|
Looking For Job?
Submit your Resume Here!
Join us on
>> <<

In Pakistan,
Social Security Scheme was launched on 1st March, 1967, under West
Pakistan Employees' Social Security Ordinance No. X of 1965, with the
assistance of the International Labour Organization. The Sindh Employees'
Social Security Institution (SESSI), however, came into being on 1st July,
1970 when the Scheme was reorganized on provincial basis after the
dissolution of One-Unit. Initially, the Scheme was designed for coverage
of textile industry workers of Karachi and Hyderabad. On getting
encouraging results later on the Scheme was extended to all other
industries and commercial units.
AMIR
NAWAB KHAN
(Minister Labour, Sindh/Chairman Governing Body SESSI)
Mr. Amir Nawab Khan is an elected MPA from Karachi
PS-93. He is M.A. (Economics) from University of Karachi and also done
L.L.B. from Federal Urdu Law College. He had been actively engaged in
Social and Political activities from his student life and formed an NGO in
1977. He started his political career as Councilor in 1979 and elected
thrice till 1992. He remained Nazim TMA SITE during 2001-2005. He has
taken charge as Minister Labour, Sindh on 12th April, 2008.
|
|
 
یوم
مئی محنت کشوں کا عالمی دن ہمیں مزدوروں کی جدوجہد کی یاد دلاتا اور ایک
نئے عزم کی تحریک دیتا ہے‘امیرنواب ، وزیرمحنت سندھ
کراچی( یکم اپریل) صوبائی وزیرمحنت امیرنواب خان نے مزدوروں کے عالمی دن کے
موقع پر ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ یوم مئی محنت کشوں
کا عالمی دن ہمیں مزدوروں کی جدوجہد کی یاد دلاتا اور ایک نئے عزم کی تحریک
دیتا ہے۔ محنت کش ملک کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ بات
انہوں نے محنت کشوں کے نام اپنے پیغام میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ آج سے
125سال قبل 1886ء میں محنت کشوں نے اپنے خون سے تاریخ میں حقوق کا باب رقم
کیا تھا۔ اس دِن ابتداء ہوئی تھی آنے والے دنوں میں سماجی، معاشی اور
طبقاتی سطح پر تفریق کو ختم کرنے اور استحصالی قوتوں کو وہ آئینہ دکھانے کی
جس میں انہیں اپنی مسخ صورتیں نظر آسکیں۔ مزدورں کے حقوق کے تمام قوانین اس
دن دی جانے والی قربانی کے مرہونِ منت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک طویل
سفر کے بعد آج محنت کش اس مقام تک پہنچے ہیں جہاں ان کے معاشی اور سماجی
تحفظ کے دفاع کے لئے وضع کردہ قوانین ہیں۔ ان قوانین پر عمل درآمد کروانا
حکومت کی ذمہ داری ہے۔ سندھ میں محکمہ محنت، محنت کشوں کے حقوق کا نگہبان
ہے۔ یہ حقوق جہاں انتظامی امور سے متعلق ہیں وہاں محنت کشوں اور ان کے
لواحقین کی فلاح کی بھی ضمانت دیتے ہیں۔ اس وقت صوبے میں نظامت محنت، سوشل
سیکورٹی اسکیم، نظامتِ افرادی قوت و تربیت، کم سے کم اجرتوں کا بورڈ، صنعتی
عدالتیں، کانکنوں کی بہبود کی تنظیم اور سندھ ورکرز ویلفیئربورڈ وہ ادارے
ہیں جن کا براہ راست تعلق محنت کشوں کی فلاح سے ہے۔وزیرمحنت نے کہا کہ
موجودہ جمہوری حکومت نے IRO-2002 کا خاتمہ کیا ۔ ٹریڈیونینز پر سے پابندی
