

 
ہائیکورٹ بار کے نومنتخب
صدر جناب چوہدری شیرام سرور کی کامیابی پر مبارک باد کے
پیغامات
جناب شیرام سرور نے الیکشن 2012/13
لاہور ہائی کورٹ بار میں 3284ووٹ حاصل کر کے شاندار
کامیابی
حاصل کی ،ان کی اس کامیابی پر لاہور ہائی کورٹ سے جناب
شوکت جاویدجناب سی ایم سرور ،جناب شیخ عبدالغفور،چوہدری
مختار احمد ،رضوان
سرور،عمران سرور،محمد یوسف ،جاوید احمد اور جرنلسٹ اینڈ
رائٹر ایسوسی ایشن کے تمام ممبران نے مبارک باد پیش کی اور
امید ظاہر کی کہ ان کے دور میں وکلا کی فلاح و بہبود کے
لیے کا تیز ہو گا اور جیسا کے تمام وکلا برادری جانتی ہے
کے چوہدری شیرام
سرور ایک محنتی اور دیانت دار وکیل ہونے کے ساتھ ساتھ ایک
نیک دل اور شریف انسان ہیں اور ان کی تصویر کا ایک رخ جو
شاہد
عام لوگ نہ جانتے ہوں کے فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ
لیتے ہیں ، ہم سب کی دعائیں ان کے ساتھ ہیں
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
مراکش(Morocco)
(3مارچ:قومی دن کے موقع پر خصوصی تحریر)
ڈاکٹر ساجد
خاکوانی
sajid_islamabad@yahoo.com
’’مراکش‘‘شمال مغربی افریقہ کا ایک مسلمان ملک ہے۔اس
ملک کی تاریخی اہمیت اسکے جغرافیے سے یوں واضع ہوتی ہے
کہ اندلس کے ساحلوں پر جبل الطارق نام کی پہاڑیاں
مراکش کے ساحل کے باالمقابل ہیں۔یہ وہ پہاڑیاں ہیں
جہاں طارق بن زیاد نے اندلس پر حملہ کرتے ہوئے اپنے
جہاز نذر آتش کر دیے تھے تاکہ فوج کے ذہن سے واپسی
کاخیال نکل جائے اور فتح یا شہادت میں سے کوئی منزل
انکے قدم چومے۔مراکش ایک طویل تاریخی عرصے سے عرب
افریقی بربر قبائل کامسکن رہاہے۔یہ علاقہ سلطنت روماکا
انتہائی مغربی صوبہ رہااور طلوع اسلام کے بعد بھی جب
یہ اسلامی قلمرو میں شامل ہواتو اسے مغرب کے نام سے ہی
جانا جاتا رہا۔مراکش قدیم تہذیبی و ثقافتی روایات کی
حسین آماجگاہ ہے۔یہاں کی عمارات اپنی تاریخی قدیمی
روایات کا خوبصورت اظہار ہیں۔’’کیسابلانکا‘‘مراکش کا
مشہورشہر ہے جو بحراوقیانوس کی بڑی بندرگاہوں میں سے
ایک ہے،جبکہ ’’رباط‘‘یہاں کا دارالحکومت ہے۔ابن بطوطہ
نے یہاں کی خوراک اور پانی کی بہت تعریف کی ہے۔اس وقت
مراکش کی آبادی کم و بیش پینتیس ملین کے لگ بھگ ہے اور
اس ریاست کاکل رقبہ 710850مربع کلومیٹر بنتاہے۔مراکی
درہم کے نام سے یہاں کی کرنسی رائج ہے جوافریقہ کی
مارکیٹ میں ایک صحت مند کرنسی جانی جاتی ہے۔
مراکش کے مشرق میں الجیریاکا ملک ہے،جنوب مغرب میں
دنیاکابہت بڑا صحرا ہے،مغرب میں بحراوقیانوس اور شمال
میں بحیرہ روم ہے۔افریقہ کا واحد ملک مراکش ہے جو
بحیرہ روم اور بحراوقیانوس کو باہم ملاتاہے۔انہیں دو
سمندروں کی جائے ملاپ کے اس پار جبل الطارق کی پہاڑیاں
ہیں جہاں آج تک برطانیہ کا قبضہ ہے۔مراکش زیادہ تر
پہاڑی علاقہ ہے اور اس ملک میں پہاڑی سلسلے میلوں دور
دور تک پھیلے ہوئے ہیں اور بعض مقامات پر یہ پہاڑی
سلسلے باہم ایک دوسرے کو کاٹتے ہوئے بھی نظر آتے
ہیں۔ان پہاڑی سلسلوں میں بلندوبالا پہاڑوں کی چوٹیاں
بھی ہیں۔شاید یہی وجہ ہے کہ مراکش کی سڑکیں صدیوں
پرانے راستوں پر بنائی گئی ہیں۔انہیں پہاڑی سلسلوں کی
وجہ سے وہاں کے بہنے والے دریاہزارہاسالوں سے ایک ہی
سمت میں بہتے چلے جارہے ہیں۔دواطراف میں سمندر اور ایک
طرف بہت بڑے صحرا کے باعث یہاں کا موسم عجیب و غریب
خصوصیات کا مالک ہے۔بڑے بڑے صحرائی طوفانوں کے ساتھ
ساتھ بادوباران کے جھونکے بھی یہاں کثرت سے آتے ہیں۔
معلوم تاریخ کے مطابق مراکش کے قدیم باشندے مذہب
عیسائیت کے پیروکار تھے تاہم بعض شواہد سے بدھ مت کی
موجودگی کا بھی پتہ چلتا ہے۔ساتویں صدی میں یہ علاقہ
رحمۃ اللعالمین ﷺکی ٹھنڈی چھاؤں میں آگیااور یہاں کے
تقریباََ سب ہی قبائل نے اسلام قبول کر لیا۔سولھویں
صدی میں عثمانی ترکوں نے الجیریا کے راستے یہاں فوجی
کاروائی کی اور مراکش کو اپنی سلطنت میں شامل
کرلیا۔بہت جلد یہاں کے مقامی حکمران ایک بار پھر
برسراقتدار آگئے۔اسکے بعد ان مقامی حکمرانوں کی فرانس
