|
شاعر مشرق
علامہ اقبال کی یاد میں ۔۔۔

تحریر : شازیہ مری (وزیر
سیاحت سندھ )
نہیں ہے نا
امید اقبال اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
شاعر
مشرق حضرت علامہ اقبال ؒ کی شاعری ‘ رات کی تاریکی سے لڑنے والی شمع کی طرح
ہم کو بھی لڑنے کا حوصلہ اور جدوجہد سکھاتی ہے ۔ علامہ اقبال ؒ نے اپنی
انقلابی شاعری کے ذریعے برصغیر کے مسلمانوں کو ان کے مقصدکے حصول میں بے
مثال خدمات فراہم کیں۔ اپنے وقت کے دیگر شاعروں کے برعکس اقبال صرف
رومانویت پسند شاعر نہ تھے ۔ہم عصر شاعروں کے برعکس ان کی شاعری میں برصغیر
کے مسلمانوں کے لئے امید کی کرنیں‘ نشاط ثانیہ اور معاشی غلامی سے نجات کا
پیغام تھا ۔
خود مختار ‘ آزاد اور علیحدہ ریاست پاکستان کی تخلیق کے قیام میں علامہ
اقبالؒ کے سیاسی کردار کو نقطہ آغاز تسلیم کیا جاتا ہے ۔ انہوں نے برصغیر
کی دوسری قوموں ہندو اور مسلمانوں میں تہذیبی‘ سیاسی‘ مذہبی ‘ معاشی اور
سماجی فرق کی نشاندہی کی ۔نقطہ نظر کے اس فرق نے دو نمایاں نظریات کو جنم
دینے میں ایک اہم کردار ادا کیا جو بالآخر ہندوستان کی تقسیم کا سبب بنا
اور دو آزاد ریاستوں کا جنم ہوا ۔ علامہ اقبال کے اشعار کی سجائی کو پوری
طرح سراہنے کے لئے ہمیں ان میں پوشیدہ وجوہات کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ ان
تفکرات و واقعات کودیکھنا ہوگا جو مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ وطن کے قیام
کے لئے علامہ اقبال کے مضبوط عقیدے کا سبب بنے ۔علامہ اقبال اس عہد کی
پیداوار تھے جس نے برصغیر کے مسلمانوں کو ایک نیا سماجی و سیاسی شعور عطا
کیا تھا ۔ انہوں نے ہندوستان کی سیاست کا کئی زاویوں سے مطالعہ کیا تھا اور
انہوں نے انڈین نیشنل کانگریس کے مشترکہ قومیت کے نظریے کو بھی اس کی تمام
جہتوں کے ساتھ پرکھا تھا ۔ اقبال نے تقسیم بنگال کے موقع پر ہندوؤں کی
انقلابی سرگرمیوں کا بھی جائزہ لیا تھا ۔ انہوں نے ہندو مسلم سوال سے متعلق
منعقد کی جانے والی متحدہ کانفرنسوں کے مایوس کن نتائج بھی دیکھ لئے تھے ۔
ان کے سامنے منٹو مارلے اور مونٹ فورٹ اصلاحات کے نتائج بھی تھے اور شاعر
مشرق تحریک خلافت کی ناکامی سے بھی دکھی تھے۔ انہوں نے سائمن کمیشن کے ساتھ
تعاون کیا لیکن اس کی رپورٹ سے وہ ناامید ہوئے تھے ۔ نہرو رپورٹ کے بھی
نتائج ان کے سامنے تھے ۔ علامہ اقبال نے 1930 میں منعقد ہونے والی گول میز
کانفرنس میں بھی شرکت کی اور دل برداشتہ ہوئے کیونکہ اس کے نتائج ان کی
توقع کے برعکس ثابت ہوئے ۔ اس وقت پورا سیاسی پس منظر ہندو مسلم تضادات کے
گرد گھوم رہا تھا اور اس سلسلے میں کی جانے والی تمام سیاسی و آئینی کوششیں
سوائے ان دونوں قوموں کے مابین دوری پیدا کرنے کے‘ کچھ اور نہ کرسکیں تھی۔
آل انڈیا مسلم لیگ الہ آباد 1930 کے سالانہ جلسے میں علامہ اقبال نے اپنے
صدارتی خطبے میں واضح طور پر ایک علیحدہ وطن کی بنیاد ڈالی اور انہوں نے
اعلانیہ طور پر کہا ’’ میں پنجاب‘ شمال مغربی سرحدی صوبے‘ سندھ اور
بلوچستان کو ایک علیحدہ ریاست کی صورت میں دیکھنا چاہوں گا‘‘ اسی نظریے کی
پیروی کرتے ہوئے علامہ اقبال ہندوستان کے مسلمانوں کے سیاسی ارتقاء میں
نہایت اہم علمبردا ررہے اور یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اگر اقبال قائد اعظم
سے اصرار نہ کرتے تو شاید قائد اعظم 1934 میں انگلستان سے واپس تشریف نہ
لاتے اور مسلم لیگ کو متحد نہ کرتے ۔
اپنی وفات تک علامہ اقبال نے قائد اعظم اور مسلم لیگ کے ساتھ اپنا قریبی
تعلق برقرار رکھا ۔ برصغیر کی گھمبیر صورتحال کی بناء پر علامہ اقبال اپنے
خطوط کے ذریعے قائد اعظم کو خدشات سے آگاہ کرتے رہتے تھے ۔21 جون 1937 کو
اپنے ایک خط میں وہ قائد اعظم کو لکھتے ہیں’’ میں آپ کو آگاہ کرتا ہوں کہ
ہم حالت خانہ جنگی میں ہیں ابھی پولیس اور فوج اس کا حصہ نہیں ہے تاہم یہ
خانہ جنگی جلد ہی بڑھ جائے گی‘‘ ۔ یہ خطوط جو علامہ اقبال نے قائد اعظم کو
لکھے تھے وہ ان کا قیمتی اثاثہ تھے ۔ ہیکڑ بولتھیو نے اپنی کتاب’’ جناح
پاکستان کا خالق‘‘ میں قائد اعظم کے بارے میں لکھا ہے وہ اکیلے کام کرتے
تھے ان کا کوئی ذاتی اسٹاف یا سیکریٹری نہیں تھا جو ان کے خطوط کی نقول
کرنے اور انکو درست حالت میں رکھے لیکن ان کی دراز میں خطوط کا ایک بنڈل
تھا جو ان کو تسلی دیتا تھا اور یہ خطوط سرمحمد اقبال نے انہیں لکھے تھے
‘‘۔ قائد اعظم نے خود علامہ اقبال کے بارے میں کہا تھا’’ وہ میرے لئے ایک
دوست ‘ رہنما اور فلسفی تھے اور مسلم لیگ کے تاریک ترین ادوار میں وہ چٹان