ختم کی، روزگار کے استحکام کو اولیت دی ہے۔ اس سلسلے میں ایک اور اہم قدم
ریموول فرام سروس ایکٹ کا خاتمہ بھی ہے۔ جس کے نتیجے میں مزدوروں کے حقوق
بحال ہوئے اور 183 ٹریڈیونینز رجسٹرڈ ہوئیں۔ امیرنواب نے کہا کہ محنت کشوں
کی فلاح کیلئے انقلابی اقدامات کیے ہیں جن میں بنیادی تنخواہ غیرہنرمند
ورکرز کے لئے بڑھا کر 7000/- روپے کردی گئی ہے کم از کم پنشن 1500سے بڑھا
کر 2000روپے کردی ہے۔ جہیز فنڈ کی گرانٹ کو 50ہزار سے بڑھا کر 70ہزار روپے
کیا گیا ہے یہ گرانٹ جو کہ پہلے دو بیٹیوں کے لئے مخصوص تھی اب ہر بیٹی کے
لئے ہے جبکہ سوشل سیکورٹی اسکیم کے فوائد حاصل کرنے والے محنت کشوں کی
تنخواہ کی حد 5000روپے سے بڑھا کر 10000 روپے کی گئی ہے، اسی طرح کنٹری
بیوشن کی شرح 7 فیصد سے 6فیصد کردی گئی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ محنت کش اور
ان کے اہل خانہ اس ادارے کی طرف سے دی جانے والی مراعات سے مستفید
ہوسکیں۔صوبے میں ایمپلائمنٹ ایکسچینج جو غیرفعال پڑے تھے۔ انہیں دوبارہ نہ
صرف بحال کیا گیا بلکہ جدیدسہولتوں سے بھی آراستہ کیا گیا۔ آئی ایل او کے
تعاون سے صوبائی چائلڈلیبریونٹ کا قیام عمل میں آیا ہے۔ انٹرنیشنل
لیبرآرگنائزیشن(ILO) اوریورپین یونین(EU) کے تعاون سے لیبرڈپارٹمنٹ سندھ نے
سکھر کو چائلڈلیبر سے پاک ڈسٹرکٹ قرار دیا۔وزیرمحنت نے محنت کشوں کی عظمت
اور ان کے وقار کو سراہتے ہوئے انہیں ملک و قوم کی ترقی کیلئے ناگزیر قرار
دیا اور کہا کہ ’’میری ہر ممکن کوشش ہے کہ محنت کشوں کو وہ تمام سہولیات و
مراعات فراہم ہوں جو لیبر قوانین کے تحت ان کا حق ہے۔ میری یہ بھی کوشش ہے
کہ آجر اور اجیر کے درمیان باہمی مفاہمت اور اچھے تعلقات ہوں تاکہ پر امن
ماحول میں صنعتی ترقی کو فروغ ملتا رہے۔‘‘
|
|
    

|
جناب
نذر محمد کلہوڑو
کمشنر سندھ ایمپلائز سوشل
سیکورٹی انسٹی ٹیوشن
یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ کسی بھی ملک کی صنعت اس وقت ترقی
نہیں کرسکتی جب تک وہاں امن قائم نہ ہو۔ صنعتی امن قائم رکھنے کے
لئے آجران اور محنت کشوں میں اعتماد کا رشتہ قائم ہونا چاہئے۔ یہ
اعتماد اسی وقت پیدا ہوسکتا ہے جب محنت کش اپنے حالاتِ کار سے
مطمئن ہوں اور ایسے اندیشوں سے بے نیاز ہوں جو ان کی توجہ کام سے
زیادہ ذاتی مسائل پر مرکوز رکھنے پر مجبور کرے۔ ایسی صورتِ حال سے
بچنے اور محنت کشوں کو اندیشوں سے پاک خوشگوار ماحول میں کام کرنے
کے لئے متعدد فلاحی اسکیمیں ساری دنیا میں عمل میں لائی گئی ہیں جن
میں سوشل سیکورٹی اسکیم سرفہرست ہے۔
پاکستان میں اس اسکیم پر یکم مارچ 1967ء سے عمل درآمد ہورہا ہے۔
ہمارے صوبے میں سندھ ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوشن محنت کشوں
اور ان کے لواحقین کو اسکیم کے فوائد مہیا کرنے کا ذمہ دار ادارہ
ہے۔ اس کے تحت صنعتی اور تجارتی اداروں میں کام کرنے والے محنت
کشوں اور ان کے لواحقین کو جن میں والدین بھی شامل ہیں کو طبی
فوائد مہیا کرنے کے علاوہ بیماری، دورانِ کار چوٹ، معذوری جیسے
ناگہانی حالات میں مالی فوائد بھی ادا کرتا ہے۔
یومِ مئی محنت کشوں کا عالمی دن ہے۔ اِس دن محنت کشوں نے اپنی جان
دے کر حقوق کے حصول کو ممکن بنایا۔ ان حقوق کا تحفظ آجران اور
حکومت دونوں کی ذمہ داری ہے۔ سوشل سیکورٹی اسکیم اپنی ذمہ داریوں
