوں کو 16اگست سے ایمرجنسی کنکشنز اور جنریٹرز کے ذریعے مفت بجلی فراہم کررہی ہے ۔

کے ای ایس سی انتظامیہ نے ادارے میں من چاہے ملازمین کو بھرتی کرنے کیلئے ادارے میں کئی برس سے خدمات انجام دینے والے ملازمین کو ہراساں کرنے کیلئے خفیہ کیمرہ بردار ٹیمیں بنادی ہیں۔

کراچی (اسٹاف رپورٹر) کے ای ایس سی انتظامیہ نے ادارے میں من چاہے ملازمین کو بھرتی کرنے کیلئے ادارے میں کئی برس سے خدمات انجام دینے والے ملازمین کو ہراساں کرنے کیلئے خفیہ کیمرہ بردار ٹیمیں بنادی ہیں۔ ملازمین کو دفتروں میں جاکر ہراساں کرنے کیلئے خفیہ کیمرہ بردار ٹیمیں جعلی فلم بنا کر بلیک میل کررہی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق کے ای ایس سی کی موجودہ انتظامیہ ابراج کیپٹل نے ادارے میں سے ملازمین کی چھانٹی اور اپنی پسند کے ملازمین کی بھرتی کیلئے خفیہ کیمرہ بردار ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں جو خفیہ پین اور موبائل کیمروں کی مدد سے ادارے کے ان ملازمین کو جنہیں انتظامیہ فارغ کرنا چاہتی ہے فلمیں بنارہی ہے۔ بالخصوص ان ملازمین کیخلاف کارروائی کا آغاز کیا گیا ہے جنہوں نے ادارے کی جانب سے صارفین کو غلط اور جعلی بل ترسیل نہیں کیئے ہیں۔ جس کے باعث ان ملازمین میں شدید خوف و ہراس پایا جارہا ہے لیاری کے علاقے میں متاثرہ ایک اہم عہدے پر فائز ملازم نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ادارے نے درجنوں ایسے افراد کو اس حوالے سے ملازمت پر رکھا ہے جو خفیہ کیمروں سے فلمیں بنارہے ہیں اور جو ملازم اپنی تنخواہ بھی بینک سے نکال کر گنتی کرتا نظر آتا ہے اسے رشوت خور قرار دیا جارہا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کے باعث کئی شکایتی مراکز اور عوامی دفاتر سے عملہ خوف کی کیفیت میں کام کرنے پر مجبور ہے۔ واضح رہے کہ ابراج کیپٹل کی انتظامیہ نے سندھ ہائی کورٹ کے احکامات کے بعد 8 ہزار کنٹریکٹ ملازمین کو ریگولر کیا تھا اور انہیں جو تقرر نامے دیئے گئے ہیں اس میں واضح طور پر یہ شرط لگادی ہے کہ ادارہ کوئی بھی جواز بتائے بغیر ملازم کو 1 ماہ کے نوٹس پر ملازمت سے فارغ کرسکتا ہے۔ اس تقررنامے پر دستخط کے بعد ہی ملازم کو ریگولر کیا گیا ہے اور اب انتظامیہ نے اپنے اوپر عدلیہ کے دباؤ کے بعد ملازمین کو ریگولر کرنے کا بدلہ ملازمین سے لینا شروع کردیا ہے۔