Pakistan's first comprehensive & bilingual news website                                                         

HomeTradeHotel & TourismSportsMagLocal GovtInterviews

Articles

Bits & Bytes

Books & Authors

Career opportunity

City News

Diplomatic Affairs

Education

Global Halal Expo

Health

Islamic Corner

KBCA

KESC Update

Kids Corner

Marketing

SESSI

Special Reports

Buy and Sell Cars& Bikes

Buy and sell Property

 

Looking For Job?

Submit your Resume Here!

 

 

Join us on

>><<

  

In Pakistan, Social Security Scheme was launched on 1st March, 1967, under West Pakistan Employees' Social Security Ordinance No. X of 1965, with the assistance of the International Labour Organization. The Sindh Employees' Social Security Institution (SESSI), however, came into being on 1st July, 1970 when the Scheme was reorganized on provincial basis after the dissolution of One-Unit. Initially, the Scheme was designed for coverage of textile industry workers of Karachi and Hyderabad. On getting encouraging results later on the Scheme was extended to all other industries and commercial units.

AMIR NAWAB KHAN       (Minister Labour, Sindh/Chairman Governing Body SESSI)
Mr. Amir Nawab Khan is an elected MPA from Karachi PS-93. He is M.A. (Economics) from University of Karachi and also done L.L.B. from Federal Urdu Law College. He had been actively engaged in Social and Political activities from his student life and formed an NGO in 1977. He started his political career as Councilor in 1979 and elected thrice till 1992. He remained Nazim TMA SITE during 2001-2005. He has taken charge as Minister Labour, Sindh on 12th April, 2008.

 

 

سیسی نے گزشتہ ماہ محنت کشوں کو مالی سہولیات کی مد میں 38لاکھ 42ہزار822 روپے خرچ کیے 
وزیرمحنت امیرنواب خان کی زیر صدارت اجلاس میں محنت کشوں کو دی جانے والی سہولتوں کا جائزہ لیا گیا
کراچی( جولائی) صوبائی وزیرمحنت / چیئرمین گورننگ باڈی سیسی امیرنواب خان نے کہا ہے کہ صوبے میں سوشل سیکورٹی اسکیم کو مزید موثر بنانے اور اس کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کیلئے متعدد اقدامات کئے جارہے ہیں تاکہ تحفظ یافتہ محنت کشوں اور ان کے لواحقین کو ہر ممکن سہولتیں میسر آسکیں اور وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی پوری توجہ صنعتی ترقی پر مرکوز رکھ سکیں۔ یہ بات انہوں نے آج سیسی کی ماہانہ کارکردگی کی جائزہ میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ میٹنگ میں گزشتہ مالی سال کے دوران ایجوکیشن سیس کی وصولی کا جائزہ بھی لیا گیا۔ گزشتہ سال ایجوکیشن سیس کی مد میں 3کروڑ55لاکھ 95ہزار 775 روپے وصول ہوئے۔ یہ رقم محنت کشوں کے بچوں کی تعلیم پر خرچ کی جائیگی۔اجلاس میں کمشنر سیسی نذرمحمدکلہوڑو، وائس کمشنر اعجازاحمدمیمن اور دیگر افسران نے شرکت کی۔ انہوں نے کہاکہ سوشل سیکورٹی کنٹری بیوشن اور ایجوکیشن سیس کے اہداف پورے کرنے کے ساتھ ساتھ ادارے کی خدمات کو بھی خصوصاً طبی خدمات کو بہتر بنانا افسران کی ذمہ داری ہے اور وہ اس سلسلے میں ہر ایک کو متحرک دیکھنا چاہتے ہیں۔ اجلاس میں وزیرمحنت کوبتایا گیا کہ سیسی نے گزشتہ ماہ میں سوشل سیکورٹی اسکیم کے تحت تحفظ یافتہ محنت کشوں اور ان کے لواحقین کو مالی فوائد کی مد میں 38لاکھ42ہزار822 روپے خرچ کیے اور جبکہ کل ادائیگی میں سے 13لاکھ3ہزار روپے معاوضہ بیماری، 18لاکھ 8ہزار روپے معذوری کی پنشن/گریجویٹی، 4لاکھ12ہزار روپے دورانِ کار چوٹ کا معاوضہ، 1لاکھ78ہزار روپے پسماندگان کی پنشن، 22ہزارمعاوضہ زچگی اور62ہزارروپے موت/عدت پر مالی امداد کی صورت میں ادا کیے گئے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ ماہ سوشل سیکورٹی کنٹری بیوشن کی مد میں 23ہزار217 رجسٹرڈصنعتی و تجارتی اداروں سے 14کروڑ61لاکھ 70ہزار روپے وصول کیے گئے جبکہ اس دوران اسکیم کے تحت تحفظ یافتہ محنت کشوں کی تعداد5 لاکھ41ہزار202رہی۔ ادارے کی طبی خدمات کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ ماہ سوشل سیکورٹی کے طبی مراکز کے بیرونی علاج کے شعبے میں مریضوں کی ایک لاکھ34ہزار939حاضریاں درج کی گئیں۔ 14ہزار997مریضوں کو خصوصی معالجین کے پاس بھیجا گیا جبکہ سیسی کے اسپتالوں میں255بڑے آپریشن کیے گئے۔