کومد نظر رکھتے ہوئے سہہ فریقی نظام کے تحت رائج کی گئی ہے۔ سیسی
کی گورننگ باڈی میں آجران اور محنت کشوں کی موثرنمائندگی ہے جو
وزیرمحنت کی چیئرمین شپ میں ادارے کے لئے ایسی پالیسی وضع کرتی ہے
جس سے محنت کشوں کو حاصل ہونے والے فوائد کو بہتر سے بہتر بنایا
جاسکے۔ آج کے دن ادارے کا ہر ملازم محنت کشوں کی خدمت کو اپنا شعار
بنانے کا اعادہ کرتا ہے۔ |
جناب
مختیار حسین سومرو
سیکریٹری محنت سندھ
حکومت سندھ کے محکمہ محنت اور اس کے ملحقہ ادارے سوشل سیکورٹی ،
لیبرڈپارٹمنٹ، کم از کم اجرتوں کا بورڈ، نظامت افرادی قوت و تربیت،
کانکنوں کی بہبود کی تنظیم اور ورکز ویلفیئربورڈ سب اپنی اپنی
قانونی حدود میں رہتے ہوئے محنت کشوں کی خدمت کررہے ہیں۔ ان کی
کوششوں کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ محنت کشوں کو ایک ایسا خوشگوار
ماحول فراہم کیا جائے جس سے پوری توانائی کے ساتھ اپنے فرائض انجام
دے کر صوبے کی معیشت کو مضبوط سے مضبوط تر کرتے رہیں۔ یوم مئی کے
موقع پر ہم اس بات کا اعادہ کریں گے کہ محنت کشوں اور ان کے اہل
خانہ کو بہتر سے بہتر مراعات کی فراہمی میں کوئی دقیقہ فردگذاشت
نہیں کریں گے۔



|
  |

|
-
سیسی ہیڈآفس میں دو
عدد(02) پسنجر لفٹس کی فراہمی اور تنصیب پر3.722ملین روپے خرچ
کیے گئے۔
-
2.366ملین روپے کی لاگت سے سوشل سیکورٹی کے وی سائٹ اسپتال
کراچی میں بیڈ لفٹ کی فراہمی اور تنصیب کی جارہی ہے۔
-
سوشل سیکورٹی لانڈھی
ہسپتال میں 300KVA ڈیزل جنریٹنگ کی فراہمی اور تنصیب مع کیبل
ورک کی گئی جس پر 7.030ملین روپے خرچ
ہوئے۔
-
سوشل
سیکورٹی کوٹری اسپتال ایریا کوٹری کیلئے ایڈمنسٹریشن بلاک کی
تعمیر کیلئے 1.000 ملین روپے خرچ کیے جارہے ہیں۔
|
-
7.023 ملین روپے کی لاگت
سے سوشل سیکورٹی حیدرآباداسپتال آئی سی یو وارڈز کی توسیع کی
گئی۔
-
10.023ملین روپے کی لاگت سے سوشل سیکورٹی کوٹری اسپتال میں او
پی ڈی اور رہائش گاہوں کی تعمیرکی گئی۔
-
1.873 ملین روپے کی لاگت
سے سوشل سیکورٹی کے وی سائٹ اسپتال کراچی میں ری
انفورسڈسیمنٹ کنکریٹ ریمپ کی تعمیر کی گئی۔
-
2.500
ملین روپے کی لاگت سے سوشل سیکورٹی لانڈھی اسپتال کراچی میں ری
انفورسڈسیمنٹ کنکریٹ ریمپ کی تعمیر کی گئی۔
|
سندھ
سوشل ویلفیئر کونسل کو این جی اوز کے تعاون سے متحرک اور فعال کیا جائے ۔نرگس
این ڈی خان
کراچی31جنوری:۔صوبائی وزیر برائے سماجی بہبود نرگس این ڈی خان نے سندھ سوشل
ویلفیئر کونسل کے اراکین کو ہدایت کی ہے کہ وہ کونسل کو متحرک اور فعال
بنانے کے لئے غیر سرکاری تنظیموں( این جی اوز) کے ساتھ عوامی بھلائی کے نئے
منصوبے شروع کرنے کے لئے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں تاکہ
صوبہ بھر میں فلاحی کاموں سے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل ہو سکے یہ
ہدایت صوبائی وزیر نے آج اپنے دفتر کے کمیٹی روم میں سندھ سوشل ویلفیئر
کونسل کے اجلاس کی صدارت کے دوران دیں صوبائی وزیرنے کہا کہ کونسل کی جانب
سے این جی اوز کو ملنے والی گرانٹس میں موجودہ وقت کے لحاظ سے ایک مربوط
پالیسی بنائی جائے تاکہ انہیں مالی طور پر مضبوط بنا کر عوامی فلاحی
پروجیکٹس شروع کرانے میں مدد مل سکے ۔انہوں نے کہا کہ کونسل کے اراکین کے
پاس کام کرنے والی این جی اوز کی ڈائریکٹری ہونی چاہئے تاکہ ان سے بروقت