برطانیہ اور اسپین کی حکومتوں کے ساتھ ایک طویل کشمکش
چلتی رہی۔الجزائر نے اس کشمکش میں بڑا کلیدی کردار
اداکیا۔مراکش کبھی الجزائرکے مجاہدین آزادی کی حمایت
کرتا اور کبھی فرانس کے خوف سے دستبردار ہوجاتا۔بیسویں
صدی کے آغاز سے ہی فرانس کے حکمران مراکش میں بہت دخل
اندازی کرنے لگے او ربالآخر مراکش کے سلاطین براہ راست
فرانس کے مدمقابل آگئے۔دوسری جنگ عظیم کے بعد جب یورپی
فوجیں تھک ہار چکیں تو پوری دنیا کی طرح مراکش کو بھی
مغربی استبدادسے 3مارچ1956کو آزادی میسر آگئی جس کے
بعد12نومبر1956کومراکش نے اقوام متحدہ کی رکنیت بھی
حاصل کر لی۔
مراکش بنیادی طور مسلمانوں کلا ملک ہے ،یہاں پر عرب
اور کچھ مقامی قبائل آبادہیں۔مقامی قبائل زیادہ تر
مراکش کے پہاڑی علاقوں میں رہائش پزیر ہیں ،جو اپنی
زبان بولتے ہیں اور انکی اپنی مقامی روایات اور اپنی
ہی تہذیب ہے جس کے تحت وہ زندگی کے جملہ امور سرانجام
دیتے ہیں۔ایک زمانے میں یہ علاقہ غلاموں کی تجارت کے
لیے عالمی شہرت رکھتاتھاشاید اسکی وجہ یہ تھی کہ یہ
افریقہ کے ان چند ممالک میں سے ہے جنہیں بحراوقیانوس
جیسے سمندر کا پڑوس حاصل ہے اور یہاں سے اسپین کے ساحل
بہت کم فاصلے پر ہیں۔آج انسانیت کے دعوے داریورپین
اقوام کے تاجرآج سے کچھ پہلے غلاموں کے شکار کے لیے
یہاں کثرت سے آیاکرتے تھے۔پندروہیں صدی کے آخر میں جب
یورپی صلیبی افواج نے اسلامی اندلس میں ظلم و جبر اور
سفاکی و درندگی کی روح فرساتاریخ ساز روایات رقم کرنا
شروع کیں تو وہاں کے مسلمان پناہ گزینوں کی بہت بڑی
تعدادمراکش میں ہجرت کر کے آباد ہوگئی۔اسرائیل کے قیام
سے پہلے تک یہودی یہاں کی سب سے بڑی اقلیت تھے لیکن اب
انکی خاصی بڑی تعداد یہاں سے منتقل ہو گئی ہے۔
یہاں کی آبادی اورحکومت کی معشیت کاانحصارزیادہ
ترزراعت،جنگلات اور مچھلی بانی پرہے،کسی حد تک سیاحت
بھی یہاں کی آمدن کا ذریعہ ہے اور کہیں کہیں تیل بھی
نکلتاہے۔ یہاں کی دو تہائی آبادی عربی زبان بولتی ہے ،یہی
زبان یہاں کی قومی و دفتری زبان ہے،باقی آبادی یہاں کی
قدیمی قبائلی زبان بولتی ہے۔۔فرانسیسی اور اسپینی زبان
بھی یہاں بولی اور سمجھی جاتی ہے۔مسلمان اکثریت میں
ہیں اور تقریباََ سب ہی فقہ مالکی کے پیروکار ہیںآبادی
میں مسلمانوں کی شرح98.7%ہے،1%عیسائی ہیں اور کچھ
یہودی بھی یہاں آباد ہیں ۔اسلام کی ابتدائی صدیوں میں
ہی یہاں مالکی فقہ پہنچ گئی تھی،پھر اندلس کے حکمرانوں
نے بھی مالکی فقہ کی بہت سرپرستی کی،امیرہشام اندلسی
نے تو امام مالک ؒ کو اندلس میں بلانا بھی چاہا لیکن
امام صاحب کو مدینہ سے بہت لگاؤ تھا اور وہ پوری زندگی
میں صرف ایک بار مدینہ سے نکلے تھے اور وہ بھی فریضہ
حج کی ادائگی کے لیے چنانچہ امام صاحب بڑے تشکر سے
اندلس آنے کی دعوت لوٹا دی۔اسی زمانے سے اب تک افریقی
ممالک کی اکثریت فقہ مالکی کی پیروکار ہے۔تاہم مراکش
میں غیرمسلموں کو بھی مکمل تحفظ حاصل ہے۔
1996کے آئین کے مطابق بادشاہت اور جمہوریت مل کریہاں
کا سیاسی نظام چلاتے ہیں۔مجلس مستشرین یہاں کا ایوان
بالا ہے اور مجلس ناواب یہاں کا ایوان زیریں
ہے۔وزیراعظم حکومت کا انتظامی سربراہ ہوتاہے اورکابینہ
اسلی معاونت کرتی ہے۔آئین ،قانون اور بہت ساری سیاسی
پارٹیاں جن میں سوشلسٹ ،لبرل اور اسلامی فکر کی حامل
پارٹیاں بھی ہیںیہاں کے سیاسی کلچر کاایک حصہ
ہیں۔بادشاہ اس سارے نظام کا اجتماعی ذمہ دار ہے،اسی کی
منظوری سے وزیر،کابینہ اور وزیراعظم بنتے ہیں اور
بادشاہ کے پاس ہی یہ اختیارات ہیں کہ وہ انہیں تحلیل
کر سکے۔مقامی حکومتوں کا نظام وزارت داخلہ کے تحت کام
کرتا ہے ،ملک کو سولہ بڑے بڑے انتظامی حصوں میں تقسیم
کیاہواہے،انکے نیچے صوبے اور اضلاع ہوتے ہیں ۔سب
حکومتوں کے سربراہان کا تقرر بادشاہ کے ہاں سے ہی ہوتا
ہے تاہم ان انتظامی سربراہوں کی معاونت کے لیے مقامی
حکومتوں کے منتخب شدہ ادارے بھی موجود رہتے ہیں۔
مراکش میں قانون کے دو متوازی نظام کارفرماہیں۔ایک
نظام قاضیوں کی نگرانی میں کام کرتا ہے جس کا مصدر