ملازمت پیشہ خواتین کو رہائش کی سہولتیں فراہم کرنے کیلئے ہوسٹلز تعمیر کیے جائینگے‘امیرنواب خان
ورکنگ وومن سپورٹ سینٹر کراچی کے وفد سے صوبائی وزیرمحنت کی ملاقات
کراچی (جیوے پاکستان ) صوبائی وزیرمحنت امیرنواب خان نے کہا ہے کہ ممحکمہ محنت، نجی اداروں اور غیرسرکاری تنظیموں کے باہمی تعاون سے ملازمت پیشہ خواتین کو رہائش کی سہولتیں فراہم کرنے کے لئے ہوسٹلز تعمیر کیے جائیں گے۔ اس کے ساتھ ہی خواتین کی فوری شکایت کے ازالے کے لیے وومن کمپلین سینٹر بھی بنایا جائے گا اور گھریلو ملازمین مرد اور خواتین کو بھی سوشل سیکورٹی میں رجسٹر کرکے تمام سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دفتر میں ورکنگ وومن سپورٹ سینٹر کراچی کے وفد سے ملاقات کرتے ہوئے کیا۔ وفد کی قیادت ورکنگ وومن سپورٹ سینٹر کی پروجیکٹ کوآرڈینیٹر مس نازش ابراہیم اور ضیاء اعوان ایڈووکیٹ نے کی۔ وفد میں مس صدف اور عبدالہادی شامل تھے۔ اس موقع پر سیکریٹری لیبر علم دین بلو، کمشنرسیسی نذرمحمدکلہوڑو، ڈائریکٹرلیبر سندھ میرمحمدبلوچ، ڈائریکٹرویسٹ گلفام نبی بھی موجود تھے۔ وفد کے ارکان نے صوبائی وزیر کو ورکنگ وومن کے مسائل سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ کراچی بڑا شہر ہونے کی وجہ سے غیرممالک ملک کے دیگر صوبوں اور اندرونِ سندھ سے بھی خواتین ملازمت کرنے کراچی آتی ہیں۔ ان کو کراچی میں رہائش کا مسئلہ سب سے زیادہ ہوتا ہے اور رہائش نہ ہونے کی وجہ سے خواتین یہاں اپنے آپ کوغیرمحفوظ تصور کرتی ہیں اور اگر خواتین کو کوئی مسئلہ درپیش ہوتو ان کی شکایت کے حل کے لیے وومن کمپلین سینٹر بنایا جائے۔ انہوں نے چائلڈلیبر اور خواتین کے دیگر مسائل پر بھی گفتگو کی۔ وزیرمحنت نے کہاکہ موجودہ جمہوری حکومت نے خواتین کے حقوق کی پاسداری کیلئے کئی تاریخی اقدامات کیے ہیں۔ جس میں خواتین کو ہراساں کرنے والوں کو جرمانے اور سزائیں دینا۔ خواتین قیدیوں کی رہائی و معاشرے میں باعزت بحالی، وزیراعلیٰ ہاؤس میں شکایتی مرکز کا قیام اور غریب اور مستحق خواتین کو مالی طور پر مستحکم کرنے کے لئے بینظیرانکم سپورٹ پروگرام ملک کے صوبائی سطح پر شروع کیا۔ اس کے علاوہ حکومت نے غریب و نادار خواتین کو معاشی طور پر امداد فراہم کرکے ان کو باعزت زندگی گزارنے کے لئے شہیدبینظیروومن سپورٹ پروگرام بھی شروع کیا ہے اور ابتدائی طور پر اس کے لئے 4بلین روپے مختص کیے ہیں۔ امیرنواب نے کہاکہ حکومت نے پہلی دفعہ گارمنٹس اور دیگر فیکٹریوں میں کام کرنے والی خواتین کو سندھ سوشل سیکورٹی میں رجسٹر کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان کا کنٹری بیوشن حکومت خود ادا کرے گی۔ اس لیے فیکٹری مالکان اور خواتین کو بھی چاہیئے کہ وہ سندھ سوشل سیکورٹی کے دفتر سے رابطہ کریں تاکہ اُن کو بھی ادارے کی طرف سے تمام سہولیات مفت فراہم کی جائیں۔ وزیرمحنت نے کہاکہ جس طرح ہم نے صوبے سے چائلڈلیبر کے خاتمے کیلئے یورپی یونین اور آئی ایل او کے تعاون سے پراونشل چائلڈلیبریونٹ قائم کیا ہے۔ اسی طرح ہم خواتین کے لئے غیرسرکاری تنظیموں کے تعاون سے وومن کمپلین سینٹر اور رہائشی یونٹ بنائیں گے۔ صوبائی وزیر نے کہاکہ جتنی سہولیات موجودہ جمہوری حکومت نے خواتین کو فراہم کی ہیں اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔
 