کی طرح کھڑے رہے اور ایک بھی لمحے کے لئے پیچھے نہیں ہٹے‘‘ ۔
تخلیق پاکستان میں علامہ اقبال کے کردار کو قائد اعظم محمد علی جناح کے ان
الفاظ سے پرکھا جاسکتا ہے جو انہوں نے قرار داد لاہور 23 مارچ 1940 کے موقع
پر ادا فرمائے ۔ ’’اقبال اب ہم میں نہیں رہے لیکن وہ زندہ رہیں گے اور ان
کو یہ جان کر خوشی ہوگی کہ ہم نے وہی کیا جو وہ چاہتے تھے ‘‘۔
آئیے آج ان کی یوم پیدائش پر ہم یہ یاد کریں کہ وہ کیا چاہتے تھے اور انہوں
نے مقصد کے حالات میں کیا مدد کی۔یہ عظیم قوم ‘ مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ
سرزمین ‘ ایک علیحدہ اور خود مختار پاکستان ‘ ایک ایسی سرزمین جس کو برسوں
کی مسلسل جدوجہد اور قربانیوں کے بعد حاصل کیا گیا ۔ آج ہم یہ عہد کریں کہ
وطن کا تحفظ اور ترقی اسی طرح ممکن بنائیں جس طرح اس ملک کے خالقین نے چاہا
تھا اور اپنی زندگیاں وقف کیں تھیں ۔
آئینہ ان کو دکھایا تو برامان گئے
تحریر: محمد
نعیم بٹ آف سعیلہ جہلم
Jhelumkikhabrian.mnb@gmail.com
بڑی محبت اور چاہت سے بیچارے عوام جن
لیڈران کو اقتدار کے ایوانوں میں پہنچاتے ہیں اور ان سے کئی امیدیں لگا
بیٹھتے ہیں یہ لیڈران ووٹ لینے کے وقت تک نہایت شفیق اور عین محبت کا نمونہ
دکھائی دیتے ہیں مگر اقتدار کی مسند پر براجمان ہوتے ہی عوام کے ساتھ کئے
اپنے تمام قول و قرار بھلا بیٹھتے ہیں۔ملکی قوانین بنانے میں یہی ایوان
کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔اس طرح ان ایوانوں میں جا کر بیٹھنے والے اپنے رتبہ
اورمقام کا خیال رکھنے والے ہونے چاہیئیں۔گزشتہ دنوں سعودی عریبیہ میں ایک
خا تون کو قاضی نے جعلی ڈگری کے ذریعے حاصل کردہ ملازمت سے نہ صرف فوری
برخاست کیا بلکہ سے ایک سال کی سزا قید بھی سنائی۔اسکے بعد سعودی مفتی نے
جعلی ڈگری کے ذریعے کمائی کو حرام قرار دیا ہے۔اب سوال یہ کہ کیا ہمارے یہ
لیڈران اس بات کو ذرہ بھر بھی اہمیت نہیں دیتے کی ہم بھی اسی مذہب پر ایمان
رکھنے والے ہیں۔یہاں تو نظام ہی الٹا ہے کہ ایک جرم ثابت ہونے کے بعد ملک
کے وزیرِاعظم خود جمشید دستی کے جلسے میں شریک ہوتے ہیں اور ان کو بھر پور
حمایت اور تائید بحشتے ہیں اس سے ہمارے معاشرے کی اخلاقی پستی کا اندازہ
لگانا اور بھی آسان ہے۔خدا کا خوف ایسے لوگوں کا دل نہیں ڈولتا جب وہ حلف
اٹھاتے ہیں۔اب جبکہ روز بروز ان بد دیانت سیاستدانوں کے چہرے بے نقاب ہو
رہے ہیں تو یہ سب چاہتے ہیں کہ تمام ملک کی زبانوں پر تالے لگا دیئے جائیں
اور ان کو من مانیاں جاری رکھنے دی جائیں۔ ایک صوبے کے وزیرِ اعلی فر ماتے
ہیں کہ ڈگری جعلی ہو یا اصلی ڈگری ہی ہوتی ہے۔سبحان اﷲ موصوف کے عقل و دانش
کا آپ خود ہی اندازہ لگایئے۔جناب نواز شریف فرماتے ہیں کہ قراداد پیش کرنے
والے ثنا اﷲمستی خیل صاحب کو پارٹی سے نکال باہر کیا جائے جناب جب ایوان
میں یہ سب ہو رہا تھا تو آ پ کی پارٹی کیوں خاموش تماشائی بنی رہی اور ڈیسک
بجا بجا کر قراداد کی منظوری پر مبارکبادیاں بھی دی جاتی رہیں۔جناب اس بات
سے قطعی انکار نہیں کہ صحافت سے وابستہ تمام ہی فرشتے ہیں ان میں بھی بے
شمار جعلی ڈگریوں والے اور اس ملک اور قوم کے مفادات کا سودا کرنے والے
حضرات موجود ہیں ہوتا ہے شب و روز تماشہ میر ے آگے۔
پنجاب اسمبلی میں پاس ہونے والی میڈیا کے خلاف قرارداد ایک ایسا عمل ہے جو
ان وڈیروں اور سرمایہ داروں کی ذہنیت کی مکمل عکاسی کرتا ہے۔جنہوں نے اس
ملک کو گزشتہ ساٹھ سال سے یرغمال بنا رکھا ہے اور پشت در پشت ایوانوں میں
بیٹھنا اپنا جدی حق سمجھتے ہیں اور اس ملک کی تقدیر کے الٹے سیدھے فیصلے
کرکے اس کی خاطر لاکھوں کروڑوں قربانیاں دینے والوں کے خون سے بے وفائی کر
رہے ہیں اس ملک کے عوام کو جان بوجھ کر روٹی کپڑا اور مکاں کے چکروں میں
ڈال کر رکھے ہوئے ہیں اور جب بھی انتخابات کا ڈھونگ رچایا جاتا ہے تو ان
معصوم عوام کو چند پیسوں کا لالچ دے کر ان کی غربت کا سودا کیا جاتاہے اور
اس بار چوہدری صاحب نہیں تو ان کے برخودار،یعنی اس بار ابا جی نہیں تو ان
کا بیٹا یا بیٹی ایوان میں بیٹھنا چاہیئے یہ کیا ہے۔ایک ہی چربہ گانا اور
بار ابر اسی کا ری مکس اب بند ہو جانا چا ہئے۔ خدارا ہوش کے ناخن لو اور
سنبھل جاؤ اور قائداعظم اورحضرتِ اقبال کے پاکستان کواتنے سستے داموں بر
باد نہ کرو۔اور اپنے اندر اخلاقی جرات پیدا کرو ۔ جس پر جتنی زیادہ کرپشن
کا لیبل ہے وہ اتنا ہی زیادہ بڑا وزیر بن جاتا ہے۔مثال دیتے ہوئے بھی شرم