قرآن مجید ہے،یہ مسلمانوں کا باہمی قانون ہے۔دوسرا
نظام فرانسیسی لیگل کوڈ سے اخذ کردہ ہے۔ملک کی سب سے
بڑی عدالت سپریم کورٹ ہے جو عدالتی طریقہ کار کی
نگرانی کرتی ہے۔ججزکا تقرر بادشاہ وقت کرتا ہے اوریہ
عدالتی نظام وزارت انصاف کے تحت ہے۔شاہی افواج یہاں کی
سرحدوں کی نگرانی کرتی ہیں،بحری اور فضائی قوت بھی اس
ملک میں دوسرے ملکوں کی طرح موجود ہے۔حکومت اپنی آمدن
کا 20%تعلیم پر خرچ کرتی ہے،شہروں میں تقریباََ75% بچے
اسکولوں میں جاتے ہیں جبکہ ثانوی تعلیم تک اس تعداد کی
نصف ہی پہنچ پاتی ہے لیکن دیہاتوں میں یہ شرح کافی کم
ہے ۔شاید اسی لیے یہاں شرح خواندگی کم و بیش 52.3%ہی
ہے۔مراکش میں 50کے قریب یونیورسٹیاں،زرعی اور طبی
تعلیم اورٹیکنیکل تعلیم کے اعلی ادارے ہیں۔
مراکش چونکہ افریقہ کے شمال مغربی کونے پر واقع ہے اس
لیے یہ بہت سی تہذیبوں کی آماجگاہ رہا ہے۔قدیم افریقی
تہذیب خود اسکی اپنی تہذیب ہے،طلوع اسلام کے بعد
اسلامی تہذیب اور پھر صدیوں تک عربوں کے زیر اثر رہنے
کے باعث عرب تہذیب بھی یہاں کی مٹی میں شامل ہوگئی۔ایک
چھوٹی سی بحری پٹی کے بعد چونکہ سامنے ہی یورپ کے
علاقے شروع ہو جاتے ہیں اس لیے یورپی تہذیب بھی پانیوں
کے راستے یہاں پر در آئی اور ان سب پر مستزادیہ کہ
سولھویں صدی کے آغاز میں اسلامی اندلس سے بچھڑنے والے
مسلمانوں نے جب یہاں پناہ لے کر آباد ہوناشروع کیا تو
اس نئی تہذیب کی روایات بھی آہستہ آہستہ اس علاقے کا
جزولاینفک بن گئیں۔حکومت اور یہاں کی عوام اپنی اس
تہذیبی و ثقافتی اہمیت سے خوب واقف ہے اسی لیے تقریباَ
ہر بڑے شہر میں عجائب گھرموجود ہیں جہاں پر قدیم و
جدید افریقی ومراکش کی تہذیب بہت خوبصورتی سے سجائی
گئی ہے اس کے علاوہ بہت سی نجی تنظیمیں اور تحقیقی
ادارے بھی یہاں کی تہذیب و ثقافت کے تحفظ کو اپنے
فرائض میں شامل کیے ہوئے ہیں۔
بشارت
علی طاہر
بیورو چیف گجرات
 

ڈنگہ:چوہدری شاہد لطیف گجر آف چک
میموری نے مسلم لیگی ایم پی اے میاں طارق محمود کی حمایت
کا اعلان کر دیاڈنگہ(محمد
بلال احمد بٹ) نوجوان سیاسی و سماجی راہنما سمندر پار
پاکستانیوں کے دلوں کی دھڑکن پیپلز پارٹی سپین(بارسلونا)کے
نائب صدر چوہدری شاہد لطیف گجر آف چک میموری نے مسلم لیگی
ایم پی اے میاں طارق محمود کی حمایت کا اعلان کر دیا،اس
سلسلے میں ان کی رہائش گاہ پر ایک بڑے اجتماع کا اہتمام
کیا گیا جس میںصحافیوں،شہریوں کی ایک کثیر تعداد کی
موجودگی میں چوہدری شاہد لطیف گجر نے میاں طارق محمود کی
حمایت کا اعلان کیا انہوں نے کہا کہ ہم میاں طارق محمود کے
ساتھ ہیں اور انشاءاللہ مرتے دم تک ساتھ رہیں گے،حمایت
اکٹھ سے میاں طارق محمود ایم پی اے نے خطاب کرتے ہوئے کہا
کہ آج تاریخی دن ہے،چوہدری شاہد لطیف کی حمایت سے ہماری
یاری مضبوط ہوئی ہے،ہم ان کا اسکی فیملی کا اور تمام
ساتھیوں کا شکریہ اداکرتا ہوں کہ جنہوں نے ہماری حوصلہ
افزائی کی ہے اور ہمارے ساتھ چلنے کا فیصلہ کیا ہے ڈنگہ کے
شہری جس طرح میری حمایت کا اعلان کر رہے ہیں،اس کی مثال
ملنا مشکل ہے ڈنگہ میرا گھر ہے اسکو ہمیشہ سنوارتا رہوں گا۔
LAHORE, ----The
Lahore Chamber of Commerce and Industry
March 1
--- While severely criticizing 39 percent per unitincrease
in electricity tariff under the monthly fuel
adjustmentformula, the Lahore Chamber of Commerce and
Industry Thursday urgedthe government to withdraw this hike
and direct the National ElectricPower Regulatory Authority (NEPRA)
to freeze the tariff at least forone year for the sake of
the economy.In a statement issued here, the LCCI President
Irfan Qaiser Sheikhsaid that the government in collaboration
with the private sectorwould have to evolve a mechanism to
cap the electricity prices for aterm or a period so that the
industrial consumers could calculate the
cost of their finished products.