رابطہ کرنے میں مدد مل سکے صوبائی وزیر نے بتایا کہ سندھ کابینہ نے چائلڈ
پروٹیکشن اتھارٹی کے قیام کے لئے مسودہ قانون کی منظوری دے دی ہے جس سے
بچوں کے حقوق کا تحفظ ہوسکے گا۔اجلاس میں صوبائی رابطہ کار عبدالشکور ابڑو
‘کونسل کے ایگزیکٹیو آفیسر الطاف احمد کے علاوہ مسز مریم ابراہیم ‘ شیریں
رحمت اللہ ‘اظہر علی شاہیں شہزادی بیگم اور دیگر نے شرکت کی
اجلاس میں تزئین زیدی ‘تحسین الحق اور قربان علی میمن کے ایصال ثواب کے لئے
فاتحہ خوانی کی گئی۔
صوبے میں
سوشل سیکورٹی اسکیم کو مزید موثر بنانے اور اس کے دائرہ کار کو وسیع کرنے
کے لیے تمام افسران قانونی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے دستیاب وسائل بروئے
کار لائیں اور سوشل سیکورٹی کنٹری بیوشن کا ہدف پورا کریں،
امیرنواب خان
کراچی (اسٹاف رپورٹر) صوبائی وزیرمحنت
امیرنواب خان نے کہاہے کہ اس سلسلہ میں غفلت اور کوتاہی برتنے والوں
کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار
انہوں نے سندھ سوشل سیکورٹی ہیڈآفس میں سیسی کے صوبے بھر کے تمام ڈائریکٹرز
اور افسران کی کارکردگی کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس
میں کمشنر سیسی نذرمحمدکلہوڑو، وائس کمشنر ڈاکٹرجمیل بدر، ڈائریکٹرکنٹری
بیوشن ثمینہ سعیداور صوبے بھر کے تمام ڈائریکٹرز نے شرکت کی ۔وزیرمحنت نے
تمام افسران سے فرداً فرداً اُن کی کارکردگی خصوصاً صنعتوں میں محنت کشوں
کی رجسٹریشن سمیت ٹارگٹ پورا کرنے کے حوالے سے رپورٹ طلب کی۔جن افسران کی
کارکردگی خراب تھی ان پر وزیرمحنت نے اپنی سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے
کہاکہ ان علاقوں میں صنعتوں اور محنت کشوں کی تعداد زیادہ ہے لیکن آپ کا
کام نظر نہیں آرہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ مجھے ہر افسر سے اس کے کام کا رزلٹ
چاہیے۔ کام میں کسی قسم کی لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ بعض افسران نے
کہاکہ اُن کے یہاں عملے کی کمی ہے۔ اس پر صوبائی وزیر نے کمشنر سیسی کو
احکامات دیے کہ جن ڈائریکٹوریٹ آفسز میں عملے کی کمی ہے اُس کو پورا کیا
جائے۔ امیرنواب نے افسران سے کہاکہ وہ اپنے آفسز سے باہر نکلیں اور محنت
کشوں کی رجسٹریشن کے لیے صنعتوں کا دورہ کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ محنت
کشوں اور ان کے لواحقین کو سوشل سیکورٹی کے فوائد حاصل ہوسکیں۔
سندھ سوشل
سیکورٹی نے محنت کشوں اور انکے لواحقین کو طبی اور مالی فوائد کی مد
میں6کروڑ42لاکھ1ہزارروپے خرچ کئے
کمشنر سیسی
کی زیر صدارت اجلاس میں سیسی کی گذشتہ ماہ کی کارکردگی کا جائزہ لیا
گیا
کراچی( جیوے پاکستان ) کمشنر سندھ ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوشن
نذرمحمدکلہوڑونے سیسی کے افسران کو ہدایت کی کہ صوبے میں سوشل سیکورٹی کی
اسکیم کو مزید موثر بنانے کے لئے زیادہ سے زیادہ محنت کشوں تک اس کے فوائد
پہنچائے جائیں۔ یہ بات انہوں نے آج سیسی کی ماہانہ کارکردگی کی جائزہ میٹنگ
کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہاکہ ادارے کے اہداف پورے کرنے کے ساتھ
ساتھ اس کی خدمات کو بھی خصوصاً طبی خدمات کو بہتر بنانا افسران کی ذمہ
داری ہے اور وہ اس سلسلے میں ہر ایک کو متحرک دیکھنا چاہتے ہیں۔ اجلاس میں
