HomeTradeHotel & TourismSportsMagLocal GovtInterviews

Articles

Auto Industry of Pakistan

Bits & Bytes

Books & Authors

Career opportunity

Cement Sector of Pakistan

City News

Diplomatic Affairs

Education

Global Halal Expo

Health

Islamic Corner

KBCA

KESC Update

Kids Corner

Marketing

Pharma Industry

Security Agencies

SESSI

Special Reports

Buy and Sell Cars& Bikes

Buy and sell Property

Difa-e-Pakistan Daily

Horoscope & Palmistry

 

 

 

مسلم جیم خانہ کراچی کے روح رواں، محمد صدیق بلوانی  کی جیوے پاکستان  کے ایڈیٹر  عامر مجید سے خصوصی گفتگو
تمام پاکستانیوں کیلے میرا پیغام ہے ، ایمان دار بنو ۔۔۔
جیوے پاکستان کیلے بہت سی ممتاز شخصیات سے انٹرویو کرنے کا موقع ملا لیکن مجھے ذاتی طور پر جس شخصیت نے بے حد متاثر کیا وہ مسلم جم خانہ کراچی کے روح رواں اور ہر دلعزیز شخصیت محمد صدیق بلوانی کی ہے۔ وہ دو ٹوک اور سچائی پر مبنی باتیں کرتے ہیں ان کی گفتگو میں حب الوطنی خود بخود جھلکتی ہے وہ قومی تاریخ اور مسائل پر گہری نظر رکھتے ہیں اور پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے خواہش مند ہونے کے ساتھ ساتھ عملی طور پر اس کے لیے کوشاں نظر آتے ہیں یہ ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے قومی خزانے کو لوٹا نیہں بلکہ اپنا سب کچھ جو اس ارض پاک حاصل کیا وہ اس کی بہتری پر خرچ کر ڈالا ۔ ذلزلے کے متاثرین کی امداد کا معاملہ ہو یا سیلاب زدگان کی مشکلات کے ازالے کا موقع ہو۔ وہ ہر مشکل کی گھڑی میں متاثرین کی امداد کے لیے سب سے آگے نظر آتے ہیں وہ واقعی ہی ایسے شخص ہیں جو بے لوث خدمت کے جذبے سے سرشار ہیں۔
واضح رہے کہ مسلم جیم خانہ کے صدر محمد صدیق بلوانی  دو کتابوں کے مصنف بھی  ہیں یہ دونوں کتابیں بلوانی کی وانی [ گجراتی ] اور اسی کتاب کا ترجمہ بلوانی کا اند از بیان / میں نے دیکھا سقوط ڈھاکہ [اردو] جنہیں  انہوں نے اپنی والدہ ماجدہ مرحومہ رقیہ حاجیانی کے نام وقف کر رکھی ہیں۔
 آپ نے بھی بہت سی کتابیں دیکھی ہوں گی بہت سے مصنفین سے ملے بھی ہوں گے لیکن ماورائے حقیقت نہیں کہ صدیق بلوانی کا انداز بیان منفرد ہے ان کی کتاب پر قیمت کے خانے میں "مفت " درج ہے یہ بھی انہونی بات ہےکہ انہوں نے اپنی کتاب "بلوانی کا انداز بیان" میں بہت سے اہم واقعات اور امور کا احاطہ نہایت خوبصورتی سے کیا ہے ان کے موضوعات کا انتخاب بھی قابل تعریف ہے مثال کے طور پرانتخابات اور گجراتی قوم، میمن مشیر ،بھارت کے مسلمان، ضمنی انتخابات اور گجراتی قوم ،میمن اور گجراتی سیٹھوں سے اپیل، شاباش دھوراجی کے مخیر حضرات ،چیچنیا کے مسلمانوں کی مدد کریں،عمران کی شادی ،شیعہ سنی اتحاد ، شادی بیاہ کے کھانوں پر پابندی اور مسلم جم خانہ ، جمعہ بازار ،تاریخ بانٹوا ، جعلی رہنما جھوٹے دکھاوے،ٹوپی اور لیڈری ،عمامہ اور ٹوپی، مبارک باد یا چمچہ گری(چاپلوسی)، نواب جاگیردار ،زندگی ایک جنگ ہے،جعلی قائد ین ،اسلحہ کے لائسنس ،بھارت ٹوٹ جائے گا تقسیم ہو گا، بھارت پر مسلمانوں کا غلبہ ،ایٹم بم،
یہ اور اس کے علاوہ بھی انہوں نے بہت سے موضوعات پر کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے بنیادی طور پر وہ ایک صاف گو اور بہادر انسان نظر آتے ہیں ۔