آتی ہے کہ یورپ امریکہ میں اگر کسی وزیر یا مشیر سے غلطی ہو جائے تو وہ
فورا استعفا دے دیتا ہے کہنے کو کافر ہی ہے مگر اس کی اخلاقی جرات ہمارے
جیسے نام نہاد مسلمانوں کے لئے باعث شرم ہے۔پنجاب اسمبلی میں میڈیا کے خلاف
قرار دادکے خالق کے ذہن میں ناجانے کیا خیال آیا ہو گا شائید وہ ایوان میں
حزبِ اقتدار اور حزبِ مخالف دونوں کا ہیرو بننا چاہتے ہوں گے اور گذشتہ
ادوار کی طرح وہ شائید چاہتے ہوں کہ سب کو راضی رکھا جائے تا کہ وہ وقت آنے
پر پا نسا مار سکیں۔بہر حال تمام جماعتوں کی حمایت نے ایک بات واضح کر دی
ہے کہ ایوانوں میں بیٹھے ان معزز لیڈران کا مفاد ایک ہی ہے اور ان کا مفاد
یقیننا اس ملک کے سترہ کروڑ عوام کا مفاد ہر گز نہیں ہو سکتا۔جمہوریت کے
دعویداروں کو سمجھنا چاہئے یہ نہ ہو کہ ایسے کھیل کھلا کر کہیں آمریت کی
راہ ایک بار تو ہموار نہیں کی جارہی۔اور یقین رکھیں اب کی بار اگر ایسا ہوا
تو شائید اس ملک کے عوام خود اسے خوش آمدید کہیں گے اور پھر ناگا ساکی اور
ہیرو شیما کی سرزمین کی طرح پاکستان کی سر زمین پر صدیوں تک دوبارہ جمہوریت
کی گھاس نہ اگنے پائے۔
Back to top
1
By Mansoor Pirzada
District Ghotki is blessed with natural
resources e.g. oil and gas, cotton, sugarcane, wheat and rice; it is
second industrial district in Sindh after Noriabad Karachi. Natural
resources of district are being discovered day-by-day, which leads to
expansion of district. District Ghotki possess four largest Oil and Gas
fields, two fertilizers factories, threepower plants, 50 cotton
factories, about 25 rice mills, and 8 flour mills. These include Mari
Gas Field, Qadirpur Oil and Gas Field, Talu Gas Field, Petronas Gas
Field, Engro Fertilizers (which is the largest fertilizer company in the
Asia), FFC Mirpur Mathelo, Engro Energy Limited Qadirpur, Liberty Power
Plant Daharki and Foundation Power Company (Daharki) Limited (FPCDL).
It is told that feasibility report of a fertilizer factory, two power
plants, two sugar mills and a Steel Mill near Qazi Wah railway line is
ready to be implemented. This district has also been cursed by the
feudalists, Sardars and Waderas, which are the main cause of the
illiteracy rate, slavery and unawareness of the people of the district.
Engro was founded as Esso Pakistan Fertilizer Company Limited in 1968;
later on it was renamed by Exxon Chemical Pakistan Limited in 1978. In
1991, Exxon decided to sale its business, it was sold to employees of
Exxon Chemical and it became Engro Chemical Pakistan Limited. Now Engro
Fertilizers Daharki (renamed in june 2009) is the largest urea plant of
Asia. Average urea production rate of Engro is 950 KT/annum; it will
reach to 1.3 MT/annum approximately, after starting its second plant,
which is expected this year.
Second urea plant was founded with the efforts of Shaheed Zulifqar Ali
Bhutto helped by of Saudi Arab Government in 1975, and was named as Pak
Saudi Fertilizers Company Mirpur Mathelo. Pak Saudi’s second urea
plant was announced by Shaheed Muhtarma Benazir Bhutto in 1989, which
started production within two years. Pak Saudi Fertilizers was
privatized in the era of General Pervez Musharaf, it was sold to Fauji
Foundation in 2002, in Rupees 7150000000. It was told by the Employees
Union of Pak Saudi that it was the price of land only. 416 employees of
Pak Saudi were forcibly dismissed from the job by FFC-III after
overtaking the Paksaudi. Average Production rate of FFC-III is 0.8
MT/annum.
No doubt district Ghotki is enriched with natural resources and is an
industrial zone, but people of the district are unable to have meal of
single time. In spite of several industries, residents of the district
are unemployed; we can hardly find 2% local residents in the management,
about 20% as permanent employees’ cadre, but daily wagers and contract
based workers who have been working in the companies since decades, are
local residents of the districts.