کمشنر سیسی کوبتایا گیا کہ سیسی نے گزشتہ ماہ میں سوشل سیکورٹی اسکیم کے
تحت تحفظ یافتہ محنت کشوں اور ان کے لواحقین کو طبی فوائد کی مد میں 6کروڑ5
لاکھ25ہزار روپے خرچ کیے اور مالی فوائد کی مد میں 36لاکھ 76ہزار روپے ادا
کئے گئے جبکہ کل ادائیگی میں سے 14لاکھ 45ہزارروپے معاوضہ بیماری، 15لاکھ
19ہزارروپے معذوری کی پنشن،5لاکھ 9ہزار روپے دورانِ کارچوٹ کا معاوضہ،1لاکھ
47ہزارروپے پسماندگان کی پنشن،19ہزارروپے معاوضہ زچگی، 20ہزارروپے موت/عدت
پر مالی امداد کی صورت میں جبکہ17ہزار روپے ورکر کی فلاح و بہبود پر خرچ
کئے گئے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ ماہ سوشل سیکورٹی کنٹری بیوشن کی مد
میں 24ہزار445 رجسٹرڈصنعتی و تجارتی اداروں سے 14کروڑ4لاکھ 8ہزار روپے وصول
کیے گئے جبکہ اس دوران اسکیم کے تحت تحفظ یافتہ محنت کشوں کی تعداد5
لاکھ47ہزار468رہی۔ ادارے کی طبی خدمات کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ
گزشتہ ماہ سوشل سیکورٹی کے طبی مراکز کے بیرونی علاج کے شعبے میں مریضوں کی
ایک لاکھ30ہزار79حاضریاں درج کی گئیں۔17ہزار427مریضوں کو خصوصی معالجین کے
پاس بھیجا گیا جبکہ سیسی کے اسپتالوں میں280بڑے آپریشن کیے گئے۔
سیسی
نے گزشتہ ماہ محنت کشوں کو طبی سہولیات کی مد میں 10کروڑ1لاکھ75ہزار روپے
خرچ کیے
وزیرمحنت امیرنواب خان کی زیر صدارت اجلاس میں محنت کشوں
کو دی جانے والی سہولتوں کا جائزہ لیا گیا
کراچی( جیوے پاکستان ) صوبائی وزیرمحنت / چیئرمین گورننگ باڈی سیسی
امیرنواب خان نے کہا ہے کہ صوبے میں سوشل سیکورٹی اسکیم کو مزید موثر بنانے
اور اس کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کیلئے متعدد اقدامات کئے جارہے ہیں تاکہ
تحفظ یافتہ محنت کشوں اور ان کے لواحقین کو ہر ممکن سہولتیں میسر آسکیں اور
وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی پوری توجہ صنعتی ترقی پر
مرکوز رکھ سکیں۔ یہ بات انہوں نے آج سیسی کی ماہانہ کارکردگی کی جائزہ
میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں کمشنر سیسی اعجاز احمد خان اور
دیگر افسران نے شرکت کی۔ انہوں نے کہاکہ ادارے کے اہداف پورے کرنے کے ساتھ
ساتھ اس کی خدمات کو بھی خصوصاً طبی خدمات کو بہتر بنانا افسران کی ذمہ
داری ہے اور وہ اس سلسلے میں ہر ایک کو متحرک دیکھنا چاہتے ہیں۔ اجلاس میں
وزیرمحنت کوبتایا گیا کہ سیسی نے گزشتہ ماہ میں سوشل سیکورٹی اسکیم کے تحت
تحفظ یافتہ محنت کشوں اور ان کے لواحقین کو طبی فوائد کی مد میں 10کروڑ
1لاکھ75ہزار روپے خرچ کیے اور مالی فوائد کی مد میں 43لاکھ 64ہزار روپے ادا
کئے گئے جبکہ کل ادائیگی میں سے 11لاکھ57ہزار روپے معاوضہ بیماری، 23لاکھ
15ہزار روپے معذوری کی پنشن/گریجویٹی، 5لاکھ37ہزار روپے دورانِ کار چوٹ کا
معاوضہ، 2لاکھ36ہزار روپے پسماندگان کی پنشن، 38ہزارمعاوضہ زچگی
اور78ہزارروپے موت/عدت پر مالی امداد کی صورت میں ادا کیے گئے۔ اجلاس کو
بتایا گیا کہ گزشتہ ماہ سوشل سیکورٹی کنٹری بیوشن کی مد میں 23ہزار28
رجسٹرڈصنعتی و تجارتی اداروں سے 14کروڑ85لاکھ 4ہزار روپے وصول کیے گئے جبکہ
اس دوران اسکیم کے تحت تحفظ یافتہ محنت کشوں کی تعداد5 لاکھ25ہزار691رہی۔
ادارے کی طبی خدمات کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ ماہ سوشل