سندھ ایمپلائز سوشل سیکورٹی کے تحت ترقیاتی پروگرام

  • سیسی ہیڈآفس میں دو عدد(02) پسنجر لفٹس کی فراہمی اور تنصیب پر3.722ملین روپے خرچ کیے گئے۔

  • 2.366ملین روپے کی لاگت سے سوشل سیکورٹی کے وی سائٹ اسپتال کراچی میں بیڈ لفٹ کی فراہمی اور تنصیب کی جارہی ہے۔

  • سوشل سیکورٹی لانڈھی ہسپتال میں 300KVA ڈیزل جنریٹنگ کی فراہمی اور تنصیب مع کیبل ورک کی گئی جس پر 7.030ملین روپے خرچ ہوئے۔

  • سوشل سیکورٹی کوٹری اسپتال ایریا کوٹری کیلئے ایڈمنسٹریشن بلاک کی تعمیر کیلئے 1.000 ملین روپے خرچ کیے جارہے ہیں۔

  • 7.023 ملین روپے کی لاگت سے سوشل سیکورٹی حیدرآباداسپتال آئی سی یو وارڈز کی توسیع کی گئی۔

  • 10.023ملین روپے کی لاگت سے سوشل سیکورٹی کوٹری اسپتال میں او پی ڈی اور رہائش گاہوں کی تعمیرکی گئی۔

  • 1.873 ملین روپے کی لاگت سے سوشل سیکورٹی کے وی سائٹ اسپتال کراچی میں ری انفورسڈسیمنٹ کنکریٹ ریمپ کی تعمیر کی گئی۔

  • 2.500 ملین روپے کی لاگت سے سوشل سیکورٹی لانڈھی اسپتال کراچی میں ری انفورسڈسیمنٹ کنکریٹ ریمپ کی تعمیر کی گئی۔

 

سندھ ایمپلائز سوشل سیکورٹی کے تحت ترقیاتی پروگرام   

جناب نذر محمد کلہوڑو
کمشنر سندھ ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوشن
یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ کسی بھی ملک کی صنعت اس وقت ترقی نہیں کرسکتی جب تک وہاں امن قائم نہ ہو۔ صنعتی امن قائم رکھنے کے لئے آجران اور محنت کشوں میں اعتماد کا رشتہ قائم ہونا چاہئے۔ یہ اعتماد اسی وقت پیدا ہوسکتا ہے جب محنت کش اپنے حالاتِ کار سے مطمئن ہوں اور ایسے اندیشوں سے بے نیاز ہوں جو ان کی توجہ کام سے زیادہ ذاتی مسائل پر مرکوز رکھنے پر مجبور کرے۔ ایسی صورتِ حال سے بچنے اور محنت کشوں کو اندیشوں سے پاک خوشگوار ماحول میں کام کرنے کے لئے متعدد فلاحی اسکیمیں ساری دنیا میں عمل میں لائی گئی ہیں جن میں سوشل سیکورٹی اسکیم سرفہرست ہے۔
پاکستان میں اس اسکیم پر یکم مارچ 1967ء ؁ سے عمل درآمد ہورہا ہے۔ ہمارے صوبے میں سندھ ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوشن محنت کشوں اور ان کے لواحقین کو اسکیم کے فوائد مہیا کرنے کا ذمہ دار ادارہ ہے۔ اس کے تحت صنعتی اور تجارتی اداروں میں کام کرنے والے محنت کشوں اور ان کے لواحقین کو جن میں والدین بھی شامل ہیں کو طبی فوائد مہیا کرنے کے علاوہ بیماری، دورانِ کار چوٹ، معذوری جیسے ناگہانی حالات میں مالی فوائد بھی ادا کرتا ہے۔
یومِ مئی محنت کشوں کا عالمی دن ہے۔ اِس دن محنت کشوں نے اپنی جان دے کر حقوق کے حصول کو ممکن بنایا۔ ان حقوق کا تحفظ آجران اور حکومت دونوں کی ذمہ داری ہے۔ سوشل سیکورٹی اسکیم اپنی ذمہ داریوں کومد نظر رکھتے ہوئے سہہ فریقی نظام کے تحت رائج کی گئی ہے۔ سیسی کی گورننگ باڈی میں آجران اور محنت کشوں کی موثرنمائندگی ہے جو وزیرمحنت کی چیئرمین شپ میں ادارے کے لئے ایسی پالیسی وضع کرتی ہے جس سے محنت کشوں کو حاصل ہونے والے فوائد کو بہتر سے بہتر بنایا جاسکے۔ آج کے دن ادارے کا ہر ملازم محنت کشوں کی خدمت کو اپنا شعار بنانے کا اعادہ کرتا ہے۔


