Back
Writers

Home

Trade

Sports

Showbiz

Interviews

Speeches

CDGK &Town Administrations

 

 تحریکِ بحالی آمریت

’تحریکِ بحالی آمریت‘ ایک نظریے کا نام ہے ۔ یہ ان کا ’نظریہ ‘ ہے جن کا کوئی نظریہ نہیں ہوتا۔ مفکرین سیاسیات نے اس تحریک کی ’تعریف و توصیف‘ ان الفاظ میں کی ہے ’’تحریک بحالی آمریت بنیادی طور پر جمہوریت، سماجی انصاف ، مساوات اور شخصی حقوق کے خلاف’ جہاد‘ کا نام ہے ‘‘ ان مفکرین کے نزدیک قدیم یونانی ریاستوں میں چند نامناسب افراد نے جمہوریت کے بیج کی تخم ریزی کر کے ’نظریہ آمریت‘ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا، جس کے ردِ عمل میں ’تحریکِ تحفظِ آمریت‘ کے بطن سے ’تحریک بحالی آمریت‘ نے جنم لیاْ ۔ اس وقت سے لے کر آج تک اکابرین تحریک اپنے ارفع مقاصد (بوقت ضرورت ’تحفظ‘ یا’ بحالی‘ ) کے حصول کی خاطر جہدِ مسلسل میں مصروف ہیں ۔
اگر ’ہماری‘ تاریخ کا ایک طائرانہ سا جائزہ لیا جائے تو یہ تحریک اپنا ارتقائی سفر طے کرتے ہوئے بنو امیہ سے لے کر خلافت عثمانیہ اور اس کی بحالی کے لئے چلائی جانے والی ’تحریک خلافت‘ سے ہوتی ہوئی مائنس ون فارمولے تک آ نکلتی ہے ۔ معزز اکابرین تحریک اپنے ظل سبحانیوں کے ہاتھ مضبوط کرنے اور ان کی پرلے درجے کی شرمناک حرکات و خواہشات کو سند جواز مہیا کرنے میں زبردست آلہ کار کا کردار ادا کرتے ہیں ۔ کسی اورنگزیب عالمگیر نے اپنے بھائی کو قتل کرانا ہو تو تحریک اسے ملحد قرار دے کر واجب القتل ہونے کا فتویٰ حاضر کردیتی ہے ۔ کوئی اکبر اعظم درجن بھر شادیاں کرنا چاہے تو یہ اس کو 20شادیاں کر سکنے کے حق کا فتویٰ مہیا کر دیتی ہے اور جب کسی بھٹو سے آمریت کے مستقبل کو خطرہ لاحق ہو جائے تو یہ تحریک اسے کافر قرار دے کر کسی ’ظلِ الہیٰ‘ کے راستے میں سرخ قالین بچھا دیتی ہے ۔
وطن عزیز میں ’تحریک بحالی آمریت‘ کا آغاز قیام پاکستان سے قبل ہی اس روز ہو گیا تھا،جب تحریک کے کسی نابغے نے پہلی دفعہ ’ کافر اعظم ‘ کا نعرہ مستانہ بلند کیا ۔ دراصل مرغان تحریک کی عقابی نظروں نے اقبال ؒ اور جناحؒ کے افکار و نظریات اور جمہوری چال چلن کی بدولت یہ خطرہ بھانپ لیا تھا کہ وہ مفاداتِ تحریک پر ضرب کاری لگانے کے درپے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ قائدین تحریک نے اپنی تمام تر ’پیشہ ورانہ صلاحیتیں ‘ بروئے کار لاتے ہوئے قیام پاکستان کی سر توڑ مخالفت کی ۔ تاہم ’مشن‘ میں ناکامی پر ان مجاہدین صف شکن نے حوصلہ نہیں ہارا اور باقاعدہ با وضو ہوکر قائداعظم کے تصور، نظریہ اور نصب العین کے پیچھے پر گئے ۔ حتیٰ کہ بابائے قوم کی وفات کے چھ ماہ بعد ’قراردادِ مقاصد‘ تیار کر کے ان کے افکار کی نفی کردی اور قائد کے خیالات و تصورات کے بر عکس’ نظریہ پاکستان‘ تخلیق کر کے خشت اول ٹیڑھی کر دی تاکہ اس پر جمہوریت کی بجائے شخصی و طبقاتی مطلق العنانیت کی عمارت تعمیر کی جا سکے اور شجرِ آمریت کی آبیاری میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو ۔