سیکورٹی کے طبی مراکز کے بیرونی علاج کے شعبے میں مریضوں کی ایک
لاکھ28ہزار762حاضریاں درج کی گئیں۔ 14ہزار610مریضوں کو خصوصی معالجین کے
پاس بھیجا گیا جبکہ سیسی کے اسپتالوں میں265بڑے آپریشن کیے گئے۔
محنت
کی عظمت کو سلام
(محمدظفرخان)
پبلک ریلیشنز آفیسر وزیرمحنت
اسلامی نظریہ کے مطابق رزق کمانا
انسان کو دین و دنیا میں سرخرو کرتا ہے۔ حلال روزی کما کر اپنے اہل و عیال
کا پیٹ پالنا اور اپنے بیوی بچوں کو دوسروں کی محتاجی سے بچانا سب سے بڑی
عبادت ہے۔ رزقِ حلال کمانے والوں کے لئے اﷲ تعالیٰ اپنی رحمت کے خزانے کھول
دیتا ہے۔ دنیا میں باعزت مقام دیتا ہے اور آخرت میں اُسے نجات ملے گی۔(سورۃ
بقرہ کی آیت نمبر29میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ زمین کی سطح کے اوپر یا زمین
کے اندر جتنے بھی خزانے ہیں جن سے انسان اپنے لیے روزی پیدا کرسکتا ہے وہ
سب اﷲ تعالیٰ نے انسانوں کے لیے پیدا کیے ہیں تاکہ انسان اپنی محنت سے اپنے
لیے اور اپنے اہل وعیال کے لیے رزق تلاش کرے۔) رسول اکرم ﷺ نے فرمایا ہے کہ
کسی نے اس سے بہتر کھانا نہیں کھایا ہے جو اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھائے۔
پیشے اپنی نوعیت کے اعتبار سے مختلف ہوتے ہیں کسی میں ہاتھ کی محنت زیادہ
ہوتی ہے اور کسی میں جسم کے دوسرے اعضاء یعنی دماغ، آنکھ، پاؤں کمر وغیر کی
قوت صرف ہوتی ہے تو ایسے سارے پیشے جس میں محنت و مشقت صرف ہو وہ ہاتھ کی
کمائی میں شمار کیے جاتے ہیں اور ایسی کمائی اس کمائی سے افضل ہے جو بیٹھے
بٹھائے بغیرمحنت کے حاصل ہو کیونکہ جو مال انسان کو محنت کے بغیرمل جاتا ہے
انسان اُس کی قدر نہیں کرتا۔ رسول اکرم ﷺ نے سب سے زیادہ مظلوم طبقے غلام
اور محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ مزدور کی اجرت
اُس کا پسینہ خشک ہونے سے قبل ادا کردی جائے۔ یکم مئی محنت کشوں کا عالمی
دن ہے۔ اِس دن محنت کشوں نے اپنی جان دے کر حقوق کے حصول کو ممکن بنایا۔
محنت کش طبقہ آج دنیا کے ہر ملک میں ایک موثر طاقت بن چکا ہے اور صنعتی
ترقی کے عمل نے محنت کشوں کی تحریک کو اور مضبوط بنادیا ہے۔ انسانی حقوق کی
سربلندی کی تحریک میں محنت کشوں نے بھرپور کردار ادا کیاہے۔ موجودہ دور میں
ہمارے محنت کش طبقہ کی حالت معاشی اور سماجی اعتبار سے پسماندہ ہے۔ سماجی
طور پر اُسے معاشرے میں وہ حیثیت اور وہ مقام حاصل نہیں جس کا وہ حقدار ہے۔
مطمئن، خوشحال اور صحت مند محنت کشوں کے لئے ان کے سماجی و معاشی تحفظات کو
مکمل طور پر یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ آجر اور اجیر کے درمیان جو فاصلہ ہے
اسے نہ صرف کم کرنے بلکہ ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلہ میں صوبائی وزیر
محنت امیرنواب خان نے اپنی وزارت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد محنت کشوں کے
مسائل کے حل کے لئے بھرپور کوششیں شروع کردیں ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ
محنت کشوں کی سماجی و معاشی خوشحالی، ملک و ملت کی سلامتی اور خوشحالی ہے۔
محنت کش خوش اور مطمئن ہوں گے تو پیداواری عمل تیز اور معیاری ہوگا۔
مصنوعات کی ترسیل میں تیزی آئے گی۔ درآمدات میں اضافے سے زرمبادلہ میں
اضافہ ہوگا، جس سے ملک میں بھی خوشحالی آئے گی اور وہ ترقی کی راہ پر گامزن