جناب علم دین بلو
سیکریٹری محنت سندھ


حکومت سندھ کے محکمہ محنت اور اس کے ملحقہ ادارے سوشل سیکورٹی ، لیبرڈپارٹمنٹ، کم از کم اجرتوں کا بورڈ، نظامت افرادی قوت و تربیت، کانکنوں کی بہبود کی تنظیم اور ورکز ویلفیئربورڈ سب اپنی اپنی قانونی حدود میں رہتے ہوئے محنت کشوں کی خدمت کررہے ہیں۔ ان کی کوششوں کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ محنت کشوں کو ایک ایسا خوشگوار ماحول فراہم کیا جائے جس سے پوری توانائی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے کر صوبے کی معیشت کو مضبوط سے مضبوط تر کرتے رہیں۔ یوم مئی کے موقع پر ہم اس بات کا اعادہ کریں گے کہ محنت کشوں اور ان کے اہل خانہ کو بہتر سے بہتر مراعات کی فراہمی میں کوئی دقیقہ فردگذاشت نہیں کریں گے۔



 

امیرنواب خان، وزیرمحنت سندھ
 

یوم مئی محنت کشوں کا عالمی دن ہمیں مزدوروں کی جدوجہد کی یاد دلاتا اور ایک نئے عزم کی تحریک دیتا ہے۔ آج سے 124سال قبل 1886ء میں محنت کشوں نے اپنے خون سے تاریخ میں حقوق کا باب رقم کیا تھا۔ اس دِن شکاگو کی سڑک پر ایک ایسی شاہراہ کی طرف سفر کا آغاز ہوا جو سرمایہ دارانہ استحصالی نظام سے مساوی انسانی حقوق کی طرف جاتی ہے۔ اس دِن ابتداء ہوئی تھی آنے والے دنوں میں سماجی، معاشی اور طبقاتی سطح پر تفریق کو ختم کرنے اور استحصالی قوتوں کو وہ آئینہ دکھانے کی جس میں انہیں اپنی مسخ صورتیں نظر آسکیں۔ مزدورں کے حقوق کے تمام قوانین اس دن دی جانے والی قربانی کے مرہونِ منت ہیں۔
غلامانہ روایت کو توڑ کر سرمایہ داروں سے محنت کی عظمت تسلیم کروانا آسان کام نہیں تھا۔ ایک طویل سفر کے بعد آج محنت کش اس مقام تک پہنچے ہیں جہاں ان کے معاشی اور سماجی تحفظ کے دفاع کے لئے وضع کردہ قوانین ہیں۔ ان قوانین پر عمل درآمد کروانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ سندھ میں محکمہ محنت، محنت کشوں کے حقوق کا نگہبان ہے۔ یہ حقوق جہاں انتظامی امور سے متعلق ہیں وہاں محنت کشوں اور ان کے لواحقین کی فلاح کی بھی ضمانت دیتے ہیں۔ اس وقت صوبے میں نظامت محنت، سوشل سیکورٹی اسکیم، نظامتِ افرادی قوت و تربیت، کم سے کم اجرتوں کا بورڈ، صنعتی عدالتیں، کانکنوں کی بہبود کی تنظیم اور سندھ ورکرز ویلفیئربورڈ وہ ادارے ہیں جن کا براہ راست تعلق محنت کشوں کی فلاح سے ہے۔
حکومت نے IRO-2002 کا خاتمہ کرکے IRA-2008 کا نفاذ کیا ۔ ٹریڈیونینز پر سے پابندی کا ہٹانا بھی اس جمہوری حکومت کی ایک بڑی کامیابی ہے۔ جمہوری حکومت نے روزگار کے استحکام کو اولیت دی ہے۔ اس سلسلے میں ایک اور اہم قدم ریموول فرام سروس ایکٹ (Removal from service Act)کا خاتمہ بھی ہے۔ جس کے نتیجے میں مزدوروں کے حقوق بحال ہوئے اور 183 ٹریڈیونینز رجسٹرڈ ہوئیں۔ 121 سی بی اے/ ریفرنڈم ہوئے۔ 116صنعتی تنازعات کا تصفیہ ہوا۔ ورکس مین کمپنسیشن ایکٹ اور دیگر مد میں 14کروڑ 53لاکھ روپے کی ادائیگی کی گئی۔
موجودہ جمہوری حکومت نے محنت کشوں کی فلاح کیلئے انقلابی اقدامات کیے ہیں جن میں بنیادی تنخواہ جو غیرہنرمند ورکرز کے لئے 4600/- روپے تھی، بڑھا کر 6000/- روپے کردی گئی ہے کم از کم پنشن 1500سے بڑھا کر 2000روپے کردی ہے۔ جہیز فنڈ کی گرانٹ کو 50ہزار سے بڑھا کر 70ہزار روپے کیا گیا ہے یہ گرانٹ جو کہ پہلے دو بیٹیوں کے لئے مخصوص تھی اب ہر بیٹی کے لئے ہے جبکہ سوشل سیکورٹی اسکیم کے فوائد حاصل کرنے والے محنت کشوں کی تنخواہ کی حد 5000روپے سے بڑھا کر 10000 روپے کی گئی ہے، اسی طرح کنٹری بیوشن کی شرح 7 فیصد سے 6فیصد کردی گئی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ محنت کش اور ان کے اہل خانہ اس ادارے کی طرف سے دی جانے والی مراعات سے مستفید ہوسکیں۔صوبے میں ایمپلائمنٹ ایکسچینج جو غیرفعال پڑے تھے۔ انہیں دوبارہ نہ صرف بحال کیا گیا بلکہ جدیدسہولتوں سے بھی آراستہ کیا گیا۔ انہیں کمپیوٹرز اور روزگار کے مقام پرلے جانے کیلئے گاڑیاں مہیا کی گئیں۔ حکومت نے چائلڈلیبر کی طرف بھی توجہ دی۔ حکومت سندھ ابتدا سے ہی اس پروگرام میں نہ صرف مخلص رہی ہے بلکہ چائلڈلیبریونٹ کے قیام میں بھی اُس نے پہل کی ہے۔ آئی ایل او کے تعاون سے صوبائی چائلڈلیبریونٹ کا قیام عمل میں آیا ہے جووفاقی حکومت کے پروگرام کا حصہ ہے اور اس کا مقصد ایک متفقہ لائحہ عمل کے تحت بچوں کی مشقت کے خاتمے کے لئے کام کرنا ہے۔ اس کے علاوہ نیشنل رولر سپورٹ(NRSP)، انٹرنیشنل لیبرآرگنائزیشن(ILO)، یورپین یونین(EU) اور لیبرڈپارٹمنٹ سندھ، ڈسٹرکٹ گورنمنٹ سکھر اور نیشنل رولرسپورٹ پروگرام کے عملی تعاون سے سکھر کو چائلڈلیبر سے پاک ڈسٹرکٹ قرار دیا گیا ہے اور یہاں سے اس پروگرام کا باقاعدہ آغاز ہوگیا ہے۔
میری ہر ممکن کوشش ہے کہ محنت کشوں کو وہ تمام سہولیات و مراعات فراہم ہوں جو لیبر قوانین کے تحت ان کا حق ہے۔ میری یہ بھی کوشش ہے کہ آجر اور اجیر کے درمیان باہمی مفاہمت اور اچھے تعلقات ہوں تاکہ پر امن ماحول میں صنعتی ترقی کو فروغ ملتا رہے۔