LCCI President said that the existing draconian NEPRA method
to raiseelectricity tariff by issuing a single notification
for millions ofits consumers is not only unjustified but
unethical as well.He said that there was a time when a
businessman calculates Return onInvestment keeping in view
the two factors; the cost of electricityand the cost of raw
material but now it is very unfortunate that evenlocal
investor has no idea of the prices of the electricity
because
NEPRA keeps on adding various components in power tariff and
that too
with retrospective effect.Irfan Qaiser Sheikh said that only
last year the NEPRA while doingaway with subsidy factor
introduced two per cent Equalization Chargesin electricity
bill to wear off the impact of line losses. And
theEqualisation Charges were fixed at 2 per cent but now
suddenly andwithout any information to the commercial
consumers the rate ofEqualization Charges has been raised to
four per cent.The LCCI President said that the Lahore
Chamber of Commerce andIndustry understands well and a
staunch believer that the economicturnaround would remain a
dream unless and until all institutions haverealization of
causes hitting the very economic fabric of the country.He
said that at this point in time when the industry in Punjab
wasgetting no gas, productions have nose-dived and
industrial growth is
decreasing instead of any increase, an unprecedented upward
trend inthe prices of electricity is bound to keep the
economy hostage for
years to come.Irfan Qaiser Sheikh said that it is common
phenomenon that in unusualcircumstances, routine working
methodologies are shelved and specialmeasures are adopted to
get rid of economic meltdown but in Pakistan
the situation is the other way round.The LCCI President also
criticized NEPRA for notifying anotherincrease in
electricity prices saying that it would prove last nail
inthe coffin as both the trade and industry were already
suffering dueto huge increase in electricity prices in the
last five months.He said that all the power distribution
companies should be directedto determine their respective
electricity tariff on basis of linelosses. For instance, if
the line losses in one DISCO are bigger thanthe other the
power tariff in that particular DISCO should more than
the other.He said business community was surprised that
instead of takingmeasures to control line losses and enhance
cheap power generation upto capacity, the policies are being
evolved to add to the miseries ofthe business doing people.
He said that industrial sector was passingthrough a critical
time of its history. A large number of industrialunits had
already closed down their operations due to acute
energyshortage. He said that situation needs corrective
measures but the
policy makers are doing the other way round.The LCCI
President said that Pakistan had already lost a number
ofinternational markets and the decision to increase power
tariff wouldmake the Pakistani goods more uncompetitive.He
demanded that fuel adjustment formula should also be
revamped as it
is hitting the consumers hard.
Shahid Khalil
Information Department
LAHORE, March 01
---- Pakistani handicrafts have enormous exportpotential and
a growing demand in the foreign countries and this
market need to be further exploited.This was stated by LCCI
Senior Vice President Kashif Younis Meherwhile speaking at a
presentation on Development of Art and Craftarranged by the
Standing Committee on Handicrafts here at LahoreChamber of
Commerce and Industry here on Wednesday. Convener of
theStanding Committee Nabila Intisar also spoke on the
occasion.Kashif Younis Meher said that the export potential
of handicrafts wasalways more compared to other products
from Pakistan. Thoughhandicraft export industry faced stiff
competition from countries likeChina, Taiwan, Korea,
Indonesia and Philippines, the export of thePakistani
handicrafts was still a promising field because of
itsuniqueness in terms of traditional and historical
popularity.Referring to the favourable and conducive market
for Pakistanihandicrafts, the LCCI Senior Vice President
said that the countrieslike USA, Germany, Britain, Italy,
France, Japan, Australia and Saudi
Arabia were the major importers.He said the people of the
developed countries had a special affinitytowards Pakistani
carpets, hand printed textiles, hand embroidered,tie and dye
textiles, artistic metal products, bronze icons, utility
oriented brass items.Speaking on the occasion, the LCCI
Executive Committee Member andConvener of the committee
Nabila Intisar said that the Lahore Chamberof Commerce and
Industry was making all out efforts for the promotionof
Pakistani handicrafts in the outer world. She said that work
onLCCI display centre for handicrafts was under way that
would helphighlight Pakistan’s potential in this particular
sector.She said that government should work hand in hand
with private sectorto promote Pakistani handicrafts which
have a great potential to earnmuch-needed foreign exchange.
She said that all emerging economies ofthe world took start
from their respective cultural heritage, promotedit within
the country first and then got a respectable place in global
marketplace.
Shahid Khalil
Information Department
LAHORE, March 01
– Over 5000 special children Thursday took part inLABARD
Mela where the people belonging to all walks of life
includingtrade, industry, politics and academia expressed
solidarity with thephysically challenged children.The Lahore
Businessmen Association for the Rehabilitation of Disabled
LABARD) has been arranging the Meal for Special Children for
the lastmany years with an objective to encourage the
disabled persons so thatthey could be able to play their
role as active members of thesociety.The speakers including
President LABARD and president PML-N Lahore MNAPervaiz Malik
speaking on the occasion urged the government to
sparemaximum resources for the rehabilitation of the
physically challengedpeople.LABARD Senior Vice President
Mian Nusrat-ud-Din, Vice PresidentMohammad Farooq Naseem,
Secretary General Bushra Aitzaz, JointSecretary Mohammad
Saeed Khan, Secretary Information Ahmer Malik,Finance
Secretary Riaz Ahmad, Governing Body Members and LCCI
SeniorVice President, Kashif Younis Meher, Vice President
Saeeda Nazar,Chairman SNGPL Mian Misbah-ur-Rehman and
Rehmatullah Javed also spokeon the occasion. A large number
of politicians, industrialists,traders, city elites and
students participated in the LABARD Mela.The LABARD
President Pervaiz Malik said LABARD was taking all
possiblemeasures for the training of special persons as they
are an importantsegment of the society and their active
participation is necessary forcountry’s development. He said
that various steps taken by thegovernment for the uplift of
special people showed government’skeenness for their welfare
and rehabilitation.The President LABARD also gave a detailed
briefing about theactivities of LABARD. He paid rich
tributes to the Lahore Chamber ofCommerce and Industry for
extending matchless cooperation to theLABARD. He said that
disability in Pakistan is a biggest challenge andit is our
prime duty to play our role to cope with this challenge.