Contract based workers have been working in the companies since past
decades; they are not provided facilities as per labour law, even they
don’t have job security. Even after the announcements made by
President Asif Zardari and Prime Minister Yousaf Raza Gilani, locals
have not been regularized yet, Labour department has failed to implement
the law in the organizations.
Recently, FFC Schools Mirpur Mathelo had advertised for vacancies of
teachers, sources told about 4000 applications were received, 50 were
short listed, 10 were appointed, 9 from the Punjab and 1 from Larkana,
no local candidate was appointed or called for the interview. This
action of FFC School had disappointed the youth; which became cause of
dejection for the youth of the district. Recently, Engro Schools have
also advertised job opportunities for the teachers, let’s see what
happens, and lets see how many locals are being for short listed!
Public of the district is deprived of quality education as well, no
medical or engineering college is founded yet. In spite of 3 power
plants in the district, power outage is regular on schedule.
Billions of rupees are received as tax from industries; The district is
agriculturally rich as well, it is the one of the regions which empowers
economy but when someone happens to visit here would find it dirty and
slummy. Roads are the covered with garbage, Drainages system is
imperfect, dirty water has covered the streets. Unfortunately neither
district government nor the industries had ever taken steps to improve
the condition of the district. Nevertheless, Engro, MGCL, FFC, EEL and
other industries have been active in conducting seminars on keep city
green, keep city clean agenda.
Environmental Pollution has reached at alarming level, Grey water of the
urea plants enter in the lands, which ruins crops and land as well.
Emission Ammonia gas causes various illnesses in the district, people of
are mostly suffering from breathing problem, Kidney problem, Hepatitis
and Itching. Unfortunately no industry had dared to establish any better
welfare hospital in Daharki and Ghotki.
Back to top
وزیر
اعلیٰ سندھ کی جانب سے انقلابی
سندھ
سیکریٹریٹ میڈیکل پینل ہیلتھ انشورنس پالیسی کی غیر متوقع خاتمہ کی
ظالمانہ ، بے رحمانہ منظوری پر ’’سینوا‘‘کا شدید ترین احتجاج اور وزیر
خزانہ سندھ کی بحالی کی یقین دہانی پر ’’سینوا‘‘ کی 18روزہ احتجاجی تحریک
موخر۔
عہد کی پاسداری کیلئے فی الفور انقلابی انشورنس
صحت اسکیم بحال کرنے کا مطالبہ۔
تحریر: سید محمد جہاں زیب
ترجمان ’’سینوا‘‘ کراچی
تمام حمد و تعریف صرف اور صرف اللہ رب العلمین کیلئے ہے جو زمین و آسمان
اور دونوں جہاں کا مالک و خالق ہے اور خاتم النبین رحمت اللعلمین حضرت محمد
مصطفی ﷺ پرکروڑوں ، بیشمار ان گنت بے حساب ، بے انتہا درود و سلام، صحت و
تندرستی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ بے شمار، ان گنت، بے حساب ، بے انتہا
نعمتوں ، رحمتوں میں ایک عظیم نعمت و رحمت ہے ۔ اسلام نے ایک انسان کی
زندگی بچانے کودنیا کے تمام انسانوں کی زندگی بچانے کا عمل قرار دیا ہے اور
ایک انسان کے ناحق قتل کو پوری انسانیت کے قتل کا عمل قرار دیا ہے۔ صحت مند
زندگی و تندرستی، علاج معالجے کی بنیادی سہولتیں فراہم کرنا مملکت خداداد
پاکستان کی بنیادی، آئینی، قانونی، اخلاقی، ذمہ داری و فرائض منصبی میں
شامل ہے۔ صحت کی بنیادی سہولت حاصل کرنا پاکستان کے18کروڑ عوام کا حق ہے۔
مگر یہ حق عوام و سرکاری ملازمین کی اکثریت جہاں ایک طرف زندگی کی بنیادی
حقوق و سہولیات سے محروم ہے۔ وہاں صحت و تندرستی قائم رکھنے کیلئے علاج و
معالجے کی بنیادی سہولت کے حق سے تاحال محروم ہے۔ 21ویں صدی میں رہتے ہوئے
پینے کیلئے صاف شفاف پانی سے محرومی، حق تلفیوں، عدل و انصاف، قانون و آئین
کی بالادستی کی پامالی، میرٹ کا قتل عام، رشوت ، سفارش، کرپشن، بیروزگاری،
بھوک ، فاقہ کشی، تنگدستی، غربت وافلاس، جہالت، بیماریاں، اقتصادی و معاشی