 

سیسی نے گزشتہ ماہ محنت کشوں کو طبی سہولیات کی مد میں 10کروڑ1لاکھ75ہزار روپے خرچ کیے
وزیرمحنت امیرنواب خان کی زیر صدارت اجلاس میں محنت کشوں کو دی جانے والی سہولتوں کا جائزہ لیا گیا
کراچی( جیوے پاکستان ) صوبائی وزیرمحنت / چیئرمین گورننگ باڈی سیسی امیرنواب خان نے کہا ہے کہ صوبے میں سوشل سیکورٹی اسکیم کو مزید موثر بنانے اور اس کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کیلئے متعدد اقدامات کئے جارہے ہیں تاکہ تحفظ یافتہ محنت کشوں اور ان کے لواحقین کو ہر ممکن سہولتیں میسر آسکیں اور وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی پوری توجہ صنعتی ترقی پر مرکوز رکھ سکیں۔ یہ بات انہوں نے آج سیسی کی ماہانہ کارکردگی کی جائزہ میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں کمشنر سیسی اعجاز احمد خان اور دیگر افسران نے شرکت کی۔ انہوں نے کہاکہ ادارے کے اہداف پورے کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی خدمات کو بھی خصوصاً طبی خدمات کو بہتر بنانا افسران کی ذمہ داری ہے اور وہ اس سلسلے میں ہر ایک کو متحرک دیکھنا چاہتے ہیں۔ اجلاس میں وزیرمحنت کوبتایا گیا کہ سیسی نے گزشتہ ماہ میں سوشل سیکورٹی اسکیم کے تحت تحفظ یافتہ محنت کشوں اور ان کے لواحقین کو طبی فوائد کی مد میں 10کروڑ 1لاکھ75ہزار روپے خرچ کیے اور مالی فوائد کی مد میں 43لاکھ 64ہزار روپے ادا کئے گئے جبکہ کل ادائیگی میں سے 11لاکھ57ہزار روپے معاوضہ بیماری، 23لاکھ 15ہزار روپے معذوری کی پنشن/گریجویٹی، 5لاکھ37ہزار روپے دورانِ کار چوٹ کا معاوضہ، 2لاکھ36ہزار روپے پسماندگان کی پنشن، 38ہزارمعاوضہ زچگی اور78ہزارروپے موت/عدت پر مالی امداد کی صورت میں ادا کیے گئے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ ماہ سوشل سیکورٹی کنٹری بیوشن کی مد میں 23ہزار28 رجسٹرڈصنعتی و تجارتی اداروں سے 14کروڑ85لاکھ 4ہزار روپے وصول کیے گئے جبکہ اس دوران اسکیم کے تحت تحفظ یافتہ محنت کشوں کی تعداد5 لاکھ25ہزار691رہی۔ ادارے کی طبی خدمات کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ ماہ سوشل سیکورٹی کے طبی مراکز کے بیرونی علاج کے شعبے میں مریضوں کی ایک لاکھ28ہزار762حاضریاں درج کی گئیں۔ 14ہزار610مریضوں کو خصوصی معالجین کے پاس بھیجا گیا جبکہ سیسی کے اسپتالوں میں265بڑے آپریشن کیے گئے۔