Hesaid that LABARD is providing educational, employment and
medicalfacilities to the disabled persons and over 70
institutions are beingused for the purpose. He said that
LABARD is planning to establish itsown vocational center and
work on project would start soon.Speaking on the occasion,
the LCCI President Irfan Qaiser Sheikh saidthat there is a
need to launch specific programmes for training andeducation
of disabled persons. He said that the special personspossess
God gifted qualities but we all should make collective
effortsfor enhancing their skills so that they could become
useful members ofthe society.LABARD Joint Secretary Mohammad
Saeed Khan said that the LABARD Melais aimed at creating
awareness and understanding about disabilityissues to
mobilize support for practical action at all levels.He said
that LABARD Mela for the special children has become an
annualcultural event of the City as is being participated by
a large numberof disabled persons who enjoy all the
entertainments like other
healthy members of the society.The specialchildren belonging
to various institutions took part in
different activities at the LABARD Mela.
|
|

پاکستان، اسلام آباد(انس فاروقی،جیوے
پاکستان)
1مارچ، 2012 ء
پاکستان فٹ بال فیڈریشن (پی ایف ایف )
نے اے ایف سی انڈر 14 (بوائے) فیسٹیول
آف فٹ بال ، 2012 اسلام آباد کے لیے
لیفٹننٹ کرنل (ر) احمد یار خان لودہی
کی سربراہی میں پی ایف ایف مینجمنٹ
کیمٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ یہ فیسٹیول
اسلام آباد میں تین اپریل سے سترہ
اپریل سن 2012 تک جاری رہے گا۔ اس
مینجمنٹ کمیٹی کے زیر سایہ لوکل
آرگنائزنگ کیمٹی بھی تشکیل دی گئی ہے
تاکہ اس میگا ایونٹ کو بہترین انداز
سے منعقدہ کیا جاسکے۔
پی ایف ایف مینجمنٹ کیمٹی میں وائس
چیرمین حسن بلوچ، جنرل سیکرٹری ،سندھ
فٹ بال ایسوسی ایشن، محمد داود، جنرل
سیکرٹری ،بلوچستان فٹ بال ایسوسی ایشن،
محمو د خالد ، جنرل سیکرٹری ،پنجاب فٹ
بال ایسوسی ایشن، باسط کمال ، جنرل
سیکرٹری ،خیبر پختون خواہ فٹ بال
ایسوسی ایشن،محمد زمان ، جنرل سیکرٹری
،اسلام آباد فٹ بال ایسوسی ایشن اور
ونگ کمانڈر (ر)، پرویز سید میر ،
ڈائرکٹرڈویلپمنٹ اینڈ کمپیٹیشن شامل
ہیں۔
پی ایف ایف مینجمنٹ کمیٹی کے ممبران
میں لیفٹننٹ کرنل (ر)فراست علی شاہ،
خلیل احمد، محمد اویس، روف باری، عارف
صدیقی، محمد امین طاہر، آغا محمد اجمل،
شاہد کھوکھر، عرفان خان نیازی، محمد
بابر خان اور مرزا نعیم بیگ شامل ہیں۔
ڈاکٹر فصل الرحمان کو مینجمنٹ کمیٹی
کے زیر سایہ لوکل آرگنائزنگ کیمٹی کا
چیرمین بنایا گیا ہے۔ لوکل آرگنائزنگ
کیمٹی کے تحت تشکیل دی گئیں کی تفصیل
مندرجہ زیل ہے۔
محمد عرفان خان نیازی، چیرمین ریسپشن
اینڈ پروٹوکول کمیٹی، ملک امتیاز احمد،
چیرمین، فوڈ اینڈ ایکیموڈیشن، چوہدری
محمد سلیم، چیرمین پرچیز اینڈ فنانس
کمیٹی، محمد شاکر خان، چیرمین، گراونڈ
اینڈ ٹریننگ یونیوکمیٹی، چوہدر غلام
رسول، چیرمین انٹرٹینمنٹ کمیٹی، میجر
(ر) شاہد بنگش، چیرمین سیکورٹی کمیٹی،
عاطف نزیر، چیرمین ، میڈیا کمیٹی،
ڈاکٹر شریف استوری، چیرمین میڈیکل
کمیٹی اور چوہدری محمد سلیم، چیرمین
ٹرانسپورٹ کمیٹی۔
آغا
محمد اجمل
میڈیا مینجر
پاکستان فٹ بال فیڈریشن
موبائیل نمبر & +92-301-4881330
+92-301-4499578
لاہور
یکم مارچ( انس
فاروقی،جیوے پاکستان )
ڈپٹی سپیکر پنجا ب اسمبلی رانا مشہود
احمد خان نے ڈی جی سپورٹس عثمان انور
کے ہمراہ 4مارچ کو ہونے والی میرا تھن
ریس کے حوالے سے منعقدہ پریس کانفرنس
میں بتایا کہ اس موقع پر سکیورٹی کے
تمام فول پروف انتظامات مکمل کر لیے
گئے ہیں ۔ میرا تھن ریس کو 2مرحلوں
میں تقسیم کیا گیا ہے ۔ پہلی پنجاب
میرا تھن ریس پنجاب سٹیڈیم سے شروع ہو
کر مختلف راستوں سے ہوتی ہوئی واپس
اسی جگہ ختم ہوگی ۔ اس 17 کلومیٹر
لمبی ریس میں ہر عمر کے مرد خواتین
شامل ہونگے ۔ دوسری ریس فیملی فن ریس
کے نام سے صدیق ٹریڈ سینٹر سے شروع ہو
کر لبرٹی چوک پر اختتام پذیر ہوگی ۔
جس میں صرف فیملیز حصہ لے سکتی ہیں۔
یہ ریس 3کلومیٹر لمبی ہوگی۔ پنجاب
میرا تھن کے لیے سات ہزار سے زائد
افراد کی رجسٹریشن کی جاچکی ہے۔ جبکہ
فیملی فن ریس کے لیے دس ہزارسے زائد
مرد و خواتین حضرات رجسٹریشن کروا چکے
ہیں۔ تین کلومیٹر لمبی ریس کے لیے 13
مختلف انعامات جبکہ سترہ کلومیٹر لمبی
ریس کے لیے 25انعامات رکھے گئے ہیں۔
پہلا انعام دو لاکھ ، دوسرا ڈیڑھ لاکھ
اور تیسرا ایک لاکھ کا ہوگا۔ ڈپٹی
سپیکر نے بتایا کہ 28فروری منعقد ہونے
والے میگا ایونٹ کے موقع پر میڈیا کی
جانب سے جن خامیوں کی نشاندہی کی گئی
تھی ان کو دور کر لیا گیا۔ انہوں نے