بدحالی، مہنگائی کا عذاب، تعلیمی سہولیات کی عدم دستیابی، دوہرا تعلیمی
معیار ، خودکشیاں، بچے برائے فروخت، انسانی اعضاء برائے فروخت، شہر، گاؤں،
گلیوں، سڑکوں، فٹ پاتھوں، بسوں، ٹرینوں پر ہر جگہ ، ہر مقام پر بھیک مانگنے
والوں کی اضافی یلغار، جرائم میں اضافہ، حکومتی وزراء و بیورکریٹس انتہائی
پرکشش شاہانہ اخراجات، انتہائی قیمتی چمکتی گاڑیوں اور محلات کی دنیا میں
زندگی بسر کرنا، احساس محرومیوں کی ایک طویل داستان زندگی کی صبح و شام میں
جاری و ساری ہے ۔ دہشتگردی ، انتہا پسندی کے خاتمے کیلئے حکومت اور افواج
پاکستان کے اقدامات لائق تحسین ہیں مگر ، دہشتگردی، انتہا پسندی، بد ترین
زلزلہ و سیلاب کے اثرات تاحال موجود ہیں۔ مغرب کی بالادستی اور غلامی کی
جیتی جاگتی ایک روح فرسا داستان ہے جہاں حکومت یکساں غریب ، مظلوم عوام و
نچلے درجے کے سرکاری ملازمین کیلئے ایک لمحہ کیلئے بھی مخلص نہیں ہے۔ یہ
پاکستان کی64سالہ زندگی کا واضح پیغام ہے ۔ وہاں ایسے عالم میں خدا کی رحمت
جوش میں آئی اور نظریاتی مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان کے خواب کی تعبیر
میں پہلی بار صرف اور صرف صوبائی دارالحکومت سندھ سیکریٹریٹ کے ایک تا
22گریڈ کے 5ہزر سے زائد سرکاری ملازمین کو یہ اعزاز حاصل ہوا کہ تاریخی و
فلاحی ، انقلابی، سنہرے کارنامے ، حیرت انگیزعجوبہ، ناقابل یقین، قابل رشک
، انسانیت کی معراج و معجزاتی عمل میڈیکل پینل ہیلتھ انشورنس پالیسی سابق
صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں قائد تحریک متحدہ قومی موومنٹ الطاف حسین
کے نامزد ممبر صوبائی اسمبلی و سینئر صوبائی وزیر سید سردار احمد کا بہترین
صحت انشورنس پالیسی تمام سرکاری افسران اور خصوصی طور پر ایک تا 16گریڈ کے
چھوٹے درجے کے سب سے زیادہ90فیصد غریب، مظلوم، محروم، نان گزیٹیڈ سرکاری
ملازمین کیلئے بے مثال روشن کارنامے میڈیکل پینل ہیلتھ انشورنس پالیسی کی
سہولت یکم جولائی2006 ء سے نافذ العمل ہوا اور چشم فلک نے یہ نظارہ
دیکھاکہ بڑے بڑے محلات کو اسپتال بنائے بغیر سندھ سیکریٹریٹ ملازمین نے
ترقی یافتہ ممالک کی طرح علاج معالجہ ، صحت کی سہولیات سے مفت فیض حاصل کیا۔
جس کا دائرہ صوبہ سندھ اور پاکستان کے تمام صوبوں کیلئے قابل تقلید روشن
مثال ہے واضح رہے سندھ سیکریٹریٹ کے تمام ملازمین کیلئے میڈیکل پینل ہیلتھ
انشورنس پالیسی سندھ اسمبلی سے منظور شدہ صوبائی کابینہ کی منظوری اور جاری
کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق ہے جس کا ہر سال بجٹ میں ہیلتھ انشورنس کی مد میں
کروڑوں روپے مختص کیا جاتا ہے جسے سابق اراکین صوبائی اسمبلی سندھ ، اراکین
قومی اسمبلی اور موجودہ عوامی جمہوری صوبائی اسمبلی سندھ، قومی اسمبلی کے
اراکین نے بھی سندھ سیکریٹریٹ ملازمین کیلئے ہیلتھ انشورنس پالیسی پر حیرت
انگیز بے مثال کارنامے پر متحدہ قومی موومنٹ کو خراج تحسین پیش کیا بلاشبہ
شہیدوں کی وارث ،وفاق کی واحد علامت چاروں صوبوں کی زنجیر عوامی و جمہوری
حکومت نے بھی صوبائی دارالحکومت سندھ سیکریٹریٹ ملازمین کے اس انقلابی
میڈیکل پینل ہیلتھ انشورنس پالیسی کو نہ صرف جاری و ساری رکھا بلکہ صحت کی
سہولتوں میں درجنوں قابل قدر مزید اضافے کئے جو لائق تحسین ہیں۔ ’’سینوا‘‘
کے دیرینہ مطالبہ پر ایک بڑا انقلابی سنہرا کارنامہ سندھ سیکریٹریٹ کے تمام
ملازمین کے والدین کے مفت علاج و معالجے کیلئے عمر کی قید کو ختم کردیا۔
انسانیت کی عظمت و معراج کا یہ اعزاز و شرف صرف اور صرف پاکستان پیپلزپارٹی
کی جمہوری حکومت سندھ کو حاصل ہوا۔ جس پر وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ
کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔
لیکن انتہائی دکھ، تکلیف و افسوس کا مقام ہے ستم بالائے ستم ظلم ناانصافی ،
سفاکی کی انتہا یہ ہے کہ ہیلتھ انشورنس اسکیم سے مستفید ہونے والے سندھ
سیکریٹریٹ کے5ہزار سے زائد ملازمین کو جولائی2010 ء سے مفت میڈیکل پینل
ہیلتھ انشورنس پالیسی کی سہولت دینا مکمل طور پر بند کردی گئی، اور اب
انشورنس کمپنی کی طرف سے ری ایمبرسمنٹ یا کلیم کی سہولت بھی مکمل طور پر
بند کردیا گیا ہے۔
اگرچہ صحت انشورنس پالیسی کے نفاذ سے قبل سرکاری افسران بالا کو اپنے اور
اپنے خاندان سمیت طبی سہولیات، علاج معالجے کی غیر معمولی، لامحدود، حیرت
انگیز سہولت حاصل تھی۔ بیرون ملک اپنا اور اپنی فیملی کا علاج مفت کراتے
