Jeevey Pakistan is now offering you a great facility of putting your banner on jeeveypakistan.com Homepage. 

HomeTradeHotel & TourismSportsMagLocal GovtInterviews

 

Articles

Auto Industry of Pakistan

Bits & Bytes

Books & Authors

Career opportunity

Cement Sector of Pakistan

City News

Diplomatic Affairs

Education

Global Halal Expo

Health

Islamic Corner

KBCA

KESC Update

Kids Corner

Marketing

Pharma Industry

SESSI

Special Reports

Buy and Sell Cars& Bikes

Buy and sell Property

Difa-e-Pakistan Daily

Horoscope & Palmistry

 

 


Mumtaz Haider

ممتاز حیدر

 

بلی تھیلے سے باہر آ گئی۔۔۔

تحریر : خاور مجید              
پاک چین جوہری معاہدے روکنے کے لیے امریکہ سا منے آگیا
ا
مریکہ  ایک طرف دہشت گردی کے خلا ف جنگ میں پا کستان کی بھر پور حما یت و مد د حاصل کرنے کے لیے زور لگا رھا ھے اور دوسری طرف اسے پا ک چین جوھری معاہدہ ایک آنکھ نہیں بھا رھا پاکستان اور  چین  پر امن مقا صد کے لیے اور انرجی کی ضرورت پورا کرنے کے لیے جوھری معاہدہ پر پیش رفت کر رھے ہیں با لکل اسی طرح جس طرح خود امریکھ نے بھا رت سے کر رکھا ھے لیکن پاکستا ن کو امریکھ کی ترکی اور خوشحالی بالکل بھی گوارا نھیں ھے اور خصوصا چین کے سا تھ ہما رے خو شگوار اور دوستانہ تعلقات امریکہ کو با لکل برداشت نھیں حا لا نکہ امریکہ اور چین کے درمیان رابطے کرانے کا سہرا بھی پاکستانیوں کے سر سجا تھا جب پا کستانی ائرپورٹ سے ہی امریکی پہلی بار چین گے تھے امریکہ احسان فراموش نکلا –اب واشنگٹن نے پاک ـچین جوھری معاہدہ کسی صورت برداشت نہ کرنے کا اعلان کر دیا گویا بلی تھلے سے باہر آ گی۔امریکہ نے اعلا ن کر دیا ھے کہ نیو کلئیر سپلائرز گروپ کے اجلا س میں امریکہ اس معاہدے کے خلاف ووٹ دے گا۔ یہ پہلہ موقع ھے کے اوبامہ انتظامیہ کھل کر پاکستان کے خلاف اپنا موقف بیان کر رھی ھے امریکی ایوان نما ئند گان کی خارجہ امور سے متعلق کمیٹی کے روبرو معاون سیکٹری خارجہ براے عالمی سلامتی و جوہری عدم پھیلاو وان اھچ وان ڈیپنی نے کہا کہ نیو کلئیر سپلا ئرز گروپ کی رضا مندی کے بغیر چین کو جوھری ری ایکٹر فروخت کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے وان ڈیپن نے یہ بیان کانگرس کے رکن اور انڈیا کو کس کے معاون چیرمھن ای ڈی روس کے ایک سوال کے جواب میں دیا۔ یاد رھے کہ چین سے معاہدہ کی وجہ سے پاکستان چشمہ میں 340 ،340 میگاواٹ کے دو نئے بجلی گھر بنا سکے گا۔
 

 

صدر زرداری کی وجہ سے 172 جوڑوں کی اجتماعی شادی رک گی-
حکومت سندھ کے محکمہ ذکوۃ و عشر نے کراچی کے غر یب اور مستحق خاندانوں سے تعلق رکھنے والے 172 جوڑوں کی اجتماعی شادی کی تقریب 23 جولای کو وزیراعلی ھاوس میں رکھی تھی اس کے مہمان خصوصی صدر مملکت آصف علی زرداری تھے لیکن صدر مملکت کی سیاسی مصروفیات کی وجہ سے آخری لمحات پر اجتماعی شادی کی یہ تقریب ملتوی کرنی پڑی ۔اس طرح 172 دلہنیں زندگی کے نئے سفر پرروانہ نہیں ھو سکی اب ان جوڑوں کوشادی کے لیے صدر مملکت کی جانب سے نئی تاریخ کا انتظار کرنے کے لیے کہا گیا ھے ان غریب اور مستحق جوڑوں کو حکومت نے دس دس ہزار روپے جہیز فنڈ میں اور پانچ پانچ ہزار فی دولہا کو سلامی اور گذارا الاونس کے طور پر دینے ھیں-