بتایا کہ پنجاب کی ثقافتی سرگرمیوں کو
دنیا بھر میں متعارف کرانے کا سہرا
وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کو
جاتا ہے۔ اس فیسٹول کے انعقاد سے دنیا
بھر میں امن ،صحت ، اتحاد، یکجہتی اور
کھیلوں کی سرگرمیوں کا جو پیغام دیا
گیاہے اس سے پاکستان کا وقار بلند ہوا
ہے۔ رانا مشہود نے بتا یا کہ لاہور
میں مزید 207کھیلوں کے میدان قائم کیے
جار ہے ہیں جہاں سارا سال کھیلوں کی
سرگرمیاں جاری رہیں گی۔

منڈی
بہاؤالدین(ڈاکٹر شاہد راٹھور)
گورنمنٹ ٹیکنیکل
کالج رسول کی سوسالہ تقریبات کے سلسلہ میں
اتھلیٹکس مقابلے دومارچ کوہونگے،مہمانان خصوصی چیف
انجینئرخواجہ خضرحیات اورچوہدری افضل گوندل
ہونگے،جبکہ ظفراقبال تارڑ پروگرام
آرگنائرزہونگے۔تفصیلات کے مطابق گورنمنٹ ٹیکنیکل
کالج رسول کی سوسالہ تقریبات کے سلسلے میں
اتھلیٹکس مقابلے آج 10بجے دن رسول کالج میں
منعقدہونگے،جس کے آرگنائزرپروفیسرظفراقبال
تارڑہونگے جبکہ مہمان خصوصی محمد افضل گوندل
اورچیف آف آنرزچیف انجینئر خواجہ خضرحیات ہونگے ،کالج
کے پرنسپل سید مظہرعباس نقوی نے کہاہے کہ مقابلوں
میں جیتنے والے کھلاڑیوں کو نقدانعامات اور تعریفی
اسناد دی جائیگی۔
۔۔۔۔۔۔
منڈی
بہاؤالدین (ڈاکٹرشاہد راٹھور)گوڑھا
محلہ میں نکاسی آب کا مسئلہ شدت اختیارکرگیا،کچہری
والی گلی تالاب کا منظرپیش کرنے لگی،مکینوں کو
مشکلا ت سامناتفصیلات کے مطابق منڈی بہاؤالدین کے
محلہ گوڑھا میں نکاسی آب نہ ہونے کی وجہ سے عوام
کو شدید مشکلات کا سامناہے ،کچہری والی گلی میں
گٹربندہونے سے گنداپانی گھروں میں داخل ہورہاہے ،گلی
تالاب کا منظرپیش کررہی ہے ،جس سے علاقہ میں مختلف
امراض پیداہورہے ہیں۔اہل علاقہ نے انتظامیہ سے
مطالبہ کیاہے کہ فوری طورپر نکاسی آب کا مسئلہ حل
کیاجائے تاکہ مکینوں کو آمدورفت میں آسانی
پیداہوسکے۔۔
منڈی
بہاؤالدین(ڈاکٹرشاہدراٹھور)شہرمیں
تجاوزات کی بھرمار،ٹریفک جام معمول ،پیدل چلنا
بھی محال ہوگیا،ڈی سی اونوٹس لیں۔تفصیلات کے
مطابق
منڈی
بہاؤالدین شہراورگردونواح میں تجاوزات
مافیانے بازاروں ،چوکوں اور شاہراہوں پر قبضہ
جمارکھاہے،دکانداروں نے اپنا سامان دکان سے
کئی کئی میٹرباہر سڑک پر رکھ کر بازاروں میں
مصنوعی رکاوٹیں کھڑی کردی ہیں ،جبکہ ٹی ایم اے
خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔عوام کی جانب سے
باربارتوجہ دلانے کے باوجودتجاوزات ہٹاؤآپریشن
شروع نہیں کیاجاسکا،منڈی
بہاؤالدین کے اہم چوکوں میں تجاوزات کی
وجہ سے ٹریفک جام معمول بن چکاہے ،بازاروں میں
پیدل چلنا بھی محال ہوچکاہے خصوصاًخواتین کو
دوران خریداری بازارمیں آمدورفت میں شدید
مشکلات کا سامناہے ۔عوامی اورسماجی حلقوں نے
ڈی سی او محمد امین چوہدری سے مطالبہ کیاہے کہ
منڈی
بہاؤالدین فوری طورپر تجاوزات
ہٹاؤآپریشن شروع کرکے تجاوزات کا خاتمہ
اورٹریفک کی روانی کو یقینی بنایاجائے۔
۔۔۔۔۔۔
منڈی
بہاؤالدین(ڈاکٹرشاہدراٹھور)پھالیہ
روڈ پر بندکئے گئے یوٹرن دوبارہ کھول دیے
گئے،انتظامیہ بے خبر،حادثات کی شرح دوبارہ
بڑھنے کا امکان،تفصیلات کے مطابق چندماہ قبل
عوامی مطالبہ پر پھالیہ روڈ بنائے گئے
غیرضروری یوٹرن بندکردیے گئے تھے،جنہیں دوبارہ
کھول لیاگیاہے،پھالیہ روڈ پر جگہ جگہ بنائے
گئے یوٹرن حادثات کا سبب بن رہے تھے اورٹریفک
کا بہاؤ بھی متاثرتھا،عوامی حلقوں نے ضلع
انتظامیہ سے مطالبہ کیاتھاکہ غیرضروری یوٹرن
بند کردیے جائیں ،جس پر بیشتریوٹرن بندکردیے
گئے ،جس سے حادثات کی شرح میں نمایاں کمی واقع
ہوئی لیکن گذشتہ چندروز سے بندکئے یوٹرن
دوبارہ کھول دیے گئے ہیں۔ جس سے حادثات کی شرح
میں دوبارہ اضافہ ہونے کے خدشات بڑھ گئے
ہیں،عوامی اورسماجی حلقوں نے ڈی سی او
منڈی
بہاؤالدین سے مطالبہ کیاہے کہ دوبارہ
کھولے گئے یوٹرن بندکرائے جائیں۔
۔۔۔۔۔۔
منڈی
بہاؤالدین(ڈاکٹرشاہدراٹھور)ڈی
پی او نے 63کانسٹیبلان کومیرٹ پر لسٹ بی ون
میں درج کرلیا،تفصیلات کے مطابق ڈی پی او
امیرتیمورنے محکمہ پولیس کے 63کانسٹیبلان کو
میرٹ پر لسٹ بی و ن میں درج کرلیا،ضلع
منڈی
بہاؤالدین سے 163کانسٹیبلان نے بی ون
کیلئے امتحان دیا تھاجن میں سے
63امیدوارکامیاب ہوئے،انہیں میرٹ کی بنیاد پر
لسٹ بی ون میں درج کرلیاگیاہے،یادرہے کہ
بطورکانسٹیبل محکمہ پولیس میں بھرتی ہونے والے
ملازمین کو محکمہ پرموشن کیلئے یہ امتحان پاس
کرنا ہوتاہے ،لسٹ B1میں شامل کانسٹیبلان
بطورحوالدارپرموشن کیلئے امتحان دینے کے اہل
ہونگے۔
۔۔۔۔۔۔۔
منڈی
بہاؤالدین(ڈاکٹرشاہدراٹھور)ڈی
پی اودفترمیں روزانہ لگائی جانے والی کھلی
کچہری کاٹائم تبدیل کرکے 10سے
12کردیاگیا،تفصیلات کے مطابق ڈی پی اودفترمنڈی
بہاؤالدین میں روزانہ لگائی جانے والی
کھلی کچہری کا ٹائم تبدیل کردیاگیاہے،پی
ایس اوٹوڈی پی اوعبدالرؤف رانجھانے میڈیاکو
بتایاکہ اس سے قبل کھلی کچہری کا ٹائم روزانہ
صبح9 بجے سے 10بجے تھاجسے عوامی سہولت کیلئے