اور لاکھوں کروڑوں کا کلیم بیورو کریٹس حاصل کرتے تھے۔ ہیلتھ انشورنس کے
نفاذ سے افسران بالا لا محدود سے محدود طبی فوائد ، سہولت کے دائرے میں
آگئے جبکہ صحت پالیسی کے نفاذ سے قبل نان گزیٹیڈ ملازمین کو افسران بالا کی
طرح کوئی سہولت حاصل نہیں تھی۔ امتیازی سلوک الگ ساتھ ہی سندھ سیکریٹریٹ کے
نان گزیٹیڈ ملازمین کی حالت طبی لحاظ سے انتہائی قابل رحم تھی۔ اعلیٰ
معیاری طبی سہولتوں سے محرومی اور علاج معالجے کی عدم دستیابی کے باعث نان
گزیٹیڈ ملازمین انتقال کرجاتے تھے ۔ سرکاری اسپتالوں کا معیار عام مریضوں
کیلئے کوئی راز نہیں ہے۔ جسکی کارکردگی انتہائی ناقص تھی جو زندگی نہیں موت
تقسیم کرتی تھی۔ لیکن میڈیکل پینل ہیلتھ انشورنس پالیسی کے نفاذ سے خصوصی
طور پر نان گزیٹیڈ ملازمین کیلئے سراپارحمت و سلامتی ، شفا کاملہ کی نعمت
عظمیٰ ثابت ہوئی۔
سندھ سیکریٹریٹ کے گزیٹیڈ ملازمین کے ساتھ نائب قاصد، چوکیدار، ڈرائیور،
کلرک، ایک تا 16گریڈ کے نچلے درجے کے نان گزیٹیڈ ملازمین صرف ہیلتھ انشورنس
پالیسی کارڈ دکھا کر کراچی ، اندرون سندھ اور پاکستان کے کسی بھی حصے میں
نیٹ ورک اسپتال میں اپنا اور اپنی فیملی کا علاج ، ایمرجنسی کی صورت میں
مفت کراتے تھے ۔ اس طرح انسانی زندگیوں کو بچایا گیا ۔ نان گزیٹیڈ ملازم
علاج کی مد میں لاکھوں روپے خرچ کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا، نہ ہی اس
کے وہم و گمان میں تھا یہ تمام اخراجات حکومت سندھ ہیلتھ انشورنس کمپنی کو
کروڑوں روپے پریمیم کی صورت میں ادا کرتی تھی۔
غم و صدمہ کی بات یہ ہے کہ 6ماہ سے سندھ سیکریٹریٹ کے تمام ملازمین کیلئے
میڈیکل پینل ہیلتھ انشورنس کی سہولت ختم ہونے کی وجہ سے موذی امراض میں
مبتلا سینکڑوں ملازمین در درکی ٹھوکریں کھا رہے ہیں زندگی اور موت کی کشمکش
کی جنگ لڑ رہے ہیں ، بد ترین مہنگائی کے دور میں نان گزیٹیڈ ملازمین کی
زندگی میں دو قت کی روٹی ملنا مشکل ہوگئی ہے ۔ اپنے یا خاندان کے کسی فرد
کے انتقال کی صورت میں المیہ یہ ہے کہ گھر میں کفن دفن کے پیسہ نہیں ہوتا
ہے ۔ موذی امراض مثلاً کینسر، گردے کی تکلیف، عارضہ قلب، سانس کی تکلیف،
شوگر ، ہائی بلڈ پریشر، ہیپا ٹائٹس میں مبتلا سندھ سیکریٹریٹ کے
تقریباً300سو ملازمین کس طرح لاکھوں روپے خرچ کرکے اپنی زندگیاں بچا سکتے
ہیں؟ یہ تڑپتے سسکتے مریض کس طرح جان لیوا بیماریوں پر علاج کے بغیر قابو
پاسکتے ہیں؟ سندھ سیکریٹریٹ کے کئی مریض علاج معالجے کی سہولت ختم ہونے کی
وجہ سے اپنی زندگی کی بازی ہار چکے ہیں ۔کیا حکومت سندھ اس انتظار میں ہے
کہ زندگی اور موت کی جنگ لڑنے والے سندھ سیکریٹریٹ کے 300مریض انشورنس
پالیسی بحال ہونے سے قبل انتقال کر جائیں؟؟
اس کا فیصلہ حکومت سندھ خود کرے کہ ایسی صورت میں سندھ سیکریٹریٹ کے غیرت
مند ملازمین کا کیا ردعمل ہوسکتا ہے؟ سندھ سیکریٹریٹ کے ملازمین کی حالت
زار دکھانے کیلئے ’’سینوا‘‘ کے نمائندوں نے چند موذی امراض میں مبتلا
ملازمین کو گھروں سے اپنے ساتھ بلا کرلائے اور سابق اسپیشل فنانس سیکریٹری
کے سامنے پیش کیا اور کہا کہ یہ زندہ لاش مریض جو آپ کے سامنے کھڑے ہیں
انکے علاج معالجے کیلئے فوری اقدامت کئے جائیں لیکن افسوس کا مقام ہے کہ
فنانس ڈپارٹمنٹ کے افسران بالا کو کوئی رحم نہیں آیا۔ انکے چہرے یا ماتھے
پر شرمندگی کا کوئی نام ونشان نہیں تھا، داد رسی کرنے کے بجائے یہ کہہ کر
’’سینوا‘‘ کے نمائندے اور موذی امراض کے مریضوں کو واپس کردیا گیا کہ حکومت
سندھ ملازمین کو تنخواہ ہی ادا کرے تو غنیمت ہے ساری مراعات واپس لی جاسکتی
ہیں۔ سفاکی کا یہ مظاہرہ فنانس ڈپارٹمنٹ کے افسران بالا کی جانب سے ہمیں
ملا۔ ہمارے زخموں پر مرہم رکھنے کی کوشش کا سوال ہی پیدا نہیں ہوا۔ اگر یہی
صورت افسران بالا کے ساتھ پیش آجائے تو سندھ حکومت کی ساری انتظامیہ لمحوں
میں حرکت میں آجاتی ہے اور فوراً دادرسی کردی جاتی ہے۔
یکم جولائی2006 ء سے ہیلتھ انشورنس اسکیم کامیابی سے چل رہی تھی لیکن ذاتی
مفادات اور دولت کی ہوس نے محکمہ خزانہ کے ملازمین دشمن افسران اور انشورنس
کمپنی آلیانز EFUنے شیطانی کردار ادا کرکے نان گزیٹیڈ ملازمین کی سہولت کو
برداشت نہ کرتے ہوئے انکے حقوق پامال کئے ۔ نجم الثاقب صدیقی کی بحیثیت
سابق ایڈیشنل فنانس سیکریٹری پوسٹنگ ہوئی اور بعدازان انہیں اسپیشل
سیکریٹری فنانس ڈپارٹمنٹ بنا دیا گیا۔ جنہوں نے پوسٹنگ ہونے کے بعد پہلے ہی
دن سے ہیلتھ انشورنس کی سہولت میں رکاوٹیں ڈالنا شروع کردیں جس سے اندازہ