 

 

advertiseHere



Islamic Corner

 

 

مقصدمیلادِ مصطفےٰ ﷺ

شاہد اقبال شامی

 

سیدنا عمر فاروقؓ کی زندگی اک نظرمیں

شاہد اقبال شامی  

Please select your favorite Article/ Writer to read his / her Articles

Dr.Huma Mir

ڈاکٹر ہما میر


Hikmat Turabi

حکمت ترابی


Rauf Amir

رؤف عامر


Waqar Khan

وقار خان


Dr. Khalid Naseem

ڈاکٹر خالد نسیم


Nadeem Haider Rizvi

ندیم حیدر رضوی

مضامین ۔۔۔۔

In the Court of Media

by Hikmat Turabi

 

عشق ومحبت کے بے ذوق تماشے

تحریر : سمیع اللہ ملک

جلاوطن روحوں کو سلام

تحریر:سعید خاور

 میری جامعہ

پروفیسر نوشابہ صدیقی

تمباکو یا زندگی کا انتخاب کرلیں ۔۔۔!

تحریر:ممتاز حیدر


Shaikh Muhammad Asif

شیخ محمد آصف


Shahid Iqbal Shami

شاہد اقبال شامی


Syed Rizwan Ahmed

سید رضوان احمد


Samiullah Malik

سمیع اللہ ملک


Editor's Note: We are not a political party , and the organization is neither left or right-wing. It is about fostering high standards of quality news analysis on behalf of the public. The views which are being expressed in  Letters to Editor and articles are personal opinion of these writers and it does not reflect the policy of our organization.  


 

 

 

آئینہ ان کو دکھایا تو برامان گئے

تحریر: محمد نعیم بٹ آف سعیلہ جہلم
Jhelumkikhabrian.mnb@gmail.com

 