10سے 12بجے دن کردیاگیاہے۔
لاہور (
انس فاروقی ،جیوے پاکستان ) پنجاب سپورٹس
فیسٹول 2012ء
کے ہونے والے کالج میل اتھلیٹکس مقابلوں
میں 100میٹر ریس میں سرگودھا کے تنویر
عباس پہلے ، لاہور کے محسن علی دوسرے اور
حافظ شہباز علی تیسرے نمبر پر رہے ۔
200میٹر ریس کے مقابلوں میں لاہور سے طارق
محمود ، سرگودھا سے تنویر عباس اور
ساہیوال سے طارق محمود بالترتیب پہلے ،
دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔ 400میٹر ریس
کے مقابلوں میں گوجرانوالہ کے محمد شاہد
نے پہلے ، ساہیوال کے محمد اکرام نے دوسر
ی جبکہ سرگودھا کے صدام حسین نے تیسری
پوزیشن حاصل کی۔ 800میٹر ریس میں ساہیوال
کے محمد اکرام نے پہلی ، فیصل آباد کے
احسن ازاز نے دوسری جبکہ لاہور کے محسن
علی نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ لانگ جمپ کے
مقابلوں میں لاہور سے عدنان اور عاصم علی
جبکہ گوجرانوالہ سے محمد حسن بالترتیب
پہلے ، دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔ شاٹ
پٹ کے مقابلوں میں بہاولپور کے محمد ساجد
نے پہلی پوزیشن حاصل کی جبکہ گوجرانوالہ
کے رانا انتاش حیدر اور لاہور کے دانش
محمود نے دوسر ی اور تیسری پوزیشن حاصل کی۔
یونیورسٹی میل کے ویٹ لفٹنگ مقابلوں میں
لاہور ڈویژن فسٹ ، گوجرانوالہ سیکنڈ اور
سرگودھا ڈویژن کی ٹیم نے تھرڈ پوزیشن حاصل
کی۔ جنرل پبلک کے باسکٹ بال مقابلوں میں
لاہور ڈویژن کی ٹیم نے پہلی اور فیصل آباد
کی ٹیم نے دوسری پوزیشن حاصل کی۔ کرکٹ ٹیپ
بال کے مقابلوں میں لاہور نے بہاولپور کی
ٹیم کو شکست دی۔ باسکٹ بال کے بوائز کالج
مقابلوں میں لاہور نے پہلی جبکہ فیصل آباد
کی ٹیم نے دوسری پوزیشن حاصل کی۔ گرلز
یونیورسٹی کراٹے کے 45کلوگرام وزن کے
مقابلوں میں لاہور کی مدیحہ حسین نے گولڈ
، ماسومہ اعجاز، فیصل آباد نے سلورمیڈل
حاصل کی۔ 50کلوگرام مقابلوں میں لاہور کی
مریم لودھی نے گولڈ میڈ ل جبکہ فیصل آباد
کی پامیلا نے سلور میڈل جیتا۔ 50+مقابلوں
میں لاہور کی انزہ طاہر نے گولڈ جبک
گوجرانوالہ کی رباب نے سلور میڈل حاصل کیا۔
بوائز یونیورسٹی کے 48کلوگرام مقابلوں میں
لاہور کے وقاص نے گولڈ جبکہ بہاولپور کے
سجاد نے سلور میڈل جیتا ۔ اسی طرح
55کلوگرام کے مقابلوں میں لاہور کے عزیز
نے گولڈ اور بہاولپور کے زنورین نے سلور
میڈل حاصل کیا۔ 55+مقابلوں میں لاہور کے
شاہد نے گولڈ جبکہ ساہیوال کے محمد عباس
نے سلور میڈل حاصل کیا۔ کالج میل ہاکی میں
ساہیوال نے فیصل آباد کو (10-06)سے شکست
دی جبکہ راولپنڈی کو گوجرانوالہ نے (2-1)
سے شکست دی ۔ ملتان نے بہاولپور کو (5-1)
سے شکست دی۔ جنرل پبلک کے مقابلوں میں
فیصل آباد نے ساہیوال کو ( 5-1) سے
ہرایاجبکہ کہ گوجرانوالہ نے ملتان کو
(2-0) سے شکست دی۔ کالج والی بال کے بوائز
سیمی فائنل مقابلوں میں راولپنڈی نے
بہاولپور کو (3-0) سے ہرا یا جبکہ فیصل
آباد نے ملتان کو (3-0) سے شکست دی۔ فائنل
میچ آج 12-00بجے کھیلا جائے گا۔ یونیورسٹی
کے والی بال گرلز کے سیمی فائنل مقابلوں
میں لاہور نے بہاولپور کو (3-1) سے جبکہ
فیصل آباد نے ملتان کو (3-0) سے شکست دی۔
فائنل میچ آج 2 کھیلا جائے گا۔ باسکٹ بال
(بوائز ) جنرل پبلک کے فائنل میچ میں
لاہور نے فیصل آباد سے 68پوائنٹس کے
مقابلے میں 81پوائنٹس سے جیتا ۔ میچ کے
مہمانِ خصوصی خواجہ عمران نذیر ایم پی اے
تھے۔

طارق عظیم
لشکری
رئیسانی نے مجھے بتایا ہے کہ وہ پیپلز
پارٹی کی بنیادی رکنیت اور سینٹ کی سیٹ سے
استعفی دے رہے ہیں۔ بلوچستان سے پیپلز
پارٹی لوگوں کو پیسے دے کر ووٹ خرید رہی
ہے۔ آئیندہ کوئی بھی بل پیپلز پارٹی کی
مدد کے بغیر پاس نہیں ہو سکے گا۔ طارق
عظیم
اب تو سب لوگ کہہ رہے ہیں کہ مسلم لیگ ن
اور پیپلز پارتی میں مک مکا ہو چکا ہے۔
کروڑوں روپے فنڈز کے نام پر دے کر ارکان
سے ووٹ حاصل کئیے جا رہے ہیں۔ اعظم سواتی
ہم نے
پیپلز پارٹی کے ساتھ کسی قسم کی کوئی سیٹ
ایڈجسٹمنٹ نہیں کی ہے۔ ہم نے ضمنی الیکشن
میں پیپلز پارٹی کی دو سیٹیں جیتی ہیں
ہماری ان ساتھ کوئی انڈر سٹینڈنگ نہیں ہے۔
پی ٹی آئی میں مشرف کی باقیات شامل ہو رہی
ہیں۔ احسن اقبال
پشاور میں میری موجودگی میں ملسم لیگ ن نے
سینٹ کی ایک سیٹ کا فیصلہ ٹاس کے زریعے
کیا۔ اعظم سواتی
بلوچستان میں سینٹ کے الیکشن کی بہت
خطرناک صورت حال ہے۔ ایک رکن کا ووٹ لینے
کے لئیے اسے پینسٹھ کروڑ روپے دئیے گئے
ہیں۔ طارق عظیم
PML-N leader and
Member National Assembly (MNA) Pervez Malik
while
showing his exasperation over more increase in
the petrol prices,demanded of the government,
not only to withdraw the recent increase
but bring down the POL price at earliest.In a
press statement issued here Thursday, Perve
Malik said that highPOL prices would not only
lead to increase the production cost of