ہوا کہ انہیں سندھ سیکریٹریٹ کے ملازمین سے کوئی خاص پرخاش ہے جس کا اظہار
یہ متعدد میٹنگوں میں کرتے رہے ان صاحب کی اسپیشل سیکریٹری بننے کی وجہ سے
پچھلے سال بھی ہیلتھ انشورنس کا معاہدہ چھ6ماہ کی تاخیر سے ہوا اور 6ماہ تک
سندھ سیکریٹریٹ ملازمین علاج کی سہولت سے محروم رہے ۔
’’سینوا ‘‘ تمام تر کاوشوں ، زبانی مذاکرات، قلم، آئینی قانونی، اخلاق و
انسانیت کے تمام راستے ، تمام پہلوؤں ، تمام گوشے ، تمام زاوئیے کسی خلا کو
نہ چھوڑنے اور عملی جدوجہد کی مثالیں قائم کرنے کے باوجود غم و صدمہ کا
پہاڑ، سکتہ حیرانی اس وقت سندھ سیکریٹریٹ ملازمین پر طاری ہوگیا جب انہیں
معلوم ہوا کہ صوبائی کابینہ حکومت سندھ کی جاری کردہ ہیلتھ انشورنس پالیسی
کو ختم نہیں جاری رکھنے کی حمایت میں منٹس و نوٹیفیکیشن3سالہ ٹینڈر نوٹس
اخبارات میں شائع کروانے، صوبائی وزیر سید سردار احمد کا وزیر اعلیٰ سندھ
کو صحت اسکیم پالیسی جاری رکھنے کے سفارشی خط (عکس درج ذیل ہے )، ٹیلی فون
کرنے کے باوجود اور ’’سینوا‘‘ کے علم میں لائے بغیر سندھ سیکریٹریٹ میڈیکل
پینل ہیلتھ انشونس پالیسی ختم کرنے کیلئے وزیر اعلیٰ سندھ نے فنانس
ڈپارٹمنٹ کی پیش کردہ انتہائی پراسرار خفیہ سمری پر2جنوری2011 ء کو دستخط
کردئیے۔
 |
 |
جس میں کہا گیا ہے کہ سندھ سیکریٹریٹ ملازمین کو دی جانے والی ہیلتھ
انشورنس پالیسی کو صوبائی کابینہ کی منظوری سے ختم کیا جائے۔ مدبر وزیر
اعلیٰ سندھ آخر سندھ سیکریٹریٹ ملازمین سے کیا امتحان لینا چاہتے ہیں؟
ہمارے صبر وتحمل کا امتحان کب تک لیا جاتا رہے گا ۔ حال ہی میں حکمران
پیپلز پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس صدر پاکستان آصف علی زرداری نے
اپنے اختتامی خطاب میں کہا کہ ملک میں ایک مستقل اسٹیلشمنٹ ہر حکومت کو
گرانا چاہتی ہے ۔ اسی سازش کی کڑی میں سمری پر وزیر اعلیٰ سندھ کے دستخط سے
فنانس ڈپارٹمنٹ اور آلیانیزEFUکمپنی کے سازشی عناصر کامیاب ہوگئے ۔ وہ گھی
کے چراغ جلا رہے ہیں۔ حکومت سندھ مکمل طور پر سازشی عناصر کے گہرے ، دلفریب
سنہرے جال میں آگئی ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار سرکاری ملازمین
کیلئے خون کا ایک قطرہ بہائے بغیر نافذا لعمل پہلی انقلابی صحت پالیسی کو
وزیر اعلیٰ سندھ نے یک جنبش قلم ختم کردیا۔ عقل اور ذہن اس کو تسلیم نہیں
کرتا مگر یہ تلخ زمینی حقیقت ہے جس کا کوئی اخلاقی، آئینی، قانونی جواز
نہیں تھا سندھ اسمبلی سے منظور شدہ وزیر اعلیٰ سندھ کی بہترین قائم کردہ
انسانیت کی معراج، بے مثال، عجوبہ، معجزاتی و انقلابی سندھ سیکریٹریٹ
میڈیکل پینل ہیلتھ انشورنس پالیسی کے غیر متوقع خاتمے کی منظوری کا ظالمانہ
، بے رحمانہ، قاتلانہ ، سفاکانہ، عملی اقدام پر شدید ترین ردعمل مذمت و
احتجاج کیلئے سندھ سیکریٹریٹ ملازمین مجبور ہوئے اور کلمہ حق کی آواز سندھ
سیکریٹریٹ کے 5ہزار سے زائدملازمین و خاندان گھر و دفتر میں گونجنے لگی۔
ہیلتھ انشورنس اسکیم کی بحالی کیلئے18روزہ سندھ سیکریٹریٹ ملازمین کی
احتجاجی تحریک اس وقت موخر کردی گئی جب حالیہ سندھ اسمبلی اجلاس کے اختتام
سے چند دن قبل وزیر اعلیٰ سندھ کے ہونہار لائق فرزند، غریب پرور، عوام کے
مسیحا، وزیر خزانہ سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ اسمبلی کے سامنے احتجاجی
ملازمین کے نمائندے صدر ’’سینوا‘‘ دلشاد مہر، جنرل سیکریٹری غلام محی الدین
کو مذاکرات کیلئے سندھ اسمبلی کے اندر بلالیا اور کامیاب مذاکرات کے بعد
وزیر خزانہ سید مراد علی شاہ نے ’’سینوا‘‘ وفد کو یقین دہانی کروائی اور
وعدہ فرمایا کہ سندھ سیکریٹریٹ ہیلتھ انشورنس پالیسی کونئی سمری کے ذریعے
وزیر اعلیٰ سندھ کی منظوری سے بحال کردیا جائے گا۔ جس سے سندھ سیکریٹریٹ کے
احتجاجی ملازمین نے اطمینان و سکون کا سانس لیا اور باوقار پر امن طریقے سے
اپنے اپنے دفتر میں واپس چلے گئے اور سرکاری فرائض منصبی سرانجام دینے
لگے۔18روزہ موخر احتجاجی تحریک کے پس منظر میں خصوصی طور پر صوبائی وزیر
سید سردار احمد ، سرکاری افسران غلام علی شاہ پاشا چیف سیکریٹری سندھ، محمد
وسیم سیکریٹریS&GACD،محمد صدیق میمن سیکریٹری خزانہ کی معاونت ، مدد ،
رہنمائی ، گراں قدر خدمات پر دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا گیا ۔ ہم نے
وزیر خزانہ سندھ اور حکمران کی باتوں، وعدے، یقین دہانی پر اعتبار کرتے
ہوئے بینرز، پریس ریلیز، پرنٹ میڈیا، الیکٹرونک میڈیا کے ذریعے حکومت سندھ