بڑی محبت اور چاہت سے بیچارے عوام جن لیڈران کو اقتدار کے ایوانوں میں پہنچاتے ہیں اور ان سے کئی امیدیں لگا بیٹھتے ہیں یہ لیڈران ووٹ لینے کے وقت تک نہایت شفیق اور عین محبت کا نمونہ دکھائی دیتے ہیں مگر اقتدار کی مسند پر براجمان ہوتے ہی عوام کے ساتھ کئے اپنے تمام قول و قرار بھلا بیٹھتے ہیں۔ملکی قوانین بنانے میں یہی ایوان کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔اس طرح ان ایوانوں میں جا کر بیٹھنے والے اپنے رتبہ اورمقام کا خیال رکھنے والے ہونے چاہیئیں۔گزشتہ دنوں سعودی عریبیہ میں ایک خا تون کو قاضی نے جعلی ڈگری کے ذریعے حاصل کردہ ملازمت سے نہ صرف فوری برخاست کیا بلکہ سے ایک سال کی سزا قید بھی سنائی۔اسکے بعد سعودی مفتی نے جعلی ڈگری کے ذریعے کمائی کو حرام قرار دیا ہے۔اب سوال یہ کہ کیا ہمارے یہ لیڈران اس بات کو ذرہ بھر بھی اہمیت نہیں دیتے کی ہم بھی اسی مذہب پر ایمان رکھنے والے ہیں۔یہاں تو نظام ہی الٹا ہے کہ ایک جرم ثابت ہونے کے بعد ملک کے وزیرِاعظم خود جمشید دستی کے جلسے میں شریک ہوتے ہیں اور ان کو بھر پور حمایت اور تائید بحشتے ہیں اس سے ہمارے معاشرے کی اخلاقی پستی کا اندازہ لگانا اور بھی آسان ہے۔خدا کا خوف ایسے لوگوں کا دل نہیں ڈولتا جب وہ حلف اٹھاتے ہیں۔اب جبکہ روز بروز ان بد دیانت سیاستدانوں کے چہرے بے نقاب ہو رہے ہیں تو یہ سب چاہتے ہیں کہ تمام ملک کی زبانوں پر تالے لگا دیئے جائیں اور ان کو من مانیاں جاری رکھنے دی جائیں۔ ایک صوبے کے وزیرِ اعلی فر ماتے ہیں کہ ڈگری جعلی ہو یا اصلی ڈگری ہی ہوتی ہے۔سبحان اﷲ موصوف کے عقل و دانش کا آپ خود ہی اندازہ لگایئے۔جناب نواز شریف فرماتے ہیں کہ قراداد پیش کرنے والے ثنا اﷲمستی خیل صاحب کو پارٹی سے نکال باہر کیا جائے جناب جب ایوان میں یہ سب ہو رہا تھا تو آ پ کی پارٹی کیوں خاموش تماشائی بنی رہی اور ڈیسک بجا بجا کر قراداد کی منظوری پر مبارکبادیاں بھی دی جاتی رہیں۔جناب اس بات سے قطعی انکار نہیں کہ صحافت سے وابستہ تمام ہی فرشتے ہیں ان میں بھی بے شمار جعلی ڈگریوں والے اور اس ملک اور قوم کے مفادات کا سودا کرنے والے حضرات موجود ہیں ہوتا ہے شب و روز تماشہ میر ے آگے۔
پنجاب اسمبلی میں پاس ہونے والی میڈیا کے خلاف قرارداد ایک ایسا عمل ہے جو ان وڈیروں اور سرمایہ داروں کی ذہنیت کی مکمل عکاسی کرتا ہے۔جنہوں نے اس ملک کو گزشتہ ساٹھ سال سے یرغمال بنا رکھا ہے اور پشت در پشت ایوانوں میں بیٹھنا اپنا جدی حق سمجھتے ہیں اور اس ملک کی تقدیر کے الٹے سیدھے فیصلے کرکے اس کی خاطر لاکھوں کروڑوں قربانیاں دینے والوں کے خون سے بے وفائی کر رہے ہیں اس ملک کے عوام کو جان بوجھ کر روٹی کپڑا اور مکاں کے چکروں میں ڈال کر رکھے ہوئے ہیں اور جب بھی انتخابات کا ڈھونگ رچایا جاتا ہے تو ان معصوم عوام کو چند پیسوں کا لالچ دے کر ان کی غربت کا سودا کیا جاتاہے اور اس بار چوہدری صاحب نہیں تو ان کے برخودار،یعنی اس بار ابا جی نہیں تو ان کا بیٹا یا بیٹی ایوان میں بیٹھنا چاہیئے یہ کیا ہے۔ایک ہی چربہ گانا اور بار ابر اسی کا ری مکس اب بند ہو جانا چا ہئے۔ خدارا ہوش کے ناخن لو اور سنبھل جاؤ اور قائداعظم اورحضرتِ اقبال کے پاکستان کواتنے سستے داموں بر باد نہ کرو۔اور اپنے اندر اخلاقی جرات پیدا کرو ۔ جس پر جتنی زیادہ کرپشن کا لیبل ہے وہ اتنا ہی زیادہ بڑا وزیر بن جاتا ہے۔مثال دیتے ہوئے بھی شرم آتی ہے کہ یورپ امریکہ میں اگر کسی وزیر یا مشیر سے غلطی ہو جائے تو وہ فورا استعفا دے دیتا ہے کہنے کو کافر ہی ہے مگر اس کی اخلاقی جرات ہمارے جیسے نام نہاد مسلمانوں کے لئے باعث شرم ہے۔پنجاب اسمبلی میں میڈیا کے خلاف قرار دادکے خالق کے ذہن میں ناجانے کیا خیال آیا ہو گا شائید وہ ایوان میں حزبِ اقتدار اور حزبِ مخالف دونوں کا ہیرو بننا چاہتے ہوں گے اور گذشتہ ادوار کی طرح وہ شائید چاہتے ہوں کہ سب کو راضی رکھا جائے تا کہ وہ وقت آنے پر پا نسا مار سکیں۔بہر حال تمام جماعتوں کی حمایت نے ایک بات واضح کر دی ہے کہ ایوانوں میں بیٹھے ان معزز لیڈران کا مفاد ایک ہی ہے اور ان کا مفاد یقیننا اس ملک کے سترہ کروڑ عوام کا مفاد ہر گز نہیں ہو سکتا۔جمہوریت کے دعویداروں کو سمجھنا چاہئے یہ نہ ہو کہ ایسے کھیل کھلا کر کہیں آمریت کی راہ ایک بار تو ہموار نہیں کی جارہی۔اور یقین رکھیں اب کی بار اگر ایسا ہوا تو شائید اس ملک کے عوام خود اسے خوش آمدید کہیں گے اور پھر ناگا ساکی اور ہیرو شیما کی سرزمین کی طرح پاکستان کی سر زمین پر صدیوں تک دوبارہ جمہوریت کی گھاس نہ اگنے پائے۔