theshuffling industry but would also ruin the
national economy.He that the increase in the
petroleum products would cause anothersurge in
the prices of daily-use items and add the
worries of massesthat are already in deep
trouble due to cruel policies of the PPP-led
government.
He said that government was charging unjustifi
levy on the petroleumprices for their lavish
expenditures and not ready pass on any
benefit to the masses or the businessmen.He said
that PPP government had no intentions to put the
economy backon rail. He said that raise in
petroleum prices will force the peopleto take to
the streets and stage protests. He said that
themanufacturing sector was on the verge of
collapse because of irregularutilities prices,
high taxes, abrupt and long duratio
ofgas/electricity load shedding.He said that the
raise in the prices of petroleum products will
affectin leveraging inflation further by
translating raise in cost ofelectricity,
transportation and utilities. He said that the
PPPgovernment was resuscitating public towards a
dangerous civil war by
burdening them with high taxes/ prices of
utilities and petroleumproducts and absolutely
no move to amend the situation.He said that the
export industry wa already besieged with the
problems of excessive gas electricity load
shedding dangerous law &order situation and
increasing raw material prices. The government
hasplanned to give another shock to the industry
by increasing the pricesof petroleum
products.Pervez Malik said that the present
government had made dozens raisesin the prices
of petrol, electricity & gas. He said th
thousandsindustrial units had been closed down,
large num of industrialworkers lost the
employment and poverty graph was going up
rapidly butinstead of announcing some relief
package, government was busy to
torture the nation.
PML-N leader said the industrial sector of an
country plays afundamental role for economic
development but PPP government wastaking measure
adding its woesPervez Malik said that prices of
petroleum products would also give abig blow to
the agriculture sector as the diesel was being
used in theagri-machinery and tube wells etc. He
said that cultivation cost would
touch the peak while agriculture sector
nose-dive.
He demanded the government to take elect
representatives intoconfidence before making
trade, industry an masses related decisionsand
all matters should be discussed in the National
Assembly related
to the common man.
Mohammad Nisar
Special Spokesman
Schedule for
2nd March 2012 .Please note down.
1.Baskeball
[college female] ,9 am,Basketball
court Kinnaird college,lhr
Saqib usman
03008401100,modood jafri
03008416123
2.Kabaddi
[college male],9 am,Atique stadium
near shahi qila
ch talib
03457494070
3.Volleyball [univ
college male] ,9 am ,Iqbal park
sports complex
tariq
03214202780,hafeezullah
03338596236
4.Volleyball
[college /univ female ],9 am ,Lahore
college university for women
bashir
03009491459,maqsood
03216640860
5. March 2 to
3rd,2012
Hockey
[general public /college male],9
am,national hockey stadium
shafqat awan
03217219033,nawaz dogar
03016542837,mubashir
03214247777
6.March 2 to
3rd ,2012
takewondo [univ
male ],9 am,govt college gulberg
lahore
saba waris
03028440440,raees 03004232342,baber
03334221221
7.March 2 to
4th ,2012
Cricket
hardball [departments ],9 am,GCU
cricket ground
majid
03336761444,arshad qureshi
03144109746
8.March 2nd to
5th ,2012
Football[univ
male]punjab stadium,9 am
sajid
03336141026,maher
03006902173
9.March 2 to
5th ,2012
Hockey
[college female] ,9 am,national
hockey stadium
azra
03454160103,rakhshanda
03067349225,chand perveen
03334241935
10. March 2 to
5th ,2012
Hockey [univ
male ],national hockey stadium,9 am
nawaz
03016542837,shafqat awan
03217219033,nizami
03214709526
11.March 2 to
5th ,2012
hockey [univ
female],9 am,national hockey stadium
azra
03454160103,rakhshanda
03067349225,chand perveen
03334241935
12.March 2
to 5th ,2012
Kabadi [univ
male],9 am,atique stadium
ch t alib
03457494070,shah mohammed
03004276047
|