سے صحت اسکیم کی بحالی کے وعدے پر اظہار تشکر کیاتھا۔
لیکن بقول شاعر کہ
وہی بجلی وہی شعلے وہی آداب قفس
کون کہتا ہے کہ گلشن میں بہار آئی ہے
وہی ستم ظریفی، وعدے ، روایتی انداز جو اب تک64سال سے ملک میں رہے ہیں۔
حکومت وقت کے وعدے یقین دہانی، اقرار کا تسلسل جاری ہے۔ انکار نہیں ہے لیکن
ابھی تک عمل نہیں ہوا ہے۔ صحت اسکیم بحال کرنے میں غیر ضروری تاخیر کی
جارہی ہے جس سے سندھ سیکریٹریٹ ملازمین میں تشویش و بے چینی کی لہر اپنی
انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ سینوا کے خلوص نیت و عمل کو حماقت نہ سمجھا جائے ۔
وزیر اعلیٰ سندھ ، وزیر خزانہ اور سیکریٹری محکمہ خزانہ روز محشر اللہ
تعالیٰ کوکیا جواب دیں گے جیسا کہ لکھ چکا ہوں کہ کئی ملازمین علاج معالجے
کی سہولت نہ ملنے کی وجہ سے انتقال کرچکے ہیں۔ بقایا ملازمین زندگی اور موت
کی کشمکش میں مبتلا ہیں اور5ہزار سے زائدء ملازمین انکے خاندان ، والدین
ایمرجنسی کی صورت میں مفت علاج کی سہولت سے تاحال محروم ہیں اور دیگر
بیماریوں میں مبتلا مکمل علاج کیلئے ترس و تڑپ رہے ہیں۔
ظلم و ناانصافی اور بہت سارے عوامل مل کر انقلاب کو جنم دیتے ہیں وعدے کے
مطابق نافذ العمل انقلابی صحت پالیسی کی بحالی میں غیر ضروری تاخیر کو ختم
کرکے سندھ سیکریٹریٹ میڈیکل پینل ہیلتھ انشورنس انقلابی پالیسی کو فی الفور
بحال کیا جائے ورنہ فیض کی نظم پڑھ لیں یا اقبال بانوں کی آواز میں سن لیں۔
ہم دیکھیں گے
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے
جو لوح ازل میں لکھا ہے
جب ظلم و ستم کے کوہ گراں
روئی کی طرح اڑ جائیں گے
ہم محکوموں کے پاؤں تلے
جب دھرتی دھڑ دھڑ دھڑکے گی
اور اہل حکم کے سر اوپر
جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی
جب ارض خدا کے کعبے سے
سب بت اٹھوائے جائیں گے
ہم اہل صفا، مردود حرم
مسند پہ بٹھائے جائیں گے
سب تاج اچھالے جایں گے
سب تخت گرائے جائیں گے
بس نام رہے گا اللہ کا
جو غائب بھی ہے حاضر بھی
جو منظر بھی ہے ناظر بھی
اور راج کرے گی خلق خدا
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
حکومت اپنی 3سالہ کارکردگی پر بے انتہا نازاں ہے مبالغہ آمیزی کے بجائے
براہ کرم نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ جمہوریت کے ذریعے ہزاروں سال حکومت کیجئے
مگر18کروڑ غریب، مظلوم ، محروم اور نچلے درجے کے سرکاری ملازمین کے زخموں
کو دیکھنے والا، محسوس کرنے والا اور نظر آنے والا مرہم رکھا جائے۔ حقیقی و
عملی ریلیف فراہم کیا جائے۔ ہم ظلم و ناانصافیوں کے خلاف خاموش اور اپنے
جائز حقوق کی حق تلفی یا جائز حقوق سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوسکتے سوائے
پاکستان کی آزادی، سلامتی و بقا کی خاطر، قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو،
شہید رانی محترمہ بے نظیر بھٹو اور شہیدوں کی وارث عوامی جمہوری حکومت کے
وزیر اعلیٰ سندھ ، گورنر سندھ، وزیر خزانہ سندھ، چیف سیکریٹری دیگر حکام
بالا، وزیر اعظم پاکستان اور بار بار پاکستان کھپے کا ایمان افروز نعرہ
لگانے والے، استحقاق کے باوجود مفاہمت کی پالیسی اختیار کرنے والے، سب کو
ساتھ لے کر چلنے والے، دہشت گردی، انتہا پسندی کے خلاف کامیاب جاری جنگ
لڑنے والے قومی ہیرو آئینی کمانڈر انچیف و صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان سے
دردمندانہ اپیل اور مطالبہ ہے کہ بے مثال انقلابی، معجزاتی ، عجوبہ سندھ
سیکریٹریٹ میڈیکل پینل ہیلتھ انشورنس پالیسی ختم کرنے پرانا طریقہ رائج
کرنے کی تجویزوفیصلہ کی منظوری کا وزیر اعلیٰ سندھ اپنا فیصلہ واپس لے کر
اور وزیر خزانہ کی یقین دہانی وعدے، عہد کی پاسداری کیلئے فی الفور انقلابی
صحت پالیسی بحال کیا جائے اور حج کرپش اسکینڈل کی طرح کرپشن کے خلاف اعلیٰ
سطح پر انکوائری تحقیقات کی جائے مجرموں کو عبرتناک سزا دی جائے۔
دوسری جناب چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ اور چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان سے
بھی لاثانی انقلابی سندھ سیکریٹریٹ ہیلتھ انشورنس پالیسی بحال کرانے اور
کروڑوں روپے کی کرپشن پر محکمہ خزانہ، آلیانز EFUہیلتھ انشورنس کمپنی کے
خلاف تحقیقات اور از خود نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہیں تاکہ مجرموں کو
عبرتناک سزا دی جائے۔
’’سینوا‘‘ اتحاد زندہ باد۔۔۔۔ پاکستان پائندہ باد
Back to top
     |