تحریک بحالی آمریت ایک منظم اور فعال تحریک ہے ، جس کے سیاسی ، مذہبی اور صحافتی و نگز ہمہ وقت اپنے مقاصد اولیٰ کی خاطر مصروف عمل ہیں ۔ تحریک کا ہر نابغہ گُرو ہے ،جو جمہوری حکومت گرانے کے سارے گُر جانتا ہے ۔ اگرچہ ان کی تعداد قلیل ہے مگر ہر فرد اپنی ذات میں انجمن اور ’اٹھارہ کروڑوی‘ ہے، جسے خواب میں بشارت ہوئی ہے کہ اسکے خیالاتِ بیمار اٹھارہ کروڑ پاکستانیوں کی آواز اور بپھری ہوئی رائے عامہ ہے ۔ تاہم قدرتی امر ہے کہ ’اٹھارہ کروڑوی ‘ ہونے کے باوجود یہ بزرگان صالح اسمبلی کی چند سیٹوں پر کامیابی کے لئے بھی ’فرشتوں‘ کے محتاج ہیں ۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ان میں سے بعض کو تو ’فرشتے ‘ بھی منہ نہیں لگاتے ،لہذا وہ ’پرائی برات‘ میں گھس کر ’’یہ شادی نہیں ہو سکتی ‘‘برانڈ بڑھکیں مار کر اپنا ٹھرک پورا کرتے ہیں ۔ تحریک کا ماٹو’’جمہوریت کے خلاف جنگ‘‘ ہے ۔ وابستگانِ تحریک کی صدق دل سے کوشش ہوتی ہے کہ ملک میں جمہوریت کا وقفہ کم سے کم ہو۔ یہی وجہ ہے کہ جمہوری حکومت قائم ہوتے ہی ان کی کیفیت ہیجانی ہو جاتی ہے اور’ ’سانوں لگ گئی بے اختیاری‘‘ مارکہ دیپک راگ چھڑ جاتے ہیں ۔’احتجاجی پیٹر انجن‘ خود کار طریقے سے یوں اسٹارٹ ہو جاتے ہیں کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی ۔ جو دہشت گردوں ، ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کی مذمت سے اپنی زبانیں آلودہ نہیں کرتے ، منتخب عوامی نمائندوں کے خلاف ان کا غیض و غضب آپے سے باہر ہو جاتا ہے ۔ دشنہ و خنجر کی زباں بولتی زبانیں ’ملک بچانے کے لئے سڑکوں پر آنا ہوگا‘ اور ’فلاں اور ملک اکٹھے نہیں چل سکتے ‘ برانڈ ’امپورٹڈ بارود‘ اگلنے لگتی ہیں ۔ تحریک کے میڈیا ونگ میں شامل فاضل اراکین کا فرض منصبی ہے کہ وہ جمہوریت کے شفاف پانی کو گدلا کریں اور منتخب حکومت کے خلاف شکوک و شہبات، افواہیں ، بے چینی ، نا امیدی ، وسوے اور ہیجان پھیلائیں ، تاوقتیکہ آمریت پھر سے جلوہ افروز ہو جائے ۔ جمہوری دور میں انکے فکرو قلم کی جولانی عروج پر ہوتی ہے ان کا کمال فن یہ ہے کہ آمروں کے لئے ان کی زبانوں اور قلم سے شہد ٹپکتا ہے مگر منتخب نمائندوں کے خلاف زہر ۔ان جاں گسل مراحل سے گزرنے کے بعد جب آمریت بحال ہوتی ہے تو تحریک شانت ہو جاتی ہے اور آمریت کے خوان نعمت سے شکم سیر ہونے کے بعد اسکے تحفظ کے لئے سر گرم عمل ہو جاتی ہے ۔
تحریک بحالی آمریت میں جمہوریت کو کفر سمجھنے والے خلد آشیانی آمرِ سوم کے پیروکار اور صوفی محمد لورز شامل ہیں ، جو اراکین تحریک و قوم کی فکری رہنمائی کا فریضہ سر انجام دیتے ہیں ۔ آج ایک دفعہ پھر تحریک اپنی روایت جلیلہ پر عمل پیرا ہوکر تنازعات کی آبیاری میں مصروف ہے ۔ ’محرم راز‘ جانتے ہیں کہ تحریک کا بظاہر ٹارگٹ ’مائنس ون‘ دراصل ’مائنس آل‘ ہے اور ایک شخص کے خلاف مہم کی آڑ میں نظا م لپیٹنے کی آرزو پنہاں ہے ، تاکہ ؂


گلیاں ہو جانٹر سنجیاں ، وچ مرزا یار پھرے