میری ان سے بہت پرانی شناسائی نہیں ہے نہ ہی میری ان سے بہت زیادہ ملاقاتیں ہوئی ہیں ایک دوست کے ذریعے ان کا فون نمبر ملا جب فون پر بات ہوی توانہوں نے ملاقات کا وقت دے دیا۔ افطار کے بعد ان سے مسلم جیم خانہ میں جو پہلی ملاقات ہوئی ۔ وہ میرے لیے ایک اعزاز کی بات تھی انہوں نے غیر رسمی انداز میں کھل کر اپنے تجربات اور مشاہدات بیان کیے میں ان کی سچائی پر مبنی باتوں سےبہت حیران ہوا خوشی اس بات کی ہوئی کہ وہ دل کہ بہت اچھے انسان ہیں اگرچہ ان کی گفتگو میں کچھ الفاظ ان کی زندگی کے تلخ تجربات کی نشاندہی کرتے ہیں لیکن وہ انسان دوست اور صرف اللہ کا خوف دل میں رکھنے والے شخص نظر آئے۔ انہوں نے کوئی مصنوعی یا بناوٹ پر مبنی بات نںشی کی کسی کا بھی ذکر ہو وہ صاف گوئی کا دامن ہاتھ سے نںری چھوڑتے اور اپنی بات باانگ دہل کرتے ہیں اللہ تعالی نے ان کو بہت سی خصوصیات اور اوصاف سے نوازا ہے ایسے لوگ ہمارے ملک میں کم ہی ملتے ہیں انہوں نے مجھے اپنی کتابیں اور قران پاک کا نسخہ پیش کیا ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو قران پاک کا نسخہ پیش کرے اس سے بڑی بات اور کیا ہو سکتی ہے۔ مجھے بے حد مسرت ہے کہ مجھے رمضان المبارک کے مقدس اور بابرکت مہینے میں محمد صدیق بلوانی جیسے مخلص،بے لوث اور سچے پاکستانی شخص سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔
ان کی کتابوں کا مطالعہ کیا تو کئی اہم راز مجھ پر افشاں ہوئے اور میں نہایت دلچسپی سے ان کے بیان کردہ واقعات پڑھتا چلا گیا۔
منشی دھوراجی نے بالکل ٹھیک ہی لکھا ہے کہ موت کو اپنی مٹھی میں دباتے ہوے زندگی کے نشیب وفراز میں سفر جاری رکھنے والے محمد صدیق بلوانی نے سماج کے ایک چاک و چوبند محافظ کے طور پر مسلط رھتے ہیں اپنی زندگی کے دورانیے میں بہت کچھ سوچا اور بہت کچھ محسوس کیا ان کی زندگی میں پیش آنے والے تلخ و شیریں تجربات پر منحصر" یادیں" تحریری شکل میں لانی ہوں تو پانچ سو صفحات بھی تحریر کریں پھر بھی کم پڑ جائیں گے۔
وہ واقعتا اپنی ذات میں ایک انجمن کی حثیت رکھتے ہیں ان کہ پاس بہت سی یادیں ہیں بہت سے تجربات ہیں وہ وطن کا درد رکھتے ہیں بڑے بڑے سیاستدان اور سرکردہ شخصیات کے اصل چہروں سے بھر پور واقفیت رکھتے ہیں ۔ بڑے بڑے لوگوں کی چوریاں اور ڈاکے بھی ان سے چھپے نںاس ہوتے وہ بہت سے حقائق جانتے ہیں بہت سے رازوں کے امین ہیں بہت سی شخصیات کی اصلیت ان کو پتہ ہے۔
محسن پاکستان ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور حروں کے روحانی پیشوا پیر صاحب پگاڑا ان کے ذاتی دوست ہیں اور یہ دوستی آج کی نیہں بلکہ کئی دہائیوں پر مبنی ہے۔
وہ پاکستان کے حکمرانوں میں سب سے اچھا حاکم ایوب خان کو قرار دیتے ہیں گو کہ وہ ڈکٹیٹر تھا لیکن اس نے ملک میں صنعتی ترقی کا پہند چلایا اور ملک نے صحیح معنوں میں اس دور میں ترقی کی۔ مشرقی پاکستان کے گھروں میں ایوب خان کی تصویر لگائی جاتی تھی اس بات کے وہ چشم دید گواہ ہیں۔ ذولفقار علی بھٹو کہ بارے ان کا کہنا ہے کہ بھٹو نے ایک ہی اچھا کام کیا کہ ڈاکٹر قدیر کو پاکستان لے آیا اور پھر ڈاکٹر قدیر نے پاکستان کو ایٹم بم بنا دیا۔
ان کی شخصیت کا ایک اور پہلو بھی قابل ذکر ہے اور یہاں اس کا تذکرہ میں بے حد ضروری سمجھتا ہوں کیونکہ آج کے اس نفسانفسی ، حسد اور مفادپرستی کے دور میں جب والدین کو بھی ان کی اولاد چھوڑ دیتی ہے بے گھر ہونے والے ایسے بزرگ اور ضفون العمر کے لیے انہوں نے لسبیلہ میں 2 ہزار مربع گز کا ایک عالیشان بنگلہ خریدا ہے اور وہاں گھروں سے نکال دیے جانے والے ضعیف العمر افراد کے لیے رہائش اور طعام کی تمام سہولتیں مہیا کر دی ہیں اس کے علاوہ اس آرام دہ گھر میں فریج، ڈیپ فریزر، واشنگ مشین ،دو اخبار روزانہ اور اس کے علاوہ ضعیف افراد کے لیے ضروریات زندگی کی تمام اشیاء مہیا کی گئی ہیں اور یہ افراد ان سہولتوں سے مکمل استفادہ کر رہے ہیں ۔ اس چمن آرام گھر کی خوبی یہ ہے کہ یہاں کوئی چارجز نںقی ہیں۔