ہوگا۔ آج ہمارا ملک جس جمہوری دور سے گزر رہا ہے اس کی تشکیل میں ہمارے
محنت کش بھائیوں کا بھی قابل فخر حصہ ہے۔ محنت کش کسی بھی قوم کا سب سے
فعال اور متحرک طبقہ ہے جو ترقی کے عمل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ دنیا کے
کسی بھی معاشری نظام میں محنت کش کی حیثیت مسلمہ ہوتی ہے۔ محنت کش معاشرے
اور ملک کی ترقی کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی محنت و
جانفشانی سے پہاڑوں میں راستہ بنتا ہے اور سمندروں میں بستیاں آباد ہوتی
ہیں۔ یہ محنت کش ہی ہیں جن کے سونے جیسے ہاتھ زرے کو آفتاب کی طرح منور
کرتے ہیں۔ اس وقت پاکستان میں سندھ ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوشن محنت
کشوں کی فلاح کا وہ ادارہ ہے جو اپنے محدود وسائل میں رہتے ہوئے محنت کشوں
اور ان کے لواحقین کو مالی و طبی فوائد فراہم کررہا ہے۔ اس ادارے کے قیام
کا مقصد محنت کشوں کو زیادہ سے زیادہ معاشی تحفظ اور خوشگوار ماحول فراہم
کرنا ہے جہاں وہ یکسوئی اور پوری توانائی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے سکیں
تاکہ صوبے کی معشیت پروان چڑھے اور ملک ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہو۔ سوشل
سیکورٹی اسکیم سہ فریقی نظام پر چلتی ہے۔ اجیر اور آجر معیشت کا اہم ستون
اور حکومت ان میں رابطے کا ذریعہ ہے۔ آجر کا کردار ان میں سب سے اہم ہے۔
محنت کشوں کو مختلف لیبر قوانین کے تحت مراعات کی فراہمی آجران کے مکمل
تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔ اس لئے دونوں کی اہمیت اپنی جگہ مسلمہ حیثیت
رکھتی ہے اور ان سب کے لئے باہمی تعاون سے اسکیم پر عمل درآمد ہوتا ہے۔
رجسٹریشن کا طریقہ:۔
اسکیم کے تحت پہلے آجران کا سوشل سیکورٹی آرڈیننس کی دفعہ (3) 1 کے تحت کیا
جاتا ہے۔ رجسٹریشن کے عمل کا آغاز اداروں کے سروے سے کیا جاتا ہے تاکہ
زیادہ سے زیادہ اداروں کے محنت کش اسکیم میں شامل ہوکر طبی اور مالی فوائد
حاصل کرسکیں۔
اداروں کا رجسٹریشن:۔
سوشل سیکورٹی اسکیم کا اطلاق ایسے صنعتی و تجارتی اداروں پر ہوتا ہے جس میں
کم از کم پانچ ایسے ملازمین کام کرتے ہوں جن کی اجرت 10,000/- روپے ماہانہ
یا 400/- روپے یومیہ تک ہو۔ کسی بھی صنعتی یا تجارتی ادارے کو سوشل سیکورٹی
اسکیم میں شامل کرنے کے لئے سوشل سیکورٹی افسر بذات خود ادارے میں جاتا ہے
اور اُس کی انتظامیہ کو سروے فارم مہیا کرتا ہے تاکہ ضروری کوائف حاصل
ہوسکیں۔ اس فارم میں ادارے کا نام، پتہ کام کی نوعیت، محنت کشوں کی تعداد،
اُن کی اجرت وغیرہ کی تفصیل ہوتی ہیں۔ اس ادارے کی انتظامیہ فارم پرکرکے
سوشل سیکورٹی آفیسر کو واپس کرتی ہے۔ سوشل سیکورٹی کے مقامی دفاتر ان
فارموں کو ہیڈآفس ارسال کرتے ہیں جہاں گورننگ باڈی کی ذیلی کمیٹی تفصیلی
جائزہ لینے کے بعد اپنی سفارش پیش کرتی ہے کہ ان اداروں کو اسکیم میں شامل
کیا جائے۔ صوبائی محکمہ محنت نوٹیفکیشن جاری کرتا ہے اس کے بعد حکومت کے
گزٹ نوٹیفکیشن کی تاریخ اجراء سے یہ ادارے اسکیم میں شامل ہوجاتے ہیں۔
محنت کشوں کا رجسٹریشن:۔
سوشل سیکورٹی آرڈیننس کی دفعہ (8) 2 کے تحت ملازم سے مراد ہر ایسا فرد ہے
جسے براہ راست یا کسی کے ذریعے اجرت پر کام کرنے کے لئے رکھا گیا ہو، خواہ
وہ ہنرمند ہو یا غیرہنرمند، سپروائزر، کلرک، ہاتھ سے یا دوسری طرح کام کرنے