 

Back to top
 

 

 

1A Glance on Ghotki

By Mansoor Pirzada

 

District Ghotki is blessed with natural resources e.g. oil and gas, cotton, sugarcane, wheat and rice; it is second industrial district in Sindh after Noriabad Karachi. Natural resources of district are being discovered day-by-day, which leads to expansion of district. District Ghotki possess four largest Oil and Gas fields, two fertilizers factories, threepower plants, 50 cotton factories, about 25 rice mills, and 8 flour mills. These include Mari Gas Field, Qadirpur Oil and Gas Field, Talu Gas Field, Petronas Gas Field, Engro Fertilizers (which is the largest fertilizer company in the Asia), FFC Mirpur Mathelo, Engro Energy Limited Qadirpur, Liberty Power Plant Daharki and Foundation Power Company (Daharki) Limited (FPCDL).
It is told that feasibility report of a fertilizer factory, two power plants, two sugar mills and a Steel Mill near Qazi Wah railway line is ready to be implemented. This district has also been cursed by the feudalists, Sardars and Waderas, which are the main cause of the illiteracy rate, slavery and unawareness of the people of the district.
Engro was founded as Esso Pakistan Fertilizer Company Limited in 1968; later on it was renamed by Exxon Chemical Pakistan Limited in 1978. In 1991, Exxon decided to sale its business, it was sold to employees of Exxon Chemical and it became Engro Chemical Pakistan Limited. Now Engro Fertilizers Daharki (renamed in june 2009) is the largest urea plant of Asia. Average urea production rate of Engro is 950 KT/annum; it will reach to 1.3 MT/annum approximately, after starting its second plant, which is expected this year.
Second urea plant was founded with the efforts of Shaheed Zulifqar Ali Bhutto helped by of Saudi Arab Government in 1975, and was named as Pak Saudi Fertilizers Company Mirpur Mathelo. Pak Saudi’s second urea plant was announced by Shaheed Muhtarma Benazir Bhutto in 1989, which started production within two years. Pak Saudi Fertilizers was privatized in the era of General Pervez Musharaf, it was sold to Fauji Foundation in 2002, in Rupees 7150000000. It was told by the Employees Union of Pak Saudi that it was the price of land only. 416 employees of Pak Saudi were forcibly dismissed from the job by FFC-III after overtaking the Paksaudi. Average Production rate of FFC-III is 0.8 MT/annum.
No doubt district Ghotki is enriched with natural resources and is an industrial zone, but people of the district are unable to have meal of single time. In spite of several industries, residents of the district are unemployed; we can hardly find 2% local residents in the management, about 20% as permanent employees’ cadre, but daily wagers and contract based workers who have been working in the companies since decades, are local residents of the districts.
Contract based workers have been working in the companies since past decades; they are not provided facilities as per labour law, even they don’t have job security. Even after the announcements made by President Asif Zardari and Prime Minister Yousaf Raza Gilani, locals have not been regularized yet, Labour department has failed to implement the law in the organizations.
Recently, FFC Schools Mirpur Mathelo had advertised for vacancies of teachers, sources told about 4000 applications were received, 50 were short listed, 10 were appointed, 9 from the Punjab and 1 from Larkana, no local candidate was appointed or called for the interview. This action of FFC School had disappointed the youth; which became cause of dejection for the youth of the district. Recently, Engro Schools have also advertised job opportunities for the teachers, let’s see what happens, and lets see how many locals are being for short listed!
Public of the district is deprived of quality education as well, no medical or engineering college is founded yet. In spite of 3 power plants in the district, power outage is regular on schedule.
Billions of rupees are received as tax from industries; The district is agriculturally rich as well, it is the one of the regions which empowers economy but when someone happens to visit here would find it dirty and slummy. Roads are the covered with garbage, Drainages system is imperfect, dirty water has covered the streets. Unfortunately neither district government nor the industries had ever taken steps to improve the condition of the district. Nevertheless, Engro, MGCL, FFC, EEL and other industries have been active in conducting seminars on keep city green, keep city clean agenda.