محنت کی عظمت کو سلام
(محمدظفرخان)
پبلک ریلیشنز آفیسر وزیرمحنت

اسلامی نظریہ کے مطابق رزق کمانا انسان کو دین و دنیا میں سرخرو کرتا ہے۔ حلال روزی کما کر اپنے اہل و عیال کا پیٹ پالنا اور اپنے بیوی بچوں کو دوسروں کی محتاجی سے بچانا سب سے بڑی عبادت ہے۔ رزقِ حلال کمانے والوں کے لئے اﷲ تعالیٰ اپنی رحمت کے خزانے کھول دیتا ہے۔ دنیا میں باعزت مقام دیتا ہے اور آخرت میں اُسے نجات ملے گی۔(سورۃ بقرہ کی آیت نمبر29میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ زمین کی سطح کے اوپر یا زمین کے اندر جتنے بھی خزانے ہیں جن سے انسان اپنے لیے روزی پیدا کرسکتا ہے وہ سب اﷲ تعالیٰ نے انسانوں کے لیے پیدا کیے ہیں تاکہ انسان اپنی محنت سے اپنے لیے اور اپنے اہل وعیال کے لیے رزق تلاش کرے۔) رسول اکرم ﷺ نے فرمایا ہے کہ کسی نے اس سے بہتر کھانا نہیں کھایا ہے جو اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھائے۔ پیشے اپنی نوعیت کے اعتبار سے مختلف ہوتے ہیں کسی میں ہاتھ کی محنت زیادہ ہوتی ہے اور کسی میں جسم کے دوسرے اعضاء یعنی دماغ، آنکھ، پاؤں کمر وغیر کی قوت صرف ہوتی ہے تو ایسے سارے پیشے جس میں محنت و مشقت صرف ہو وہ ہاتھ کی کمائی میں شمار کیے جاتے ہیں اور ایسی کمائی اس کمائی سے افضل ہے جو بیٹھے بٹھائے بغیرمحنت کے حاصل ہو کیونکہ جو مال انسان کو محنت کے بغیرمل جاتا ہے انسان اُس کی قدر نہیں کرتا۔ رسول اکرم ﷺ نے سب سے زیادہ مظلوم طبقے غلام اور محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ مزدور کی اجرت اُس کا پسینہ خشک ہونے سے قبل ادا کردی جائے۔ یکم مئی محنت کشوں کا عالمی دن ہے۔ اِس دن محنت کشوں نے اپنی جان دے کر حقوق کے حصول کو ممکن بنایا۔
محنت کش طبقہ آج دنیا کے ہر ملک میں ایک موثر طاقت بن چکا ہے اور صنعتی ترقی کے عمل نے محنت کشوں کی تحریک کو اور مضبوط بنادیا ہے۔ انسانی حقوق کی سربلندی کی تحریک میں محنت کشوں نے بھرپور کردار ادا کیاہے۔ موجودہ دور میں ہمارے محنت کش طبقہ کی حالت معاشی اور سماجی اعتبار سے پسماندہ ہے۔ سماجی طور پر اُسے معاشرے میں وہ حیثیت اور وہ مقام حاصل نہیں جس کا وہ حقدار ہے۔ مطمئن، خوشحال اور صحت مند محنت کشوں کے لئے ان کے سماجی و معاشی تحفظات کو مکمل طور پر یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ آجر اور اجیر کے درمیان جو فاصلہ ہے اسے نہ صرف کم کرنے بلکہ ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلہ میں صوبائی وزیر محنت امیرنواب خان نے اپنی وزارت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد محنت کشوں کے مسائل کے حل کے لئے بھرپور کوششیں شروع کردیں ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ محنت کشوں کی سماجی و معاشی خوشحالی، ملک و ملت کی سلامتی اور خوشحالی ہے۔ محنت کش خوش اور مطمئن ہوں گے تو پیداواری عمل تیز اور معیاری ہوگا۔ مصنوعات کی ترسیل میں تیزی آئے گی۔ درآمدات میں اضافے سے زرمبادلہ میں اضافہ ہوگا، جس سے ملک میں بھی خوشحالی آئے گی اور وہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔ آج ہمارا ملک جس جمہوری دور سے گزر رہا ہے اس کی تشکیل میں ہمارے محنت کش بھائیوں کا بھی قابل فخر حصہ ہے۔ محنت کش کسی بھی قوم کا سب سے فعال اور متحرک طبقہ ہے جو ترقی کے عمل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ دنیا کے کسی بھی معاشری نظام میں محنت کش کی حیثیت مسلمہ ہوتی ہے۔ محنت کش معاشرے اور ملک کی ترقی کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی محنت و جانفشانی سے پہاڑوں میں راستہ بنتا ہے اور سمندروں میں بستیاں آباد ہوتی ہیں۔ یہ محنت کش ہی ہیں جن کے سونے جیسے ہاتھ زرے کو آفتاب کی طرح منور کرتے ہیں۔ اس وقت پاکستان میں سندھ ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوشن محنت کشوں کی فلاح کا وہ ادارہ ہے جو اپنے محدود وسائل میں رہتے ہوئے محنت کشوں اور ان کے لواحقین کو مالی و طبی فوائد فراہم کررہا ہے۔ اس ادارے کے قیام کا مقصد محنت کشوں کو زیادہ سے زیادہ معاشی تحفظ اور خوشگوار ماحول فراہم کرنا ہے جہاں وہ یکسوئی اور پوری توانائی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے سکیں تاکہ صوبے کی معشیت پروان چڑھے اور ملک ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہو۔ سوشل سیکورٹی اسکیم سہ فریقی نظام پر چلتی ہے۔ اجیر اور آجر معیشت کا اہم ستون اور حکومت ان میں رابطے کا ذریعہ ہے۔ آجر کا کردار ان میں سب سے اہم ہے۔ محنت کشوں کو مختلف لیبر قوانین کے تحت مراعات کی فراہمی آجران کے مکمل تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔ اس لئے دونوں کی اہمیت اپنی جگہ مسلمہ حیثیت رکھتی ہے اور ان سب کے لئے باہمی تعاون سے اسکیم پر عمل درآمد ہوتا ہے۔
رجسٹریشن کا طریقہ:۔
اسکیم کے تحت پہلے آجران کا سوشل سیکورٹی آرڈیننس کی دفعہ (3) 1 کے تحت کیا جاتا ہے۔ رجسٹریشن کے عمل کا آغاز اداروں کے سروے سے کیا جاتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ اداروں کے محنت کش اسکیم میں شامل ہوکر طبی اور مالی فوائد حاصل کرسکیں۔
اداروں کا رجسٹریشن:۔
سوشل سیکورٹی اسکیم کا اطلاق ایسے صنعتی و تجارتی اداروں پر ہوتا ہے جس میں کم از کم پانچ ایسے ملازمین کام کرتے ہوں جن کی اجرت 10,000/- روپے ماہانہ یا 400/- روپے یومیہ تک ہو۔ کسی بھی صنعتی یا تجارتی ادارے کو سوشل سیکورٹی اسکیم میں شامل کرنے کے لئے سوشل سیکورٹی افسر بذات خود ادارے میں جاتا ہے اور اُس کی انتظامیہ کو سروے فارم مہیا کرتا ہے تاکہ ضروری کوائف حاصل ہوسکیں۔ اس فارم میں ادارے کا نام، پتہ کام کی نوعیت، محنت کشوں کی تعداد، اُن کی اجرت وغیرہ کی تفصیل ہوتی ہیں۔ اس ادارے کی انتظامیہ فارم پرکرکے سوشل سیکورٹی آفیسر کو واپس کرتی ہے۔ سوشل سیکورٹی کے مقامی دفاتر ان فارموں کو ہیڈآفس ارسال کرتے ہیں جہاں گورننگ باڈی کی ذیلی کمیٹی تفصیلی جائزہ لینے کے بعد اپنی سفارش پیش کرتی ہے کہ ان اداروں کو اسکیم میں شامل کیا جائے۔ صوبائی محکمہ محنت نوٹیفکیشن جاری کرتا ہے اس کے بعد حکومت کے گزٹ نوٹیفکیشن کی تاریخ اجراء سے یہ ادارے اسکیم میں شامل ہوجاتے ہیں۔
محنت کشوں کا رجسٹریشن:۔
سوشل سیکورٹی آرڈیننس کی دفعہ (8) 2 کے تحت ملازم سے مراد ہر ایسا فرد ہے جسے براہ راست یا کسی کے ذریعے اجرت پر کام کرنے کے لئے رکھا گیا ہو، خواہ وہ ہنرمند ہو یا غیرہنرمند، سپروائزر، کلرک، ہاتھ سے یا دوسری طرح کام کرنے والا ہو، انڈسٹری یا ادارے کے معاملات سے متعلق ہو، اسکا تقرر معاہدہ ملازمت یا اپرنٹس شپ کے تحت ہو، تحریری یا زبانی ہو۔ موجودہ حکومت نے محنت کشوں کی سوشل سیکورٹی اسکیم میں رجسٹریشن کے لئے اجرت کی حد یکم جولائی 2008سے 10,000/- روپے ماہانہ یا 400/- روپے یومیہ تک کردی ہے۔