والا ہو، انڈسٹری یا ادارے کے معاملات سے متعلق ہو، اسکا تقرر معاہدہ
ملازمت یا اپرنٹس شپ کے تحت ہو، تحریری یا زبانی ہو۔ موجودہ حکومت نے محنت
کشوں کی سوشل سیکورٹی اسکیم میں رجسٹریشن کے لئے اجرت کی حد یکم جولائی
2008سے 10,000/- روپے ماہانہ یا 400/- روپے یومیہ تک کردی ہے۔
سوشل سیکورٹی کنٹری بیوشن:۔
سوشل سیکورٹی اسکیم کے اخراجات اس آمدنی سے پورے کئے جاتے ہیں جو آجران
سوشل سیکورٹی کنٹری بیوشن کی مد میں ادا کرتے ہیں۔ اس ضمن میں سیسی کو
حکومت کی جانب سے کسی قسم کی کوئی امداد نہیں ملتی۔
خود تشخیصی اسکیم:۔
سوشل سیکورٹی آرڈیننس مجریہ 1965 کی دفعہ 2میں ذیلی دفعہ 25a کا اضافہ کرکے
خود تشخیصی اسکیم کا اجرا یکم جولائی 2001سے کیا گیا ہے۔ آرڈیننس میں دفعہ
20A کا بھی اضافہ کیا گیا ہے، جس کے تحت وہ آجر جو اس اسکیم کو اختیار کرتا
ہے اس کی یہ قانونی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر تحفظ یافتہ محنت کش کا کنٹری
بیوشن جمع کرائے۔ دفعہ (4)22 کے تحت خود تشخیصی اسکیم اختیار کرنے والے
ادارے دو سال تک سالانہ آڈٹ سے مسثنیٰ ہوں گے۔
سوشل سیکورٹی اسکیم کے تحت مالی فوائد:۔
بیماری کا مالی معاوضہ: عام بیماری کی صورت میں آخری اجرت کا 75فیصد سال
میں 121دن تک ادائیگی جبکہ ٹی بی یا کینسر کی صورت میں اجرت کا 100فی صد365
دن تک یہ معاوضہ دیا جاتا ہے۔
کام کے دوران لگنے والی چوٹ کا معاوضہ: کام کے دوران چوٹ کی صورت میں آخری
اجرت کا 100فی صد سال میں 180دن تک یہ معاوضہ دیا جاتا ہے۔
زچگی کا معاوضہ: تحفظ یافتہ خاتون محنت کش کے ہاں زچگی کی صورت میں اجرت کا
100فی صد کے مساوی 12ہفتے تک زچگی کے معاوضہ کی ادائیگی کی جاتی ہے۔
موت پر مالی امداد: تحفظ یافتہ محنت کش کے انتقال پر تجہیز و تکفین کے لئے
ان کے ورثاء کو 1500روپے یکمشت ادائیگی کی جاتی ہے۔
عدت کا مالی معاوضہ: محنت کش کی بیوہ ہونے کی صورت میں 100فی صد کے مساوی
عدت الاؤنس کی ادائیگی 130 دن تک کی جاتی ہے۔
معذوری کا عطیہ: کام کے دوران چوٹ کے نتیجے میں جزوی یا کلی معذوری کی صورت
میں معذوری کا عطیہ یا پینشن کی ادائیگی کی جاتی ہے۔
پسماندگان کی پینشن: اگر محنت کش کام کے دوران حادثہ کی صورت میں انتقال کر
جائے تو اس کے ورثاء کو پینشن ادا کی جاتی ہے۔
خصوصی مالی امداد: محنت کشوں کو 500روپے سے لے کر 5000روپے تک خصوصی مالی
امداد دی جاتی ہے۔
سوشل سیکورٹی اسکیم کے تحت طبی سہولتیں:۔
محنت کشوں کو طبی سہولتیں کی فراہمی کے لئے ادارے کے تحت صوبے کے مختلف
علاقوں میں 39 ڈسپنسریاں، 4اسپتال اور 5میڈیکل سینٹر قائم ہیں۔ کڈنی سینٹر
لانڈھی کا اضافہ ابھی حال ہی میں کیا گیا ہے۔
|
|
Cash Benefits SEESI Provide
- Cash Benefits: Under Social
Security Scheme secured workers are entitled to cash sickness benefit,
injury benefit, maternity benefit, iddat benefit, disablement gratuity,
disablement pension, ex-gratia grant and dependants get survivors'
pension and death grant.
- Online
Registration Form
SESSI is a service oriented
organization. The function of the Institution is unique in nature for the
welfare of labour class. It aims at providing medical care facilities and
cash benefits to the secured workers and their dependants. |