Environmental Pollution has reached at alarming level, Grey water of the urea plants enter in the lands, which ruins crops and land as well. Emission Ammonia gas causes various illnesses in the district, people of are mostly suffering from breathing problem, Kidney problem, Hepatitis and Itching. Unfortunately no industry had dared to establish any better welfare hospital in Daharki and Ghotki.
 

Back to top
 

ڈرون حملے ہماری خودمختاری کے خلاف ہیں۔ ان کی وجہ سے عوام میں بے چینی اور بداعتمادی پھیل رہی ہے، اس کا حل عوامی دباؤ، اندرونی مکالمہ اور قومی اتفاق رائے میں پنہاں ہے۔

شوریٰ ہمدرد کراچی کے اجلاس سے دانشوروں کا خطاب

کراچی ( جیوے پاکستان ) کموڈور (ر) سدید انور ملک نے کہا ہے کہ پاکستان قدرتی وسائل اور دولت سے مالا مال ہے جس پر اغیار کی نظریں ہیں اسی لیے شروع دن سے اس کی سلامتی کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں، ڈرون حملے بھی اسی سازش کا حصہ ہیں۔ وہ جمعرات 10 ۔ جون2010 کی شام جسٹس (ر) حاذق الخیری کی زیر صدارت ’’پاکستانی علاقوں پر بڑھتے ہوئے ڈرون حملے کیا کسی بڑی سازش کا پیش خیمہ ہیں؟‘‘ کے موضوع پر شوریٰ ہمدرد کراچی کے اجلاس سے ایک مقامی ہوٹل میں خطاب کر رہے تھے۔ اجلاس میں ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان کی صدر محترمہ سعدیہ راشد بھی موجود تھیں۔ کموڈور (ر) سدید انور ملک نے مزید کہا کہ پاکستان کے خلاف سازشیں فوجی دور میں زیادہ ہو جاتی ہیں اور جنرل ایوب کے برسراقتدار آتے ہی آپریشن بلیوتلسی کی سازش پاکستان کے خلاف شروع ہوئی، جنرل ضیا کے دور میں تیز اور جنرل مشرف کے دور میں انتہا تک پہنچ گئی، بھارتی ریٹائرڈ جنرلوں کی خود نوشت سوانح عمریوں اور یادداشتوں میں اس کا ذکر آرہا ہے۔ کہنہ مشق صحافی نصرت نصراللہ نے کہا کہ ہم معاشی طور پر اتنے کمزور ہوگئے ہیں کہ ڈرون حملوں کے سلسلے میں امریکہ کے خلاف کوئی مضبوط موقف اختیار نہیں کر سکتے۔ ہمیں ڈرون حملوں اور ان سے ہونے والی ہلاکتوں کی تفصیلات کا علم تک نہیں ہو پاتا۔ اسٹیل ملز کے سابق چیئرمین حق نواز اختر نے کہا کہ ڈرون حملوں کو روکنے کے لیے قومی اتفاق رائے، اندرونی مکالمہ اور طالبان سے مذاکرات ضروری ہیں۔ اس طرح اپنے معاملات طے کر کے ہم امریکہ سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ ڈرون حملے بند کر دے۔ بریگیڈیر (ر) سید مظفر الحسن نے کہا کہ جب تک پوری قوم متحد ہو کر اپنا دباؤ نہیں بڑھائے گی اور یہ مطالبہ نہیں کرے گی کہ ڈرون حملے ہماری خودمختاری کے خلاف ہیں، یہ حملے بند نہیں ہوں گے۔ ماہر معاشیات ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے کہا کہ ڈرون حملے امریکہ کے استعماری مقاصد کی تکمیل کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ ان مقاصد میں تیل کی ترسیل کے راستے پر قبضہ کرنا اور پاکستان کا جغرافیہ بدلنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈرون حملے جنرل مشرف کی اجازت سے شروع ہوئے۔ ان کے دور میں 9 اور موجودہ حکومت میں اب تک 125 حملے ہو چکے ہیں۔ یہ ہماری علاقائی خود مختاری کے خلاف ہیں اور ان سے عوام میں مایوسی، بے چینی اور بد اعتمادی پھیل رہی ہے۔ ڈاکٹر رضوانہ انصاری نے کہا کہ پاکستان کے خلاف سازشوں کا ہم حصہ بھی ہیں اور ان کے شکار بھی ہیں۔ ڈرون حملے ہماری خود مختاری اور قومی حمیت پر حملہ ہے مگر اس کے خلاف کسی لسانی تنظیم اور کسی این جی او نے کوئی احتجاج نہیں کیا۔ قدسیہ اکبر نے کہا کہ سول سوسائٹی اور وکلا نے عدلیہ کو بحال اور آزاد کرایا۔ اگر وہ عوام کو ساتھ لے کر ڈرون حملوں کے خلاف بھرپور آواز اٹھائیں تب ہی یہ حملے بند ہو سکتے ہیں۔ حکمرانوں کو تو ان حملوں کو رکوانے سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ ڈاکٹر نعیم قریشی نے کہا کہ دل برداشتہ اور مایوس ہونے کی ضرورت نہیں، عوام مل کر کوششیں کریں کہ ڈرون حملے بند ہو سکتے ہیں۔ انور عزیز جکارتہ والا نے کہا کہ ڈرون حملوں کے سلسلے میں میڈیا کا کردار مایوس کن ہے۔ دیگر واقعات و حادثات کی تو وہ پل پل کی خبر دیتے ہیں مگر ڈرون حملوں کی تھوڑی سی تفصیل بھی نہیں دیتے۔ آخر دنیا کو پتہ تو چلے کہ یہ کن لوگوں کو مار رہے ہیں۔ خالد اکرام اللہ خان نے کہا کہ ہم لوگ خود اپنے خلاف سازشیں کرتے ہیں اور خود اپنے دشمن بنے ہوئے ہیں۔ ہم اپنے لوگوں کو یکساں مواقع اور حقوق نہیں دیتے۔ آخر بنگال کیوں ہم سے الگ ہوا؟ انہوں نے کہا کہ جو لوگ دہشت گردی کی کاروائیاں کر رہے ہیں انہیں دنیا کا کوئی بھی ملک حریت پسند نہیں کہتا بلکہ دہشت گرد کہتا ہے جبکہ کوئی بھی مذہبی رہنما ان کی دہشت ناک کاروائیوں کی مذمت نہیں کرتا۔ کرنل (ر) مختار احمد بٹ نے کہا کہ ڈرون حملے سازش نہیں ہیں وہ سازش ہی کیا جس کا پتہ چل جائے۔ انہوں نے کہا کہ ڈرون حملوں کی اجازت ہم نے خود دی ہے، ان حملوں کی کوریج نہ کرنے میں میڈیا کو ملزم قرار دینا غلط ہے، وہ میڈیا کو وہاں جانے ہی نہیں دیتے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو برا کہنے کا کوئی جواز نہیں وہ جب کروڑوں ڈالر دیں گے تو ڈکٹیٹ تو کریں گے۔ ہمیں اپنے جرم ضعیفی کی سزا مل رہی ہے۔
 

Back to top

Jeevey Pakistan is now offering you a great facility of putting your banner on jeeveypakistan.com Homepage.