سوشل سیکورٹی کنٹری بیوشن:۔
سوشل سیکورٹی اسکیم کے اخراجات اس آمدنی سے پورے کئے جاتے ہیں جو آجران سوشل سیکورٹی کنٹری بیوشن کی مد میں ادا کرتے ہیں۔ اس ضمن میں سیسی کو حکومت کی جانب سے کسی قسم کی کوئی امداد نہیں ملتی۔
خود تشخیصی اسکیم:۔
سوشل سیکورٹی آرڈیننس مجریہ 1965 کی دفعہ 2میں ذیلی دفعہ 25a کا اضافہ کرکے خود تشخیصی اسکیم کا اجرا یکم جولائی 2001سے کیا گیا ہے۔ آرڈیننس میں دفعہ 20A کا بھی اضافہ کیا گیا ہے، جس کے تحت وہ آجر جو اس اسکیم کو اختیار کرتا ہے اس کی یہ قانونی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر تحفظ یافتہ محنت کش کا کنٹری بیوشن جمع کرائے۔ دفعہ (4)22 کے تحت خود تشخیصی اسکیم اختیار کرنے والے ادارے دو سال تک سالانہ آڈٹ سے مسثنیٰ ہوں گے۔
سوشل سیکورٹی اسکیم کے تحت مالی فوائد:۔
بیماری کا مالی معاوضہ: عام بیماری کی صورت میں آخری اجرت کا 75فیصد سال میں 121دن تک ادائیگی جبکہ ٹی بی یا کینسر کی صورت میں اجرت کا 100فی صد365 دن تک یہ معاوضہ دیا جاتا ہے۔
کام کے دوران لگنے والی چوٹ کا معاوضہ: کام کے دوران چوٹ کی صورت میں آخری اجرت کا 100فی صد سال میں 180دن تک یہ معاوضہ دیا جاتا ہے۔
زچگی کا معاوضہ: تحفظ یافتہ خاتون محنت کش کے ہاں زچگی کی صورت میں اجرت کا 100فی صد کے مساوی 12ہفتے تک زچگی کے معاوضہ کی ادائیگی کی جاتی ہے۔
موت پر مالی امداد: تحفظ یافتہ محنت کش کے انتقال پر تجہیز و تکفین کے لئے ان کے ورثاء کو 1500روپے یکمشت ادائیگی کی جاتی ہے۔
عدت کا مالی معاوضہ: محنت کش کی بیوہ ہونے کی صورت میں 100فی صد کے مساوی عدت الاؤنس کی ادائیگی 130 دن تک کی جاتی ہے۔
معذوری کا عطیہ: کام کے دوران چوٹ کے نتیجے میں جزوی یا کلی معذوری کی صورت میں معذوری کا عطیہ یا پینشن کی ادائیگی کی جاتی ہے۔
پسماندگان کی پینشن: اگر محنت کش کام کے دوران حادثہ کی صورت میں انتقال کر جائے تو اس کے ورثاء کو پینشن ادا کی جاتی ہے۔
خصوصی مالی امداد: محنت کشوں کو 500روپے سے لے کر 5000روپے تک خصوصی مالی امداد دی جاتی ہے۔
سوشل سیکورٹی اسکیم کے تحت طبی سہولتیں:۔
محنت کشوں کو طبی سہولتیں کی فراہمی کے لئے ادارے کے تحت صوبے کے مختلف علاقوں میں 39 ڈسپنسریاں، 4اسپتال اور 5میڈیکل سینٹر قائم ہیں۔ کڈنی سینٹر لانڈھی کا اضافہ ابھی حال ہی میں کیا گیا ہے۔
 


Cash Benefits SEESI Provide
  • Cash Benefits: Under Social Security Scheme secured workers are entitled to cash sickness benefit, injury benefit, maternity benefit, iddat benefit, disablement gratuity, disablement pension, ex-gratia grant and dependants get survivors' pension and death grant.
  • Online Registration Form

SESSI is a service oriented organization. The function of the Institution is unique in nature for the welfare of labour class. It aims at providing medical care facilities and cash benefits to the secured workers and their dependants.

  © Copyrights 2007-2009, JeeveyPakistan